कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تتلی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

شام کا وقت تھا، ہم گارڈن گئے تھے۔ گارڈن میں بہت چہل پہل تھی۔ وہاں کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں سے بہت لطف اندوز ہوتے رہے ، اسکے علاوہ درختوں پر چہچہاتے پرندے ، کھیلتے ہوئے بچے،  حوض میں تیرتی مچھلیاں، ہری نازک سی گھاس، اور پھولوں کی کیاریاں۔۔ ان پھولوں پر منڈلاتی رنگ برنگی تتلیاں۔۔۔ یہ قدرتی مناظر کافی حسیٖن اور دلکش لگتےتھے ۔۔
میں گارڈن کی ہری گھاس پر چپل اتار کر چہل قدمی کر رہی تھی ، اچانک ایک بچہ دوڑا دوڑا آیا ، وہ ایک لمحہ بھر میں واپس لوٹ گیا، کچھ دیر بعد پھر آیا ، اور چلا گیا، میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی معصوم سے بچپن میں کھویا تھا، میں نے آس پاس دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بچہ یوں ہی میرے پاس نہیں آتا تھا، کیونکہ گھاس کے ایک جانب پھولوں کی کیاریاں لگیں تھیں، ان کیاریوں میں تتلیوں کا جھنڈ چکر کاٹ رہا تھا ، اور بچہ کسی تتلی کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔۔ آخر کار مجھے بھی بڑی مشکل سے تتلی دکھائی دی لیکن وہ کچھ بڑی تھی !!! تتلی کے پر کالے تھے ،ان پر سنہرے رنگ کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا، اور وہ بھی بہت خوش اسلوبی سے انجام دیا گیا تھا ،یہ دیکھ کر دل اپنے آپ کن فیکون کہنے لگا۔۔۔ بچہ مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا، تتلی کے پیچھے دوڑ دوڑ کر وہ تھک چکا تھا۔ اس کی مما آئی، اس نے کہا ،مما بٹر فلائی، بٹر فلائی۔۔ مما مسکراتے ہوئے بچہ کو دیکھنے لگی۔۔۔ اب وہ کچھ منٹ بیٹھا تھا کہ اور بھی تتلیوں کا جھنڈ آیا، گویا بچہ کے اندر توانائی کی لہر دوڑ گئی اور اب اس نے دوسری تتلی کا پیچھا کرنا شروع کیا۔۔ یہ تتلی لال رنگ کی تھی ، اس پرکچھ نیلا تو کچھ کالے رنگ، کے پنکھ تھے ۔۔۔ میں اسے اتنے قریب سے دیکھ پائی تھی کیونکہ تتلی بچے کے ہاتھ میں تھی ، اور اپنے نازک سے پنکھ پھڑ پھڑا رہی تھی ،اور آزاد ہونے کی کوششیں کیے جارہی تھی۔۔
بچہ بہت خوش تھا وہ خوشی سے اچھل کود کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ، مما میں نے بٹر فلائی پکڑ لی ۔ وہ اس تتلی کا اس طرح معائنہ کررہا تھا جیسے اس کی کوئی کھوئی ہوئی چیز تھی ۔
مجھے افسوس اس بات کا تھا کہ بچہ تتلی پکڑنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔بچہ کبھی تتلی کے پر کھینچتا،تو کبھی اس کے پروں کو مسل دیتا ۔کبھی تتلی کو آزاد کر نے کا جھوٹا خواب دکھاتا اور دو بارہ پکڑ لیتا۔۔۔ میں نے اس سے کہا کہ بچہ وہ بے زبان ہے ، اس کے ساتھ ایسا سلوک مت کرو؟؟؟ لیکن وہ بچہ کیوں میری بات مانتا؟ میں نے اس بچے اور تتلی کی بہت سی اچھی تصویریں لیں اس نے تتلی کی زندگی سے کھیلنے کی قسم ہی کھا رکھی تھی ۔ اس نے میری ایک نہ سنی ، میں نے بچے کو ڈرانے کے لئے بے کار بحث کی کہ یہ بٹر فلائی آپ کے خواب میں آکر بھوت بن کے ڈرائے گی، یہ ایک دن بعد بڑی ہوتی ہے اور ہم کو ڈنک مارتی ہے اس لیے انہیں پریشان نہیں کرنا چاہیے!!!  لیکن،
بچہ اپنے بچپن کی زندگی بسر کر رہا تھا، میں نے اس کی مما سے شکایت کی کہ آپ کا بچہ بٹر فلائی کے تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے، کہیں وہ اسے مسل مسل کر اس کی جان نہ لے لے۔ بچےکی مما  نے کہا ، سوری ،وہ نا ایکچولی  میرا بچہ ابھی ابھی موبائیل فون کی دنیا سے باہر آیا ہے۔۔۔ اس کے ڈاکٹر نے اسے موبائیل فون سے دور رکھنے کے لیے کہا ہے، اس لیے گارڈن لے آئی ہوں۔۔ اس سے کچھ مت کہنا پلیز۔۔۔
دل چاہتا تھا کہ بچہ کو ایک طمانچہ رسید کر دوں، کیونکہ بچہ کے خوبصورت سے ہاتھوں میں تتلی کا لال رنگ لگ چکا تھا ، تتلی پھڑ پھڑا کر تھک گئی تھی ، لیکن بچے نے اس پر رحم نہیں کیا ، میں بچے کو گھور کر دیکھ رہی تھی لیکن اس کی مما گھور گھور مجھے دیکھ رہی تھی !!! جیسے تتلی کی جان کے پیچھے ان کا لاڈلا نہیں بلکہ میں پڑی ہوں؟؟؟
میں وہاں سے چل پڑی ، یہ سوچا کہ میں نے بھی اپنے بچپن میں نہ جانے کتنی ہی تتلیوں کو مسل دیا ہو؟؟؟ اورکتنی تتلیوں کے پنکھوں کے خوبصورت رنگ، میرے ان گنہہ گار ہاتھوں میں لگے ہوں گے؟؟؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے