कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایران 2026: کیا دنیا کی چوتھی سپر پاور بننے جا رہا ہے؟

آبنائے ہرمز سے عالمی سیاست تک: ایران کی بڑھتی ہوئی قوت کی داستان

ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن کبھی ساکت نہیں رہتا۔ ہر چند عشروں بعد کوئی نہ کوئی قوت افق سے ابھرتی ہے اور دنیا کے نقشے پر اپنا نام ایسے درج کراتی ہے کہ بڑی سے بڑی طاقتیں بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ بیسویں صدی کی دو عالمی جنگوں نے امریکہ کو سپر پاور بنایا، سرد جنگ نے روس کو میدان میں لایا، اور اکیسویں صدی کے اوائل میں چین نے اقتصادی اژدھے کی طرح دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب اپریل 2026 میں دی نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے صفحات پر شکاگو یونیورسٹی کے معروف سیاسی سائنسدان پروفیسر رابرٹ پاپ (Robert Pape) نے ایک رائے مضمون میں لکھا کہ عالمی طاقت کا چوتھا مرکز تیزی سے ابھر رہا ہے اور وہ ایران ہے۔ یہ محض کسی اخبار کا جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک ماہرِ سیاسیات کی تجزیاتی رائے ہے جو جاری ایران جنگ 2026 کے ٹھوس حقائق کی روشنی میں پیش کی گئی ہے۔ اس رائے کو نہ آنکھ بند کر کے قبول کیا جائے اور نہ یکسر رد، بلکہ دلائل، اعداد و شمار اور تاریخی تناظر میں پرکھا جائے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ ایران عالمی طاقت کی صفوں میں کیسے جگہ بنا رہا ہے، سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ عالمی طاقت کی تعریف کیا ہے۔ روایتی تصور یہ تھا کہ سپر پاور وہی ہو سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، ہوائی جہاز بردار بحری جہاز (Aircraft Carriers) ہوں، دنیا بھر میں فوجی اڈے ہوں اور کھربوں ڈالر کی معیشت ہو۔ لیکن عالمی تعلقات کے نظریہ دان جوزف نائے (Joseph Nye) نے ہارڈ پاور (Hard Power) اور سافٹ پاور (Soft Power) کا جو تجزیاتی فریم ورک دیا، اس کی روشنی میں اکیسویں صدی کی جنگوں نے یہ تعریف مزید وسیع کر دی ہے۔ آج عالمی طاقت وہ بھی ہے جو دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا سکے، جو امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی سوچنے پر مجبور کر دے، اور جو کم قیمت غیر متشاکل (Asymmetric) ہتھیاروں سے مہنگے ترین دفاعی نظاموں کو ناکارہ کر سکے۔ ایران نے 2026 کی جنگ میں یہی کیا ہے اور یہی اس کی ابھرتی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دنیا کا وہ تنگ آبی راستہ ہے جو صرف تینتیس کلومیٹر چوڑا ہے اور اس وقت ایران کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (International Energy Agency) کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ جب ایران نے 2026 کی جنگ میں اس آبنائے کو مؤثر طور پر بند کیا تو برینٹ کروڈ (Brent Crude) ایک سو بیس ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا اور خلیجی ممالک کی معیشتوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگا۔ عرب دنیا کو اس جنگ میں ایک سو چورانوے ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا۔ ٹائم میگزین کے اپریل 2026 کے تجزیے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول عالمی سفارت کاری میں دوبارہ داخلے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور یہ اسے کئی دہائیوں کی پابندیوں کے بعد عالمی نظام میں واپس لانے کا تاریخی موقع دیتا ہے۔ یہ وہ جغرافیائی برتری ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں۔
ایران کی فوجی طاقت کا دوسرا ستون اس کا بے مثال میزائل اور ڈرون پروگرام ہے۔ گلوبل فائر پاور انڈیکس2025کے مطابق ایران دنیا کی سولہویں بڑی فوجی طاقت ہے۔ لیکن یہ رینکنگ پوری تصویر نہیں دکھاتی، کیونکہ روایتی فوجی ترتیب کے برخلاف ایران نے غیر متشاکل جنگی صلاحیت میں مہارت حاصل کی ہے۔ جسٹ سیکیورٹی (Just Security) نے مارچ 2026 میں لکھا کہ ایران نے ایسی فوج تیار کی جو امریکی جنگی طرز کو برداشت کر سکے۔ ایران کا ڈرون پروگرام اس لحاظ سے انقلابی ہے کہ اس نے جدید جنگ کی معاشیات کو یکسر بدل دیا ہے۔ جب کم قیمت ڈرون آسمان میں اڑتا ہے تو دشمن کو اسے مار گرانے کے لیے کئی گنا زیادہ قیمت خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پابندیاں الٹی پڑیں، ایران کو جو چیزیں باہر سے نہیں مل سکتی تھیں وہ اس نے اپنے ملک میں بنانا سیکھ لیں، اور یوں وہ مشرق وسطیٰ کی خود کفیل ترین فوجی طاقت بن گیا۔
ایران کی طاقت کا تیسرا اور شاید سب سے پیچیدہ پہلو اس کا علاقائی پراکسی نیٹ ورک ہے۔ اسٹمسن سینٹر (Stimson Center) کے مارچ 2026 کے تجزیے کے مطابق لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور عراق میں شیعہ ملیشیا، یہ سب ایران کی توسیع شدہ جنگی حکمتِ عملی کے اہم حصے ہیں۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے اپریل 2026 میں لکھا کہ یہ پراکسی نیٹ ورک اتنی گہری جڑیں رکھتا ہے کہ یہ ایرانی حکومت کے بعد بھی قائم رہ سکتا ہے، یعنی ایران نے اپنی طاقت کو ریاستی ڈھانچے سے آزاد کر لیا ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں اپنے پندرہ نکاتی منصوبے کی سب سے پہلی شرط یہ رکھی کہ ایران ان پراکسیوں کی حمایت بند کرے۔ اس مطالبے کا خود موجود ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نیٹ ورک امریکہ کو کس قدر فکرمند کرتا ہے۔
یہاں تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے کیونکہ علمی دیانت اور تحقیقی مزاج یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایران کی کمزوریوں کو بھی سامنے رکھا جائے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کی مجموعی قومی پیداوار صرف تین سو ستاسٹھ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کی ستائیس کھرب ڈالر کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہے۔ اٹھائیس فروری 2026 کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) میں سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت نے ایران کی قیادتی ساخت کو بنیادی طور پر ہلا دیا اور نئی قیادت نہ اتنی تجربہ کار ہے اور نہ اتنی متحد۔ اسٹمسن سینٹر کے تجزیے کے مطابق شام میں ایران کی زمینی راہداری ٹوٹنے سے پراکسی نیٹ ورک کی رسد متاثر ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پچاس ہزار سے زائد فوجی اہلکار موجود ہیں جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے مارچ 2026 میں رپورٹ کیا، اور یہ فوجی موجودگی ایران کو آزادانہ عمل کی اجازت نہیں دیتی۔ پس جو لوگ ایران کو ابھی سے مکمل سپر پاور قرار دیتے ہیں وہ غلو میں مبتلا ہیں، کیونکہ ایران ابھی ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت ہے جو عالمی اثر و رسوخ کی دہلیز پر کھڑی ہے۔
لیکن طاقت کا سفر اکثر کمزوری سے ہی شروع ہوتا ہے اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جب سوویت یونین پر مغربی پابندیاں لگیں تو اس نے ایٹم بم بنا لیا، جب چین کو تنہا کیا گیا تو اس نے اپنی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا لی، اور جب ایران کو محاصرے میں لیا گیا تو اس نے خود کفیل دفاعی صنعت کھڑی کر لی۔ برٹش پٹرولیم کی عالمی توانائی شماریات کے مطابق ایران کے پاس دو سو آٹھ ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر ہیں جو دنیا میں تیسرے سب سے بڑے ہیں، اور قدرتی گیس کے ذخائر میں وہ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ قدرتی وسائل، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور جغرافیائی مرکزیت ایران کو وہ بنیادیں فراہم کرتی ہیں جن پر عالمی طاقت کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔
سپر پاور بننے کا آخری لیکن اہم ترین عنصر بین الاقوامی اتحاد ہے اور یہ اس وقت ایران کے حق میں کام کر رہا ہے۔ روس نے ایران کو دفاعی تعاون دیا اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس غیر رسمی سہ رکنی محاذ نے مغربی دباؤ کو مؤثر طور پر کمزور کیا ہے۔ ایران ان کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی توسیع کے سامنے رکاوٹ کا کام کرتا ہے اور وہ اس کے بدلے اقتصادی اور سفارتی سہارا دیتے ہیں۔ یہ باہمی ضرورت پر مبنی اتحاد ایران کو عالمی نظام میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
پروفیسر رابرٹ پاپ نے جو بات نیویارک ٹائمز میں کہی وہ درحقیقت ایک بدلتی ہوئی دنیا کی علامت ہے۔ عالمی طاقت اب صرف جوہری بم یا ڈالر کی طاقت سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس صلاحیت سے بھی ناپی جاتی ہے کہ آپ اپنے حریف کو کتنا مہنگا پڑتے ہیں، آپ کتنے ممالک کے اقتصادی اور سیاسی حسابات کو متاثر کر سکتے ہیں، اور آپ کس قدر عالمی ایجنڈے کو اپنے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ ایران نے 2026 میں ثابت کیا کہ وہ امریکہ کو مہنگا پڑ سکتا ہے، عرب ممالک کو مہنگا پڑ سکتا ہے، اور یورپ سے ایشیا تک عالمی معیشت کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کام بینک (CommBank) کی اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایران کا اقتصادی دباؤ عالمی سپلائی چینز کو پہلے سے نچوڑ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول، غیر متشاکل جنگی صلاحیت، پراکسی نیٹ ورک اور روس و چین کی پشت پناہی، یہ سب مل کر ایران کو وہ مقام دلانے کی کوشش میں ہیں جو پہلے صرف امریکہ، چین اور روس کا تھا۔ اگرچہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا اور ایران کی اندرونی کمزوریاں اسے ابھی مکمل سپر پاور نہیں بننے دے رہیں، لیکن اگر اگلی دہائی میں ایران نے اپنی قیادتی خلا پُر کی، اپنی معیشت کو بحال کیا اور اپنے دفاعی پروگرام کو جاری رکھا تو آنے والے مؤرخ لکھیں گے کہ 2026 کی جنگ وہ تاریخی موڑ تھا جب ایران نے دنیا کی بڑی طاقتوں کی میز پر اپنی کرسی کا مطالبہ پیش کیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے