कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اتحاد ملت وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ
ناظم جامعۃ الحسنات دوبگا ،لکھنؤ

اسلام ایک ایسا خوبصورت اور جامع مذہب ہے، جو اپنے پیرو کاروں کی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جن میں عبادات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام امور و معاملات شامل ہیں اور دین اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ امت مسلمہ ایک ملت کی حیثیت سے آپس میں مل جل کراتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزارے کیونکہ ملت اسلامیہ کے اِمتیاز کے تمام تر راض صرف اورصرف اتحادو اتفاق میں ہی پنہاں ہیں جو اہمیت و افادیت انسانی جسم میں خون کی گردش کی ہے وہی اہمیت ملت اسلامیہ کے لئے اتحاد و اتفاق کی ہے اگر ملت اسلامیہ یہ ا اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا نہیں کرے گی تو پھر دیکھنے کو تو یہ امت زندہ ہو گی لیکن حقیقت میں ایک لاشہ بے جان ہو گی اس کی موت اور حیات میں اِس کے وجود اور عدم وجود میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جائے گا دنیا کی قومیں اِس پر اس طرح ٹوٹیں گی جیسے بھوکے کھانے پر ننگے کپڑوں پر اِس کی حیثیت خس وخاشاک کے مانند ہو جائے گی ،اقوام عالم کے درمیان اسکا کوئی وزن و وقار باقی نہیں رہ جائے گا۔ جب تک یہ اُمت متحد تھی تاریخ ہم کو بتا تی ہے کہ یہ سر کا تاج تھی ،منارہ نور تھی ،قندیل رہبانی تھی ،راتوں کی شب بیدار تھی ،دن کی شہسوار تھی ،اِس وجود چلتا پھرتا مدرسہ تھا ،اور جب سے اِس امت میں اختلاف و انتشار نے جنم لے لیا اس وقت سے ملت اسلامیہ کیڑوں مکوڑوں کے مانند ہو گئی ،دینے والی قوم کے بجائے لینے والی قوم بن گئی ،مسیحاکے بجائے مریض بن گئی ،ذہنی و سیاسی غلامی میں گرفتار ہو گئی ،حاشیہ بردار بن گئی۔
لہٰذا یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام اہل اسلام آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ ایک پلیٹ پر جمع ہوجائیں اور مسلکی منافرت و چپقلشوں سے مکمل طور پر گریز کریں کیونکہ یہ وقت انتشار کا نہیں بلکہ اتحاد کا ہے اگر آج ملت اسلامیہ متحد نہ ہوئی تو صفحہ ہستی سے اس کا وجود مٹ جائے گا۔
اِس اُمت کو اللہ تعالیٰ نے بہترین اُمت بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں نیکی اور تقویٰ کا درس دیتے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو روکنے والے ہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ اہم فریضہ اس وقت سرانجام دیا جا سکتا ہے جب ہم آپس میں محبت ومودت،اتفاق و اتحاد ،اخوت و بھائی چارگی ، صلہ رحمی و غمگساری کے سے رہیں گے۔ شاید اسی لئے فتح و نصرت کو اللہ نے اجتماعی ایمان سے مشروط فرمایا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے پکے مومن ، جب پوری اُمت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہو جائے گی تو وہ سب ایک دوسرے کے ہمدرد،غم خوار اور جانثار بن جائیں گے اور ان کی صفوں میں ایسی شیرازہ بندی قائم ہو جائے گی کہ کوئی بڑی سے بڑی عالمی قوت بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن پائے گی۔ ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتاب ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے! ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔اتحادِ اُمت پر زور دیتے ہوئے خود اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’بلاشبہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ جب تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان کا نفع بھی ایک ہے اور نقصان بھی ایک ہے۔ ان کی طاقت ان کا اتحاد ہے، انھیں دنیا کی دوسری قوموں پر اس لئے بھی برتری حاصل ہو گی کہ مسلمان اتحاد واتفاق کی اس فضاء کو قائم رکھتا ہے اور اس کی قائم رکھنے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہ اتحاد امت ہی کا اثر تھا کہ کسی زمانے میں مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور کامیاب قوم تھے۔ ان کی حیثیت ایک مضبوط اور مستحکم دیوار کی سی تھی مگر بد نصیبی سے جیسے جیسے لوگ اس مستحکم دیوار سے اینٹیں نکالتے گئے اور اپنے مفادات کے قلعے تعمیر کرتے گئے، ویسے ہی ان کی عزت و وقار کی یہ دیوار کمزور ہو کر ٹوٹنے اور بکھرنے لگی اور گرتی چلی گئی۔
ہم نے قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے، اس لئے آج ملت اسلامیہ مفلوک الحال اورپریشان ہے اور موجودہ حالات پکار پکار کر،چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں،وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ہم مسلمان اتحاد واتفاق کی فضاء قائم کریں۔ فرقہ واریت کا زہر جو ہماری نئی نسل میں ڈالا گیا ہے اس کو پیار بڑھا کر ختم کریں۔
ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کی آج بہت ہی سخت ضرورت ہے جبکہ مسلمان مسلمان ہی کو مسلک عقیدے کے نام پر کافر کہہ رہا ہے ہر طرف افراتفر ی ہے جبکہ مذہب اسلام تواپنے پیرو کاروں کو پیار محبت کا درس دیتا ہے، ہمیں اتفاق واتحاد سے رہنے کا سبق پڑھاتا ہے ، اسلام تو دوسروں کے ساتھ ایثار کرنے کا حکم دیتا ہے، اسلام نے تو ہمدردی کا سبق سکھایا ہے۔ اسلام تو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان ہونے کا درس دیتا ہے۔ امت کے افراد نے خودغرضی پر کمر کس لی ہے اور اپنے اپنے ذاتی مفادات کو آگے رکھ لیا ہے اور اس طرح ملت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔
موجودہ دور میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قرآن مقدس اور سنت رسول اللہ ؐ نے جا بجا اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ آج پوری دنیا میں اختلاف وانتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آرہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہمارے آپسی عدم اتفاق کی وجہ سے مختلف مقامات پر مسلمانوں کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں لیکن عمل سے ہماری زندگی خالی ہے اورہم قرآن و سنت کی تعلیم سے بہت دور ہیں۔ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا ، ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہوگئے۔ آج ہم سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کی وجہ سے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں اور یہ نفرت کم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ سیاسی انتہا پسندی و فرقہ واریت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا اور کمزور بنا دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری دنیا میں آج عزت نہیں رہی۔ پہلی وجہ یہ کہ ہم نے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑا، پھر ہم ادب و احترام کا رشتہ ہی بھول گئے، جس کی وجہ سے تنزلی ہمارا مقدر ٹھہری جبکہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔ دین اسلام میں اختلاف رائے جہاں ممدوح ہے، وہیں لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اختلاف کو ناپسند کیا گیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے