कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یوم اُردو : ہماری زبان کا جشن، نئی نسل اور اُردو زبان کا مستقبل

از قلم : منور فاطمہ مسعود خان
صدر معلمہ : اقراء اردو پرائمری اسکول ۔پربھنی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں
اردو "ہماری مادری زبان ہے یہ بڑی پیاری زبان ہے۔ لفظ "اردو "دراصل ایک ترکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی لشکر کے ہیں اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو ایک مشترکہ زبان ہے۔جو ہندی ،فارسی ،ترکی، عربی وغیرہ جیسی کئی زبانیں مل کر اردو زبان تیار ہوئی ۔جس کی وجہ سے یہ ایک جامع زبان بنی۔ اُردو ایک ایسی زبان ہے جو اپنے خوبصورت لہجے شاعری اور ادبی روایت کے لیے مشہور ہے۔
اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں اس کو
لکھتے ہیں ہم اسے سمجھتے ہیں ہم اس کو
تو ہے میری شناخت میری پہچان کا سفر
اردو زبان تو ہے میرا فخر میرا اثر
اردو ڈے ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنی زبان ثقافت اور ادبی وارثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے فروغ کے لیے اقدامات کریں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اردو ہماری شناخت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہیں ۔اردو ڈے کو منانا صرف ایک رسم نہیں بلکہ ہماری ثقافت اور زبان کی حقیقی قدر دانی ہے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
یوم اردو ہر سال ( 9 )نومبر کو منایا جاتا ہے جو علامہ اقبال کی پیدائش کی تاریخ ہے علامہ اقبال جو اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے عظیم شاعر تھے. اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف قوم کو بیدار کیا بلکہ اردو ادب کو نئی زندگی بخشی اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ان کی شاعری میں محبت خودی اور قومی شناخت کی گہرائی سے بھرپور موضوعات شامل ہیں.
منزل سے اگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
علامہ اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور بہت اہم ہے وہ انسان کی اپنی حیثیت اور طاقت کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں ۔
ان کا مشہور شعر
خود ی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر ہمیں خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دیتا ہے یہ پیغام اردو ڈے کے موقع پر اہمیت رکھتا ہے علامہ اقبال کی شاعری میں عشق اور محبت کا موضوع بھی نمایاں ہے ۔
ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہے
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہے
علامہ اقبال کی شاعری میں قومی تخشیص اور ملیت کا بھی بڑا مقام ہے وہ مسلمانوں کی یکجہتی اور ان کی طاقت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی نظم "شکوہ ”
شکوہ ہے مجھے میرے خدا سے
تو نے نہ دیکھا ہمارےحال کو
نظم” شکوہ” میں علامہ اقبال اللہ تعالی سے شکوہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ حالات بہت خراب ہیں حالانکہ ان کے آباؤ اجداد نے اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ:
اے خدا تو نے ہمیں عزت دی ،پھر ہم کیوں زوال کی حالت میں ہیں ؟
شکوے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے بے حسی اور ان کی کمزوریوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ علامہ اقبال کے مطابق مسلمان اپنے مقام سے دور ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی روحانی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہیں ۔
جواب شکوہ ”
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تاریک قرآن ہو کر
جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے اللہ تعالی کی طرف سے جواب دیا ہے خدا مسلمانوں کی حالت کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کی کمزوریوں کی وجوہات کو بیان کرتا ہے
اللہ تعالی فرماتا ہے:
میں نے تمہیں ہر نعمت دی ،مگر تم نے اپنی ذمہ داریوں کو بھلا دیا۔”
جواب شکوہ میں خدا کی رحمت مسلمانوں کے عزم اور ان کی طاقت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے علامہ اقبال نے اس نظم کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمان اگر اپنی شناخت کو پہچانیں اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں تو وہ دوبارہ عظیم بن سکتے ہیں۔
شکوہ” اور "جواب شکوہ” میں یہ موضوعات عروج پر ہیں۔ علامہ اقبال کی یہ دونوں نظمیں مسلمانوں کے لیے ایک پیغام ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ ان کی قوت اور کامیابی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے میں ہیں ۔ان کی شاعری میں موجود یہ جذبہ آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔یہ آج بھی ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنی قوت کو پہچاننا چاہیے اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت میں لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
نئی نسل اور اُردو زبان ‌:-
آج کے دور میں اردو زبان کو نئی نسل تک پہنچانا ایک چیلنج ہے سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے اردو کے استعمال کو بڑھایا ہے مگر انگلش(انگریزی) زبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اردو کی حیثیت کو متاثر کیا ہے .
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
اردو ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی زبان کی تعلیم و تدریس پر توجہ دینی چاہیے نوجوانوں کے لیے اردو زبان کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے تعلیمی اداروں کو اردو کے فروغ کے لیے مختلف پروگرامز منعقد کرنی چاہیں۔ اردو زبان کی ادبی تاریخ بہت شاندار ہیں یہ شاعری ،نثر اور ڈرامے سمیت مختلف ادبی اقسام میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے اردو شاعری میں مرزاغالب، علامہ اقبال، فیض اور احمد فراز جیسے عظیم شاعروں کے نام شامل ہیں ۔جنہوں نے اردو کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ان کی شاعری نے نہ صرف محبت اور احساسات کو بیان کیا بلکہ سیاسی وہ سماجی مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہیں ان تمام شاعروں کی معلومات نئی نسل کو ہونا بہت ضروری ہیں تاکہ وہ اپنی مادری زبان سے واقف ہو سکے۔کیونکہ اردو شاعری غزل اور لغت کی شکل میں لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں ۔ہمیں اردو زبان کو نئی نسل کے لیے مزید قابل رسائی بنانا ہے تاکہ وہ اس زبان کی محبت اور اس کی خوبصورتی کا لطف اٹھا سکیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
اردو زبان کا مستقبل ‌ :-
اردو زبان کا مستقبل مختلف پہلوؤں پر منحصر ہے جیسے تعلیمی نظام ثقافتی روایت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال۔
اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
داغ دہلوی نے شعر میں بڑے ہی غرور سے اردو کی سربلندی کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اردو ایک شیرین زبان ہے جو ہر جگہ ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں ۔لیکن آج اگر ہم ہندوستان کا جائزہ لیں تو اردو پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی جا رہی ہیں عالم تو یہ ہے کہ جو لوگ اردو جانتے ہیں وہ بھی اردو کی تاریخ سے ناواقف ہے
چاہنے والے بہت پھر بھی میرا کوئی نہیں
میں بھی اس ملک میں اردو کی طرح رہتا ہوں
اردو ڈے کے موقع پر جب میں نے کچھ لکھنے کا سوچا تو میرا دماغ سوچوں کا مرکز بنا اور میرے دل و دماغ میں کئی سوالات پیدا ہوئے جیسے۔۔۔
1. زبان کیا ہے؟ 2. اردو کس زبان کا لفظ ہے؟
3. اردو زبان کو پہلے کس نام سے جانا جاتا تھا؟
4. سب سے پہلے اردو لفظ کا استعمال کس نے کیا؟
5. بابائے اردو کسے کہا جاتا ہے؟
6. اردو کا لفظی مطلب ،نثر کے معنی، مغلیہ دور کی سرکاری زبان اور اردو کب دفتری زبان بنی؟
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
تب مجھے احساس ہوا کہ اردو زبان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اس کی حفاظت اور فروغ کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں اپنی ثقافت اور زبان کو زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہیں حکومت اور مختلف تنظیموں کو اردو زبان کی ترقی کے لیے منصوبے بنانے چاہیں ۔جن میں اردو لٹریچر کی تشہیر اردو زبان میں ایڈیٹوریل مواد کی تیاری اور نوجوانوں کو اردو میں لکھنے اور بولنے کی ترغیب دینا شامل ہو۔اردو زبان کی شادابی اور خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہم سب کا فرض ہیں اور اردو زبان کی عظمت کو اپنی نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہیں ۔اردو ڈے پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی اردو زبان کو زندہ رکھیں گے اور اس کی ادبی وارثیےکی حفاظت کریں گے اردو ڈے منانے کا مقصد اردو زبان کی تعلیم کو فروغ دینا ۔ نئی نسل کے ہاتھ میں اردو زبان کا مستقبل ہیں ۔ اگر انہیں صحیح رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ اردو زبان کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں ۔
یہی درس دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤں گے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے