कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچوں کے ساتھ جھوٹ بولنے کے نقصانات: اثرات اور معاشرتی مضمرات

نام : گلناز پروین خطیب عبد الثقلین
معلمہ: اقراء اردو پرائمری اسکول درگاہ روڈ پربھنی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوزمحمد سرور شریف پربھنی

جھوٹ بولنا ایک ایسی عادت ہے جو اخلاقی اور سماجی مسائل کی جڑ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر جب والدین یا اساتذہ بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں یا انہیں جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں، تو اس کے کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم بچوں کے ساتھ جھوٹ بولنے کے نقصانات اور اس کے سماج پر اثرات کو تفصیل سے دیکھیں گے۔
بچوں کو بہلانے ڈرانے یا جان چھڑوانے کیلئے بولے جانے والےجھوٹے الفاظ
تو یہ empty words” ہوتے کیا ہیں؟
کھانا جلدی کھا لو ورنہ فلاں کھانا کھا لے گا
کیا واقعی بی (xyz) کھانا کھا لے گا؟
جلدی تیار ہو جاؤ ورنہ میں گھر چھوڑ جاؤں گی؟
کیا واقعی ہی اسے ہم گھر چھوڑ سکتے ہیں؟
جلدی گاڑی میں آ کے بیٹھو ورنہ میں گاڑی چلا رہی ہوں ؟
کیا واقعی ہی آپ گاڑی چلا دیں گی اسے لئے بغیر؟
نہیں نا !
حدیث مبارکہ ہے کہ 444
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، أن رجلا من موالي عبد الله بن عامر بن ربيعة العدوي حدثه، عنعبد الله بن عامر أنه قال: دعتني أمي يومًا ورسول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدَ فِي بَيْتِنَا، فَقَالَت ها تعال أعطيك، فقال لها رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وسلم: وما أردت أن تعطيه، قالت: أعطيه ثمزا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ الله
صلى الله عليه وسلم: أما إنك لو لم تعطه شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةً
ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میریوالدہ نے مجھے بلایا ۔ ادھر آؤ ، چیز دوں گی اور رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے ۔ آپ نے میری والدہ سے دریافت فرمايا : ” تم اسے کیا دینا چاہتی ہو ؟ انہوں نے بتایا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی ہوں * پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا :” اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا”.
سنن ابن داود حدیث نمبر 4991 ایک تو آپ جھوٹ بولتے ہیں دوسرا بچے آخر کار سمجھ جاتے ہیں
کے یہ خالی الفاظ ہیں اور پھر آپ کے الفاظ کی ویلیو ختم ہو جاتی ہیں۔
حل
ہم empty words استعمال نہ کریں تو کیا کریں بچے کھانا نہیں کھا رہے اور آپ کہتے ہیں کے بیٹا کھانا کھا لو ورنہ
Solution
فلاں کھانا کھا لے گا
یہ غلط ہے۔
پسند ہے۔ آپ کھانا کھا لیں تو ہم فلاں xyz کریں گے۔
جلدی تیار ہو جاؤ ورنہ میں گھر چھوڑ جاؤں گی۔
غلط جملہ ہے۔
بیٹا جلدی تیار ہو جایں۔ ورنہ ہم لیٹ ہو جایں گے اور آپ کے پاس انجونے کے لئے کم ٹائم بچے گا! گاڑی میں بیٹھ جاؤ ورنہ میں گاڑی چلا رہی ہوں۔ غلط ہے ایسا کہنا بیٹا گاڑی میں بیٹھ جایں ورنہ مجھے اپکو اٹھا کے بیٹھنا پڑے گا۔ آپ جب بچوں سے بات کریں تو کوشش کریں کے logical اور ٹھوس بات ہو جسے ہم بڑے لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں تا کے ہماری بات کو اہمیت ہو اور ہم جھوٹ کے گناہ سے بھی بچ سکیں۔ بچے ہمارے جھوٹے ڈراوں کو بہت جلدی سمجھ جاتے ہیں اور پھربچوں کے ساتھ جھوٹ بولنا ہمارے ہاں اتنا عام ہے کہ اسکو جھوٹسمجھا ہی نہیں جاتا۔
1. اعتماد کا کھونا (Trust کا ختم ہونا)
جھوٹ بولنے کا سب سے پہلا اور بڑا نقصان اعتماد کا ختم ہونا ہوتا ہے۔ جب بچے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے والدین یا بڑے ان سے جھوٹ بول رہے ہیں، تو ان کا اپنے والدین اور بڑوں پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی والدین اپنے بچے سے یہ کہے کہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جائیں گے اور پھر لے جاتے ہیں، تو بچے کے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جھوٹ آہستہ آہستہ اعتماد کی دیوار کو کمزور کرتے ہیں۔
جب بچے بار بار جھوٹ سنتے ہیں تو وہ خود بھی اس رویے کو اختیار کرنے لگتے ہیں، جس سے معاشرتی تعلقات میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ایک اعتماد پر مبنی معاشرہ جھوٹ کے زیرِ اثر نہیں چل سکتا۔
2. اخلاقی اقدار پر اثر (Impact on Morality)
بچوں کی اخلاقیات ان کے ابتدائی تجربات اور تعلیمات سے تشکیل پاتی ہیں۔ اگر انہیں جھوٹ بولنے کا درس دیا جائے یا وہ دیکھیں کہ ان کے ارد گرد کے لوگ جھوٹ بولتے ہیں، تو ان کے اندر سچائی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جھوٹ بولنا ایک معمولی بات ہے، جس سے ان کی اخلاقیات پر منفی اثر پڑتا ہے۔
معروف شاعر غالب کا ایک شعر ہے:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے،
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔”
یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان کے اندر بے شمار خواہشات ہوتی ہیں، لیکن اگر وہ جھوٹ یا غلط راستے اختیار کرے، تو اس کے نتائج ہمیشہ مثبت نہیں ہوتے۔
3. معاشرتی اثرات (Impact on Society)
جھوٹ بولنا نہ صرف فرد کی ذات کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ ایک بچہ اگر جھوٹ بولنے کی عادت اختیار کر لیتا ہے تو اس کا اثر معاشرتی سطح پر بھی پڑتا ہے۔ جھوٹ سے معاشرے میں بے اعتمادی اور شک کا ماحول بن جاتا ہے، جو معاشرتی تعلقات کو کمزور کرتا ہے۔
معاشرتی تعلقات میں سچائی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو معاشرے میں بداعتمادی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ مشہور رہنما مہاتما گاندھی نے کہا تھا، "سچائی خدا ہے۔”
یہ قول سچائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور جھوٹ بولنا معاشرتی بگاڑ کی جڑ بن سکتا ہے۔
4. بچوں کی ذہنی حالت پر اثر (Mental Impact on Children)
جھوٹ بولنے کا ایک اور بڑا نقصان بچوں کی ذہنی حالت پر ہوتا ہے۔ جھوٹ سے بچے الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط۔ یہ ذہنی تناؤ ان کے تعلیمی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
جب بچے جھوٹ بولتے ہیں تو ان کے اندر ایک خوف اور گناہ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کا جھوٹ پکڑا نہ جائے، جو ان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔
5. رشتوں میں دوریاں (Distance in Relationships)
جھوٹ بولنے سے رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ بچوں اور والدین کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ ان کے والدین یا بڑے ان سے جھوٹ بول رہے ہیں، تو ان کے دل میں والدین کے لیے عزت کم ہو جاتی ہے۔ یہ فاصلے وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں، جس سے گھریلو ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔
شاعر میر تقی میر کا ایک شعر ہے:
عشق ایک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
یہ شعر رشتوں کی نزاکت کو بیان کرتا ہے، اور جیسے عشق ایک بھاری بوجھ ہے، اسی طرح جھوٹ بھی رشتوں پر بھاری بوجھ بن جاتا ہے اور انہیں کمزور کرتا ہے۔
6. تعلیمی کارکردگی پر اثر (Impact on Academic Performance)
بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر بھی جھوٹ بولنے کا منفی اثر پڑتا ہے۔ جب بچے جھوٹ بول کر اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں، تو وہ سچائی کا سامنا نہیں کر پاتے اور ان کی سیکھنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتی ہے۔ وہ مسائل کا حل ڈھونڈنے کے بجائے ان سے بھاگنے لگتے ہیں، جو ان کی تعلیمی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
7. اخلاقی قیادت کی کمی (Lack of Moral Leadership)
جب بچے جھوٹ بولنے کی عادت اختیار کر لیتے ہیں، تو معاشرے میں اخلاقی قیادت کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ سچائی اور ایمانداری کی بنیاد پر معاشرتی رہنمائی کرنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے، اور معاشرہ ان اخلاقی اقدار سے محروم ہو جاتا ہے جو اسے مضبوط بناتی ہیں۔
8. فراڈ اور جرم میں اضافہ (Increase in Fraud and Crime)
جھوٹ بولنے کی عادت بچوں کو بڑے ہو کر فراڈ اور جرم کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے سے انہیں فوری فائدہ حاصل ہو رہا ہے، تو وہ اس عادت کو زندگی بھر اپنا لیتے ہیں۔ یہ عادت بڑے جرائم کی جڑ بن سکتی ہے، اور بچے آگے چل کر معاشرتی مجرم بن سکتے ہیں۔
نتیجہ (Conclusion)
جھوٹ بولنا بچوں کی شخصیت اور معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ یہ عادت نہ صرف ان کے اعتماد اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ یہ معاشرتی تعلقات، تعلیمی کارکردگی، اور قیادت کے اصولوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ہمیں بچوں کے ساتھ سچائی کا برتاؤ کرنا چاہیے اور انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ سچائی اور ایمانداری زندگی میں کامیابی کے لیے کس قدر اہم ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے