कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غریب لڑکیوں کی شادی میں امداد یا غریب مستحق لڑکوں کی سرپرستی؟

ہماری خیرات کا رخ معاشرتی اصلاح کی طرف ہونا چاہیے

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر مالی تعاون اور اجتماعی امداد کا جذبہ بلاشبہ ایک قابلِ قدر اور مستحسن جذبہ ہے۔ صاحبِ ثروت افراد، سماجی تنظیمیں اور اہلِ خیر حضرات غریب اور ضرورت مند خاندانوں کی بچیوں کی شادی کے لیے چندہ جمع کرتے ہیں، ان کے جہیز، کھانے پینے اور دیگر اخراجات کا انتظام کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک نیک اور ہمدردانہ کوشش ہے، لیکن اگر اس عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ہماری مالی امداد واقعی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر رہی ہے، یا انجانے میں ہم بعض ایسی معاشرتی رسموں اور غیر ضروری اخراجات کو بھی فروغ دے رہے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے؟
یہ سوال کسی کی نیک نیتی پر اعتراض نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی طرزِ عمل پر غور و فکر کی دعوت ہے۔
مدد کا جذبہ قابلِ قدر، مگر اس کا مصرف بھی قابلِ غور:
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی غریب خاندان میں لڑکی کی شادی کا معاملہ سامنے آتے ہی چندہ جمع کرنے کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔ لوگوں سے مالی تعاون کی اپیل کی جاتی ہے، رقم جمع ہوتی ہے اور پھر اس کا بڑا حصہ جہیز، شادی کے سامان، کھانے پینے اور باراتیوں کی ضیافت جیسے اخراجات پر صرف کردیا جاتا ہے۔ حالاں کہ ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم پہلے ہی ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس رسم نے نہ جانے کتنے غریب والدین کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا ہے، کتنی بچیوں کی شادیوں میں تاخیر کا سبب بنی ہے اور کتنے خاندانوں کی عزتِ نفس کو مجروح کیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جس جہیز کی رسم کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اجتماعی جدوجہد کرنی چاہیے، بعض اوقات ہم اسی رسم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ جمع کرکے اس کے تسلسل کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اگر کسی غریب بچی کی شادی کے نام پر رقم جمع کی جائے اور اس رقم سے غیر ضروری سامان، نمود و نمائش اور باراتیوں کی پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا جائے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ایک ضرورت مند خاندان کی مدد کر رہے ہیں یا معاشرے میں رائج ایک غلط نظام کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں؟
اسلام نے نکاح کو آسان بنانے، فضول خرچی سے بچنے اور سادگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ نکاح ایک پاکیزہ معاشرتی معاہدہ اور سنتِ نبوی کا اہم حصہ ہے، اسے معاشرتی نمائش، مالی مقابلہ آرائی اور غیر ضروری رسوم کا ذریعہ بنانا اس کی اصل روح کے منافی ہے۔
کیا غریب لڑکے کی پریشانی کم اہم ہے؟:
یہاں ایک دوسرا اور نہایت اہم پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں غریب لڑکی کی شادی کے لیے تو کسی نہ کسی درجے میں اجتماعی ہمدردی اور مالی تعاون کا ماحول بن جاتا ہے، لیکن غریب، بے روزگار اور مستحق نوجوانوں کی شادی کا مسئلہ عموماً ہماری اجتماعی ترجیحات میں وہ اہمیت حاصل نہیں کرپاتا جس کا وہ مستحق ہے۔
ایک ایسا نوجوان جو نکاح کی خواہش رکھتا ہے، کردار و صلاحیت کے اعتبار سے اچھا ہے، زندگی گزارنے کا سلیقہ رکھتا ہے، مگر مالی وسائل کی کمی، بے روزگاری یا معاشی عدم استحکام کی وجہ سے شادی کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہے، کیا وہ ہماری توجہ کا مستحق نہیں؟ کیا اس کی پریشانی، اس کی ضرورت اور اس کے مستقبل کی فکر ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشی پریشانیاں نوجوانوں کی زندگی کے متعدد پہلوؤں کو متاثر کرتی ہیں۔ بے روزگاری، عدم استحکام اور شادی کے اخراجات کا خوف بعض نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر معاشرہ ان کی بروقت مدد کرے، ان کے لیے روزگار اور نکاح کے مواقع پیدا کرے تو یہ محض ایک فرد کی مدد نہیں ہوگی بلکہ ایک خاندان اور آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہوگی۔
امداد کا نیا تصور: نکاح بھی، روزگار بھی:
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی امدادی سرگرمیوں کے دائرے کو وسیع کریں اور غریب مستحق نوجوانوں کو تلاش کرکے ان کی شادی کے لیے منظم اجتماعی تعاون کا نظام قائم کریں۔ ایسے نوجوانوں کی نشاندہی کی جائے جو واقعی نکاح کے خواہش مند ہیں، مگر مالی مشکلات ان کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ان کے لیے سادہ اور باوقار نکاح کا انتظام کیا جائے، بنیادی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کیا جائے اور انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز عزت و خودداری کے ساتھ کرسکیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امداد کو صرف شادی کے ایک روزہ انتظام تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر کسی نوجوان کے پاس روزگار نہیں، کوئی ہنر نہیں یا آمدنی کا مستقل ذریعہ نہیں تو محض اس کی شادی کرادینا کافی نہیں ہوگا۔ شادی کے بعد اس کی معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ امدادی ادارے اور اہلِ خیر حضرات ایسے نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کریں۔
کسی کو چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے، کسی کو فنی تربیت دلائی جائے، کسی کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، کسی کو دکان یا کاروباری سامان مہیا کیا جائے اور کسی کو اس کی صلاحیت کے مطابق ملازمت حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔ اس طرح ایک مرتبہ کی امداد مستقل معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہاں ہمیں امداد اور خود کفالت کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ وقتی مدد کسی کی فوری ضرورت پوری کرتی ہے، لیکن خود کفالت کا انتظام انسان کو زندگی بھر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچا سکتا ہے۔
خیرات سے آگے بڑھ کر معاشرتی ذمہ داری:
اسلامی تعلیمات میں ضرورت مندوں کی مدد، یتیموں کی کفالت، مساکین کی خبرگیری اور معاشرے کے کمزور طبقات کی سرپرستی کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ قرآن مجید نے نکاح کے سلسلے میں بھی غیر شادی شدہ افراد کے نکاح کا انتظام کرنے کی ترغیب دی ہے:
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔
(سورۃ النور: 32)
ترجمہ: اور تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح ہوں ان کے نکاح کردو، اور اپنے نیک غلاموں اور باندیوں کے بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔
اس آیت میں نکاح کے اجتماعی انتظام کی ترغیب موجود ہے۔ اس سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ غربت کو نکاح میں مستقل رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے۔ معاشرے کے اہلِ خیر اور ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں جو نکاح کے خواہش مند اور اس کے اہل ہیں، لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے قدم نہیں اٹھا پارہے ہیں۔
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ غریب لڑکیوں کی مدد بھی یقیناً ایک نیک اور ضروری عمل ہے۔ اگر کسی بچی کے والدین نہیں، کوئی سرپرست نہیں، یا خاندان شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہے تو اس کی مدد سے گریز کرنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن مدد کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو اس کی حقیقی ضروریات پوری کرے، نہ کہ جہیز اور غیر ضروری رسوم کو فروغ دے۔ اسی طرح مستحق لڑکوں کی مدد کو بھی ہماری اجتماعی ترجیحات میں نمایاں جگہ ملنی چاہیے۔
ایک منظم نظام کی ضرورت:
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے سماجی ادارے، دینی تنظیمیں، مساجد کی انتظامی کمیٹیاں اور اہلِ خیر حضرات اس سلسلے میں ایک مستقل اور منظم لائحۂ عمل تیار کریں۔ ایک ایسا اجتماعی فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے غریب لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی حقیقی ضروریات کا جائزہ لے کر ان کی مدد کی جائے۔
اس فنڈ کے تحت چند اہم کام انجام دیے جاسکتے ہیں:
اولاً، مستحق اور غیر شادی شدہ نوجوانوں کی باعزت انداز میں نشاندہی کی جائے اور ان کے لیے سادہ نکاح کا انتظام کیا جائے۔
ثانیاً، شادی کے نام پر جہیز، غیر ضروری سامان اور پرتکلف ضیافتوں کے بجائے بنیادی ضروریات اور حقیقی مسائل کو ترجیح دی جائے۔
ثالثاً، بے روزگار نوجوانوں کو ہنر سکھانے، چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور روزگار حاصل کرنے کے لیے مالی و عملی تعاون فراہم کیا جائے۔
رابعاً، غریب بچیوں کی شادی میں بھی حقیقی ضرورت کے مطابق مدد کی جائے، لیکن اس امداد کو جہیز کی رسم یا سماجی نمائش کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔
خامساً، نکاح کے خواہش مند نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی رہنمائی کے لیے مشاورت کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ معاشی دشواریوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی رکاوٹوں کو بھی دور کیا جاسکے۔
یہ تمام کام شفافیت، مستحقین کی عزتِ نفس کے تحفظ اور ان کی نجی زندگی کے احترام کے ساتھ انجام دیے جانے چاہییں۔
ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی ـ:
معاشرے کی حقیقی ترقی صرف عمارتیں بنانے، بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرنے اور تقریبات میں کثیر رقم خرچ کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ ہم اپنے کمزور اور ضرورت مند افراد کی زندگی میں کتنی آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔
اگر ہم ایک غریب بچی کی شادی کے لیے لاکھوں روپے جمع کرسکتے ہیں تو ایک غریب نوجوان کو روزگار فراہم کرنے اور اس کی شادی آسان بنانے کے لیے بھی اجتماعی کوشش کرسکتے ہیں۔ اگر ہم ایک دن کی ضیافت پر بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں تو کسی نوجوان کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے سرمایہ کاری کیوں نہیں کرسکتے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی نوجوان کو روزگار فراہم کرنا، اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا، اس کے لیے نکاح کی راہ ہموار کرنا اور اسے ایک باوقار خاندانی زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ایک عظیم سماجی خدمت ہے۔ بلکہ ایسی مدد کے اثرات ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، اس سے ایک خاندان مستحکم ہوتا ہے، معاشی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور معاشرے میں ذمہ داری کا احساس پروان چڑھتا ہے۔
آئیے، امداد کے تصور کو وسعت دیں:
ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم غریب لڑکیوں کی مدد کا سلسلہ بند کردیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی امداد کے دائرے کو وسیع کریں، اس کے طریقۂ کار کو درست کریں اور اس کے مقاصد کو معاشرتی اصلاح سے ہم آہنگ بنائیں۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی غریب بچی کی شادی جہیز کی محتاج نہ رہے اور کسی غریب نوجوان کا نکاح بے روزگاری اور مالی پریشانی کی نذر نہ ہو۔
ہمیں ایسی خیرات اور امداد کو فروغ دینا چاہیے جو محض وقتی خوشی کا سبب نہ بنے بلکہ مستقل آسودگی اور خود کفالت کی بنیاد بنے۔ کسی ضرورت مند کے گھر میں شادی کے موقع پر کھانا کھلانا یقیناً نیکی ہے، لیکن کسی بے روزگار نوجوان کو ایسا ذریعہ معاش فراہم کردینا جس سے وہ عمر بھر اپنے خاندان کی کفالت کرسکے، اس کے اثرات کہیں زیادہ دور رس ہوسکتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کو ایسے ہی وسیع النظر، دور اندیش اور اصلاحی جذبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی خیرات، زکوٰۃ، صدقات اور سماجی تعاون کو ایسی سمت دینا ہوگی جہاں رسموں کے بجائے ضرورتوں کو، نمود و نمائش کے بجائے سادگی کو، وقتی امداد کے بجائے خود کفالت کو اور انفرادی مصلحت کے بجائے اجتماعی فلاح کو ترجیح حاصل ہو۔
یاد رکھیے! اصل خدمت کسی غریب کے گھر میں شادی کا چراغ جلانے کے ساتھ ساتھ اس چراغ کو روشن رکھنے کے وسائل فراہم کرنا بھی ہے۔ یہی سوچ ہمارے معاشرے میں نکاح کو آسان، نوجوانوں کو خود کفیل اور خاندانوں کو مستحکم بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے