कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقبال کے شاہیں

از قلم: فیض احمد فیضی
آکولہ، مہاراشٹر

جب بھی ہم علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جس نے اپنی شاعری کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے، نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور انہیں بلند مقاصد سے آشنا کرنے کی کوشش کی۔ اقبال محض شاعر نہیں تھے، بلکہ ایک مفکر، ایک رہنما اور نوجوان نسل کے لیے امید و حوصلے کا پیغام تھے۔
اقبال کی شاعری میں شاہین محض ایک پرندہ نہیں، بلکہ ایک خاص فکر، ایک بلند کردار اور ایک خوددار شخصیت کی علامت ہے۔ وہ ایسا شاہین چاہتے تھے جو بلند پرواز ہو، جس کی نگاہ دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو، جو مشکل حالات سے گھبرانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور جو دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنی قوتِ بازو پر بھروسا کرنا جانتا ہو۔
اقبال نے نوجوانوں کو اسی شاہین کی مثال دے کر انہیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، اپنے مقصد کو بلند رکھنے اور زندگی میں خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کا درس دیا۔
لیکن آج جب ہم اپنے گرد و پیش نظر دوڑاتے ہیں تو ایک سوال ہمارے ذہن میں ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اقبال کے اس پیغام کو واقعی سمجھا ہے؟ کیا ہماری نئی نسل اقبال کے شاہین کی صفات کو اپنی زندگی میں جگہ دے رہی ہے؟ یا ہم نے اقبال کو محض چند اشعار، تقریبات اور سالانہ یادگار دنوں تک محدود کر دیا ہے؟
یہ سوال کسی پر تنقید کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے اور اپنی فکری سمت کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔
اقبال کا تصورِ شاہین:
اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو جس انداز سے پیش کیا ہے، اس کے پس منظر میں ایک گہرا فکری اور تربیتی پیغام پوشیدہ ہے۔ شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جو بلندیوں میں پرواز کرتا ہے، آزاد فضا کو اپنا مسکن بناتا ہے اور اپنی قوتِ پرواز پر بھروسا رکھتا ہے۔ اقبال نے اسی پرندے کو نوجوانوں کے لیے ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا۔
اقبال کے نزدیک شاہین کی سب سے نمایاں صفت خودداری ہے۔ وہ کسی کے چھوڑے ہوئے شکار پر گزارا نہیں کرتا بلکہ اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنا رزق حاصل کرتا ہے۔ اس کی نگاہ ہمیشہ بلندیوں پر رہتی ہے اور وہ مشکلات سے گھبرا کر اپنی پرواز ترک نہیں کرتا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہیں اقبال نوجوانوں کی شخصیت میں دیکھنا چاہتے تھے۔
اقبال کا شاہین نوجوان کو یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کا مقصد محض آسائشیں حاصل کرنا یا دوسروں کی کامیابیوں پر فخر کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اپنے کردار کو مضبوط بنانا اور کسی بلند مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔
اسی تصور کو اقبال نے اپنے اس شعر میں کتنی خوب صورتی سے بیان کیا ہے:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
یہ شعر محض حوصلہ افزائی نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک دعوتِ عمل ہے۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ انسان کو اپنی موجودہ کامیابیوں پر مطمئن ہوکر رک نہیں جانا چاہیے، بلکہ علم، کردار اور عمل کے میدان میں نئی بلندیوں کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔
خودی کا شعور اور نوجوان:
اقبال کے پیغام کا ایک بنیادی ستون فلسفۂ خودی ہے۔ خودی سے مراد محض اپنی ذات پر فخر کرنا یا دوسروں سے خود کو برتر سمجھنا نہیں، بلکہ اپنی حقیقت کو پہچاننا، اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا، اپنے کردار کو سنوارنا اور اپنے مقصدِ حیات سے واقف ہونا ہے۔
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان احساسِ کمتری، ذہنی غلامی اور دوسروں کی محتاجی سے نکل کر اپنے اندر اعتماد، خودداری اور عمل کا جذبہ پیدا کریں۔ ان کے نزدیک وہی نوجوان حقیقی معنوں میں کامیاب ہے جو حالات کے سامنے ہمت نہ ہارے، اپنی کمزوریوں کو پہچان کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرے اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا رہے۔
اقبال نوجوانوں کو محض معلومات حاصل کرنے والا نہیں، بلکہ آزاد فکر اور بیدار شعور رکھنے والا انسان دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان اپنی عقل و فکر کو تقلیدِ بے جا، احساسِ کمتری اور ذہنی غلامی سے آزاد رکھیں، علم کی روشنی میں درست اور غلط کا فرق سمجھیں اور اپنے فیصلوں میں شعور و بصیرت سے کام لیں۔
اسی فکر کی ترجمانی اقبال کے اس شعر میں ملتی ہے:
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
اس شعر میں اقبال نوجوانوں کو فکری آزادی، تخلیقی صلاحیت اور اجتہادی بصیرت کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا مقصد بزرگوں کے تجربات یا علمی روایت کی نفی کرنا نہیں، بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ نوجوان محض سنی سنائی باتوں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ غور و فکر، تحقیق اور علم کے ذریعے اپنی فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں۔
اقبال کا پیغام یہ ہے کہ نوجوان اپنی عقل کو جمود سے نکالیں، سوال کرنے، سمجھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ کیونکہ قوموں کی ترقی صرف ماضی کی عظمت کے تذکروں سے نہیں، بلکہ حال کی بیداری اور مستقبل کی تعمیر کے لیے مسلسل علمی و عملی جدوجہد سے ہوتی ہے۔
نسلِ نو اور فکرِ اقبال:
آئیے اب ذرا اپنے عہد کے نوجوان پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جسے آج دنیا جنریشن زی (Gen Z) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ نسل ذہانت، صلاحیت، تیز رفتاری اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور واقفیت رکھتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں پوری دنیا کی معلومات سمیٹنے والا اسمارٹ فون ہے، انگلیوں کی ایک جنبش پر ہزاروں راستے کھل جاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا تک رسائی رکھنے والا یہ نوجوان خود اپنی منزل سے ناواقف ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہماری انگلیاں اسکرین پر تو بہت تیزی سے چلتی ہیں، مگر کتاب کے صفحات پلٹنے میں سستی محسوس ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کی تازہ ترین خبریں تو رکھتے ہیں، مگر اپنی شخصیت کی تعمیر اور اپنے مستقبل کی فکر کے لیے وقت نکالنا بھول جاتے ہیں۔ چند لمحوں کی شہرت، لائکس اور فالوورز کی دوڑ میں بعض اوقات ہم اپنی اصل پہچان اور اپنی صلاحیتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی یا سوشل میڈیا کوئی بری چیز ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی ذرائع علم، تحقیق، ہنر اور کامیابی کے بے شمار دروازے کھول سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان ذرائع کے استعمال کرنے والے بنیں، ان کے اسیر نہ بن جائیں۔
ذرا سوچیے! اقبال کا شاہین اپنی پرواز کے لیے آسمان تلاش کرتا تھا، اور آج کا نوجوان کبھی کبھی اپنے موبائل کی اسکرین سے نگاہ اٹھانے کی فرصت بھی نہیں پاتا۔ اقبال نوجوانوں کو بلند نگاہی، خودداری اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتے تھے، جبکہ ہم میں سے بعض نوجوان معمولی سی ناکامی پر مایوس ہو جاتے ہیں، دوسروں کی کامیابی دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔
عزیز نوجوانو! یاد رکھیے، آپ کے پاس جو وقت، ذہانت، توانائی اور صلاحیت موجود ہے، وہ محض تفریح اور وقتی مشاغل کے لیے نہیں، بلکہ ایک بامقصد زندگی کی تعمیر کے لیے بھی ہے۔ جدید تعلیم حاصل کیجیے، نئے ہنر سیکھیے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیے، دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیے، لیکن اپنی تہذیب، اپنے اخلاق، اپنے والدین کی دعاؤں اور اپنے رب سے تعلق کو کبھی فراموش نہ کیجیے۔
اقبال کا تصورِ شاہین ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم دوسروں سے آگے نکلنے کے لیے انہیں پیچھے دھکیل دیں، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ اپنی پرواز اتنی بلند کریں کہ ہماری کامیابی دوسروں کے لیے بھی حوصلے اور رہنمائی کا سبب بن جائے۔
آئیے! اس یومِ اقبال پر ہم محض اقبال کے اشعار دہرانے اور ان کی تصاویر شیئر کرنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ان کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد کریں۔ کیونکہ اقبال سے حقیقی محبت کا تقاضا صرف ان کا نام لینا نہیں، بلکہ ان کے افکار کو سمجھنا، ان پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں ان کی روشنی پیدا کرنا ہے۔
آخر میں نوجوان نسل کے نام اقبال کا پیغام انہی کی ایک خوب صورت اور ولولہ انگیز نظم کے ذریعے پیش کرنا چاہوں گا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
……….
تہی، زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
……….
قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
……….
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں
……….
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
……….
اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
……….
گئے دن کہ تنہا تھا مَیں انجمن میں
یہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں
……….
آخری گزارش:
اقبال کے ان اشعار میں نوجوانوں کے لیے امید، حوصلے، وسعتِ فکر اور مسلسل جدوجہد کا پیغام پوشیدہ ہے۔ وہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ زندگی کی ایک منزل حاصل کرلینا آخری کامیابی نہیں، بلکہ ہر کامیابی کے بعد ایک نئی منزل ہمارا انتظار کرتی ہے۔ ناکامی سے گھبرانا نہیں، حالات کے سامنے ہمت نہیں ہارنی اور اپنی صلاحیتوں کو محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔
عزیز نوجوانو! اپنے خوابوں کو بلند رکھیے، اپنی سوچ کو وسیع کیجیے، اپنے علم میں اضافہ کیجیے اور اپنے کردار کو ایسا بنائیے کہ آپ کی ذات دوسروں کے لیے بھی خیر و بھلائی کا ذریعہ بن سکے۔ اپنے ماضی سے سبق حاصل کیجیے، حال کو سنواریے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے آج ہی سے عملی قدم اٹھائیے۔
یاد رکھیے! اقبال کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ہم صرف ان کے اشعار پڑھیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کریں۔
فکرِ اقبال آج بھی ہماری نوجوان نسل کی فکری بیداری اور عملی جدوجہد کی منتظر ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر خود اعتمادی، بلند نگاہی اور عمل کا جذبہ پیدا کریں۔
کیونکہ نوجوان اپنی قوم کا بہترین مستقبل ہوتےہیں ، وہ قوم کے حال کو بدلنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں اور حوصلہ بھی ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے