कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بے نام رشتے مگر بڑے کام کے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

زندگی بھی عجیب رشتوں کا مجموعہ ہے۔ یہاں کبھی اجنبی لوگ اپنوں سے بڑھ کر اپنا پن دکھا جاتے ہیں اور کبھی وہ لوگ جنہیں ہم اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھ بیٹھتے ہیں، ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں انسان اپنے ہی جذبات سے خوف کھانے لگتا ہے۔ کبھی کسی انجان کی ایک چھوٹی سی مہربانی دل میں عمر بھر کے لیے جگہ بنا لیتی ہے اور کبھی کسی اپنے کی ایک بے رخی برسوں کے تعلق کو لمحوں میں اجنبی بنا دیتی ہے
ہماری زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ کوئی چند لمحوں کا ساتھی ہوتا ہے، کوئی چند دنوں کا، کوئی برسوں ساتھ رہتا ہے، مگر ان سب کے درمیان کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نہ ان سے خون کا تعلق ہوتا ہے، نہ خاندانی نسبت، نہ کوئی دنیاوی غرض لیکن جب زندگی کسی آزمائش سے دوچار ہوتی ہے تو یہی بے نام رشتے ایسے کام آتے ہیں کہ انسان عمر بھر ان کے احسان اور خلوص کو فراموش نہیں کرپاتا۔
اپنے ایک ذاتی مشاہدے سے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
گزشتہ سال مدرسہ شاہی، مرادآباد میں دورۂ حدیث شریف کے ایک ساتھی کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ان کا تعلق ضلع کشن گنج سے تھا۔ ان کے والدین، بھائی اور دیگر اہلِ خانہ گھر پر تھے اور انہیں اس حادثے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ حادثے کے بعد ساتھیوں نے انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساتھیوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور میں بھی دو دن تک ان کے ساتھ اسپتال میں رہا۔
ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ جسم میں خون کی شدید کمی تھی اور انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت تھی۔ جیسے ہی ساتھیوں کو اس ضرورت کا علم ہوا، ہر طرف سے مدد کے لیے ہاتھ اٹھنے لگے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تقریباً تیس ساتھیوں نے اپنا خون ٹیسٹ کروایا۔ جس کا خون ان کے خون سے مطابقت رکھتا گیا، وہ بلا کسی ہچکچاہٹ کے خون عطیہ کرتا گیا۔
ذرا اس منظر کا تصور کیجیے ایک اسپتال کا کمرہ، ایک بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ایک ساتھی، اور دوسری طرف تیس نوجوان جو اپنے جسم کا خون دے کر اس کی زندگی بچانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ کل یہ ہمارے کس کام آئے گا؟ کسی نے اپنے خون کی قیمت نہیں لگائی، کسی نے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا۔ بس ایک ہی جذبہ تھا کہ ہمارا ساتھی تکلیف میں ہے، ہمیں اس کے کام آنا ہے۔
نہ ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ تھا، نہ کوئی خاندانی تعلق، نہ کسی قسم کا دنیاوی مفاد بس ایک ادارے میں ساتھ پڑھنے، اٹھنے بیٹھنے اور وقت گزارنے کا تعلق تھا۔
تمام ساتھیوں نے مل کر ان کی خدمت کی کوئی ان کے پاس بیٹھا رہتا، کوئی ضروریات پوری کرتا، کوئی خون کا انتظام کرتا اور کوئی ان کی صحت یابی کے لیے فکر مند رہتا۔ کئی اساتذۂ کرام نے بھی مالی تعاون فرمایا۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق مدد میں مصروف تھا۔ بالآخر ان کی طبیعت میں بہتری آئی، پھر ان کے اہلِ خانہ کو حادثے کی اطلاع دی گئی اور الحمدللہ کچھ عرصے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے۔
آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ یہ کون سا رشتہ تھا جس نے تیس نوجوانوں کو اپنا خون دینے پر آمادہ کردیا؟ یہ کیسا تعلق تھا جس میں کسی صلے کی تمنا نہیں تھی؟ یہ کیسی محبت تھی جس میں کسی بدلے کی امید نہیں تھی؟
شاید یہی انسانیت ہے، یہی اخوت ہے اور یہی وہ بے نام رشتے ہیں جو انسان کو زندگی بھر کے لیے محبت کا سبق دے جاتے ہیں۔
واقعی ضروری نہیں کہ ہر رشتے کا کوئی نام ہو کچھ رشتے بے نام ہوتے ہیں، مگر وقت آنے پر اپنے ہونے کا ایسا ثبوت دیتے ہیں کہ عمر بھر یاد رہ جاتے ہیں۔
لیکن افسوس زندگی کا دوسرا پہلو اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہم نام دیتے ہیں، جنہیں اپنی زندگی میں خاص مقام دیتے ہیں، جن پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتے ہیں، جن کے لیے اپنے وقت، جذبات اور احساسات تک قربان کردیتے ہیں مگر ایک دن وہی رشتے ہمیں ایسی اذیت دے جاتے ہیں جس کا تصور بھی کبھی ہمارے ذہن میں نہیں آیا ہوتا۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں، بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، محبت اور اپنائیت کے ایسے خواب دکھاتے ہیں کہ ہم انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ بار بار احساس دلاتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے بہت خاص ہیں، آپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، ہم کبھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی باتوں پر یقین کرکے ہم اپنے دل کے دروازے کھول دیتے ہیں، اپنی خوشیاں ان سے وابستہ کرلیتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہت سے فیصلے ان کے رویّوں کے تابع کردیتے ہیں۔
لیکن پھر اچانک وقت بدلتا ہے، لہجے بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں اور وہی شخص جس نے کبھی ساتھ نبھانے کے وعدے کیے تھے، ایک دن ہمیں تنہا چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ اسے شاید احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے چند لمحوں کے فیصلے نے کسی دوسرے انسان کے اندر کتنی بڑی قیامت برپا کردی ہے۔
وہ تو اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاتا ہے، کسی دوسرے کے ساتھ ہنسنے بولنے لگتا ہے، نئی مصروفیات نئے لوگوں میں کھو جاتا ہے مگر پیچھے رہ جانے والا انسان اپنے ہی سوالات کے ملبے تلے دب جاتا ہے۔ کبھی پرانی باتیں یاد کرکے روتا ہے، کبھی گزرے ہوئے لمحات کو سوچ کر تڑپتا ہے اور کبھی اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ آخر میری غلطی کیا تھی؟ میں نے کس بات پر اتنا اعتبار کیا تھا؟ کیوں کسی کو اپنی زندگی میں اتنی جگہ دے دی کہ آج اس کی بے رخی میرے سکون کو نگل رہی ہے؟
کبھی انسان کا دل چاہتا ہے کہ کاش اس شخص سے کبھی ملاقات ہی نہ ہوئی ہوتی، کاش اس کی باتوں پر اعتبار نہ کیا ہوتا، کاش اسے اپنے دل میں وہ مقام نہ دیا ہوتا جہاں سے اس کے جانے کے بعد صرف خالی پن، پچھتاوا اور اذیت باقی رہ گئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جسم پر لگنے والا زخم دکھائی دیتا ہے، اس کا علاج بھی ممکن ہوتا ہے لیکن دل پر لگنے والے بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان دنیا سے چھپاتا پھرتا ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتا ہے، لوگوں کے درمیان ہنستا بولتا ہے، اپنی معمول کی زندگی گزارتا دکھائی دیتا ہے، مگر تنہائی میں اس کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے جس کی خبر کسی کو نہیں ہوتی۔
یاد رکھیے انسان کے الفاظ معمولی نہیں ہوتے۔ ایک جملہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو جینے کا حوصلہ دے سکتا ہے اور ایک جملہ کسی ہنستے مسکراتے انسان کے دل کو چیر کر رکھ سکتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنا، اسے امیدیں دلانا اور پھر بے دردی سے تنہا چھوڑ دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ جسے آپ کے رویّے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ممکن ہے آپ کی ایک بے رخی کسی دوسرے کی پوری دنیا بدل دے۔
اسی لیے کسی کو اپنی زندگی میں جگہ دینے سے پہلے سو مرتبہ سوچیے۔ کسی پر اعتبار ضرور کیجیے، مگر اتنا نہیں کہ اس کی بے وفائی آپ کو خود اپنی نظروں میں گرا دے۔ محبت ضرور کیجیے، مگر اپنی خودداری قربان کرکے نہیں۔ کسی سے امیدیں ضرور رکھیے، مگر اپنی پوری زندگی کی خوشیوں کو کسی ایک انسان کے ہاتھ میں مت دیجیے۔
اور اگر آپ کسی کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں رکھ سکتے تو کم از کم اسے جھوٹی امیدیں مت دیجیے۔ کسی کے جذبات کو اپنے وقت گزاری کا ذریعہ مت بنائیے۔ کسی کو اپنے الفاظ سے آسمان پر بٹھا کر اپنے رویّے سے زمین پر مت پٹخیے۔ آپ کے لیے شاید یہ چند لمحوں کا معاملہ ہو، لیکن سامنے والے کے لیے یہ عمر بھر کا دکھ بن سکتا ہے۔
میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ رشتوں کی حقیقت ان کے نام سے نہیں، بلکہ ان کے نبھانے سے معلوم ہوتی ہے۔ کچھ بے نام لوگ اپنا خون دے کر زندگی بچا لیتے ہیں اور کچھ نام والے لوگ اپنے رویّوں سے جیتے جاگتے انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
کسی کو اپنا بنانا آسان ہے مگر اس کے احساسات کی حفاظت کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کسی کے دل میں جگہ بنائیے تو اسے ویران مت کیجیے، کسی کو امید دلائیے تو اسے بے سہارا مت چھوڑیے، اور کسی سے تعلق رکھیے تو اسے صرف اپنے مطلب تک محدود مت رکھیے۔
کیونکہ انسان زندگی میں بہت کچھ بھول سکتا ہے، مگر وہ لوگ کبھی نہیں بھولتا جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما ہو، اور نہ ہی ان لوگوں کے دیے ہوئے زخم آسانی سے بھول پاتا ہے جنہیں اس نے کبھی اپنا سمجھا تھا۔
بعض لوگ رشتے کا نام لیے بغیر عمر بھر کا ساتھ دے جاتے ہیں، اور بعض رشتے نام رکھنے کے باوجود عمر بھر کا صرف پچھتاوا دے جاتے ہی۔
اللہ ربّ العزت صبر جمیل عطافرماۓ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے