कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امریکہ میں اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان: مذہبی تعصب، سیاسی منافرت اور امریکی مسلمانوں کی شناخت و جدوجہد

Growing Trend of Islamophobia in America: Religious Prejudice, Political Hostility, and the Identity and Struggle of American Muslims

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

امریکہ کو جدید جمہوریت، انسانی آزادی، مذہبی رواداری اور مساوی شہری حقوق کے علم بردار ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن اس روشن جمہوری تصور کے پس منظر میں ایک ایسی تلخ حقیقت بھی موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور وہ ہے اسلاموفوبیا، یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خوف، بدگمانی، تعصب، نفرت اور امتیازی سلوک کا بڑھتا ہوا رجحان۔ یہ محض چند افراد کے انفرادی تعصبات یا سماجی رویّوں کا نام نہیں، بلکہ بعض حالات میں یہ ایک منظم سیاسی، ابلاغی اور نظریاتی بیانیے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشتبہ، غیر متعلق، غیر وفادار یا امریکی معاشرے کے لیے ایک ممکنہ خطرہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقے دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مخصوص واقعات کو پوری مسلم آبادی کے ساتھ منسوب کرکے اجتماعی بدگمانی کو فروغ دیتے ہیں، حالاں کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی فرد کے جرم کو اس کے مذہب، نسل یا پوری برادری کے کھاتے میں ڈالنا انصاف، عقل اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں نے امریکہ کی داخلی سلامتی، خارجہ پالیسی اور عالمی سیاسی ترجیحات کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ ان واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک ایسا عالمی ماحول تشکیل پایا جس میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں شکوک و شبہات، خوف اور منفی تصورات کو غیر معمولی تقویت ملی۔ اگرچہ امریکی قیادت کے بعض ذمّہ دار نمائندوں نے واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے منسوب کرنا درست نہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بعض سیاسی، ابلاغی اور انتہا پسند حلقوں نے اسلام کو تشدّد، عدم برداشت اور انتہا پسندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام مسلمان شہریوں کو بھی ہوائی اڈوں، تعلیمی اداروں، ملازمتوں، عوامی مقامات اور سماجی زندگی میں شک و شبہے، تضحیک اور امتیازی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں ایک مخصوص دہشت گرد تنظیم کے جرائم کا بوجھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت پر ڈالنے کی روش نے امریکی معاشرے میں مذہبی تعصب کی ایسی فضا پیدا کی جس کے اثرات ایک چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود پوری طرح ختم نہیں ہوسکے۔
ستمبر 2026ء میں پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کی جانب سے گیارہ ستمبر کے واقعات کی پچیسویں برسی کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ نے اس حقیقت کو نئے سرے سے نمایاں کیا ہے کہ امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے بارے میں منفی تصورات آج بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2026ء میں کیے گئے سروے میں 43 فیصد امریکی بالغ افراد کا خیال تھا کہ مسلمان دوسرے امریکی شہریوں کے مقابلے میں کم محبِ وطن ہیں، جب کہ 42 فیصد نے امریکی معاشرے پر مسلمانوں کے اثرات کو منفی قرار دیا۔ مزید یہ کہ 51 فیصد امریکیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ اسلام دیگر مذاہب کے مقابلے میں اپنے پیروکاروں کو تشدد کی طرف زیادہ مائل کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض عوامی رائے کی ایک سطحی تصویر نہیں، بلکہ اس گہرے فکری مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں مذہبی شناخت کو قومی وفاداری اور شہری کردار کے ساتھ غیر ضروری طور پر متصادم بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی آزادی آئینی اقدار کا حصّہ ہے، وہاں کسی شہری کی حب الوطنی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر مشکوک سمجھنا جمہوری مساوات کے تصور کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔
آن لائن دنیا میں اسلاموفوبیا کا پھیلاؤ اس مسئلے کی ایک اور نہایت تشویش ناک جہت ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ خیال، معلومات کی ترسیل اور عوامی مکالمے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں اس کے بعض پلیٹ فارم نفرت انگیز پروپیگنڈے، مذہبی تعصب اور من گھڑت سازشی نظریات کی تشہیر کے ذرائع بھی بن گئے ہیں۔ Equality Labs کی جنوری 2026ء میں جاری کردہ تحقیقی رپورٹ Manufactured Hate: The Muslim Invasion Conspiracy کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025ء کے دوران امریکہ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی 47 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ اسلاموفوبک پوسٹس کی نشان دہی کی گئی، جنہیں مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 48 لاکھ مرتبہ انگیجمنٹ حاصل ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسلمانوں کی مبینہ یلغار، امریکی معاشرے پر ان کے قبضے اور قومی شناخت کے لیے ان کی موجودگی کو خطرہ قرار دینے جیسے بیانیے منظم انداز میں پھیلائے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں نفرت اب محض انفرادی اظہار تک محدود نہیں رہی، بلکہ بعض اوقات اسے اجتماعی خوف، سیاسی تقسیم اور سماجی تصادم پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نفرت انگیز بیانیہ جب عام سوشل میڈیا صارفین تک محدود رہنے کے بجائے سیاسی نمائندوں، بااثر شخصیات اور عوامی عہدے داروں کی زبان کا حصّہ بننے لگے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ اپریل 2026ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ Manufacturing the Muslim Threat میں فروری 2025ء سے مارچ 2026ء تک 46 ری پبلکن منتخب عہدے داروں کے ایک ہزار سے زائد سوشل میڈیا پیغامات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں مسلمانوں کے خلاف سازشی نظریات، اجتماعی اخراج، شہریت سے محرومی اور مسلم آبادی والے شہروں کو خطرے یا قبضے کی علامت بناکر پیش کرنے جیسے رجحانات سامنے آئے۔ اس طرزِ سیاست کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جب مذہبی اقلیت کے خلاف تعصب کو سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو معاشرے میں عدم برداشت کو بالواسطہ جواز ملنے لگتا ہے۔ یوں نفرت محض ایک سماجی بیماری نہیں رہتی، بلکہ سیاسی مفادات کے تابع ایک مؤثر انتخابی ہتھیار بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں 2026ء کے امریکی سینیٹ کے انتخابی معرکے میں مشی گن سے مسلم امیدوار ڈاکٹر عبدالسید (Abdul El-Sayed) کی نامزدگی اور ان کے خلاف سامنے آنے والی اسلاموفوبک مہم ایک اہم مثال بن کر ابھری ہے۔ ڈاکٹر عبدالسید نے 4 اگست 2026ء کو مشی گن کے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کی مذہبی شناخت کو سیاسی تنقید کا ایک نمایاں موضوع بنادیا گیا۔ ان کے سیاسی نظریات، پالیسیوں اور انتخابی منشور پر تنقید کرنا جمہوری حق ہے، لیکن جب کسی امیدوار کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے دہشت گردی، انتہا پسندی یا قومی سلامتی کے لیے خطرے سے جوڑنے کی کوشش کی جائے تو یہ سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر مذہبی تعصب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان کی کامیابی کے بعد ان کے خلاف اسلاموفوبک آن لائن پوسٹس میں غیر معمولی اضافہ ہوا؛ 4 سے 10 اگست کے درمیان روزانہ اوسطاً 3,099 ایسی پوسٹس سامنے آئیں، جب کہ اس سے پہلے یہ تعداد تقریباً 155 روزانہ تھی۔ اس طرح محض ایک ہفتے کے دوران نفرت انگیز مواد میں تقریباً 1,895 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی سیاست میں کسی مسلمان امیدوار کی نمایاں کامیابی بعض متعصب حلقوں کے لیے کس طرح مذہبی شناخت کو انتخابی ہتھیار بنانے کا موقع بن جاتی ہے۔
ستمبر اور اکتوبر 2026ء کے دوران یہ انتخابی کشمکش مزید نمایاں ہوئی۔ بعض سیاسی مخالفین نے ڈاکٹر عبدالسید کو اسلام پسند انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مبینہ خطرات سے جوڑنے کی کوشش کی، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ان کے خلاف سخت مذہبی اور سلامتی سے متعلق الزامات پر مبنی بیانات سامنے آئے۔ 25 اکتوبر 2026ء کو ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران انہیں جہادی قرار دینے اور دہشت گردوں کے حامی کے طور پر پیش کرنے جیسے الزامات عائد کیے۔ اس طرزِ بیان نے امریکی سیاسی ماحول میں مذہبی شناخت، قومی وفاداری اور انتخابی مقابلے کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کسی امیدوار کے سیاسی مؤقف سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ جیسے جمہوری ملک میں کسی شخص کی مذہبی شناخت کو اس کے سیاسی کردار، حب الوطنی اور قومی وفاداری کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اگر جمہوریت میں ہر شہری کو انتخاب لڑنے اور عوامی نمائندگی کا یکساں حق حاصل ہے تو مسلمان امیدوار کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے جس پر دوسرے امیدواروں کو پرکھا جاتا ہے۔
اسلاموفوبیا کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے امریکی کونسل برائے اسلامی تعلقات (Council on American-Islamic Relations — CAIR) کی شہری حقوق سے متعلق رپورٹ بھی قابلِ توجہ ہے۔ ادارے کے مطابق 2025ء کے دوران اسے ملک بھر سے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت اور شہری حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق 8,683 شکایات موصول ہوئیں، جو اس کے 1996ء سے جاری ریکارڈ میں کسی ایک سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات ہیں۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ شکایات کی تعداد اور ثابت شدہ جرائم کی تعداد ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اسی طرح ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں مسلمانوں کے خلاف 233 مذہبی تعصب پر مبنی واقعات درج کیے گئے، جب کہ 2024ء میں یہ تعداد 261 اور 2023ء میں 284 تھی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر نوعیت کے اسلاموفوبک واقعات میں ہر سال لازماً اضافہ ہوا ہے؛ البتہ مجموعی شکایات، آن لائن نفرت انگیز مواد اور سیاسی سطح پر سامنے آنے والے مذہبی تعصب کے اعداد و شواہد اس مسئلے کی مسلسل موجودگی اور اس کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ Islamophobia +1
تاہم اس پوری صورتِ حال کا دوسرا اور نسبتاً روشن پہلو یہ ہے کہ امریکی مسلمان ان مشکلات کے باوجود قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی، صلاحیت اور اثر پذیری کو مسلسل مضبوط کررہے ہیں۔ تعلیم، طب، سائنس، تجارت، قانون، صحافت، سماجی خدمت، سیاست اور عوامی نمائندگی کے میدانوں میں ان کی خدمات امریکی معاشرے کی اجتماعی ترقی میں قابلِ قدر حصہ ڈال رہی ہیں۔ وہ محض اپنے خلاف ہونے والے تعصب کا دفاع نہیں کررہے، بلکہ اپنے شہری حقوق، مذہبی آزادی، سماجی احترام اور آئینی مساوات کے لیے منظم جدوجہد بھی کررہے ہیں۔ مسلم تنظیمیں، شہری حقوق کے ادارے، قانونی ماہرین، جامعات، سماجی کارکنان اور نوجوان نسل اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ مساجد اور اسلامی مراکز بھی عبادت گاہوں سے آگے بڑھ کر تعلیم، سماجی تعاون، بین المذاہب مکالمے اور شہری شعور کی ترویج کے مراکز بن رہے ہیں۔ اس طرح امریکی مسلمان اپنی مذہبی شناخت کو ترک کیے بغیر امریکی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس جدوجہد کا ایک اہم پہلو بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کا فروغ بھی ہے۔ امریکی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات، اخلاقی اقدار، عدل و انصاف کے تصورات اور انسانی احترام کے اصولوں کو اپنے کردار اور اجتماعی طرزِ عمل کے ذریعے متعارف کرائیں۔ اسلام کی تعلیمات کسی فرد کے جرم کی بنیاد پر پوری قوم یا مذہبی برادری کو مجرم قرار دینے کی اجازت نہیں دیتیں۔ قرآنِ مجید کا اصولِ عدل نہایت واضح ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـٰٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (المائدہ: 8)؛ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ یہی اصول کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے بنیادی رہنما ہونا چاہیے کہ مذہبی اختلاف، سیاسی مخالفت اور تہذیبی تنوع کے باوجود انصاف، انسانی وقار اور شہری مساوات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
امریکہ کے لیے بھی یہ ایک تاریخی اور اخلاقی امتحان ہے کہ وہ اپنے آئینی وعدوں اور عملی سماجی رویّوں کے درمیان موجود فاصلے کو کس حد تک کم کر پاتا ہے۔ مذہبی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہو، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ بھی ہے کہ اسے اپنی مذہبی شناخت کے باعث تحقیر، خوف، امتیاز، تشدّد یا سیاسی محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح آزادیِ اظہار کو نفرت انگیز پروپیگنڈے، نسلی و مذہبی تحقیر اور اجتماعی اشتعال انگیزی کا غیر محدود جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ جمہوریت کی اصل قوت اس بات میں نہیں کہ اکثریت اپنی پسند کے نظریات کو اقلیتوں پر مسلط کردے، بلکہ اس میں ہے کہ اکثریت اور اقلیت دونوں کے حقوق قانون کے یکساں تحفظ میں محفوظ رہیں۔
یہاں امریکی ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی ذمّہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات کی رپورٹنگ میں مذہبی تعمیم اور اجتماعی الزام تراشی سے گریز کریں، تعلیمی ادارے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مستند علمی معلومات کو فروغ دیں، سیاسی قیادت مذہبی شناخت کو انتخابی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قومی اتحاد اور شہری مساوات کو ترجیح دے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نفرت انگیز جرائم کے خلاف غیر جانب دارانہ اور مؤثر کارروائی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی نفرت انگیز مواد، مذہبی اشتعال انگیزی اور منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے سدباب کے لیے زیادہ ذمّہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ محض بیانات اور مذمتی قراردادیں اس مسئلے کا حل نہیں؛ اس کے لیے قانونی تحفّظ، مؤثر نگرانی، سماجی آگہی اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ امریکہ میں اسلاموفوبیا کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا داخلی مسئلہ نہیں، بلکہ امریکی جمہوریت، آئینی مساوات، انسانی حقوق اور معاشرتی ہم آہنگی کا بھی امتحان ہے۔ اگر کسی مذہبی اقلیت کو اس کی شناخت کی بنیاد پر مسلسل شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھا جائے، اس کے سیاسی کردار کو مشکوک بنایا جائے اور اس کی شہری وفاداری کو بار بار آزمائش میں ڈالا جائے تو اس سے صرف وہ اقلیت ہی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ پورے معاشرے کا جمہوری اور اخلاقی توازن کمزور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر امریکی مسلمان اپنے علم، کردار، سماجی خدمات، سیاسی شرکت اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنی جگہ مزید مستحکم کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی اجتماعی کامیابی ہوگی، بلکہ امریکی معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی مسلمان کی شناخت اس کی حب الوطنی کی نفی نہیں کرتی، جس طرح کسی غیر مسلم کی مذہبی شناخت اس کی قومی وفاداری کی ضمانت نہیں بن جاتی۔ وطن سے محبت، قانون کی پاسداری، انسانی خدمت اور شہری ذمّہ داری کا تعلق مذہب کے نام سے نہیں بلکہ فرد کے کردار اور عمل سے ہے۔ امریکہ اگر واقعی اپنی جمہوری عظمت، آزادی اور مساوات کے اصولوں پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسلمان بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، اس کی تعمیر میں شریک ہیں اور اس کے مستقبل کے حق دار ہیں۔ اسلاموفوبیا کے مقابلے میں اصل کامیابی صرف نفرت انگیز واقعات کی روک تھام نہیں، بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں کسی شخص کو مسجد جانے، حجاب پہننے، اسلامی نام رکھنے یا اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے باعث اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ یہی وہ عوامی بلوغت، تہذیبی وسعت اور انسانی انصاف ہے جس سے امریکہ کی حقیقی عظمت کا تعین ہوگا۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے