कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دستِ طلب (ہاتھ)

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

ہاتھ، انسان کے وجود کا وہ شاہکار اور فعال ترین حصہ ہے جسے دست، پنجہ، اور ید کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ انسان کے بازو کا اگلا حصہ جس کے سرے پر انگلیاں ہوتی ہیں (کلائی سے لے کر انگلیوں کے سرے تک) کندھوں کے دونوں دائیں اور بائیں جانب دو ہاتھ عطا کیے ہیں، جن کی پناہ میں پانچ پانچ انگلیوں کا ایک مکمل اور منظم نظام موجود ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاتھوں کا پور پور سینسرز (Sensory Nerves) اور عضلات سے لیس ہے، جو چھونے کے لمس کو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ تک پہنچاتا ہے۔ یہ ہاتھ صرف ہڈیوں اور گوشت کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ انسان کے ارادے، محنت اور عمل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہی ہاتھ ہیں جو انسان کو دنیا کی تمام مخلوقات سے ممتاز اور ہنرمند بناتے ہیں۔
ہاتھوں کی شکل اور ساخت میں قدرت نے عجیب تنوع رکھا ہے۔ کبھی یہ محنت کش کے سخت اور گٹھلی دار ہاتھ ہوتے ہیں، کبھی کسی فنکار اور مصور کے نازک اور لمبے پوروں والے ہاتھ، تو کبھی کسی معصوم بچے کے ناہموار اور نرم و ملائم ہاتھ۔ ہاتھوں میں انسان کی تقدیر کے نقشے یعنی لکیریں بھی کھدی ہوتی ہیں، جنہیں لوگ قسمت کی داستان سمجھتے ہیں۔ یہ ہاتھ صرف چیزوں کو پکڑنے کا کام نہیں کرتے، بلکہ انسان کا مزاج بھی بتاتے ہیں؛ جیسے شفیق ہاتھ، ظالم ہاتھ، سخی ہاتھ، بخیل ہاتھ، دعا گو ہاتھ اور چھونے والے لمس سے شفقت بکھیرتے ہاتھ! انہی ہاتھوں کی مدد سے انسان نے پتھر کے زمانے سے لے کر آج کے اسمارٹ دور تک کی تمام پیشرفت اپنی انگلیوں کے لمس سے ممکن بنائی ہے۔
ہاتھوں کی اہمیت اور ان کے رویوں کو انسانی تاریخ اور زبان نے محاوروں کا روپ بھی دیا ہے؛ جیسے "ہاتھ بٹانا”، "ہاتھ پھیلا نا”، "ہاتھ صاف کرنا”، "ہاتھوں ہاتھ لینا”، اور "ہاتھ سے ہاتھ ملانا”۔ شعراء نے بھی دستِ نازک اور دستِ دعا کی جلوہ گری پر بے شمار اشعار کہے ہیں۔ مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا: "ہہاتھ دھو دل سے یہی گرمیِ اندیشہ ہائے
آبِ مژگاں ہو گئی زنجیرِ پا میرے لیے اور فیض احمد فیض نے
انقلاب اور وفا کا فلسفہ یوں بیان کیا:
"دستِ صبا نے پھولوں کے گالوں کو چوما تھا”۔
عشقِ حقیقی میں بھی یہی ہاتھ جب بارگاہِ الٰہی میں بلند ہوتے ہیں، تو "دستِ دعا” بن کر عرشِ الٰہی کو ہلا دیتے ہیں۔
یہی ہاتھ کبھی گناہوں کی سمت بڑھ کر خطاکار بنتے ہیں، اور پھر وہی ہاتھ ندامت میں اتھتے پین اور رب تعالٰی سے رو برو ہوتے ہیں اور سجدے میں گر کر بخشش کی التجا کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دینے ولاے ہاتھ ہونے چاہئیں۔ مانگنے والے نہیں۔عمر کے آخری ایام میں یہی ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور لاٹھی یا عینک سنبھالنے کا آخری سہارا بن جاتے ہیں۔ جب انسان اس فانی دنیا سے کوچ کرتا ہے تو یہی ہاتھ خالی کے خالی رہ جاتے ہیں، جسے دیکھ کر دنیا کی بے ثباتی کا احساس ہوتا ہے۔ انہی ہاتھوں کی مرہونِ منت یہ الفاظ کاغذی پیراہم میں ڈھلے، اور ناچیز کی قلم کو تھامنے والے یہ دستِ ناچار آپ کی ان محترم آنکھوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تحریر کو شرفِ قبولیت بخشا!
امید ہے کہ "ہاتھ” پر لکھی گئی یہ تحریر بھی آپ کی پسند کے معیار پر بالکل پوری اترے گی!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے