कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انگوٹھا

ازقلم: محمد وسیم
(لیکچرار،حنیفیہ اردو جونیئر کالج آف آرٹس اینڈ سائنس ہیورکھیڑ،اکولا۔مہاراشٹرا)

بشیر نے کپاس کا ایک سوکھا ٹینڈا کھولا، پھر اسے وہیں پھینک کر منڈیر پر آ بیٹھا۔
ساہوکار نے کاغذ بچھایا۔ ہوا سے کونا اٹھنے لگا تو بشیر نے اس پر ایک ڈھیلا رکھ دیا۔
’’اس میں لکھ دیا نا کہ حساب چکتا؟‘‘
ساہوکار نے تھیلے سے کاپی نکالی، چند ورق پلٹے اور ایک سطر پر انگلی رکھ دی۔
’’زمین کی قیمت لگا کر بھی اتنا باقی رہے گا۔‘‘
’’تم نے تو کہا تھا، زمین دے دو، جان چھوٹ جائے گی۔‘‘
’’اصل سے تو چھوٹ جائے گی۔ یہ سود ہے۔ اسے آہستہ آہستہ دیتے رہنا۔‘‘
بشیر کاپی میں لکھے ہندسوں کو دیکھتا رہا۔
’’زمین بھی دے دوں تو یہ کہاں سے دوں گا؟‘‘
ساہوکار نے کاپی بند کر دی۔
’’کھیت تم ہی جوتنا، بٹائی پر۔ اپنے حصے میں سے کٹواتے رہنا۔‘‘
بشیر نے کھیت کی طرف دیکھا۔ دور والی منڈیر ابھی چند روز پہلے باندھی تھی۔ دو جگہ سے بیٹھ گئی تھی؛ اسے پھر مٹی ڈالنی تھی۔
ساہوکار نے سیاہی کی ڈبیا کھولی اور کاغذ پر انگلی رکھ دی۔
’’یہاں انگوٹھا لگا دو۔‘‘
بشیر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھا اور کھیت میں اتر گیا۔
’’کہاں چل دیے؟‘‘
چند قدم پر اس کی چپل سے ایک پودے کی جڑ کے پاس کی مٹی اکھڑ گئی۔ وہ رک گیا۔ پھر جھک کر دونوں ہاتھوں سے مٹی جڑ کے گرد جما دی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے