कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

طلبۂ مدارسِ اسلامیہ کے لئے احساسِ کمتری ایک عظیم فتنہ

تحریر: عبداللہ یوسف
14/جمادی الاولی 1448ھ۔
26/اکتوبر 2026ء پیر

دارالعلوم دیوبند میں مسلم شریف (جلد اول) کے متعینہ حصے کی تکمیل کے موقع پر حضرت الاستاذ مفتی مجیب اللہ گونڈوی دام ظلہ نے وعظ ونصیحت کے دوران ایک بنیادی بات یہ بھی ارشاد فرمائی تھی کہ”ہمارے پڑھنے والے طلبہ کے لئے سب سے بڑا فتنہ احساسِ کمتری ہے، دوسرے لوگوں کے لئے احساسِ کمتری ایک فتنہ ہے تو طالبِ علومِ نبویہ کے لئے تو ضعفِ عقیدہ اور ضعفِ ایمان کی دلیل ہے”۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کل کے ہم طلبۂ مدارسِ اسلامیہ کے اکثر وبیشتر مسائل کا بنیادی سبب احساسِ کمتری ہے۔
احساسِ کمتری ہے کیا؟ احساس کمتری خود کو کسی سے کمتر سمجھنے، کسی محرومی کو پیشگی مقدر بنا لینے، خود ترسی میں مبتلا ہونے اور اپنے آپ کو نری اندھ بھکتی میں مبتلا کر لینے کا نام ہے۔ اسی کے بالمقابل ایک اور لفظ آتا ہے "احساسِ برتری” یعنی خود کو دوسروں سے بے جا بہتر اور برتر سمجھنا۔ دونوں ہی خطرے سے خالی نہیں۔ کیوں کہ احساسِ کمتری تو انسان کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے اور دنیا میں کچھ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا، جب کہ احساسِ برتری انسان کو مغرور بنا دیتا ہے، خود ستائی جیسے مہلک مہلک مرض میں مبتلا کر دیتا ہے اور انسان کے اندر سے انسانیت ختم کر دیتا ہے۔
بالفاظِ دیگر یوں سمجھ لیجئے کہ احساسِ برتری "افراط” کی تعبیر ہے اور احساسِ کمتری "تفریط” کا عنوان۔ دونوں ہی مذموم ہیں۔ جیسے کہ عیسائیت کی تفریط اور یہودیت کے افراط کے مابین امتِ مسلمہ کو معتدل اور بریلویت کی تفریط و غیر مقلدیت کے افراط کے درمیانی مسلک ومنہج کو دیوبندیت کہتے ہیں۔ اسی طرح احساسِ کمتری اور احساسِ برتری کے درمیانی احساس کو خود اعتمادی، احساسِ مساوات یا صحیح الفکر اور عقلِ سلیم سے تعبیر کیا جاتا ہے، یہی محمود بھی ہے اور ضروری بھی۔
میرے جیسے طالب علم ساتھیوں!
آپ لاالہ الا اللہ کے داعی ہیں، محمد رسول اللہ کے سپاہی ہیں، آپ حفظِ قرآن کی عظیم دولت سے مالامال ہیں، آپ احادیثِ نبویہ کے علوم سے سرشار ہیں، آپ کی نسبت رسول اللہ سے ہے، آپ کی پہچان حدیث وقرآن سے ہے، آپ سنتِ نبوی سے مستعار ہیں، آپ قربِ خداوندی سے آشنا ہیں، آپ کا ہر لمحہ سونے سے زیادہ قیمتی ہے، آپ کی ہر ساعت انمول ہے، آپ معمولی نہیں ہیں، بلکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، آپ خدائے واحد کے دوست ہیں، آپ رب العالمین کے قریبی ہیں، فرشتے آپ کے لئے اپنی پر بچھا دیتے ہیں، سمندروں کی مچھلیاں آپ کے لئے دعا گو رہتی ہیں حتیٰ کہ ہر مخلوق آپ کی خیر خواہی کی طالب رہتی ہے۔
آپ ان سب اوصاف وکمالات کے حامل بھی ہیں اور حقدار بھی، لیکن اس سب کے باوجود دکھ اور غم کی بات یہ ہے کہ آپ اتنی عظیم نسبتوں کے حامل ہونے کے باوجود اہلِ دنیا کے معمولی پیشہ وروں کی ظاہری شکل وصورت اور بناؤٹی حلیہ دیکھ کر دل چھوٹا کر لیتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیوں سے نکلے عصری طلباء کے دو چار انگریزی الفاظ کے تکلم سے آپ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ آپ جب مسنون لباس پہن کر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی شکل اور حلیہ دیکھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں، اسلامی شان و شوکت کے اظہار سے دل خیر آباد ہوتے ہیں، چہروں پر تازگی آتی ہے اور قلوب کو تسکین ملتی ہے۔
لیکن میرے ہم خیال رفقاء! افسوس تب ہوتا ہے جب ہم غلامانِ مصطفیٰ اور عاشقانِ رسول ہی ان دنیاوروں کے شوٹ بوٹ اور گلے میں لٹکی ہوئے پھانسی نما ٹائی کو دیکھ کر ان کی خوبیوں کے گُن گانے شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے ظاہر سے دھوکہ کھا جاتے ہیں، جب کہ ان کے باطن کی حقیقت یہ ہے کہ وہ پیشاب کے بعد استنجاء تک ضروری نہیں سمجھتے، انہیں طہارت پر عمل تو درکنار، ان کی لغات و ڈکشنریوں میں طہارت کا ہم معنی کوئی لفظ بھی نہیں ملتا۔
نہ جا ظاہر پرستی پر اگر کچھ عقل ودانش ہے
چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا
جب کہ آپ تو اس نبی کے امتی ہیں جس نے طہارت، پاکی اور صاف ستھرائی کو ایمان کے نصف حصے سے تعبیر کیا ہے، آپ تو اس نبی کے لاڈلے ہیں جس کو قرآن کریم کے الفاظ میں "خُلُقٍ عظیم” پر فائز ہونے کا پروانہ دیا گیا ہے، آپ کا شمار تو اس نبی کے وارثین میں ہے جس کے اخلاق کو اماں عائشہ (رضی اللہ عنھا) قرآن سے تعبیر کرتی ہیں، آپ کے لئے تو اسوۂ حسنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ذاتِ اقدس میں ہیں۔ اس کے باوجود ہم کیوں ان ناچنے گانے والوں سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ آج کے دور کا المیہ یہی ہے کہ اس سب کے باوصف ہم اپنا آئیڈیل ان سر پھروں میں تلاش کرتے ہیں، ان کے لباس وحلیہ کی نقل کرتے ہیں اور ان شوٹ بوٹ میں ملبوس گوروں سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔
ہمارے لئے کتنی شرم کی بات ہے کہ ہم یعنی جن کے پاس تعلیماتِ رسول کی صورت میں زندگی اور قبلِ زندگی وبعدِ زندگی کے جملہ اصول وفروع، کلیات وجزئیات بسط وتفصیل کے ساتھ موجود ہیں، کھانے سے پینے تک، پہننے سے اتارنے تک، سونے سے جاگنے تک، استنجاء وطہارت غرض یہ کہ ہر ہر چیز نہایت اکمال و اتمام کے ساتھ مرقوم ہے۔ لیکن اس سب کے ہوتے ہوئے بھی ہم ان کو لائقِ تقلید سمجھتے ہیں جنہیں جینے کا سلیقہ ہے نہ مرنے کا، کھانے کا سلیقہ ہے، نہ پہننے کا، معاشرتی زندگی کا کچھ علم ہے، نہ ازدواجی رشتوں کا کوئی پاس ولحاظ، والدین کے حقوق وفرائض کا کچھ پتہ ہے، نہ اولاد کی اصلاح وتربیت سے کوئی شناسائی۔ اکبر نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:
ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ دن دیکھا
کٹی عمر ہوٹلوں میں ، مرے اسپتال جا کر
میرے دوستوں! آپ کو اپنے پاس موجود علوم وفنون کی قدر نہیں، اپنے پاس علمی ذخائر کی کوئی قدر وقیمت نہیں، اپنے سینے میں موجود علمِ قرآن وحدیث کی کوئی اہمیت نہیں، اپنے پاس نایاب اور قیمتی دولت کا کوئی اندازہ نہیں۔
اپنے پاس علومِ قرآنی اور تعلیمات نبوی کی اہمیت سمجھو، اپنی قدر جانو، اپنا مرتبہ پہچانو، فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنا تعارف پیش کرو اور انہیں ثابت کر کے دکھاؤ کہ ہم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں جو زمانہ کے ہر چیلنج اور ہر فتنہ کا نہ یہ کہ صرف سامنا کر سکتے ہیں بلکہ بہت بہترین اور مناسب انداز میں اس کا جواب دینا بھی جانتے ہیں۔
لباس سے خوف زدہ ہونا، غیر کے اطوار وچال چلن کو دیکھ کر مرعوب ہونا، کھانے پینے کی نئ نئ اسٹائلوں میں ان کی تقلید کرنا، ہر چیز میں اپنے آپ کو نااہل اور کمتر سمجھ لینا کہ فلاں کام تو مجھ سے ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ سب احساسِ کمتری ہی کی مختلف اور متنوع شکلیں ہیں۔
انگریز نیپولین کا مشہور واقعہ ہے کہ نیپولین کے جنرل نے جنگ کے دوران انہیں رپورٹ بھیجی کہ موجودہ پوزیشن کو برقرار رکھنا ناممکن ہے تو نیپولین نے جواب میں فرانسیسی زبان میں جو لکھا وہ آج بھی تاریخ کے نمایاں الفاظ میں رقم اور نوشتہ ہے : "Le mot impossible n’est pas français” یعنی "لفظ ناممکن فرانسیسی زبان کا حصہ ہی نہیں ہے” یعنی کوئی کام ایسا ہی نہیں جو نہ ہو سکتا ہو، لیکن اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا پڑے گا، ذہن سازی کرنی ہوگی اور خود کو کمتری اور نااہلی کے احساس سے باہر نکالنا ہوگا۔ خدا ہم سب کو توفیق بخشے۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے