कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یو سی سی: یکساں قانون یا منصفانہ قانون؟

پروفیسر فیضان مصطفیٰ کے نقطۂ نظر کی روشنی میں

تحریر: محمد اظہر خان، ناندیڑ

ہندوستان میں یکساں سول کوڈ (UCC) پر بحث صرف مسلمانوں کے پرسنل لا کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق ملک کے مذہبی تنوع، آئینی حقوق اور مختلف برادریوں کی ثقافتی شناخت سے بھی ہے۔
معروف آئینی قانون داں پروفیسر فیضان مصطفیٰ یکساں سول کوڈ کی طرف مرحلہ وار پیش رفت کے حامی رہے ہیں۔ ان کے نقطۂ نظر کا اہم پہلو یہ ہے کہ قانون کی یکسانیت سے زیادہ اہم اس کا منصفانہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان جیسے متنوع ملک میں عائلی قوانین میں اصلاحات کرتے وقت مختلف برادریوں کی روایات، حقوق اور خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔
مسلمانوں کے خدشات کیا ہیں؟ـ:
مسلمانوں کے نکاح، طلاق، مہر اور وراثت جیسے معاملات مسلم پرسنل لا سے متعلق ہیں، جن کی بنیاد اسلامی تعلیمات اور فقہی اصولوں پر ہے۔ مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ اگر یکساں سول کوڈ میں ایسے ضابطے شامل کیے گئے جو ان کے مذہبی احکام سے مختلف ہوں تو ان کے عائلی معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔
کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں؟:
ہندوستان میں عیسائیوں کے اپنے عائلی قوانین، پارسیوں کے مخصوص قانونی ضابطے اور مختلف قبائلی برادریوں کے روایتی طریقے موجود ہیں۔ سکھ اور جین برادریوں کے بھی اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخصات ہیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک مشترکہ قانون ان تمام برادریوں کی ضروریات اور روایات کو مناسب طور پر سمو سکے گا؟ کیا اس کے نفاذ سے بعض برادریوں کے موجودہ قانونی حقوق یا روایتی طریقوں میں تبدیلی آئے گی؟
یہ خدشات محض کسی ایک مذہب کے نہیں، بلکہ اس بات سے متعلق ہیں کہ مجوزہ قانون کس طرح تیار کیا جائے گا، کن لوگوں پر لاگو ہوگا اور کن معاملات میں استثنا فراہم کرے گا۔
البتہ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ہر برادری پر اس قانون کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے؛ ان کا تعین قانون کی اصل دفعات سے ہوگا۔
اصل ضرورت یکسانیت نہیں، انصاف ہے:
پروفیسر فیضان مصطفیٰ کے مؤقف سے یہ اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں قانونی اصلاحات مرحلہ وار، مشاورت اور عوامی اعتماد کے ساتھ ہونی چاہئیں۔ ان کے نزدیک مختلف قوانین کا موجود ہونا بذاتِ خود سب سے بڑا مسئلہ نہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قوانین منصفانہ ہوں اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔
اگر کسی قانون کا مقصد خواتین کو انصاف فراہم کرنا ہے تو یہ مقصد قابلِ غور ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ مشاورت کی جائے، ان کے خدشات سنے جائیں اور قانون کی ہر دفعہ کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 44 یکساں سول کوڈ کی کوشش کی ہدایت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 مذہبی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔ ان آئینی اصولوں کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا قانون سازوں کی اہم ذمہ داری ہے۔
نتیجہ:
یو سی سی پر بحث کو صرف مسلمانوں کی حمایت یا مخالفت کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ ہندوستان کے تمام شہریوں، مختلف مذہبی برادریوں، خواتین اور روایتی معاشروں سے متعلق ایک اہم آئینی معاملہ ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ سب کے لیے منصفانہ ہے؟
قانونی اصلاحات کا راستہ ایسا ہونا چاہیے جس میں خواتین کے حقوق محفوظ ہوں، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے، اقلیتی اور قبائلی برادریوں کے خدشات کو سنا جائے اور کسی بھی گروہ کو نظرانداز کیے بغیر انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
یکسانیت اگر انصاف کے بغیر ہو تو اختلافات پیدا کر سکتی ہے، لیکن انصاف، مشاورت اور باہمی اعتماد پر مبنی اصلاحات معاشرے کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے