कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حوثی سعودی تنازع: کتنا مذہبی، کتنا سیاسی؟

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

۸اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رات ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن سے داغے گئے میزائل اور ڈرون گرے۔ سعودی حکام کے مطابق بارہ افراد جاں بحق اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے، اور ہوائی اڈے کی پروازیں روک دی گئیں۔ دو دن بعد اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یمن ایک بار پھر مکمل جنگ میں لوٹ آیا ہے۔
ایسی خبر سنتے ہی ہمارے ہاں ایک تیار خانہ کھل جاتا ہے: ایک طرف شیعہ حوثی، دوسری طرف سنی سعودی؛ پیچھے ایران، سامنے حرمین؛ کہانی مکمل۔ یہ خانہ آسان ہے، اسی لیے مقبول ہے۔ مگر تاریخ آسان خانوں میں نہیں سماتی۔ سوال یہ ہے کہ یمن کی اس آگ میں مسلک کتنا ہے اور سیاست کتنی۔
حوثی تحریک زیدی مسلک سے اٹھی ہے، جو حضرت زید بن علیؒ سے منسوب شیعیت کی ایک شاخ ہے۔ مگر یہ ایران کی اثنا عشری شیعیت نہیں؛ زیدیہ فقہ میں اہلِ سنت کے بہت قریب ہیں، اور یمن کی صدیوں پرانی روایت یہ رہی کہ زیدی اور شافعی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ نویں صدی کے اواخر سے ۱۹۶۲ء تک شمالی یمن پر، وقفوں کے ساتھ، زیدی اماموں کی حکومت رہی؛ یعنی یہ مسلک یہاں صرف عقیدہ نہیں، اقتدار کا نظام بھی رہا۔
۱۹۶۲ء میں فوجی افسروں نے آخری زیدی امام محمد البدر کا تختہ الٹ کر جمہوریہ کا اعلان کیا، اور ملک آٹھ برس کی خانہ جنگی میں جا گرا۔ جمال عبدالناصر کا مصر جمہوریت پسندوں کی پشت پر تھا۔ اور سعودی عرب؟
سعودی عرب زیدی امام کے ساتھ تھا۔
وہی سعودی عرب جو آج زیدی حوثیوں سے برسرِ جنگ ہے، اُس وقت ایک زیدی بادشاہت کو بچانے کے لیے مال اور اسلحہ دے رہا تھا؛ کیونکہ اس کا خطرہ مسلک نہیں، ناصر کا وہ انقلاب تھا جو بادشاہتیں گرانے کا اعلان کر رہا تھا۔ یہ ایک ورق ہی بتا دیتا ہے کہ اس خطے میں دوستی اور دشمنی کا پیمانہ عقیدہ کم اور اقتدار زیادہ رہا ہے۔
جمہوریہ کے بعد زیدی شمال، خصوصاً صعدہ، حاشیے پر چلا گیا اور غربت و بے توجہی کا استعارہ بن گیا۔ اسّی کی دہائی میں شیخ مقبل بن ہادی الوادعی نے صعدہ کے قریب دماج میں سلفی مدرسہ قائم کیا، اور سعودی سرپرستی میں پھیلنے والی سلفی فکر زیدی روایت کو بدعت کہنے لگی۔ زیدیوں کو لگا کہ وہ اپنی ہی زمین پر اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔
یہاں مذہب اس کہانی میں داخل ہوتا ہے، مگر حملہ آور نہیں، دفاع کے طور پر۔ نوے کی دہائی میں حسین بدرالدین الحوثی کی قیادت میں «الشباب المؤمن» کے نام سے زیدی شناخت کے احیا کی تحریک ابھری۔ ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس نے وہ نعرہ اپنایا جو آج اس کی پہچان ہے، جس کا ہدف امریکہ اور اسرائیل ہیں؛ مسلک کا اس میں ذکر تک نہیں۔
صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت نے، جو خود زیدی پس منظر رکھتے تھے، اسے بغاوت سمجھا۔ ۲۰۰۴ء میں حسین الحوثی مارے گئے اور ۲۰۱۰ء تک چھ جنگیں ہوئیں، جن میں ۲۰۰۹ء میں سعودی عرب بھی کود پڑا۔ قیادت عبدالملک الحوثی نے سنبھالی اور تحریک نے «انصار اللہ» کا نام اختیار کیا۔
۲۰۱۱ء کی عرب بہار میں صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ پھر وہی صالح، جس کی فوج نے چھ جنگوں میں حوثیوں کو کچلنا چاہا تھا، اقتدار میں واپسی کے لیے ان کا اتحادی بن گیا، اور ستمبر ۲۰۱۴ء میں دونوں نے مل کر صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ مارچ ۲۰۱۵ء میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن پر بمباری شروع کی۔ دسمبر ۲۰۱۷ء میں صالح نے پھر پینترا بدل کر ریاض کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور چند دن بعد حوثیوں نے انہیں قتل کر دیا۔
دشمن دوست بنا، دوست دشمن بنا، اور آخر دوست ہی کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس داستان میں فیصلہ کن عنصر مسلک کبھی نہیں رہا؛ کرسی رہی۔
حوثیوں اور ایران کا تعلق حقیقی ہے؛ مغربی حکومتیں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین حوثیوں کی بڑھتی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو اسی سے جوڑتے ہیں، اور تازہ جنگ میں بھی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایرانی پاسداران کے مشیر موجود تھے، اگرچہ تہران انکار کرتا ہے۔ مگر زیدی اور اثنا عشری عقائد میں اتنا فاصلہ ہے کہ صدیوں تک دونوں کا کوئی سیاسی اتحاد نہیں رہا۔ ایران کو حوثیوں میں ہم مسلک کم اور سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر دباؤ کا ذریعہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ رشتہ سیاست سے شروع ہوا اور طویل جنگ میں عقیدے کی زبان میں ڈھل گیا۔
سعودی کیمپ بھی کوئی مسلکی بلاک نہیں۔ ۲۰۲۵ء کے اواخر اور ۲۰۲۶ء کے اوائل میں جنوبی یمن میں امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج آپس میں ٹکرا گئیں۔ دونوں سنی، دونوں خلیجی؛ مگر یمن کی زمین پر آمنے سامنے۔
اپریل ۲۰۲۲ء میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی۔ مارچ ۲۰۲۳ء میں چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بحال ہوئے، اور ستمبر ۲۰۲۳ء میں حوثی وفد ریاض پہنچا۔ جب مفادات نے اجازت دی تو «شیعہ» حوثی اور «سنی» سعودی ایک میز پر بیٹھ گئے، اور کسی فقہی اختلاف نے انہیں نہیں روکا۔
پھر غزہ کی جنگ کے بعد حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنایا، اور فروری ۲۰۲۶ء میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد وہ اس جنگ میں بھی کود پڑے۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں، رپورٹوں کے مطابق، ایرانی کمانڈروں اور اسلحہ والی ایک پرواز کو صنعاء میں اترنے سے روکنے کے لیے رن وے پر حملہ ہوا۔ حوثیوں نے ۲۰۲۲ء کی جنگ بندی ختم کر دی، سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی آئل ٹینکروں پر حملے شروع کر دیے؛ سعودی عرب نے ۲۰۲۲ء کے بعد پہلی بار فضائی حملے کیے۔ حوثیوں کا بنیادی مطالبہ اپنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی برسوں پرانی ناکہ بندی کا خاتمہ تھا۔ مطالبہ بندرگاہوں کا ہے، عقیدے کا نہیں۔
آج کا یمن
ستمبر میں حوثیوں نے مخا پر قبضہ کیا، باب المندب کے جزیرہ میون تک پہنچے اور تعز کا محاصرہ سخت کر دیا؛ جازان، ابہا، نجران اور طائف تک میزائل گرے۔ ۴ اکتوبر کو حکومتی افواج نے سعودی فضائی مدد سے جوابی کارروائی شروع کی، جس میں اتحاد کے مطابق سو لڑاکا طیارے شامل ہیں، اور مخا اور باب المندب واپس لینے کا دعویٰ کیا، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ صنعاء پر بمباری جاری ہے، تعز کے اسپتال تباہی کے دہانے پر ہیں، اور صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ سعودی حملوں میں شامل ہو «سکتے» ہیں۔ اس کے باوجود بات چیت کی ایک دھیمی لکیر باقی ہے: ستمبر میں عمان کے ذریعے دو ہفتے کی جنگ بندی کی سعودی تجویز کی خبریں آئیں، اور ۱۱ اکتوبر کو سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے رابطے کی۔
قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی خوراک پروگرام کے حوالے سے ۵ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ۶ اگست سے ۹۵۹ اموات ہو چکی تھیں، تقریباً دو لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، اور ہیضے کے کیس تین ہفتوں میں تین گنا ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ۲۰۲۱ء کے اندازے کے مطابق یہ جنگ براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً تین لاکھ ستتر ہزار جانیں لے چکی تھی۔ ان میں کتنے زیدی تھے، کتنے شافعی، کوئی نہیں گنتا۔ بھوک مسلک نہیں پوچھتی۔
ذہب کا سب سے خطرناک استعمال مقدس مقامات کے نام پر ہوتا ہے۔ ۱۶ ستمبر کو سعودی عرب نے مکہ کی طرف جاتا ایک ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا؛ حوثیوں نے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ سعودی عرب نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ «مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ» کیا ہے، جبکہ حوثی اپنی ہر کارروائی کو فلسطین اور امت سے جوڑتے ہیں۔ دونوں طرف مقدس الفاظ ہیں، اور ان کے پیچھے بالکل دنیاوی مقاصد: بندرگاہیں، سرحدیں، باب المندب کی آبی گزرگاہ اور خطے میں برتری۔ مذہب یہاں نقشہ نہیں بناتا، نقشے پر رنگ بھرتا ہے؛ اور رنگ جتنا گہرا ہو، لکیریں اتنی ہی مشکل سے مٹتی ہیں۔
تو کیا یہ جنگ مذہبی ہے؟ نہیں، اگر اس کا مطلب کسی عقیدے کو منوانے یا مٹانے کی لڑائی ہو۔ زیدی امام کے لیے سعودی خزانہ، صالح اور حوثیوں کا اتحاد اور پھر قتل، ریاض میں حوثی وفد اور سعودی امارتی تصادم گواہ ہیں کہ دوستی اور دشمنی اقتدار طے کرتا ہے۔ مگر مذہب کا کوئی حصہ نہیں، یہ کہنا بھی سادہ لوحی ہوگی۔ تحریک مذہبی شناخت کے دفاع سے پیدا ہوئی، سلفی پھیلاؤ نے زخم گہرا کیا، اور جنگ اور ایرانی رشتے نے مقامی شکایت کو علاقائی مسلکی صف بندی کی زبان دے دی۔
اگر ایک جملے میں کہنا ہو تو یوں کہیے: یمن کی جنگ میں مذہب زبان ہے اور سیاست قواعد۔ الفاظ آیتوں اور نعروں سے لیے جاتے ہیں، مگر جملہ ہمیشہ اقتدار کے قاعدے کے مطابق بنتا ہے۔
ہزاروں میل دور بیٹھے ہم لوگوں کے لیے سبق یہ ہے کہ ہر جنگ کو مسلک کی عینک سے دیکھنا خود ایک سیاست ہے، جس کا فائدہ ہمیشہ جنگ لڑوانے والوں کو پہنچتا ہے، لڑنے والوں کو نہیں۔ صنعاء کی ماں اور ریاض کی ماں کے آنسو ایک ہی رنگ کے ہیں۔ جس دن خطے کے حکمران مان لیں گے کہ بندرگاہ کھولنا ایمان کی کمزوری نہیں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا مسلک سے غداری نہیں، اس دن یمن کی آگ بجھنا شروع ہوگی۔ تب تک ہم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اس آگ پر اپنے تعصب کا تیل نہ ڈالیں۔
9967893333
asadullah_khn@yahoo.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے