कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نیہا بورا :شیرنی یا مسیحا؟ ہیرو پرستی کا کلچر اور ایک تحریک کا امتحان

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

۱۰ اکتوبر کو جب دہلی پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے نہ دیا تو ایک نوجوان لڑکی نے سوشل میڈیا پر لکھا: "آج دلی ہاٹ جنتر منتر بنے گا۔” چند گھنٹے بعد وہ خود پولیس کی گاڑی میں تھی، اور وہیں سے اس کا پیغام آیا: "میں حراست میں ہوں، تحریک نہیں۔”شام تک وہ رہا ہو چکی تھی، مگر یہ جملہ رہا نہیں ہوا؛ وہ ہزاروں اسکرینوں پر گردش کرتا رہا۔
یہ نیہا بورا ہیں۔ انتیس برس کی عمر، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر، جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تھیٹر اور پرفارمنس اسٹڈیز پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کے مداح انہیں "شیرنی” کہتے ہیں، کوئی "جھانسی کی رانی” سے تشبیہ دیتا ہے، اور ایک انگریزی جریدے نے انہیں "ہائبرڈ انقلاب کی مارکسی میڈونا” کا خطاب دے ڈالا ہے۔ اس تشبیہ کے پیچھے مائیکل اینجلو کا مجسمہ "پیئتا” ہے، جس میں مریمؑ ایک گرے ہوئے بیٹے کو گود میں لیے بیٹھی ہیں۔ مضمون نگار کے بقول ہندوستانی "پیئتا” میں جو جسم گود میں ہے، وہ کسی ایک انقلابی کا نہیں، ایک پوری نسل کا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ نیہا بورا بہادر ہیں یا نہیں؛ اس کا جواب ان کا عمل دے چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کیا بنانا چاہتے ہیں؟ ایک ساتھی، ایک رہنما، یا ایک مسیحا؟ اور اگر مسیحا، تو کیا یہ تاج ان کے سر کا بوجھ تو نہیں بن جائے گا؟
نیہا اتراکھنڈ کے کھٹیما سے ہیں؛ والد فوج میں تھے، اس لیے بچپن شہر شہر گزرا۔ دہلی یونیورسٹی اور امبیڈکر یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ رائٹرز کے مطابق ان کی سیاست کالج کے تھیٹر اور ۲۰۱۹ء و ۲۰۲۰ء کے شہریت قانون مخالف احتجاج سے پروان چڑھی۔ تھیٹر کے بارے میں ان کا جملہ ان کی سیاست کی کنجی بھی ہے: "تھیٹر کرنا یہ سمجھنا ہے کہ وہ شخص کہاں سے آیا ہے۔”
قومی سطح پر وہ اس سال جولائی میں نمایاں ہوئیں، جب پرچہ لیک کے خلاف جنتر منتر پر سونم وانگچک کے ساتھ تئیس دن کی بھوک ہڑتال کی، جو ۲۰ جولائی کو ختم ہوئی۔ پھر الیکشن کمیشن کے خلاف تحریک آئی؛ ۴ اکتوبر کو اشوکا روڈ کے قریب پولیس بیریکیڈ پر چڑھتی ہوئی ان کی تصویر قومی اخبارات میں چھپی، اور ہر حراست کے ساتھ ایک نیا جملہ ریل بن کر وائرل ہوتا رہا۔
اس سفر کا ایک تاریک ورق بھی ہے۔ ۷ اگست کو رانچی میں جھارکھنڈ اسمبلی کے قریب ایک احتجاج کے دوران ان پر سیاہی پھینکی گئی۔ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا، جس نے مبینہ طور پر کہا کہ اس نے عمر خالد کی حمایت کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا۔ نیہا کا مؤقف یہ تھا کہ برسوں سے مقدمہ شروع ہوئے بغیر قید ایک شخص کا فیصلہ عدالت کرے، میڈیا نہیں: "کسی عام شہری پر میڈیا میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔” آپ اس مؤقف سے اتفاق کریں یا نہیں، یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو چہرہ علامت بن جائے، وہ نشانہ بھی بن جاتا ہے۔
پہلے وہ تعریف جو ان کا حق ہے۔ ایک ایسے دور میں جب نوجوان یا تو سیاست سے بیزار ہیں یا اس کے شور میں گم، ایک لڑکی کا سڑک پر کھڑے ہو کر ٹھہرے ہوئے لہجے میں دلیل سے بات کرنا معمولی بات نہیں۔ وہ غصے کو ہسٹیریا نہیں بننے دیتیں؛ دلیل دیتی ہیں، مذاق کرتی ہیں، سوال پلٹ دیتی ہیں۔ ان کا یہ جملہ کہ "خوف متعدی ہے، مگر امید بھی متعدی ہے” نعرے سے زیادہ ایک مشاہدہ ہے۔
ان کی مقبولیت کا راز شاید یہ ہے کہ وہ مشہور لوگوں جیسی نہیں لگتیں۔ ان میں فلمی ستاروں کی وہ بنی سنوری، ناقابلِ رسائی چمک نہیں۔ وہ ویسی ہی دکھائی دیتی ہیں جیسی یونیورسٹی کینٹین میں ساتھ بیٹھی کوئی ہم جماعت، جو سیاست پر بحث بھی کرتی ہے اور ہنسی مذاق بھی۔ جب پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سڑک پر گھسیٹے جانے کی ان کی تصویریں وائرل ہوئیں تو لاکھوں نوجوانوں کو لگا کہ یہ کسی اور کے ساتھ نہیں، ان کے اپنے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ شہرت دوری کی نہیں، پہچان کی ہے۔
ملک کے نوجوانوں کی بڑی اکثریت نہ بائیں بازو سے وابستہ ہے، نہ اس کی اصطلاحات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ مگر وہ ایک ایسے نظام پر کھول رہی ہے جو اس کے مستقبل سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے۔ یہ پڑھی لکھی نسل ہے جسے ترقی کا وعدہ کیا گیا اور بار بار غیر یقینی کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ اسی لیے جب نیہا مائیک پر کہتی ہیں: "ہم سڑاند نہیں، ہم سڑاند کو دھونے والے ہیں”، تو نوجوان نظریہ نہیں، اپنا دکھ سنتے ہیں۔
تنقید کرنے والوں کا ایک سوال نظریاتی ہے، اور اسے ٹالنا دیانت داری نہیں۔ آئسا سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن سے وابستہ ہے، جس کی جڑیں ساٹھ کی دہائی کی نکسل باڑی تحریک تک جاتی ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں وزیر اعظم کی اصطلاح میں "دماغی نکسل” کے خانے میں رکھتے ہیں، اور ایک مضمون نگار نے انہیں طنزاً "ہندوستان کی پہلی گاندھیائی نکسلی "کہا ہے: پیچھے نکسل باڑی کی تاریخ، ساتھ گاندھی کا طریقہ۔
مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ دوسرا رخ بھی دیکھا جائے۔ سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن برسوں پہلے مسلح راستہ چھوڑ کر پارلیمانی سیاست میں آ چکی ہے اور انتخابات لڑتی ہے۔ اور نیہا کی اب تک کی پوری سیاست، بھوک ہڑتال سے بیریکیڈ تک، پُرامن احتجاج کی سیاست رہی ہے۔ کسی کو اس کے عمل سے پرکھنا چاہیے، اس کی تنظیم کے شجرۂ نسب سے نہیں۔ اگر بندوق کی وراثت رکھنے والی ایک روایت کی نئی نسل گاندھی کا راستہ چن رہی ہے تو یہ تشویش کی نہیں، اطمینان کی بات ہونی چاہیے۔ گاندھی کے پاس انسٹاگرام نہیں تھا؛ نیہا کے پاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس آلے سے گاندھی کا ضبط پھیلاتی ہیں یا محض ہجوم کی تالیاں۔
ایک اور بات جو ان کے حق میں جاتی ہے: جب میڈیا نے انہیں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا حریف بنا کر پیش کرنا چاہا تو انہوں نے رقابت کے بجائے اتحاد کی بات کی۔ اور حراست سے بھیجا گیا ان کا پیغام، "میں حراست میں ہوں، تحریک نہیں”، خود ہیرو پرستی کا انکار ہے۔ اس ایک جملے میں انہوں نے اپنی ذات کو تحریک سے الگ کر کے بتا دیا کہ کرسی ان کی نہیں، کارواں کی ہے۔ مذہبی ہو یا سیاسی، کسی بھی روایت میں رہنما کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو خود سے بڑا سمجھے۔
مسئلہ نیہا نہیں، ہم ہیں۔ ہمارا معاشرہ صدیوں سے نجات دہندہ کا منتظر رہا ہے۔ ہم مسائل کا حل نظام میں کم اور شخصیت میں زیادہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہمیں سیاہ اور سفید لیبل پسند ہیں؛ سرمئی رنگ ہماری آنکھوں کو تھکا دیتا ہے۔ اسی لیے ہم یا تو کسی کو دیوتا بنا دیتے ہیں یا شیطان؛ درمیان کی وہ جگہ، جہاں ایک انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں سمیت کھڑا ہوتا ہے، ہمیں کم ہی نظر آتی ہے۔
ہیرو پرستی کا پہلا نقصان یہ ہے کہ تنقید بند ہو جاتی ہے۔ جس کی پوجا ہو، اس سے سوال کرنا گستاخی بن جاتا ہے؛ اور سوال سے محروم رہنما غلطی سے نہیں، صرف غلطی کی اصلاح سے محروم ہوتا ہے۔ اندھی تعریف تیز تنقید سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ تنقید آنکھ کھولتی ہے اور تعریف بند کر دیتی ہے۔ دوسرا نقصان یہ کہ تحریک ایک شخص کی صحت، حراست اور غلطی پر منحصر ہو جاتی ہے۔ اور تیسرا: پرستاروں کی بھیڑ ساتھیوں کی جماعت نہیں ہوتی۔
اس ملک نے ایسی علامتیں پہلے بھی دیکھی ہیں۔ منی پور کی اروم شرمیلا نے سولہ برس بھوک ہڑتال کی، اور ان کی ناک میں لگی خوراک کی نالی ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی۔ ۲۰۱۶ء میں انہوں نے انشن ختم کر کے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو ۲۰۱۷ء کے اسمبلی انتخاب میں انہیں صرف نوے ووٹ ملے۔ جن لوگوں نے انہیں برسوں دیوی بنا کر رکھا تھا، انہیں ایک عام انسان کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ علامت کی پوجا آسان ہے؛ انسان کا ساتھ دینا مشکل۔
دوسری مثال جے این یو ہی کی ہے۔ ۲۰۱۶ء میں کنہیا کمار ملک گیر علامت بنے؛ ۲۰۱۹ء میں بیگوسرائے سے لوک سبھا انتخاب ہارے اور ۲۰۲۱ء میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔ سبق یہ ہے کہ کیمپس اور اسکرین کی مقبولیت ووٹ اور تنظیم میں خود بخود نہیں ڈھلتی۔ جو تاج اسکرین پر سجتا ہے، اس کی آزمائش زمین پر ہوتی ہے۔
یہ سوال دو حصوں میں ہے: نیہا کے لیے خطرہ کیا ہے، اور ان کے اندر حفاظت کیا ہے۔
خطرہ حقیقی ہے۔ وائرل ہونے کی بھی ایک لت ہوتی ہے۔ جب ہر جملہ ریل بنے تو آہستہ آہستہ جملہ سوچ سے نہیں، اسکرین کی بھوک سے پیدا ہونے لگتا ہے؛ ہر بیان پچھلے سے سخت ہونا چاہیے، ورنہ بھیڑ کسی اور کی طرف مڑ جائے گی۔ مسیحا بنائے گئے انسان کو پیچھے ہٹنے، غلطی ماننے یا مصالحت کی اجازت نہیں ہوتی، کیونکہ پرستار اسے کمزوری سمجھتے ہیں۔ اور جو رہنما پیچھے ہٹنا بھول جائے، وہ سیاست نہیں، صرف مزاحمت کر سکتا ہے۔
مگر حفاظت کے آثار بھی کم نہیں۔ ان کے اب تک کے جملے اپنی ذات کے بجائے اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق وہ خود کہتی ہیں کہ وہ کارکن بننے نہیں نکلی تھیں، اور اس تحریک کو کسی ایک فرد کی پیداوار کے بجائے برسوں کی جمع شدہ ناراضی کا نتیجہ بتاتی ہیں۔ وہ ایک منظم طلبہ تنظیم سے آئی ہیں جہاں فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں، اور تنظیم کا ڈھانچہ اکثر فرد کو اپنی ہی شہرت سے بچا لیتا ہے۔ ہیرو پرستی کسی کو تبھی بگاڑتی ہے جب وہ خود بھی اپنے پوسٹر پر یقین کرنے لگے۔ ابھی تک کے آثار بتاتے ہیں کہ وہ پوسٹر کو پوسٹر ہی سمجھتی ہیں۔
اصل امتحان مگر ابھی باقی ہے، اور وہ باہر سے نہیں، اندر سے آئے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے خلاف لڑنے والے انقلابی اکثر خود اقتدار بن گئے، اور جن آوازوں کے لیے لڑے تھے، انہی کو خاموش کرنے لگے۔ کیا نیہا اپنی صفوں کے اندر سے آنے والی تنقید برداشت کر سکیں گی؟ کیا کل کوئی کم عمر ساتھی، کوئی دوسری نوجوان لڑکی، ان سے زیادہ مقبول ہو گئی تو وہ اسے حریف سمجھیں گی یا وارث؟ اور کیا آئسا اپنی صدر سے اختلاف کر سکے گی بغیر اس کے کہ اختلاف کو غداری کہا جائے؟ ان سوالوں کے جواب ابھی کسی کے پاس نہیں؛ مگر یہی سوال طے کریں گے کہ وہ رہنما بنتی ہیں یا محض ایک بت۔
چار دہائیوں کی تدریس نے مجھے سکھایا ہے کہ ذہین طالب علم کو سب سے زیادہ نقصان قبل از وقت تعریف پہنچاتی ہے۔ جس بچے کو ساتویں جماعت میں جینیس کا خطاب مل جائے، وہ اکثر آٹھویں میں سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اب ثابت کرنے کو کچھ باقی نہیں۔ اچھا استاد تعریف کرتا ہے، مگر کام کی، شخص کی نہیں؛ کوشش کی، تاج کی نہیں۔
یہی مشورہ آج نیہا کے مداحوں کے لیے ہے۔ ان کی جرأت کو سراہیے، ان کی حراست کے خلاف آواز اٹھائیے؛ مگر انہیں مسیحا نہ بنائیے۔ ان کے گرد مختلف شعبوں کے اہل لوگ کھڑے کیجیے: معیشت کے ماہر، قانون دان، اساتذہ، کسان، مزدور۔ ان پر تنقید بھی کیجیے، کیونکہ جو تنقید دوست نہیں کریں گے، وہ دشمن کریں گے، اور زیادہ بے رحمی سے۔ اور یاد رکھیے کہ اس تحریک کا سہرا ان گمنام نوجوانوں کے سر بھی ہے جو بسوں میں بٹھائے گئے اور جن کے نام کسی اخبار میں نہیں چھپے۔
قوموں کو مسیحا نہیں، شہری بچاتے ہیں۔ مسیحا ایک ہوتا ہے، اور اس کے گرنے سے سب گر جاتا ہے؛ شہری لاکھوں ہوتے ہیں، اور ان میں سے ایک کے گرنے پر باقی کھڑے رہتے ہیں۔ نیہا بورا نے خود اپنے ایک جملے میں یہ سچ کہہ دیا ہے: میں حراست میں ہوں، تحریک نہیں۔ ان کے مداحوں کا سب سے بڑا احترام یہی ہوگا کہ وہ اس جملے کو ان کی تصویر سے زیادہ سنبھال کر رکھیں۔ تصویر ابھی ادھوری ہے، اور اسے ادھورا ہی رہنا چاہیے، کیونکہ مکمل تصویریں صرف عجائب گھروں میں لٹکتی ہیں۔ شیرنی کو شیرنی رہنے دیجیے؛ اسے دیوی بنا کر قید نہ کیجیے۔ کیونکہ مندر میں بٹھائی گئی مورتی کو کوئی گرفتار نہیں کرتا، مگر وہ چل بھی نہیں سکتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے