कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہاتھوں میں ڈگری، آنکھوں میں خواب اور مستقبل کی فکریں؛ اٹھارہ برس کی نمائندگی کا حساب کون دے گا؟

مراٹھواڑہ کے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے فارغ التحصیل نوجوانوں کی بے روزگاری، اردو تعلیم کی زبوں حالی اور اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین کی مشکلات؛ مہایوتی کے امیدوار ستیش چوہان کے دورِ نمائندگی کا محاسبہ اور تنظیموں کی سیاسی حمایت پر اٹھنے والے اہم سوالات!

تحریر: مقصود پٹیل لوہگاؤنکر
ساکن: لیبر کالونی، ناندیڑ
موبائل: 9422797473

ایک غریب باپ نے اپنی پوری زندگی محنت و مشقت میں گزار دی۔ چلچلاتی دھوپ میں اپنا خون پسینہ ایک کیا۔ اپنے بدن کے لیے نئے کپڑے تک نہ خریدے۔ ایک ماں نے اپنی خواہشات کو دل ہی دل میں دفن کر دیا، گھریلو پریشانیوں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا، بسا اوقات قرض کا بوجھ بھی اپنے سر لے لیا، لیکن اپنے بچے کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا۔ اس لیے کہ ان ماں باپ کی آنکھوں میں صرف ایک ہی خواب سجا ہوا تھا کہ ان کا بیٹا تعلیم حاصل کرے گا، زندگی میں کامیابی کی منزلیں طے کرے گا، ایک اچھی ملازمت حاصل کرے گا اور ایک دن اپنے خاندان کی زندگی میں خوش حالی اور آسودگی کی بہار لے آئے گا۔
بیٹا پڑھا، لکھا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بالآخر گریجویٹ بن گیا۔ اس کی کامیابی پر ماں باپ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
اگر تعلیم مکمل کرنے کے باوجود اسے روزگار میسر نہ آئے تو اس خاندان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ ہاتھوں میں ڈگری لیے سرکاری دفاتر کے دروازوں پر دستک دینے اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر کی خاک چھاننے والے نوجوان کے دل کی تڑپ کو کون محسوس کرے گا؟ برسوں تک مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے، ملازمتوں کے اشتہارات کا انتظار کرنے والے اور بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہنے والے نوجوانوں کے مسائل کو سیاسی نظام میں آخر کتنی اہمیت حاصل ہے؟
مراٹھواڑہ کے فارغ التحصیل نوجوانوں کے مسائل محض بے روزگاری تک محدود نہیں ہیں۔ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار طلبہ معاشی، سماجی اور تعلیمی دشواریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں اردو ذریعۂ تعلیم سے وابستہ طلبہ کے سامنے اعلیٰ تعلیم کے مواقع، مسابقتی امتحانات کی رہنمائی، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی دستیابی جیسے متعدد مسائل موجود ہیں۔ تعلیم ان کی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ لیکن اگر تعلیم مکمل کرنے کے باوجود انہیں مناسب مواقع میسر نہ آئیں تو ان نوجوانوں کی امیدوں اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان موجود خلیج پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں مراٹھواڑہ گریجویٹ حلقۂ انتخاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کے شندے گروپ پر مشتمل مہایوتی کے امیدوار ستیش بھانوداس چوہان سن ۲۰۰۸ء سے اس حلقے کی نمائندگی کرتے آ رہے ہیں۔ تقریباً اٹھارہ برس کا یہ ایک طویل عرصہ ہے۔ اتنے طویل دورِ نمائندگی میں انہوں نے فارغ التحصیل نوجوانوں، اساتذہ، غیر تدریسی ملازمین اور بالخصوص اقلیتی تعلیم سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کیا کوششیں کیں؟ قانون ساز کونسل میں کون سے مسائل اٹھائے؟ حکومت سے کون سے فیصلے منظور کروائے؟ اور ان فیصلوں کے عملی فوائد کتنے افراد تک پہنچے؟ ان تمام امور کا مفصل حساب عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔
ان کے دورِ نمائندگی میں مختلف تعلیمی مسائل پر پیروی کیے جانے کی خبریں دستیاب ہیں، تاہم اردو تعلیم اور اقلیتی طبقے سے متعلق ان کی مخصوص کارکردگی کا الگ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اردو ذریعۂ تعلیم کے مدارس اور اسکولوں کی صورتِ حال محض کسی زبان یا ایک مخصوص طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک نہایت اہم معاملہ ہے۔ ایک استاد اپنی پوری زندگی طلبہ کی شخصیت سازی اور ان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں صرف کر دیتا ہے۔ دفتری کلرک، چپراسی اور دیگر غیر تدریسی ملازمین تعلیمی اداروں کے انتظامی امور کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
لیکن اگر انہی ملازمین کو تقرری کی منظوری، شالارتھ آئی ڈی، باقاعدہ تنخواہوں، سینیارٹی، ترقی، خالی اسامیوں اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل کے لیے برسوں تک سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو ان کے درد کو کون سمجھے گا؟
اگر کوئی ملازم مسلسل اپنی خدمات انجام دے رہا ہو، لیکن اس کے انتظامی اور ملازمتی مسائل کا فیصلہ نہ ہو رہا ہو تو اس کے خاندان پر کیا بیتتی ہوگی؟ اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور آنے والے کل کی ذمہ داری آخر کون قبول کرے گا؟
ہندوستانی آئین نے اقلیتی تعلیمی اداروں کو خصوصی حقوق عطا کیے ہیں۔ لیکن ان اداروں کے آئینی حقوق اور اساتذہ و ملازمین کے قانونی حقوق کے درمیان کسی قسم کا تصادم پیدا نہ ہو، اس کے لیے شفاف اور منصفانہ انتظامیہ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
تعلیمی ادارے معاشرے کی تعلیمی ترقی اور نئی نسل کی بہتر تربیت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ ان اداروں کے منتظمین کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ طلبہ کے مفادات، اساتذہ کے وقار اور ملازمین کے حقوق کو اولین ترجیح دیں۔
کسی تعلیمی ادارے کی ترقی کا مطلب صرف عالی شان عمارتوں کی تعمیر یا ادارے کی توسیع نہیں ہوتا، بلکہ طلبہ کو معیاری تعلیم، اساتذہ کو انصاف اور ملازمین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہی حقیقی ترقی کی علامت ہے۔
انتخابات کے دوران بعض اساتذہ کی تنظیمیں، ان کے عہدیداران اور تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات مختلف امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔ کسی بھی فرد یا تنظیم کو اپنا سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے۔
لیکن جب اساتذہ کے نام پر کسی تنظیم کی جانب سے کسی امیدوار کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کے پس پردہ وجوہات بھی واضح ہونی چاہئیں۔
کیا عام اساتذہ کی رائے معلوم کی گئی؟ کیا تنظیم کی مجلسِ عاملہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کی؟ کیا امیدوار نے اساتذہ کے زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس یقین دہانی کرائی؟ کیا یہ یقین دہانیاں تحریری صورت میں موجود ہیں؟ اور انتخابات کے بعد ان وعدوں کی تکمیل کے لیے کون جواب دہ ہوگا؟
اگر کسی تنظیم کے عہدیداران یا تعلیمی اداروں کے منتظمین کے ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں تو ان کی جانچ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
محض کسی سیاسی امیدوار کی حمایت کرنے سے کسی شخص کا ذاتی مفاد ثابت نہیں ہوتا، لیکن عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو واضح کرنا اور فیصلہ سازی کے عمل کو شفاف رکھنا نہایت ضروری ہے۔
اساتذہ کی کسی تنظیم کی اصل طاقت اس کے عہدیداران کے سیاسی روابط میں نہیں، بلکہ اس کے عام اراکین کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنا تنظیمی قیادت کی ایک بڑی اخلاقی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
ستیش چوہان جیسے طویل عرصے تک نمائندگی کرنے والے عوامی نمائندے کے سامنے بھی چند بنیادی سوالات موجود ہیں۔
مراٹھواڑہ کے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے روزگار کی کن اسکیموں پر عمل درآمد کی کوشش کی گئی؟ اردو اسکولوں میں اساتذہ کی خالی اسامیوں کے سلسلے میں کیا اقدامات کیے گئے؟ غیر تدریسی ملازمین کے مسائل پر حکومتی سطح پر کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟ اقلیتی تعلیمی اداروں میں ملازمین کی شکایات کے ازالے کے لیے کس نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی؟ اردو ذریعۂ تعلیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور مسابقتی امتحانات میں بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
ان تمام سوالات کے جوابات سرکاری دستاویزات، قانون ساز کونسل کی کارروائی اور عملی نتائج کی بنیاد پر عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔
ایک طرف استاد اپنے طلبہ کو آئین، جمہوریت، مساوات اور انصاف کا درس دیتا ہے، لیکن دوسری طرف اگر اسی استاد کو اپنے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے برسوں تک جدوجہد کرنا پڑے تو یہ صورتِ حال یقیناً سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔
جو استاد اپنے طلبہ کو روشن مستقبل کے خواب دکھاتا ہے، اگر اسی کا اپنا مستقبل غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو تو یہ محض ایک فرد کا دکھ نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام کے سامنے ایک سنگین سوال ہے۔
انتخابات آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ انتخابی جلسے منعقد ہوتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، تنظیموں کی حمایت کے اعلانات ہوتے ہیں اور سیاسی اتحاد بدلتے رہتے ہیں۔
لیکن ایک بے روزگار نوجوان کے گھر کی پریشانیاں، تقرری کی منظوری کے منتظر ملازم کی بے بسی اور تعلیمی سہولتوں کے انتظار میں بیٹھے طلبہ کی امیدیں انتخابات کے بعد بھی اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔
اسی لیے کسی بھی امیدوار کو حاصل ہونے والی سیاسی حمایت سے زیادہ اس کی عملی کارکردگی، عوامی جواب دہی اور مستقبل کے واضح لائحۂ عمل کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
اقلیتی طبقے کے فارغ التحصیل نوجوانوں، اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے مسائل صرف انتخابات کے دنوں میں موضوعِ بحث نہیں بننے چاہئیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک مستقل، وقت کی پابندی پر مبنی اور قابلِ پیمائش عملی منصوبہ ضروری ہے۔
اس منصوبے میں روزگار کے مواقع کی فراہمی، اردو تعلیم کے معیار میں بہتری، اساتذہ کے ملازمتی مسائل کا حل، غیر تدریسی ملازمین کی خالی اسامیوں کا مسئلہ، اقلیتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع اور تعلیمی اداروں کے انتظامی امور میں شفافیت جیسے موضوعات شامل ہونے چاہئیں۔
جمہوریت میں کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن سوال کرنا بھی اتنا ہی اہم جمہوری حق ہے۔
عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کریں، تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں کی وجوہات واضح کریں اور شہریوں کو یہ موقع حاصل ہو کہ وہ دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر آزادانہ غور و فکر کر سکیں۔
کیونکہ ایک غریب ماں باپ کی اپنے بچے کی تعلیم کے لیے دی گئی قربانیاں، ایک بے روزگار نوجوان کا برسوں طویل انتظار، ایک استاد کی اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد اور ایک غیر تدریسی ملازم کے خاندان کی مستقبل کے بارے میں بے چینی محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔
یہ زندہ انسانوں کی امیدیں ہیں، ان کے خواب ہیں، ان کی آرزوئیں ہیں اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے وہ درد ہیں جنہیں صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے زندگی میں ان حالات کا سامنا کیا ہو۔
اٹھارہ برس کی نمائندگی کا سوال محض ایک سیاسی سوال نہیں، بلکہ عوامی جواب دہی کا سوال ہے۔ یہ فارغ التحصیل نوجوانوں کے خوابوں، اساتذہ کی عزت و وقار اور غیر تدریسی ملازمین کے جائز حقوق کا سوال ہے۔
ان سوالات کے جوابات محض وعدوں، تقریروں اور اعلانات میں نہیں، بلکہ ٹھوس شواہد، عملی اقدامات اور حقیقی نتائج میں نظر آنے چاہئیں۔
کیونکہ جمہوریت میں عوامی نمائندوں کی عزت و وقار صرف ان کے عہدوں سے نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں ان کی کوششوں سے آنے والی مثبت تبدیلیوں سے مزید مستحکم ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے