कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نانا پاٹیکر: فن سے انسانیت تک

ایک باکمال اداکار، ایک حساس انسان اور خدمتِ خلق کا جذبہ

از قلم: شیخ محمود علی
8055402819

ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض فنکار اپنی شہرت اور مقبولیت کے باعث پہچانے جاتے ہیں، جب کہ بعض اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور فنی انفرادیت کی وجہ سے تاریخ میں جگہ بناتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری، جاندار مکالموں اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے ناظرین کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری میں بے ساختگی، شدت اور نفسیاتی گہرائی پائی جاتی ہے۔ وہ کردار کے جذبات کو محض چہرے کے تاثرات یا بلند آواز سے ظاہر نہیں کرتے، بلکہ اپنی نگاہوں، خاموشی اور مکالموں کی ادائیگی سے بھی گہرا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ ان کی اداکاری میں بناوٹ کے بجائے فطری پن اور جذباتی صداقت نمایاں رہتی ہے۔
فلم پراہار میں ان کی اداکاری ہو یا کرانتی ویر اور اب تک چھپن جیسے مختلف موضوعات پر مبنی کردار، نانا پاٹیکر نے اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ فلم نٹسمرٹ میں ان کی اداکاری نے بھی ان کی فنی استعداد کو نمایاں کیا۔ وہ ان فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنے کردار کو محض کہانی کا حصہ نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے ایک زندہ انسانی تجربے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
ان کی اداکاری کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ وہ کردار کی داخلی کشمکش اور انسانی نفسیات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کو محض ایک تجارتی فلمی ستارے کے طور پر دیکھنا ان کی فنی حیثیت کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
شہرت سے آگے: خدمتِ خلق کا جذبہ:
کسی فنکار کی عظمت کا اندازہ صرف اس کی فلموں، ایوارڈز یا مقبولیت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ اپنی سماجی حیثیت اور وسائل کو معاشرے کی بھلائی کے لیے کس طرح استعمال کرتا ہے۔
نانا پاٹیکر نے کسانوں کی مشکلات اور دیہی زندگی کے مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لیے عملی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر مہاراشٹر میں کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم نام فاؤنڈیشن (Naam Foundation) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی بحران سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی اس تنظیم نے کسانوں اور دیہی آبادی کی مدد کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ ان کوششوں نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ ایک فنکار اپنی شہرت کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی شعور اور عوامی خدمت کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔
کسان ہندوستانی معیشت اور معاشرت کا ایک بنیادی ستون ہیں۔ ان کی مشکلات کو سمجھنا، ان کے مسائل کی طرف توجہ دلانا اور ان کی مدد کے لیے کوشش کرنا ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ نانا پاٹیکر کی ان سرگرمیوں نے فن اور سماجی شعور کے درمیان ایک بامعنی تعلق قائم کیا ہے۔
مذہب، انسانیت اور اعترافِ خوبی:
ہمارے معاشرے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص کی خوبیوں کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کے مذہب، ذات یا قومیت کو دیکھنا ضروری ہے؟
میری رائے میں اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
اگر کوئی شخص بہترین فنکار ہے تو اس کے فن کی تعریف کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص سماجی خدمت انجام دیتا ہے تو اس کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے۔ اگر کوئی انسان اپنے کردار، صلاحیت یا عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرتا ہے تو اس کی خوبیوں کو تسلیم کرنے میں مذہبی شناخت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
نانا پاٹیکر ایک ہندو فنکار ہیں، لیکن ان کی اداکاری کی تعریف کرنے یا کسانوں کے لیے ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے مذہبی شناخت کی کوئی پابندی نہیں۔ ان کے فن اور سماجی خدمات کا جائزہ ان کے حقیقی کام کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
کسی فنکار کی تعریف کرنا اس کے تمام نظریات یا عقائد سے اتفاق کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے مذہب کے شخص کی خوبی تسلیم کرنے کا مطلب اپنے مذہب یا عقیدے سے دست بردار ہونا بھی نہیں ہے۔
اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے، لیکن اس اختلاف کو انسانی خوبیوں کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
کسی انسان کے فن کی تعریف کرنا مذہبی وابستگی کا اعلان نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت کا اعتراف ہے۔
مذہبی شناخت یا انسانی کردار؟
مذہب، زبان، ذات اور قومیت انسان کی سماجی شناخت کے اہم پہلو ہیں، لیکن کسی انسان کی پوری شخصیت کو صرف انہی خانوں میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ایک باوقار معاشرے کی بنیاد اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے کردار، رویے اور اعمال کی روشنی میں معاملہ کیا جائے۔ اگر ہم کسی شخص کی خوبی کو صرف اس وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے مذہب یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا، تو ہم دراصل اپنی سوچ کو تعصب کے تابع کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ ہماری اخلاقی اور فکری نشوونما میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔
انسانی تاریخ میں علم، فن، فلسفے، طب، ادب اور سماجی خدمت کے میدانوں میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا انسانی تہذیب کے مشترکہ ورثے کا احترام ہے۔
کسی شخص کے عقیدے پر گفتگو کرنا ایک الگ معاملہ ہے، جب کہ اس کی فنی یا سماجی صلاحیتوں کی قدر کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔
نانا پاٹیکر کے معاملے میں بھی یہی اصول اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان کی اداکاری پر تنقیدی گفتگو ہو سکتی ہے اور ان کے سماجی کاموں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، لیکن محض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ان کے فن یا خدمات کو رد کرنا مناسب رویہ نہیں ہے۔
رواداری ہی مہذب معاشرے کی پہچان ہے:
مذہبی رواداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے عقائد سے دست بردار ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے انسانی حقوق، عزت اور خوبیوں کا احترام کرنا سیکھے۔
ایک متوازن اور باشعور انسان اپنی شناخت پر فخر کر سکتا ہے، لیکن اسے اس فخر کو دوسروں کی تحقیر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہمارے مذہب، تہذیب، زبان اور صلاحیتوں کا احترام کریں تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
معاشرے میں محبت اور ہم آہنگی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
نانا پاٹیکر کی مثال ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ ایک فنکار کی قدر اس کے مذہب سے نہیں، بلکہ اس کے فن اور عملی کردار سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کی سماجی خدمات کو سراہنا اور ان کی اداکاری کی تعریف کرنا اسی وسیع القلبی کا اظہار ہے جس کی ہمارے معاشرے کو ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔
اختتامیہ: انسان کو انسان کی نظر سے دیکھیے:
نانا پاٹیکر کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی فنی صلاحیتوں، منفرد اداکاری اور سماجی خدمات کو الگ الگ پہلوؤں سے دیکھنا ضروری ہے۔ ایک اداکار کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستانی سنیما میں اپنی شناخت قائم کی ہے اور ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے کسانوں کے مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔
ان کے ہر کام سے اتفاق کرنا ضروری نہیں، لیکن ان کی قابلِ قدر صلاحیتوں اور خدمات کا اعتراف کرنا ایک معقول اور متوازن رویہ ہے۔
انسانوں کے درمیان مذہبی، لسانی، نسلی اور ثقافتی اختلافات ہمیشہ موجود رہے ہیں، لیکن ان اختلافات کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کو فروغ دینے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
نانا پاٹیکر کی فنی صلاحیتوں اور سماجی خدمات کو یاد کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی انسان کی خوبی کا اعتراف کرنے کے لیے اس کا ہم مذہب ہونا ضروری نہیں۔
فن کی قدر کیجیے، خدمتِ خلق کی حوصلہ افزائی کیجیے اور انسان کو اس کے مذہب سے پہلے ایک انسان کی حیثیت سے دیکھیے۔
کیونکہ کسی دوسرے انسان کی خوبی کا اعتراف ہماری اپنی عظمت کو کم نہیں کرتا، بلکہ ہمارے شعور، اخلاق اور انسان دوستی کو بلند کرتا ہے اور اس جذبے کو نئی جلا بخشتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے