कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

استعفیٰ سے کیا نظام بدل جائے گا؟

گیانیش کمار کے خلاف تحریک، حزب اختلاف کی حکمت عملی اور تبدیلی کا اصل معیار

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ذریعہ دہلی کے جنتر منتر سے شروع کی گئی تحریک کی چنگاری متعدد ریاستوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس تحریک میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت حزب اختلاف کے دو سو سے زائد ارکان پارلیمنٹ شریک ہیں۔ نوجوانہ نیہا بورا سمیت طلبہ کی تنظیم سی جے پی بھی اپنی تنظیموں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہیں۔ تحریک کے اہم مطالبات میں گیانیش کمار کا استعفیٰ اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کی مخالفت شامل ہے۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے غیر منصفانہ طریقۂ کار سے لاکھوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سےحزف ہونے سے ان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے طریقۂ کار کا دفاع کرتا رہا ہے۔ اس تحریک کے تناظر میں ایک بنیادی سوال ذہن میں آتا ہے: کیا کسی عہدے دار کے استعفیٰ سے وہ نظام بدل جاتا ہے جس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہو؟ بظاہر کسی بااثر شخصیت کاعہدہ سے ہٹایا جانا تحریک کاروں کے لیے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ اس سے ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور انہیں یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ عوامی دباؤ نے اپنا اثر دکھایا۔ لیکن اگر کسی شخص کے جانے کے بعد بھی نظام کا طریقۂ کار وہی رہے تو کیا اسے مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے؟
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کی شروعات بہار اسمبلی انتخابات سے عین قبل کی تھی۔ بہار اسمبلی انتخابات سے قبل شروع ہونے والی اس مہم کے دوران حزب اختلاف کو جس سنجیدگی اور یکجہتی کے ساتھ اس معاملے کو اٹھانا چاہیے تھا، اس کا فقدان محسوس ہوا۔ عدالتی چارہ جوئی ضرور کی گئی، لیکن ملک گیر سطح پر عوامی بیداری اور مسلسل سیاسی دباؤ پیدا کرنے کی کوششیں نسبتاً دیر سے تیز ہوئیں۔ اب کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے تحریک کو رفتار دی ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ جدوجہد صرف گیانیش کمار کے استعفیٰ تک محدود رہے گی یا انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے بھی کوئی واضح لائحۂ عمل سامنے آئے گا؟ دیر سے ہی سہی، حزب اختلاف نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھانے کے لیے عوامی احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جمہوریت میں ایسے سوالات اٹھانا اور آئینی اداروں سے جواب طلب کرنا حزب اختلاف کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیکن احتجاج کی معنویت میں اس وقت اضافہ ہو جاتا ہے جب اس کے مطالبات واضح ہوں اور ان کے حصول کے لیے مستقل کوشش کی جائے۔ محض استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے یہ طے نہیں ہو جاتا کہ مسئلے کی بنیادی وجوہ بھی دور ہو جائیں گی۔ ممکن ہے کہ گیانیش کمار کے خلاف جاری تحریک کے نتیجے میں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ حزب اختلاف اسے اپنی کامیابی قرار دے۔ لیکن اس کے بعد اصل امتحان شروع ہوگا۔ کیا ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے طریقۂ کار میں تبدیلی آئے گی؟ کیا کسی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج ہونے کی شکایت کا بروقت ازالہ ممکن ہوگا؟ کیا ووٹروں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے زیادہ آسان اور شفاف طریقہ میسر آئے گا؟ اور کیا الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا؟ اگر ان سوالات کا جواب نہیں ملتا تو صرف ایک عہدے دار کے تبدیلئ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دنوں دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نیٹ امتحان کے پرچے افشا ہونے اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ نے دہلی کے جنتر منتر پر طویل احتجاج کیا۔ اس تحریک میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بنیادی مطالبات میں شامل تھا۔ 25 جولائی 2026 کو دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفیٰ کے بعد سی جے پی نے حکومت کی جانب سے بعض مطالبات پر یقین دہانیوں کے بعد اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ تحریک سے وابستہ نوجوانوں نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا۔ طلبہ کی اس تحریک سے یہ بات ضرور سامنے آئی کہ منظم احتجاج اور مسلسل عوامی دباؤ کسی حکومت کو اہم فیصلے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک سوال باقی رہتا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ سے کیا امتحانی نظام کی تمام خامیاں دور ہو گئیں؟ کیا آئندہ امتحانات میں پرچوں کے افشا کا خطرہ ختم ہوگیا؟ کیا طلبہ کو یہ یقین دہانی مل گئی کہ ان کی محنت، وقت اور مستقبل کسی انتظامی کوتاہی کی نذر نہیں ہوں گے؟ ان سوالات کا جواب صرف استعفیٰ کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی اصلاحات اور ان کے نتائج کا جائزہ لیا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر سیاسی تحریکوں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کسی عہدے دار کا استعفیٰ ایک واقعہ ہے، جب کہ نظام میں تبدیلی ایک مسلسل عمل۔ پہلے کا تعلق کسی فرد کے منصب سے ہے، دوسرے کا تعلق ان اصولوں اور طریقۂ کار سے ہے جن کے تحت ادارے کام کرتے ہیں۔ اگر کسی وزیر کی جگہ دوسرا وزیر آ جائے، لیکن پالیسیوں اور انتظامی طریقۂ کار میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ ہو تو عوام کو درپیش مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی آئینی ادارے کے سربراہ کی تبدیلی سے بھی اس ادارے کے کام کرنے کا انداز لازماً نہیں بدلتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ استعفیٰ غیر اہم ہے یا اس کے مطالبے کی کوئی معنویت نہیں۔ بعض حالات میں کسی عہدے دار کی جواب دہی طے کرنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے اس کا عہدہ چھوڑنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن استعفیٰ مسئلے کا آخری حل اسی وقت بن سکتا ہے جب اس کے ساتھ ان وجوہ کو بھی دور کیا جائے جن کی بنا پر احتجاج کی نوبت آئی۔ ورنہ ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص آ جائے گا اور کچھ عرصے بعد وہی شکایات دوبارہ سامنے آ سکتی ہیں۔ حکومت اور سرکاری محکمے کسی ایک فرد کے ذریعے نہیں چلتے۔ ان کے پیچھے ضابطے، پالیسیاں، انتظامی ڈھانچہ اور فیصلے کرنے کا ایک متعین طریقۂ کار ہوتا ہے۔ عہدے دار ان ضابطوں کے تحت کام کرتے ہیں، اگرچہ ان کے فیصلے اور طرز عمل بھی اداروں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی شخص کی ذمہ داری طے کرنا اور نظام کی خامیوں کو دور کرنا، دونوں ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نظرانداز کرنے سے مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن کے معاملے میں بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا واضح جواب دیا جائے۔ اگر ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران کسی شہری کا نام غلط طور پر خارج ہوتا ہے تو اس کی اصلاح کا مؤثر طریقہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی ووٹر کو اپنی شہریت، شناخت یا اندراج سے متعلق دستاویزات پیش کرنے میں دشواری ہوتی ہے تو اس کے لیے مناسب رہنمائی اور شکایت کے ازالے کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ اسی طرح انتخابی عمل سے متعلق فیصلوں اور ضابطوں میں شفافیت ہونی چاہیے، تاکہ عوام کو اپنے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حزب اختلاف اگر ان مسائل کو اپنی تحریک کا مرکزی حصہ بناتی ہے تو اس کی جدوجہد ایک فرد کے استعفیٰ سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ ایس آئی آر کے کس طریقۂ کار میں تبدیلی درکار ہے، ووٹر فہرستوں سے متعلق شکایات کا ازالہ کیسے ہونا چاہیے اور انتخابی ادارے کی جواب دہی کو کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان سوالات کے جواب ہی تحریک کو ایک واضح سمت دے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر تمام توجہ صرف گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے پر مرکوز رہی تو ممکن ہے کہ اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جائے۔ یہ ذمہ داری صرف حزب اختلاف کی نہیں، بلکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بھی ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کے خدشات کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ اگر کسی پالیسی یا انتظامی عمل پر سنجیدہ اعتراضات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب دلیل، شفافیت اور عملی اقدامات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح حزب اختلاف کو بھی چاہیے کہ وہ الزامات کے ساتھ قابل عمل تجاویز پیش کرے اور مطالبات کی تکمیل تک اپنے موقف پر قائم رہے۔ سیاسی تحریکوں کا ایک مقصد عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں بیدار کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے گیانیش کمار کے خلاف تحریک اور کاکروچ جنتا پارٹی کی طلبہ تحریک، دونوں سے یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ عوامی مسائل پر منظم آواز اٹھانا اہم ہے۔
لیکن کسی بھی تحریک کی اصل کامیابی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے مطالبات پورے ہونے کے بعد یہ دیکھا جائے کہ جن مسائل کے خلاف لوگ سڑکوں پر اترے تھے، وہ واقعی حل ہوئے ہیں یا نہیں۔ آخرکار، سوال گیانیش کمار کے استعفیٰ کا ہو یا دھرمیندر پردھان کو ہٹائے جانے کا، بنیادی نکتہ ایک ہی ہے: کسی عہدے دار کا جانا اور نظام کا بدلنا دو الگ باتیں ہیں۔ استعفیٰ کو کامیابی قرار دینے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے بعد عوام کو کیا حاصل ہوا۔ اگر انتخابی عمل میں شفافیت نہیں بڑھتی، ووٹروں کی شکایات کا ازالہ آسان نہیں ہوتا اور اداروں کی جواب دہی میں بہتری نہیں آتی تو تبدیلی کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اصل کامیابی کسی ایک شخص کو عہدے سے ہٹانے میں نہیں، بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے میں ہے جن کے خلاف تحریک شروع ہوئی تھی۔ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا؛ نظام بدلنے کے لیے اس کے طریقۂ کار میں اصلاح لازمی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی کو پرکھا جانا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے