कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنتر منتر، اختلاف کا حق اور اقتدار کا پرانا فریب

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

وہ بادشاہ بھی سانسوں کی جنگ ہار گئے
جو اپنے گرد ہمیشہ سپاہ رکھتے تھے
بچے نہ وہ بھی جو کہتے تھے کُن فیکُوں
نہ جانے کیوں وہ خود کو خدا سمجھتے تھے
دہلی کے دل میں پتھر اور چونے کا ایک مجموعہ ہے جو آسمان ناپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اٹھارہویں صدی کی تیسری دہائی میں جے پور کے مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے جنتر منتر کے یہ آلات اس لیے کھڑے کیے کہ سورج کا زاویہ اور ستاروں کی گردش ٹھیک ٹھیک گنی جا سکے۔ وہ بادشاہ کب کا رخصت ہو چکا، اس کے آلات آج بھی کھڑے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اب یہاں آسمان کی نہیں، جمہوریت کی حرارت ناپی جاتی ہے؛ اور پیمانہ پتھر کے زاویے نہیں، انسانوں کے قدم ہیں۔
ہفتہ، ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۶ء کا دن اس پیمانے پر ایک عجیب قراءت چھوڑ گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے سوال پر جس احتجاج کا اعلان کیا تھا، وہ سہ پہر ڈھائی بجے تک، جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں، اپنے منتظمین کی منشا کے مطابق جمع نہ ہو سکا؛ اور ریاست نے اپنی بڑی طاقت اس بات پر صرف کی کہ چوراہا خالی رہے۔ کبھی کبھی کسی دن کی سب سے بڑی خبر یہ ہوتی ہے کہ جو ہونا تھا، وہ ہوا ہی نہیں۔ خالی چوراہا بھی ایک تحریر ہے؛ شرط صرف یہ ہے کہ اسے پڑھنا آتا ہو۔
دہلی پولیس نے جمعہ ہی کو، احتجاجی شرائط کی سابقہ مبینہ خلاف ورزیوں اور امن و امان کے سنگین اندیشوں کا حوالہ دے کر، اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ہفتے کی صبح ہونے سے پہلے دارالحکومت کا نقشہ بدل چکا تھا۔ وسطی دہلی میں بی این ایس ایس کی دفعہ ۱۶۳ کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہوئے۔ جنتر منتر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ چوبیس گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔ میٹرو کے پینتالیس اسٹیشنوں کے دروازے بند ہوئے، ڈھائی سو کے قریب ٹرینیں منسوخ کی گئیں، سرحدوں پر ناکے اور سڑکوں پر کیلیں بچھیں، ڈرون اور سی سی ٹی وی آسمان اور زمین دونوں پر نظر رکھے رہے، اور کناٹ پلیس کا بازار بند رہا۔ پولیس کے مطابق نئی دہلی کو بیس زون میں بانٹ کر ہر زون میں ایک حراستی مرکز قائم کیا گیا، اور اسٹیڈیموں کو بھی اسی کام میں لایا گیا۔
اس دن کی سب سے علامتی تصویر کسی سڑک کی نہیں، ایک ہوائی جہاز کی تھی۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے رفقا سورو داس اور آشوتوش رانکا ممبئی سے دہلی پہنچے تو پولیس اہلکار طیارے کے اندر داخل ہوئے اور تینوں کو وہیں سے تحویل میں لے لیا۔ دیپکے نے کہا کہ مجھے گرفتار کیجیے؛ جواب ملا کہ یہ گرفتاری نہیں، تعاون کیجیے۔ رپورٹوں کے مطابق تینوں کو الگ الگ مقامات کی طرف لے جایا گیا، اور سی جے پی کا کہنا ہے کہ انہیں کسی نامعلوم جگہ رکھا گیا ہے اور وکیلوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ قیادت کی غیر موجودگی میں پارٹی نے دیپکے کا پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام جاری کیا کہ احتجاج کی قیادت اب اجنکیا شندے کریں گے۔
حراستوں کی فہرست دن بھر طویل ہوتی رہی۔ یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام میں ان کے گھر سے لے جایا گیا؛ سی جے پی کے مطابق صبح آٹھ بجے کے قریب سادہ لباس میں بڑی تعداد میں پولیس آئی تھی۔ پارٹی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ اور ان کے ساتھ ایک اور وکیل کو گاڑی ہی میں روک لیا گیا؛ رتنا سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے «اوپر کے زبانی احکامات» کا حوالہ دیا۔ سپریم کورٹ سے جنتر منتر کی طرف بڑھنے والے وکیلوں کو بھی حراست میں لیا گیا، جس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس سوریہ کانت سے مداخلت کی اپیل کی۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی اور برندا کرات کو جنتر منتر پر روکا گیا، جبکہ انڈین ایکسپریس کے مطابق پنارائی وجین، جان بریٹاس اور کے این بالاگوپال کو چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیا۔ دوپہر کے بعد آئسا کی صدر نیہا بورا، یوگیندر یادو اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو آئی این اے دلی ہاٹ کی طرف مارچ کے دوران حراست میں لیے جانے کی خبریں آئیں۔ دہلی سے باہر چنڈی گڑھ پولیس نے منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کو چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے سامنے روکا، ایک دن پہلے پونے سے آنے والے کم از کم چودہ طلبہ اٹارسی میں روکے جا چکے تھے، جن کے بارے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حبسِ بیجا کی درخواست پر انہیں ۱۳ اکتوبر تک پیش کرنے اور بحفاظت واپس پہنچانے کا حکم دیا ہے۔
دن مکمل طور پر پُرامن بھی نہ رہا۔ پی ٹی آئی کے مطابق آکاش وانی بھون کے قریب پتھراؤ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور کئی افراد حراست میں لیے گئے۔ پتھر جس ہاتھ سے بھی چلے، وہ احتجاج کے مقصد کو اتنا ہی زخمی کرتا ہے جتنا اس سپاہی کو۔ یہ بات اس مضمون کی دلیل کا حصہ ہے، اس سے انحراف نہیں۔
گنتی اس دن بھی ایک زبان نہ بول سکی۔ پولیس کے اپنے صبح کے بیان میں تقریباً ایک سو پچاس مظاہرین کی حراست، ٹولیوں میں آنے والے تقریباً پانچ سو افراد کی حراست، اور «مجرمانہ پس منظر» رکھنے والے تقریباً پچاس افراد کو پکڑنے کا ذکر تھا۔ انڈیا ٹوڈے نے دوپہر تک تقریباً چار سو، اور انڈین ایکسپریس نے رات بھر میں کم از کم بارہ سو حراستیں بتائیں؛ سی جے پی کا دعویٰ ہزاروں کا ہے۔ تعینات اہلکاروں کی تعداد رپورٹوں میں پچیس سے پینتیس ہزار تک ہے۔ اور ایک حقیقت ان سب اعداد پر بھاری ہے: سہ پہر تک کسی ایک شخص کی بھی باقاعدہ گرفتاری یا اس کے خلاف فردِ جرم کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی، اور نہ کسی رہائی کی۔ یہ سب حراستیں ہیں: وہ حالت جس میں آدمی آزاد بھی نہیں اور ملزم بھی نہیں۔ جو قلم انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، اسے لفظوں کے معاملے میں خود منصف ہونا پڑتا ہے۔
احتجاج کا محرک ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی سے متعلق الزامات ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بی جے پی اور الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، اور کمیشن کا کہنا ہے کہ مسودے کے مرحلے میں جن ناموں پر سوال اٹھا، ان کی درستی ممکن ہے۔
ووٹر فہرست کاغذ کا ایک صفحہ نہیں؛ یہ وہ دروازہ ہے جس سے عام شہری ریاست کی فیصلہ ساز دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اس میں نام ہونا جمہوریت میں موجود ہونا ہے۔ جب کسی کو اس دروازے پر شک ہو، اور وہ اپنا شک ظاہر کرنے کے لیے شہر کے چوراہے تک بھی نہ پہنچ سکے، تو مسئلہ دُہرا ہو جاتا ہے: ایک دروازہ مشکوک دکھائی دیتا ہے اور دوسرا بند۔ یہ تنازع دراصل فہرستوں کا نہیں، اعتماد کا ہے؛ اور اعتماد ثبوت سے کم اور تجربے سے زیادہ بنتا ہے۔
حکومت کا خوف
انڈین ایکسپریس کے مطابق مرکزی داخلہ سکریٹری نے ۴ اکتوبر کو ریاستوں کے پولیس سربراہوں سے ملاقات کی، اور حکام سے کہا گیا کہ نوٹس جاری کریں، ضرورت ہو تو احتیاطی حراست سے کام لیں اور مظاہرین کی مالی معاونت کی جانچ کریں؛ وزارتِ داخلہ نے اخبار کو جواب نہیں دیا۔ اس سے یہ اخذ کرنا معقول ہے کہ حکومت کی فوری ترجیح ایک بڑے اجتماع کو بننے سے روکنا تھی۔ سیاسی بیانات بھی دو انتہاؤں پر کھڑے رہے: اروند کیجریوال نے صورت حال کو ایمرجنسی سے بدتر کہا، جبکہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے حزبِ اختلاف پر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ نیتوں پر فیصلہ صادر کرنا اس مضمون کا منصب نہیں؛ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اس احتجاج کے بارے میں کسی ذاتی منصوبے کا کوئی عوامی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ریاست کی دلیل کو ہلکا سمجھنا بھی دیانت داری نہیں۔ اس دن میٹرو پر پابندیاں لگیں، ٹرینیں منسوخ ہوئیں، سڑکوں کا رخ موڑا گیا اور کناٹ پلیس کے اطراف دکانیں احتیاطاً بند رہیں۔ جس دکان دار کا شٹر دن بھر نیچے رہا، اس کا نقصان بھی اسی دن کی تاریخ ہے۔ ہمارا آئین اسی توازن کی کتاب ہے: دفعہ ۱۹ پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتی ہے، اور اسی دفعہ کی ایک شق عوامی نظم کے مفاد میں معقول پابندی کی گنجائش رکھتی ہے۔ سوال پابندی کے جواز کا نہیں، اس کے تناسب کا ہے۔
اور تناسب ہی وہ مقام ہے جہاں منطق کی سرحد ختم ہو کر خوف کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ احتیاطی حراست کا ایک اثر کیمرے میں قید ہو جاتا ہے: بسیں، اسٹیڈیم، رکاوٹیں۔ دوسرا اثر تصویر میں نہیں آتا۔ جس شہری نے کبھی کسی جلسے میں جانے کا ارادہ کیا تھا، وہ آج کی خبریں پڑھ کر دل ہی دل میں حساب لگاتا ہے: اگر میں بھی ٹرین میں روک لیا گیا تو؟ پابندی چند لوگوں پر لگتی ہے، جھجک ہزاروں کے دلوں میں اترتی ہے۔ مگر ڈر سیدھی لکیر پر نہیں چلتا۔ اگست ۲۰۱۱ء میں انا ہزارے کو انشن سے پہلے ہی حراست میں لیا گیا، اور اس اقدام نے تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید بھڑکا دیا۔ ڈر اپنا نتیجہ خود طے کرتا ہے، منصوبہ ساز کی مرضی سے نہیں۔
جنتر منتر کی اپنی تاریخ اس بحث کا بہترین حوالہ ہے۔ ۲۰۱۷ء میں نیشنل گرین ٹریبونل نے یہاں مظاہروں پر روک لگائی تھی؛ ۲۰۱۸ء میں سپریم کورٹ نے مکمل پابندی کو ناقابلِ قبول قرار دے کر ضابطے کے تحت احتجاج کے رہنما اصول بنانے کی ہدایت دی۔ یعنی عدالت وہ میزان پہلے ہی قائم کر چکی ہے جس کی آج پھر ضرورت ہے: نہ بے لگام ہجوم، نہ مکمل خاموشی؛ بلکہ ضابطے کے ساتھ آواز۔
ایک ورق زیادہ تلخ ہے۔ ۱۹۷۶ء میں ایمرجنسی کے دوران اے ڈی ایم جبل پور مقدمے میں سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے خلاف حبسِ بیجا کا راستہ بھی بند قرار دیا تھا؛ ۲۰۱۷ء میں نو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ رد کر دیا۔ آج کو ایمرجنسی سے تشبیہ دینا، جیسا کہ بعض رہنماؤں نے کیا، مبالغہ ہوگا؛ مگر وہی رٹ جو کبھی بے اثر قرار پائی تھی، آج اٹارسی کے طلبہ کی واپسی کا وسیلہ ہے۔ اقتدار بدلتے رہے، عدالت کا یہ دروازہ بالآخر کھلا رہا۔ ادارے یادداشت رکھتے ہیں؛ قوموں کو بھی رکھنی چاہیے۔ جو طالب علم صرف حق یاد کرے، وہ ضدی شہری بنتا ہے؛ جو صرف پابندی یاد کرے، وہ خاموش رعیت۔
اٹارسی کے چودہ طلبہ اس کہانی کا سب سے نازک موڑ ہیں۔ نوجوان کتابوں سے کم اور تجربوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ وہ اس سفر سے کیا سبق لے کر لوٹیں گے: یہ کہ ریاست شہری کے راستے کی رکاوٹ ہے، یا یہ کہ جب راستہ روکا جائے تو عدالت کا دروازہ کھلا رہتا ہے؟ اسی لیے شہریت کی تعلیم کو رٹنے سے نکال کر مکالمے میں لانا ہوگا، جہاں ایک ہی واقعہ مظاہرین کی نظر سے بھی دیکھا جائے اور اس سپاہی کی نظر سے بھی جو دھوپ میں ناکے پر کھڑا ہے؛ وہ بھی کسی کا بیٹا اور اسی ملک کا شہری ہے۔ جو قوم کلاس روم میں اختلاف کرنا نہیں سیکھتی، وہ سڑک پر سیکھتی ہے، اور سڑک کا نصاب کہیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
اگر کم مدت کی اطلاع انکار کی وجہ ہے تو احتجاج کی درخواست کی ایک مقررہ مدت ہو، انکار تحریری وجوہ کے ساتھ ہو اور اس کے خلاف فوری اپیل ممکن ہو۔ جسے روکا جائے اسے وجہ معلوم ہو، اور پولیس خود باضابطہ تعداد جاری کرے؛ جہاں سرکاری عدد نہ ہو، وہاں افواہ اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ نشان زدہ نام درست کیے جا سکتے ہیں؛ تو یہ عمل اتنا سادہ ہو کہ دور دراز گاؤں کا شہری بھی کسی سفارش کے بغیر اپنا نام درست کرا سکے، کیونکہ احتجاج کا سب سے مؤثر جواب ایک ایسا دروازہ ہے جو واقعی کھلتا ہو۔ تحریک کی سب سے بڑی طاقت اس کا ضبط ہے، اور صحافت کی امانت یہ کہ ہر عدد کے ساتھ اس کی تعریف اور ہر الزام کے ساتھ اس کا منبع ہو۔
عنوان کے شعر کسی ایک حکمران کے نام نہیں؛ یہ ہر اس اقتدار کے نام ہیں جو اپنی حفاظت کے لیے سپاہیوں کی قطاروں کو کافی سمجھ بیٹھے۔ تاریخ کے قبرستان ایسے حکمرانوں سے بھرے پڑے ہیں جن کے گرد ہمیشہ پہرا رہا، جن کے ایک اشارے پر راستے بند اور شہر خاموش ہو جاتے تھے۔ ان کی فوجیں آخر تک ان کے ساتھ رہیں، مگر وقت ان کے ساتھ نہ رہا۔ پہرے دار دروازے پر کھڑے رہ گئے اور سانس اندر ہی اندر ہار گئی۔
جب ایک شہر کی گلیوں میں دسیوں ہزار وردی پوش اس لیے کھڑے کیے جائیں کہ شہری ایک چوراہے تک نہ پہنچ سکیں، اور اس چوراہے کے گرد چار کلومیٹر تک انٹرنیٹ کی سانس بھی روک دی جائے، تو اقتدار کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ یہ طاقت کا مظاہرہ ہے یا خوف کا اعتراف۔ جو ریاست اپنے شہری کی آواز سے گھبرائے، وہ دراصل اپنی کمزوری کا اعلان کرتی ہے۔ رکاوٹیں سڑک روک سکتی ہیں، سوال نہیں؛ بسیں جسموں کو لے جا سکتی ہیں، شک کو نہیں؛ اور حراستی مرکز آدمی کو بٹھا سکتا ہے، اس کے دل میں اٹھا ہوا سوال نہیں بٹھا سکتا۔
اس لیے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہر شخص کو، خواہ وہ کسی بھی جماعت کا ہو، یہ بات صاف لفظوں میں سن لینی چاہیے: کرسی امانت ہے، ملکیت نہیں۔ ووٹر فہرست میں شہری کا نام اس کا حق ہے، کسی کی عنایت نہیں۔ جمع ہونے کا حق آئین نے دیا ہے، کسی تھانے نے نہیں۔ جو اقتدار یہ بھول جائے کہ وہ عوام کے ووٹ سے آیا ہے اور اسی ووٹ سے جا سکتا ہے، وہ اسی فریب میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کا نوحہ عنوان کے شعروں میں ہے: خود کو ناگزیر، ناقابلِ سوال، بلکہ خدا سمجھ لینے کا فریب۔ کُن فیکُوں کا دعویٰ کسی انسان کے منہ پر کبھی نہیں جچا، اور جس نے بھی یہ دعویٰ کیا، تاریخ نے اسے اس کے اصل قد کی ایک قبر دے دی۔ یہی تنبیہ ہر اس تحریک کے لیے بھی ہے جو کل خود اقتدار میں آئے؛ کیونکہ تکبر کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، کرسی کی پرانی بیماری ہے۔
جنتر منتر کا سب سے بڑا آلہ، سمراٹ ینتر، ایک دیو قامت دھوپ گھڑی ہے۔ وہ کچھ نہیں بولتا؛ بس سورج کی روشنی میں اپنا سایہ ڈالتا ہے، اور اسی سائے سے وقت پہچانا جاتا ہے۔ جس بادشاہ نے اسے بنوایا، وہ سانسوں کی جنگ کب کی ہار چکا؛ گھڑی آج بھی وقت بتا رہی ہے۔ شاید یہی اس پتھر کا سب سے بڑا سبق ہے: اقتدار گزر جاتا ہے، وقت باقی رہتا ہے۔
۱۰ اکتوبر کی دوپہر اس پتھریلی گھڑی کے آس پاس رکاوٹوں کے سائے زیادہ تھے اور آدمی کم؛ اور جو آدمی تھے، ان میں سے بہت سے بسوں میں تھے۔ اعداد پر بحث جاری رہے گی اور حراستوں کے جواز پر عدالتیں رائے دیں گی۔ مگر ایک سوال اس سب کے بعد بھی باقی رہے گا، اور وہ ہم سب سے ہے: ہم اپنے بچوں کو کیسا ملک ورثے میں دینا چاہتے ہیں؟ ایسا جس میں شہری کا اختلاف خطرے کی گھنٹی ہو، یا ایسا جس میں وہ ریاست کی صحت کی نبض سمجھا جائے؟ جس دن ہم مان لیں گے کہ نبض دبانے سے بخار نہیں اترتا، اس دن جنتر منتر کو کسی کو روکنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وہ پھر وہی بن جائے گا جس کے لیے بنا تھا: ایک ایسی جگہ جہاں انسان سر اٹھا کر دیکھتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے