कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انوارِ حرم زائرانِ حرم کے لیے ایک قیمتی سوغات

رشحات قلم حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپور

تبصرہ نگار :محمد عادل ارریاوی
صفحات ۲۶۶
سنِ اشاعت ۲۰۲۶ء
ناشر مکتبۃ الانور دیوبند

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ
ترجمہ اور اللہ کی رضا جوئی کیلئے حج اور عمرہ (کے ارکان و مناسک) پوری طرح ادا کیا کرو۔ (البقرۃ: ۱۹۶)
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اس عظیم عبادت کی ادائیگی اور بیت اللہ شریف کی حاضری کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح بے شمار مسلمان عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ یہ سفر ہر مسلمان کے لیے بڑی سعادت اور خوش نصیبی کا باعث ہے لیکن اس مبارک سفر کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ اس کے ضروری مسائل مناسک اور آداب سے واقفیت بھی نہایت اہم ہے۔
افسوس کہ بعض حضرات حج و عمرہ کا ارادہ تو کرلیتے ہیں لیکن سفر سے پہلے اس کے ضروری مسائل سیکھنے اور مناسک کی ادائیگی کا طریقہ سمجھنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ نتیجتاً دورانِ سفر انہیں مختلف الجھنوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالاں کہ جس طرح دوسری عبادات کی درست ادائیگی کے لیے ان کے ضروری مسائل کا علم اہم ہے اسی طرح حج و عمرہ جیسی عظیم عبادات کے احکام و مناسک سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ایسی کتابوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو عازمینِ حج و عمرہ کو آسان انداز میں دینی اور عملی رہنمائی فراہم کریں۔
اسی سلسلے کی ایک مفید اور قابلِ مطالعہ کتاب انوارِ حرم ہے جسے حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب نے تصنیف کیا ہے۔ ۲۶۶ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ۲۰۲۶ء میں مکتبۃ الانور، دیوبند سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے حج و عمرہ کے ضروری امور ہی کو موضوع نہیں بنایا بلکہ سفر کی تیاری دورانِ سفر پیش آنے والے حالات حرمین شریفین کی حاضری وہاں کے شب و روز اور اپنے تجربات و مشاہدات کو بھی تحریر کا حصہ بنایا ہے۔
چند دن قبل میرا مظاہر علوم سہارنپور کا سفر ہوا۔ اس دوران حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضری ہوئی اور ایک نہایت علمی و یادگار ملاقات رہی۔ اسی ملاقات کے دوران حضرت مفتی صاحب نے اپنی کتاب انوارِ حرم بطورِ یادگار مجھے ہدیہ فرمائی۔ یہ میرے لیے ایک قیمتی علمی تحفہ تھا۔ حضرت کا یہ لطف و کرم میرے لیے باعثِ مسرت بھی تھا اور اس کتاب کے مطالعے کا ایک خوب صورت ذریعہ بھی بنا۔
حضرت مفتی صاحب کو اللہ رب العزت نے حرمین شریفین کی حاضری کا موقع عطا فرمایا تو آپ نے اپنے اس مبارک سفر کے تجربات مشاہدات اور ضروری معلومات کو قلم بند کرنے کی کوشش کی تاکہ دوسرے حضرات بھی ان سے فائدہ اٹھاسکیں۔ بلاشبہ اپنے تجربات و مشاہدات کو تحریر کی شکل میں دوسروں تک پہنچانا ایک قابلِ قدر علمی خدمت ہے خصوصاً جب ان کا تعلق ایسے مبارک سفر سے ہو جس کی سعادت حاصل کرنے کی تمنا ہر مسلمان اپنے دل میں رکھتا ہے۔
کتاب کی فہرستِ مضامین پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے موضوع کو صرف مناسکِ حج و عمرہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ سفر کے مختلف مراحل اور زائرین کی عملی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ کتاب میں عمرہ کی تیاری عمرہ کا آسان طریقہ سفر سے پہلے کی ضروری باتیں ہوائی جہاز کے سفر کے آداب ایئرپورٹ کے حالات احرام سے متعلق رہنمائی اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں قیام کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آبِ زمزم حرمین شریفین کی زیارت گاہوں مسجد نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی حاضری اور دیگر متعلقہ موضوعات پر بھی متعدد مضامین شامل ہیں۔
کتاب کی فہرست میں شامل مختلف عنوانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے زائرین کی عام غلطیوں اور بعض غیرمناسب رویوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔ حج و عمرہ کا سفر صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ یہ عبادت نظم و ضبط صبر برداشت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ایسے سفر میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے واقفیت بھی بہت سی دشواریوں سے بچا سکتی ہے۔ اس لیے سفر کے آداب ضروری احتیاطوں اور وہاں کے ماحول سے متعلق رہنمائی کو کتاب میں جگہ دینا یقیناً مفید ہے۔
بالخصوص وہ حضرات جو پہلی مرتبہ حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں ان کے لیے اس نوعیت کی کتاب کا مطالعہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک نئے مسافر کو بسا اوقات یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سفر سے پہلے کن امور کی تیاری کرنی چاہیے ہوائی جہاز کے سفر میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور حرمین شریفین پہنچ کر کن آداب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر وہ پہلے سے ان امور سے واقف ہوجائے تو اس کے لیے سفر کی تیاری نسبتاً آسان ہوسکتی ہے اور دورانِ سفر پیش آنے والی بعض الجھنوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انوارِ حرم کی ایک نمایاں جہت مصنف کے تجربات و مشاہدات بھی ہیں۔ عام طور پر لوگ سفر کرتے ہیں مختلف حالات سے گزرتے ہیں اور بہت سی مفید باتیں سیکھتے ہیں لیکن ہر شخص اپنے حاصل شدہ تجربات کو قلم بند نہیں کرتا۔ حالاں کہ جب کسی کا تجربہ تحریر کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بن جاتا ہے۔ خصوصاً سفرِ حرمین جیسے مبارک سفر کے تجربات اگر تحریر کے ذریعے محفوظ کردیے جائیں تو آئندہ سفر کرنے والے حضرات ان سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کی یہ کاوش اسی اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے کہ آپ نے اپنے مشاہدات اور ضروری معلومات کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
ویسے تو اسی دن کتاب کے کچھ حصے پڑھے تھے لیکن بعض مشاغل کی وجہ سے اسے مکمل نہیں کرسکا تھا۔ تاہم آج ۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز جمعہ الحمدللہ اس کتاب کا مطالعہ مکمل ہوا۔ کتاب کو اول تا آخر لفظ بہ لفظ پڑھا۔ پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ کتاب مکمل ہوگئی۔ مطالعے کے دوران کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوا جیسے میں خود حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہورہا ہوں مختلف مراحل سے گزر رہا ہوں اور وہاں کے حالات و واقعات کو قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ مصنف نے جس انداز میں سفر کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے اس سے قاری کے سامنے اس مبارک سفر کی ایک واضح تصویر ابھرنے لگتی ہے۔
کتاب مکمل ہوئی تو دل سے حضرت مفتی صاحب کے لیے ڈھیروں دعائیں نکلیں۔ اس لیے کہ آپ نے اپنے تجربات و مشاہدات کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں تحریر کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ میری نظر میں یہی ایک صاحبِ قلم کی اہم ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے علم تجربے اور مشاہدے سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے اور ایسی باتیں محفوظ کردے جو مستقبل میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔
میرا ماننا ہے کہ ہر اس شخص کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو حج یا عمرہ کے سفر کا ارادہ رکھتا ہو۔ اگر کوئی شخص روانگی سے پہلے اس کتاب کو توجہ کے ساتھ پڑھ لے تو سفر کے مختلف مراحل اور ضروری امور سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے۔ بالخصوص پہلی مرتبہ حرمین شریفین جانے والے حضرات کے لیے یہ کتاب مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ البتہ حج و عمرہ کے کسی مخصوص شرعی مسئلے یا پیچیدہ صورتِ حال میں مستند اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ ایک صاحبِ علم بہترین قلم کار عمدہ نثر نگار اور صاحبِ تصنیف شخصیت ہیں۔ اصلاحی فکری اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق آپ کے مضامین پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں جنہیں ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ہند کے مختلف رسائل و جرائد میں بھی جگہ ملتی ہے۔ آپ کے مضامین سے شائقینِ علم و ادب استفادہ کرتے ہیں اور آپ کی تحریریں مختلف موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
راقم الحروف بھی ایک عرصے سے حضرت مفتی صاحب سے متاثر ہے اور ہمیشہ آپ کے مضامین پڑھتا رہتا ہے۔ آپ کی تحریروں سے استفادہ کرکے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ انوارِ حرم کے مطالعے نے بھی مجھے خوشی دی اور اس حقیقت کا احساس مزید گہرا کیا کہ اپنے تجربات و مشاہدات کو دوسروں کے فائدے کے لیے قلم بند کرنا بھی ایک اہم علمی و دینی خدمت ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی اس علمی و دینی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اس کتاب کو حجاج و معتمرین کے لیے نافع بنائے حضرت کو اجرِ عظیم سے نوازے عمر دراز کرے صحت و عافیت کے ساتھ ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ اللہ ربّ العزت اس کتاب کو مصنف کے لیے صدقۂ جاریہ اور حرمین شریفین کا سفر کرنے والے مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے