कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمانوں کی حالتِ زار اوقاف کی اربوں کی جائیداد اور تعلیم کا بحران

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو بیڑ،مہاراشٹر

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً بیس کروڑ ہے، یعنی ملک کی کل آبادی کا چودہ سے پندرہ فیصد۔ اتنی بڑی آبادی کے پاس اوقاف کی شکل میں ایک ایسا سرمایہ موجود ہے جو شاید دنیا کی کسی اقلیت کے پاس نہیں۔ مسجدیں، مدرسے، قبرستان، درگاہیں، یتیم خانے، دکانیں، زرعی زمینیں اور شہروں کے قیمتی پلاٹ، سب وقف کی ملکیت ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی، معاشی اور سماجی اعتبار سے ملک کے پسماندہ ترین طبقوں میں شمار ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب اتنی جائیداد موجود ہے تو اس کا فائدہ قوم کے بچوں تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے اور کون استعمال کر رہا ہے؟ یہ مضمون اسی سوال کا جائزہ لینے کی کوشش ہے۔وقف کیا ہے اور اس کا مقصد کیا تھا؟وقف کا مطلب ہے کسی جائیداد کو اللہ کی ملکیت میں دے دینا تاکہ اس کی آمدنی ہمیشہ نیک اور فلاحی کاموں پر خرچ ہوتی رہے۔ وقف کرنے والا (واقف) اس جائیداد سے اپنی ملکیت ختم کر دیتا ہے۔ نہ اسے بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔اسلامی تاریخ میں وقف نے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود میں بنیادی کردار ادا کیا۔ قرطبہ، بغداد اور قاہرہ کی عظیم درس گاہیں، شفاخانے اور کتب خانے اوقاف ہی کے سہارے چلتے تھے۔ ہندوستان میں بھی صدیوں تک مسلمان حکمرانوں، امرا اور عام لوگوں نے مدارس، مساجد اور خیراتی اداروں کے لیے بے شمار جائیدادیں وقف کیں۔ واقفین کی نیت یہ تھی کہ ان کی آنے والی نسلوں کے غریب، یتیم اور طالب علم اس سے فیض پائیں۔اعداد و شمار کتنی جائیداد، کتنی آمدنی؟مرکزی وقف بورڈ کے ڈیجیٹل ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں آٹھ لاکھ سے زیادہ وقف جائیدادیں رجسٹرڈ ہیں جو تقریباً نو لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلی ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان کی مجموعی مالیت لاکھوں کروڑ روپے بنتی ہے۔ ریلوے اور محکمۂ دفاع کے بعد وقف بورڈ کو ملک میں سب سے زیادہ زمین کا مالک سمجھا جاتا ہے۔اب اس کا موازنہ آمدنی سے کیجیے۔ 2006 کی سچر کمیٹی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت اوقاف سے سالانہ آمدنی محض ایک سو ساٹھ کروڑ روپے کے آس پاس تھی، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر یہی جائیدادیں بازار کی شرح پر اور ایمانداری سے استعمال ہوتیں تو سالانہ بارہ ہزار کروڑ روپے تک آمدنی ممکن تھی۔ یعنی حقیقی آمدنی ممکنہ آمدنی کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ تھی۔ اتنا بڑا فرق صرف کمزور انتظام کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے پیچھے بدعنوانی، ناجائز قبضے اور بدانتظامی کی ایک طویل داستان ہے۔ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
1۔ ناجائز قبضےوقف جائیدادوں کا سب سے بڑا مسئلہ قبضہ ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے ایسی شکایات مسلسل آتی رہی ہیں کہ وقف زمینوں پر ہزاروں مکانات، دکانیں اور تجارتی عمارتیں کھڑی ہیں۔ اس میں عام لوگوں کے ساتھ بااثر سیاست دان، بلڈر اور بعض سرکاری ادارے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی اور سچر کمیٹی دونوں نے قبضوں کی نشاندہی کی تھی۔ جب تک جائیداد قبضے میں ہے، اس سے ایک روپیہ بھی قوم کے کام نہیں آ سکتا۔
2۔ انتہائی کم کرائے پر طویل پٹے بہت سی قیمتی جائیدادیں دہائیوں پرانے معاہدوں پر چل رہی ہیں۔ کہیں شہر کے مرکزی بازار کی دکان کا کرایہ آج بھی چند سو روپے ماہانہ ہے، حالانکہ بازار میں اسی جگہ کا کرایہ دسیوں ہزار ہو سکتا ہے۔ بعض جگہ مبینہ طور پر کرایہ داروں اور وقف کے ذمہ داروں کی ملی بھگت سے جائیدادیں اونے پونے داموں دی گئیں، اور فرق ذاتی جیبوں میں گیا۔
3۔ متولیوں اور بورڈ کے ذمہ داروں کی بدعنوانی ہر وقف کا ایک متولی ہوتا ہے جو اس کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔ مثالی طور پر وہ امین ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے کئی مقامات پر متولی مالک بن بیٹھے ہیں۔ آمدنی کا حساب نہیں دیا جاتا، آڈٹ نہیں ہوتا اور خاندانی جاگیر کی طرح وقف کو چلایا جاتا ہے۔ ریاستی وقف بورڈوں میں بھی مختلف اوقات میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، اور کئی ریاستوں میں جانچ ایجنسیوں نے تحقیقات کی ہیں۔ یہ بات منصفانہ نہیں کہ ہر متولی کو بدعنوان کہا جائے، بہت سے لوگ دیانت داری سے خدمت کر رہے ہیں، لیکن نظام میں نگرانی اتنی کمزور ہے کہ بدنیتی کو روکنا مشکل ہے۔
4۔ غیر قانونی فروخت شریعت اور قانون دونوں کے مطابق وقف کی جائیداد فروخت نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود جعلی کاغذات، بدلے ہوئے ریکارڈ اور کمزور نگرانی کے سہارے کئی جائیدادیں بیچی جا چکی ہیں۔ سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں ایسے مقدمات برسوں سے زیر سماعت ہیں۔
5۔ ریکارڈ کی کمزوری بہت سی جائیدادوں کا ریکارڈ ہی مکمل نہیں۔ کہیں سروے نہیں ہوا، کہیں نقشے موجود نہیں، اور کہیں ملکیت کے کاغذات ضائع ہو چکے ہیں۔ ایسے میں جائیداد پر دعویٰ کرنا اور اسے واپس لینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل رجسٹری اور جی پی ایس نقشہ بندی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
6۔ مقدمہ بازی ہزاروں وقف مقدمات عدالتوں اور وقف ٹریبونلوں میں برسوں سے زیر التوا ہیں۔ ہر مقدمے پر وکیلوں کی فیس اور وقت کا خرچ آتا ہے، اور بعض اوقات مقدمے کی لاگت جائیداد کی آمدنی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔تعلیم کی صورتِ حالاب دوسرا رخ دیکھیے۔ سچر کمیٹی کے مطابق مسلمانوں کی شرحِ خواندگی اور اسکول میں داخلے کی شرح قومی اوسط سے کم تھی، اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے بہت پیچھے تھی۔ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (AISHE) کے حالیہ اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کا حصہ تقریباً پانچ فیصد کے آس پاس ہے، جبکہ آبادی میں ان کا حصہ اس سے تین گنا کے قریب ہے۔اس کی وجوہات متعدد ہیں:غربت بہت سے خاندان بچوں کو کم عمری میں کام پر لگا دیتے ہیں، جس سے تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔اسکولوں کی کمی: مسلم اکثریتی علاقوں میں معیاری سرکاری اسکول، کالج اور ہاسٹل کم ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم: سماجی دباؤ، فاصلے اور سہولتوں کی کمی لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔اسکالرشپ میں کمی: اقلیتی طلبہ کے لیے بعض وظائف میں حالیہ برسوں میں کٹوتی یا خاتمے کی خبریں آئی ہیں، جیسے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کا بند ہونا اور پری میٹرک اسکالرشپ کا محدود کیا جانا۔ اس سے غریب طلبہ پر براہ راست اثر پڑا۔معیارِ تعلیم: بہت سے مسلم محلوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے اسکول بند ہو رہے ہیں یا اساتذہ سے خالی ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف قوم کا بچہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے اسکول چھوڑ رہا ہے، اور دوسری طرف اسی قوم کے نام پر وقف کی اربوں کی جائیداد خالی پڑی ہے یا غیروں کے قبضے میں ہے۔ یہ تضاد ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔اگر وقف کا درست استعمال ہوتا تو؟ذرا تصور کیجیے کہ اگر وقف کی آمدنی کو شفاف اور پیشہ ورانہ طریقے سے استعمال کیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے ہر ضلع میں ایک جدید معیاری اسکول اور کالج قائم ہو سکتا ہے۔غریب اور ہونہار طلبہ کے لیے بڑے پیمانے پر وظائف دیے جا سکتے ہیں۔لڑکیوں کے لیے محفوظ ہاسٹل اور مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام ہو سکتا ہے۔مسابقتی امتحانات (UPSC، NEET، JEE) کی مفت کوچنگ ممکن ہے۔اسپتال، ڈائیلاسس سینٹر اور فری ڈسپنسریاں کھولی جا سکتی ہیں۔ہنر مندی کے مراکز اور بلا سود قرض کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔یہ کوئی خیالی باتیں نہیں۔ ملک کے بعض مقامات پر وقف جائیدادوں سے تعلیمی ادارے اور اسپتال کامیابی سے چل رہے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ اگر نیت اور نظم ہو تو یہ ممکن ہے۔قانونی اصلاحات اور تنازع وقف کے نظام کو بہتر بنانے کی بات برسوں سے ہو رہی تھی۔ 1995 کے وقف ایکٹ میں مختلف ترامیم ہوئیں، اور 2025 میں حکومت نے وقف (ترمیمی) قانون منظور کیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس کا مقصد شفافیت لانا، ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانا، قبضوں کا حل نکالنا اور آمدنی کو غریب اور پسماندہ مسلمانوں تک پہنچانا ہے۔دوسری طرف مسلم تنظیموں، بہت سے قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ اور کونسل میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت مذہبی اداروں کی خودمختاری میں مداخلت ہے۔متنازع جائیدادوں کا فیصلہ کرنے میں سرکاری افسر کے اختیارات بڑھانے سے وقف کے دعوے کمزور ہو سکتے ہیں۔استعمال کی بنیاد پر وقف” (waqf by user) کے تصور میں تبدیلی سے قدیم مساجد اور قبرستانوں پر خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ بہت سی پرانی جائیدادوں کے تحریری کاغذات موجود ہی نہیں۔یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت نے سماعت کے بعد قانون کی بعض شقوں پر عبوری روک لگائی اور باقی قانون کو برقرار رکھا۔ مقدمہ اس وقت بھی عدالتی عمل میں ہے اور تازہ ترین صورتِ حال کے لیے معتبر خبروں کو دیکھتے رہنا چاہیے۔یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ قانونی تنازع اپنی جگہ، لیکن اصلاح کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اصلاح کون کرے، کس طریقے سے کرے، اور اس میں قوم کا اعتماد کتنا شامل ہو۔ اگر اصلاحات قوم کے اعتماد کے بغیر آئیں تو شک پیدا ہوتا ہے، اور اگر قوم خود اصلاح سے بھاگے تو بدعنوانی بڑھتی ہے۔ دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ خود مسلم سماج کی ذمہ داریالزام صرف حکومت یا نظام پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اپنا احتساب بھی ضروری ہے۔پہلی بات، وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں میں خود مسلمان بھی شامل ہیں۔ کئی جگہ قبرستان کی زمین، مسجد کی دکانیں اور مدرسے کی جائیدادیں اپنے ہی لوگوں نے ہتھیائی ہیں۔ جب تک ہم اس برائی کو برائی نہیں کہیں گے، کوئی قانون اسے نہیں روک سکتا۔دوسری بات، ہم میں سے بہت سے لوگ مسجد اور مدرسے کی آمدنی کا حساب مانگنے کو بے ادبی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ امانت کا حساب لینا دینی فریضہ ہے۔ ہر مسجد، مدرسے اور وقف کا سالانہ آڈٹ شدہ حساب سب کے سامنے آنا چاہیے۔تیسری بات، ہماری ترجیحات بھی بدلنی چاہئیں۔ ہم عالی شان مسجدیں، جلسے اور تقریبات پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں، لیکن قوم کے ہونہار طالب علم کی فیس کے لیے چندہ جمع کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مسجد کی تعمیر نیک کام ہے، مگر تعلیم اور صحت بھی اسی درجے کی عبادت اور خدمت ہے۔چوتھی بات، مدارس کی تعلیم کو عصری علوم سے جوڑنا ضروری ہے۔ دینی تعلیم کے ساتھ ریاضی، سائنس، انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم بچوں کو روزگار کے مواقع دیتی ہے۔ کئی مدارس نے یہ تجربہ کامیابی سے کیا ہے اور ان کے طلبہ اچھی ملازمتوں تک پہنچے ہیں۔عملی تجاویزتمام تر بحث کے بعد چند عملی اقدامات پیش ہیںمکمل ڈیجیٹل سروے: ہر ریاست میں تمام وقف جائیدادوں کی جی پی ایس نقشہ بندی اور آن لائن ریکارڈ، جو عوام کے لیے کھلا ہو۔آمدنی کا شفاف حساب ہر وقف کا سالانہ آڈٹ اور اس کی رپورٹ عوامی طور پر دستیاب ہو۔بازار کی شرح پر کرایہ: پرانے کرایہ داروں سے معقول اور منصفانہ نئے معاہدے کیے جائیں، اور غریب کرایہ داروں کے ساتھ انصاف کا لحاظ بھی رکھا جائے۔قبضوں کے لیے تیز عدالتی نظام وقف مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں اور وقت کی حد مقرر ہو۔تعلیم کے لیے لازمی حصہ آمدنی کا ایک مقررہ فیصد تعلیم، وظائف اور صحت پر خرچ کرنے کا نظام بنایا جائے۔ماہرین کی شمولیت وقف کے انتظام میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، وکلا، تعلیمی ماہرین اور ریئل اسٹیٹ پیشہ ور افراد شامل ہوں۔عوامی نگرانی مقامی کمیٹیاں بنیں جہاں محلے کے لوگ اپنے علاقے کی وقف جائیداد کا حساب دیکھ سکیں۔نوجوانوں کی شرکت تعلیم یافتہ مسلم نوجوان وقف کے انتظام اور نگرانی میں آگے آئیں۔وقف کی جائیداد کسی فرد، کسی سیاسی جماعت یا کسی بورڈ کی ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ اللہ کی امانت اور قوم کے غریب، یتیم اور طالب علم کا حق ہے۔ جب یہ حق قبضے، بدعنوانی، غفلت اور مقدمے بازی کی نذر ہو جائے تو یہ صرف مالی نقصان نہیں رہتا، بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا نقصان بن جاتا ہے۔مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کے درست استعمال کی کمی ہے۔ اگر وقف کی آمدنی دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور شفافیت کے ساتھ تعلیم پر لگے تو چند ہی برسوں میں اس قوم کی تصویر بدل سکتی ہے۔ ضرورت ہے مضبوط ارادے، اجتماعی بیداری اور اپنے احتساب کی۔حکومت کو چاہیے کہ اصلاحات میں قوم کو اعتماد میں لے، اور قوم کو چاہیے کہ اپنے گھر کی صفائی خود کرے۔ جس دن مسجد کی دکان کا کرایہ مدرسے کے بچے کی کتاب پر لگنے لگا اور وقف کی زمین پر اسکول کی عمارت کھڑی ہوئی، اسی دن واقفین کی روح کو سکون ملے گا اور قوم کو حقیقی ترقی کا راستہ ملے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے