कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عدل، انسانی وقار اور امیدِ مؤمن

Justice, Human Dignity, and the Believer’s Hope

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر دور میں نظریات، تہذیبیں اور نظامِ ہائے حکومت اپنے اپنے تصوراتِ عدل، آزادی اور انسانی حقوق کے ساتھ سامنے آتے رہے ہیں۔ کوئی بھی نظام صرف اپنے دعوؤں سے نہیں بلکہ اپنے عملی نتائج سے جانا جاتا ہے۔ اسی لیے دانش وروں نے ہمیشہ یہ اصول بیان کیا ہے کہ کسی بھی فکر یا نظام کا صحیح جائزہ اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کی عملی صورت، انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی، انسانی وقار کے تحفّظ اور کمزور طبقات کے ساتھ اس کے برتاؤ کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
اسلام کا تصورِ عدل کسی مخصوص قوم، مذہب یا جغرافیے تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک آفاقی اور دائمی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید نے عدل کو نہ صرف ایک قانونی تقاضا بلکہ تقویٰ کے قریب ترین وصف قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدہ: 8)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ (النحل: 90)۔ یہ قرآنی ہدایات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ اسلام میں عدل کسی سیاسی مصلحت، وقتی ضرورت یا اقتدار کے تقاضے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا ابدی اخلاقی اور الٰہی اصول ہے جو فرد کے کردار، معاشرے کے اجتماعی رویّوں اور ریاست کے نظم و نسق، سب پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اسلام میں عدل کو صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے انسانی وقار، اجتماعی امن، باہمی اعتماد اور پائیدار سماجی استحکام کی بنیادی اساس قرار دیا گیا ہے۔
گزشتہ دو صدیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایک ایسا فکری بیانیہ بھی تشکیل دیا گیا جس میں اسلامی قوانین، خصوصاً اسلامی تعزیرات، کو اکثر "وحشیانہ” یا "غیر انسانی” قرار دے کر پیش کیا گیا۔ اس کے برعکس جدید جمہوری نظام کو آزادی، مساوات، انسانی حقوق اور انصاف کی مکمل ضمانت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس بیانیے نے بہت سے ذہنوں کو متاثر کیا اور یہ تاثر پیدا کیا کہ گویا عدل اور انسانیت کا حقیقی مرکز صرف جدید سیاسی نظام ہی ہے، جب کہ مذہبی قانون لازماً سختی اور جبر کی علامت ہے۔ تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دعوے کو اس کی عملی صورت میں بھی پرکھا جائے۔
اگر دنیا کے کسی بھی معاشرے میں آزادی کے دعوؤں کے باوجود ناانصافی موجود ہو، اگر قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ نہ ہو، اگر طاقتور قانون سے بالاتر دکھائی دیں اور کمزور انصاف کے حصول کے لیے در بدر ہوں، اگر انسانی وقار مجروح ہو یا معاشرتی و قانونی اداروں پر اعتماد کمزور پڑنے لگے، تو یہ کسی ایک قوم یا ایک نظام کی ناکامی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکر ہے۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی یا قانونی نظام کے عملی نقائص کو اس کے بنیادی نظریے کا لازمی نتیجہ قرار دینا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ بہت سے مسائل انسانی کمزوریوں، بدعنوانی، طاقت کے ناجائز استعمال، ادارہ جاتی کمزوری یا اخلاقی زوال سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے تنقید کا رخ افراد، پالیسیوں اور عملی رویّوں کی اصلاح کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ محض نعروں یا تعمیمات کی طرف۔
اسلام کا تصورِ عدل اس سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ اسے صرف تعزیری قوانین تک محدود کر دیا جائے۔ قرآنِ مجید میں عدل کو ایمان کے تقاضوں میں شمار کیا گیا ہے۔ عدل صرف عدالت کے فیصلے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی روح ہے جو ریاست، معیشت، خاندان، تعلیم، تجارت اور سماجی تعلقات سب پر محیط ہوتی ہے۔ اسلام ظلم کی ہر شکل کو مسترد کرتا ہے، خواہ وہ فرد کی طرف سے ہو، کسی ادارے کی طرف سے یا ریاست کی طرف سے۔ اسی لیے قرآن اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہیں، خواہ فیصلہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اسلامی قانون کے مقاصد بھی محض سزا دینا نہیں بلکہ معاشرے میں امن، انسانی جان، عزّت، مال، دین اور عقل کے تحفّظ کو یقینی بنانا ہیں۔ فقہِ اسلامی میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انصاف کے تقاضے، مضبوط شہادت، شفاف عدالتی عمل اور شبہات کی صورت میں احتیاط کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی قانون کا اصل مقصد انتقام نہیں بلکہ انصاف اور معاشرتی استحکام ہے۔ اسلامی تعزیرات کا اصل مقصد سزا دینا نہیں بلکہ جرم کو روکنا، معاشرے کو محفوظ بنانا اور انسانی جان، عزّت اور مال کا تحفّظ یقینی بنانا ہے۔ اسلامی فقہ میں سزا کے نفاذ سے پہلے جرم کے ثبوت، گواہی، عدالتی احتیاط، ملزم کے حقوق اور شبہات کے ازالے پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔ اسی لیے فقہاء نے یہ اصول بیان کیا کہ جہاں شبہ موجود ہو وہاں سخت سزاؤں کے نفاذ سے احتراز کیا جائے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں انصاف کو سزا پر فوقیت حاصل ہے۔
اسی اصول کو رسول اللہﷺ نے نہایت مؤثر انداز میں واضح فرمایا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز اور طاقتور شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور شخص یہی جرم کرتا تو اس پر سزا نافذ کرتے تھے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اسلام میں قانون کی بالادستی کا مطلب صرف قوانین کا وجود نہیں، بلکہ ان کا بلاامتیاز اور مساوی نفاذ ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ قانون کے سامنے نہ کوئی طاقتور خصوصی رعایت کا مستحق ہو اور نہ کوئی کمزور اپنے مقام یا حیثیت کی بنا پر ظلم کا نشانہ بنے۔ جب انصاف کا معیار افراد کی قوت، دولت یا منصب کے بجائے حق اور قانون بن جائے، تبھی ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں انسانی وقار محفوظ رہتا ہے اور عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر قائم ہوتا ہے۔
قانون کی بالادستی صرف یہ نہیں کہ قوانین موجود ہوں، بلکہ یہ ہے کہ وہ بلاامتیاز نافذ بھی ہوں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقت، دولت یا سیاسی حیثیت قانون کے نفاذ پر اثرانداز ہونے لگے، وہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ حقیقی قانون کی حکمرانی وہی ہے جہاں حکمران اور عام شہری ایک ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔ اسلامی تاریخ میں حضرت عمر بن خطابؓ کا دورِ خلافت عدل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ریاست کی طاقت کا اصل مقصد رعایا کی خدمت اور کمزور طبقے کا تحفظ تھا۔ ان کے متعدد فیصلے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ حکمران کے طرزِ عمل، معاشی پالیسی اور عوامی جواب دہی میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
اہلِ ایمان کا رویہ محض شکایت یا مایوسی کا نہیں ہوتا۔ قرآنِ کریم مؤمن کو صبر، حکمت، عدل اور اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، مگر حکمت، اخلاق، قانون اور امن کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرتا بلکہ اصلاح، خیر خواہی اور انسانیت کی بھلائی کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشروں میں پائیدار تبدیلی صرف سیاسی نعروں سے نہیں آتی بلکہ کردار کی تعمیر، علم کے فروغ، مضبوط اداروں، اخلاقی قیادت، دیانت دار احتساب اور اجتماعی شعور سے آتی ہے۔ جب افراد اپنے اندر انصاف، دیانت، رحم اور امانت پیدا کرتے ہیں تو انہی صفات کا عکس ریاستی اداروں میں بھی نظر آنے لگتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے فرد کی اصلاح کو اجتماعی اصلاح کی بنیاد قرار دیا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں انصاف صرف عدالتی فیصلوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ معاشی عدل بھی اس کا لازمی حصّہ ہے۔ جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں، یا تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع غیر مساوی تقسیم ہوں تو سماجی بے چینی بڑھتی ہے۔ اسلام زکوٰۃ، صدقات، وراثت اور معاشی دیانت کے ذریعے دولت کی منصفانہ گردش اور کمزور طبقات کے تحفّظ کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مؤمن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ اس کی امید کسی شخصیت، جماعت یا دنیاوی نظام سے بڑھ کر اللہ ربّ العالمین کی ذات سے وابستہ ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے، ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا، اور اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کی آہ اور ہر بے بس کی دعا سے باخبر ہے۔
قرآنِ مجید امید کا یہی ابدی پیغام دیتا ہے: "اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے صرف وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو انکار کرنے والے ہیں” (سورۂ یوسف: 87)۔ یہ آیت صرف تسلی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر عطا کرتی ہے۔ مؤمن مشکلات میں بھی امید رکھتا ہے، آزمائشوں میں بھی حق کا ساتھ دیتا ہے، اور اصلاح کی جدوجہد کو کبھی ترک نہیں کرتا۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اخلاص کے ساتھ کی جانے والی ہر نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف نئے نعروں یا نئے نظاموں کی نہیں بلکہ انصاف پر مبنی مضبوط اداروں، قانون کی غیر جانب دار حکمرانی، انسانی وقار کے حقیقی احترام، اخلاقی قیادت اور ایسے اجتماعی شعور کی ہے جو طاقت کے بجائے حق کو معیار بنائے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ایک پُرامن، باوقار اور مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔
اسلامی سیاسی و سماجی فکر کی روایت میں بھی عدل کو ریاست اور معاشرے کی بقاء کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنی مشہور تصنیف المقدمہ میں واضح کیا کہ ظلم کسی بھی ریاست کے زوال کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے، جب کہ انصاف ہی اس کے استحکام، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ امام شاطبی نے مقاصدِ شریعت کی تشریح کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ شریعت کے تمام احکام کا مقصد انسانی جان، دین، عقل، نسل اور مال کا تحفّظ اور اجتماعی خیر کا قیام ہے، جس کا مرکز عدل اور مصلحتِ عامہ ہے۔ برصغیر کے عظیم مصلح شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی اپنی تصانیف میں اس حقیقت پر زور دیا کہ ریاست کا حقیقی مقصد انسانوں کے درمیان عدل قائم کرنا، ظلم کا خاتمہ کرنا اور ایسے معاشرتی نظام کی تشکیل ہے جس میں اخلاق، انصاف اور عوامی فلاح ایک دوسرے کے معاون بن جائیں۔ ان مسلم مفکرین کی آراء اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ اسلام میں عدل محض ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ ایک جامع تہذیبی، اخلاقی اور ریاستی اصول ہے، جو ہر دور اور ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط ادارے بھی اس وقت کمزور پڑ جاتے ہیں جب قیادت اخلاقی دیانت سے محروم ہو جائے۔ انصاف صرف قوانین سے نہیں بلکہ ایسے انسانوں سے قائم ہوتا ہے جن کے دل میں خوفِ خدا، احساسِ جواب دہی اور خدمتِ خلق کا جذبہ موجود ہو۔ اسی لیے اسلام نے اقتدار سے پہلے کردار کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ آج کا سب سے بڑا چیلنج صرف یہ نہیں کہ کون سا نظام اختیار کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر نظام میں عدل، شفافیت، جواب دہی، انسانی وقار اور اخلاقی ذمّہ داری کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ جب تک معاشرے علم، دیانت، انصاف اور اخلاقی تربیت کو اپنی بنیاد نہیں بناتے، اس وقت تک محض آئینی یا سیاسی تبدیلیاں پائیدار نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔ حقیقی اصلاح کا آغاز انسان کے ضمیر سے ہوتا ہے، پھر خاندان، معاشرہ اور ریاست تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے ہر معاشرے میں عدل، امن، انصاف اور خیر کو فروغ دے، مظلوموں کی مدد فرمائے، ظالموں کو ظلم سے باز آنے کی توفیق دے، انسانوں کے دلوں میں رحم، انصاف اور تقویٰ پیدا کرے، اور ہمیں حق کو حکمت، علم، صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پیش کرنے اور اصلاحِ معاشرہ کی پُرامن جدوجہد جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے