कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ عظیم ہستی ﷺ جن کی آمد سے انسانیت کو زندگی ملی

تحریر:محمد عادل ارریاوی
12 ربیع الاول 1448ھ

جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی انسانیت اپنی منزل کھو چکی تھی اور دلوں پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے عین اسی وقت رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد نے کائنات کی تقدیر بدل دی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دلوں کو ایمان ملا زندگی کو مقصد ملا اور انسانیت کو وہ نور ملا جس کی روشنی قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت تاریخِ انسانی کا وہ عظیم ترین واقعہ ہے جس کا تذکرہ جتنا کیا جائے کم ہے۔
اللہ ربّ العزت نے دنیا میں جتنے بھی انبیاء مبعوث فرمائے ان کو کچھ نہ کچھ ایسی نشانیاں عطا فرمائیں جنہیں دیکھ کر لوگوں کو ان کی سچائی اور حقانیت کا یقین آجائے ۔ چنانچہ ان کے دست مبارک سے ایسے محیر العقول مناظر سامنے آئے کہ لوگ حیرت زدہ رہ گئے ۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام کے لیے آگ کا گل و گلزار ہو جانا سیدنا حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کا موم ہو جانا سید نا حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہواؤں اور جنات وغیرہ کا مسخر ہو جانا سیدنا حضرت موسی علیہ السلام کے عصائے مبارک کا اثر رہا بن جانا سیدنا حضرت صالح علیہ السلام کی دعا سے معجزاتی اونٹنی کا ظاہر ہونا اور سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ لاعلاج مریضوں کا شفایاب اور مردوں کا زندہ ہو جانا وغیرہ ایسے معجزات ہیں جن کی مثال پیش کرنے سے دنیا عاجز ہے۔
اسی دستور کے موافق ہمارے آقا و مولا حضرت خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ ربّ العزت نے بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ جو آپ کی رسالت کی سچائی اور حقانیت پر کھلی ہوئی دلیل ہیں۔ تاہم پچھلے انبیاء علیہم السلام کو جو بھی نشانیاں عطا فرمائی گئیں وہ صرف ان کی حیات دنیوی تک محدود تھیں ۔ جب وہ حضرات دنیا سے پردہ فرما گئے تو ان کے دست مبارک پر ظاہر ہونے والی نشانیاں بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئی لیکن ہمارے آقا سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے اللہ ربّ العزت نے آپ کو دونوں طرح کی نشانیاں عطا فرمائیں بہت سی نشانیاں ایسی تھیں جن کا صرف آپ کے دور میں پائے جانے والے خوش نصیب حضرات صحابہ نے مشاہدہ فرمایا۔ جب کہ بعض نشانیاں ایسی ہیں جو تا قیامت اسی آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ باقی اور برقرار رہیں گی اور ہر زمانے کے لوگ کھلی آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کرتے رہیں گے انہی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی اللہ ربّ العزت کی یہ پاک کتاب قرآن کریم ہے۔
اسی طرح ۱۲ ربیع الاول ہمارے معاشرے ہمارے ملک اور خاص کر بر صغیر میں باقاعدہ ایک جشن اور ایک تہوار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ جب ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو سارے ملک میں سیرت النبی اور میلاد النبی کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس کے برابر کوئی اور سعادت نہیں ہو سکتی۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آپ کے مبارک تذکرہ کو اس ماہ ربیع الاول کے ساتھ بلکہ صرف ۱۲ ربیع الاول کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ ۱۲ ربیع الاول کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ اس لئے آپ کا یوم ولادت منایا جائے گا۔ اور اس میں آپ کی سیرت اور ولادت کا بیان ہوگا۔
لیکن یہ سب کچھ کرتے وقت ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس ذات اقدس کی سیرت کا یہ بیان ہو رہا ہے اور جس ذات اقدس کی ولادت کا یہ جشن منایا جارہا ہے خود اس ذات اقدس کی تعلیم کیا ہے؟ اور اس تعلیم کے اندر اس قسم کا تصور موجود ہے یا نہیں؟
اس میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانا تاریخ انسانیت کا اتنا عظیم واقعہ ہے کہ اس سے زیادہ عظیم اس سے زیادہ پر مسرت اس سے زیادہ مبارک اور مقدس واقعہ اس روئے زمین پر پیش نہیں آیا انسانیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نور ملا آپ کی مقدس شخصیت کی برکات نصیب ہوئیں یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ تاریخ کا اور کوئی واقعہ اتنا بڑا نہیں ہو سکتا اور اگر اسلام میں کسی کے یوم پیدائش منانے کا کوئی تصور ہوتا تو سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش سے زیادہ کوئی دن اس بات کا مستحق نہیں تھا کہ اس کو منایا جائے اور اس کو عید قرار دیا جائے لیکن نبوت کے بعد آپ ۲۳ سال اس دنیا میں تشریف فرمار ہے اور ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا تھا لیکن نہ صرف یہ کہ آپ نے ۱۲ ربیع الاول کو یوم پیدائش نہیں منایا بلکہ آپ کے کسی صحابی کے خیال میں بھی یہ نہیں گزرا کہ ۱۲ ربیع الاول آپ کی پیدائش کا دن ہے۔ اس لئے اس کو کسی خاص طریقے سے منانا چاہئے۔
اس کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور تقریباً سوا لاکھ صحابہ کرام کو اس دنیا میں چھوڑ گئے وہ صحابہ کرام ایسے تھے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سانس کے بدلے اپنی پوری جان نچھاور کرنے کے لئے تیار تھے۔ آپ پر جان آپ پر فدا کار آپ کے عاشق زار تھے۔ لیکن کوئی ایک صحابی ایسا نہیں ملے گا جس نے اہتمام کر کے یہ دن منایا ہو یا اس دن کوئی جلسہ منعقد کیا ہو۔ یا کوئی جلوس نکالا ہو یا کوئی چراغاں کیا ہو یا کوئی جھنڈیاں سجائی ہوں صحابہ کرام نے ایساں کیوں نہیں کیا؟ اس لئے کہ اسلام کوئی رسموں کا دین نہیں ہے۔ جیسا کہ دوسرے اہل مذاہب ہیں کہ ان کے ہاں چند رسومات ادا کرنے کا نام دین ہے جب وہ رسمیں ادا کر لیں تو بس پھر چھٹی ہو گئی۔ بلکہ اسلام عمل کا دین ہے۔ اور یہ تو جنم روگ ہے کہ پیدائش سے لے کر مرتے دم تک ہر انسان اپنی اصلاح کی فکر میں لگار ہے۔ اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں لگا رہے۔
اللہ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر آپ کی ذات بابرکت میں تمام انبیاء کرام کے اوصاف جمع کر دئے آپ کے اوصاف میں حضرت موسی علیہ السلام کی حکومت حضرت ہارون علیہ السلام کی امامت حضرت نوح علیہ السلام کی محنت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لینت حضرت سلیمان علیہ السلام کی سطوت حضرت عیسی علیہ السلام کی خاکساری حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر حضرت یوسف علیہ السلام کا عفو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سبک روی کامل درجہ میں پائی جاتی ہے۔
اللہ ربّ العزت نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پوری دنیا کے لیے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا اپنا آخری کلام قرآن پاک آپ پر نازل فرمایا یعنی کتاب اللہ بھی ابدی اور رسول اللہ بھی ابدی لہذا آپ کی تعلیم بھی ابدی اور دائمی یعنی ان کو تا قیامت باقی رہنا تھا۔
اگر موجودہ زمانے میں سابقہ انبیاء کرام میں سے کوئی موزوں ہوتے تو ان سب میں زیادہ موزوں آپ ہی ہوتے چونکہ آپ کا اسلام میں اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ ہر نبی کا کمال پایا جاتا ہے ۔ اور جوں جوں زمانہ ترقی کرتا چلا جائے گا اسی حد تک انسانی زندگی کی استواری کے لئے اس سیرت کی ضرورت شدید سے شدید تر ہوتی چلی جائے گی۔
چنانچہ آپ کے فیض صحبت نے اندھوں کو بینا بیماروں کو تندرست اور مردوں کو زندہ کر دیا کل تک جو رہزن تھے وہ آج اچھے رہرو ہی نہیں بلکہ بہترین رہبر بھی ہو گئے کل تک جن کی زندگی فسق و فجور کی نذر تھی آج وہ اتنے بلند و مقدس مرتبہ پر پہنچ گئے کہ صداقت و پاکیزگی کو ان کے انتساب سے شرف حاصل کرتی ہے کل تک جو مردہ تھے وہ آج زندہ ہی نہیں بلکہ دوسروں کو زندہ کر دینے والے بن گئے ۔ ایسے آفتاب کا طلوع جو ہر ذرہ کو آفتاب بنا دے ایسے مسیح کا نزول جو مردہ کو صحیح بنادے دنیا کی تاریخ میں ایسی نظیر بجز سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابیوں سے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غلاموں کے اور کہیں نہیں مل سکتی ہے؟
اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں کو سچی محبت مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منور فرما ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت پر چلنے والا بنا اور قیامت کے دن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
محمد مصطفی آئے بہاروں پر بہار آئی
زمیں کو چومنے جنت کی خوشبو بار بار آئی
و دانائے سبل بختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاه عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقان و ہی یٰسیں وہی طہ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے