कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اعتدال کی حقیقت اوراس کا درست معیار سمجھنا ضروری

تحریر:ذکی نور عظیم ندوی

ہمارے زمانے میں ’’اعتدال‘‘ ایک ایسا خوب صورت لفظ بن گیا ہے جس کا ڈنکا ہر طرف بجایا جاتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ اس کے مفہوم کی تعیین اکثر دلیل سے نہیں، پسند اور مصلحت سے ہوتی ہے۔ بعض لوگ اعتدال کا درس دینے میدان میں اترتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے پاس ہر مسئلے کا ایک ہی اصول ہے: جو کچھ دو انتہاؤں کے درمیان آ جائے، وہی حق، اور جو اس سے باہر ہو، وہ شدت پسندی!ذرا فرض کیجیے، ایک مجلس میں چار آدمی بیٹھے ہیں۔ سوال ہوا: ’’دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں؟‘‘ ایک نے کہا تین، دوسرے نے پانچ، تیسرے نے چھ اور چوتھے نے بائیس۔ اب ہمارے ’’اعتدال پسند‘‘ صاحب تشریف لاتے ہیں، چاروں جوابات سنتے ہیں، انہیں جمع کرکے چار سے تقسیم کرتے ہیں اور بڑے اطمینان سے اعلان فرماتے ہیں: ’’دیکھئے! اصل اعتدال تو درمیان میں ہے؛ یہی متوازن جواب ہے۔‘‘
آپ عرض کریں: ’’حضرت! دو جمع دو تو چار ہوتے ہیں۔‘‘
بس پھر آپ کی خیر نہیں! آپ کو شدت پسند، متشدد، غالی، مسلک پرست، تنگ نظر، غیر مہذب، غیر شائستہ اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جائے گا؛ کیونکہ آپ نے اعتدال کے اس عظیم الشان فارمولے کو ماننے سے انکار کردیا جس میں غلط اور درست کو برابر وزن دے کر اوسط نکال لیا جاتا ہے۔یہی دراصل ہمارے فکری بحران کی ایک بڑی علامت ہے کہ ہم نے اعتدال کو حق کی کسوٹی کے بجائے دو متضاد باتوں کے درمیان ایک فرضی درمیانی راستہ سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ ہر درمیانی بات معتدل نہیں ہوتی اور ہر واضح بات شدت پسندانہ نہیں ہوتی۔ کبھی حق ایک طرف ہوتا ہے اور غلطی دوسری طرف؛ وہاں درمیان نکالنا اعتدال نہیں بلکہ حق کو تقسیم کرنا ہے۔
دینی مسائل میں تو اس اصول کی غلط تعبیر اور بھی خطرناک ہے۔ کسی مسئلے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کتاب و سنت کیا کہتے ہیں، نبی اکرمؐ کا معمول کیا تھا، صحابہ کرامؓ نے اس سلسلے میں کیا طرزِ عمل اختیار کیا، تابعین اور ائمہ و فقہائے امت کی کیا رہنمائی ہے، اور معتبر اہلِ علم نے نصوص و اصول کی روشنی میں کیا موقف اختیار کیا ہے۔ یہی حق کی تلاش کا راستہ ہے۔
اس کے برخلاف اگر پہلے سے طے کرلیا جائے کہ ’’ہمیں نہ ادھر ہونا ہے نہ ادھر؛ دونوں طرف کچھ نہ کچھ درست ہوگا، لہٰذا بیچ کی کوئی بات نکال لیتے ہیں‘‘ تو یہ علمی اعتدال نہیں، من گھڑت اعتدال ہے۔ شریعت میں حق کا معیار یہ نہیں کہ وہ دو آراء کے درمیان کتنی دوری پر واقع ہے؛ معیار یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت اور معتبر شرعی اصولوں کے کتنا قریب ہے۔یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اعتدال کا مطلب حق بات کہنے سے گریز نہیں، اور نہ ہی ہر اختلاف کو مٹانے کے لیے حقیقت کو گول مول کردینا ہے۔ نبی اکرم ؐ نے حق بات کہنے میں مصلحت کے نام پر باطل کی آمیزش نہیں کی۔ صحابۂ کرامؓ نے بھی حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل کہنے میں کسی مصنوعی ’’درمیانی موقف‘‘ کی تلاش نہیں کی۔ ائمۂ فقہ اور فقہائے امت نے بھی اختلاف کے باوجود اپنے اپنے اجتہادی دلائل پیش کیے؛ انہوں نے اس لیے کوئی خیالی موقف ایجاد نہیں کیا کہ دونوں فریق خوش ہوجائیں۔
لہٰذا ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اعتدال کے نام پر حق تلاش کریں گے یا حق کے نام پر اعتدال؟ اگر اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں افراط و تفریط سے بچا جائے تو بلاشبہ یہ مطلوب ہے؛ لیکن اگر اعتدال کا مطلب یہ بنا دیا جائے کہ صحیح اور غلط کو برابر وزن دے کر ان کے درمیان ایک تیسرا موقف گھڑ لیا جائے تو یہ اعتدال نہیں، حقیقت سے فرار ہے۔
دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اسے تین کہے، کوئی پانچ، کوئی چھ اور کوئی بائیس، تو سب کو خوش رکھنے کے لیے ’’اوسط‘‘ نکال کر چار اعشاریہ پچیس کو اعتدال قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حق وہی ہے جس کی تائید دلیل کرے؛ اعتدال وہی معتبر ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہو۔ من گھڑت اعتدال نہ حجت ہے، نہ میزان، نہ حق کا بدل۔اور شاید آج سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم ’’غالی‘‘ اور ’’متشدد‘‘ کے فتوے بانٹنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ سامنے والا واقعی شدت پسند ہے یا صرف اس نے دو جمع دو کو چار کہنے کی جسارت کی ہے!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے