कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بارہ ربیع الاول: رحمت عالم کی آمد اور انسانیت کیلئے عظیم پیغام

تحریر:(مولانا)محمدمعروف سیدنپوری
رابطہ نمبر:9648997110

ربیع الاول اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس کی آمد اہل ایمان کے دلوں میں محبت رسولؐ کی ایک نئی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ اس مہینے کی نسبت اس عظیم ہستی سے ہے جن کی تشریف آوری نے انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمان حضورؐ کی ولادت باسعادت کو یاد کرتے، آپؐ کی سیرت و کردار کا تذکرہ کرتے اور آپ ؐ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کے لیے مشعل راہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ موقع صرف خوشی اور عقیدت کے اظہار کا نہیں بلکہ اس بات پر غور کرنے کا بھی ہے کہ جس نبی ؐ سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، ہماری عملی زندگی اس محبت کی کتنی گواہی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبیؐ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہ پیغام اپنے اندر غیر معمولی وسعت رکھتا ہے۔ آپؐ کی رحمت کسی ایک قوم، نسل، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ ؐ پوری انسانیت کیلئے ہدایت، امن اور خیر کا پیغام لے کر تشریف لائے۔ آپ ؐ کی آمد ایسے دور میں ہوئی جب عرب معاشرہ جاہلیت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا تھا۔ قبائلی عصبیت، باہمی دشمنی، ظلم، ناانصافی اور اخلاقی برائیاں عام تھیں۔ طاقتور کمزور کو دبانا اپنا حق سمجھتا تھا اور معاشرے کے بہت سے طبقات بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم تھے۔ایسے ماحول میں نبی کریم ؐنے انسان کو اس کی حقیقی قدر و منزلت سے آگاہ کیا۔ آپ ؐ نے واضح کیا کہ انسان کی عزت اس کے مال، خاندان، رنگ، نسل یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہے۔ آپؐ نے معاشرے میں مساوات اور اخوت کی بنیاد رکھی اور بتایا کہ تمام انسان ایک دوسرے کے احترام اور حقوق کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تعلیم اس وقت بھی انقلاب آفریں تھی اور آج بھی پوری دنیاکیلئے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
رسول ؐ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو آپؐ کا حسن اخلاق ہے۔ آپ ؐ نے مخالفین کے ساتھ بھی نرمی اور حکمت کا معاملہ فرمایا۔ جن لوگوں نے آپ ؐ کو تکلیفیں پہنچائیں، آپ ؐکے خلاف سازشیں کیں اور آپؐ کی دعوت کی مخالفت کی، ان کے ساتھ بھی آپ ؐ نے انتقام کی بجائے اصلاح اور ہدایت کا راستہ اختیار کیا۔ فتح مکہ کا واقعہ اس سلسلے میں تاریخ کا ایک بے مثال باب ہے، جب آپؐ کو اپنے مخالفین پر مکمل اختیار حاصل تھا، لیکن آپ ؐ نے عام معافی کے ذریعے دنیا کو یہ سبق دیا کہ حقیقی عظمت بدلہ لینے میں نہیں بلکہ معاف کرنے میں ہے۔
بارہ ربیع الاول ہمیں اسی کردار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معمولی اختلافات دشمنیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ گفتگو میں سختی، سوشل میڈیا پر تلخی، باہمی بدگمانی اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرت رسول ؐ ہمیں تحمل، برداشت اور حسن گفتار کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت برقرار رکھنے کا اصول اپنالیں تو معاشرے میں بہت سی تلخیاں کم ہوسکتی ہیں۔نبی کریم ؐ نے معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی۔ یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور محتاجوں کی خبر گیری کی تاکید کی۔ پڑوسی کے حقوق بیان کیے، والدین کے احترام کا درس دیا، بچوں سے شفقت کی تعلیم دی اور عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت فرمائی۔ آپ ؐ نے یہ تصور عام کیا کہ ایک صالح معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور اور ضرورت مند بھی عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
آج جب معاشی تفاوت اور معاشرتی بے حسی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، سیرتِ نبوی ؐ کی یہ تعلیم مزید اہم ہوجاتی ہے۔ اگر صاحب حیثیت افراد اپنے اردگرد کے محروم لوگوں کی خبر گیری کریں، اگر ہم اپنے ملازمین، مزدوروں اور زیر دست افراد کے ساتھ انصاف کریں اور اگر کسی ضرورت مند کیلئے آسانی پیدا کریں تو یہ سیرتِ رسول ؐ سے حقیقی استفادہ ہوگا۔ محبت رسول ؐ کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہماری ذات کسی دوسرے انسان کیلئے آسانی کا سبب بنے۔
رسول اللہ ؐ نے سچائی اور امانت کو انسانی کردار کی بنیاد قرار دیا۔ بعثت سے پہلے بھی اہل مکہ آپ ؐ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے۔ آپ ؐ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار ہے۔ آج کاروبار، ملازمت، تعلیم اور روزمرہ معاملات میں دیانت داری کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ اگر ہم نبی ؐ کی سیرت کو واقعی اپنے لیے نمونہ سمجھتے ہیں تو ہمیں جھوٹ، دھوکے، ملاوٹ، خیانت اور وعدہ خلافی سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ربیع الاول کا پیغام صرف فرد کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تعمیر سے متعلق ہے۔ رسول اللہ ؐنے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ایمان کے ساتھ عدل، اخوت، ذمہ داری اور باہمی تعاون پر قائم تھی۔ مدینہ منورہ میں مختلف طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان اجتماعی نظم قائم کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ اختلافات کو ختم کرکے نہیں بلکہ اصول، انصاف اور باہمی احترام کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو بھی اسی اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ معاملات، اخلاق اور معاشرت بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔ نماز، روزہ اور دیگر عبادات انسان کے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرتی ہیں، لیکن اس تعلق کا اثر اس کے اخلاق اور معاملات میں بھی نظر آنا چاہیے۔ اگر ایک شخص عبادات کا اہتمام کرے مگر دوسروں کے حقوق پامال کرے یا لوگوں کو تکلیف پہنچائے تو اسے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
بارہ ربیع الاول کا بہترین تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم خود سے سوال کریں کہ ہماری زبان کتنی سچی ہے، ہمارے معاملات کتنے صاف ہیں، ہمارے گھروں میں کتنا سکون ہے اور ہمارے رویے سے کتنے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو سیرتِ رسولؐ کے بارے میں صرف معلومات دے رہے ہیں یا ان کے کردار میں بھی سیرتِ نبوی ؐ کی جھلک پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
آج کی نئی نسل کو سیرتِ نبویؐ سے جوڑنا بھی ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف تاریخی واقعات سنانا کافی نہیں، بلکہ انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ رسولؐ کی زندگی آج کے انسان کے لیے کس طرح قابل عمل نمونہ ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، والدین کا احترام، پڑوسی کا خیال رکھنا، کمزور کی مدد کرنا اور اختلاف کے باوجود اخلاق کا دامن نہ چھوڑنا سیرتِ رسول ؐ کا عملی پیغام ہے۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ محمدؐکی محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ اطاعت، اتباع اور کردار کا تقاضا کرتی ہے۔ محبت کا سب سے خوب صورت اظہار یہ ہے کہ انسان اپنے محبوبؐ کے پسندیدہ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کرے۔ اگر ہماری زبان پر محبت رسول ؐ کا ذکر ہو لیکن ہمارے معاملات میں جھوٹ، بددیانتی، تکبر، غیبت اور ناانصافی موجود ہو تو ہمیں اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ سیرتِ رسول ؐ ہمیں الفاظ سے زیادہ عمل کی دعوت دیتی ہے۔
آخرکار بارہ ربیع الاول کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ہم حضور اکرم ؐکی آمد کو صرف ایک تاریخی واقعے کے طور پر یاد نہ کریں بلکہ اسے اپنی زندگی کی اصلاح کا نقطہ آغاز بنائیں۔ رسول اللہ ؐکی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق، سچائی، رحم، انصاف اور خدمت خلق کے ذریعے پورے معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو سچائی، اپنے ہاتھ کو خیر، اپنے دل کو رحم اور اپنے معاملات کو دیانت سے آراستہ کرنا ہوگا۔ گھروں میں محبت، معاشرے میں انصاف، کمزوروں کے لیے سہارا اور انسانیت کیلئے خیر کا ذریعہ بننا ہوگا۔ جب ہماری زندگیوں میں آپؐ کے اخلاق کی خوشبو محسوس ہونے لگے گی، ہماری گفتگو دوسروں کیلئے راحت بنے گی اور ہماری ذات مخلوقِ خدا کیلئے آسانی کا سبب بنے گی، تب ہماری محبت رسول ؐ محض دعویٰ نہیں رہے گی بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جائے گی۔ یہی بارہ ربیع الاول کا اصل پیغام اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے