कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’حلالہ‘‘ کی وضاحت۔ شرعی قانون اور ثقافتی غلط فہمیوں میں فرق

تحریر:ابو خالد قاسمی
خادم جامعہ اسلامیہ عربیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد

’’حلالہ‘‘ کا تصور عصرِ حاضر میں اسلامی فقہ کے سب سے زیادہ غلط سمجھے اور غلط انداز میں پیش کیے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ ذرائع ابلاغ اور مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ’’حلالہ‘‘ کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے، اس میں اکثر غیر اسلامی ثقافتی رسومات کو اسلامی شریعت کے مستند احکام کے ساتھ خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سنسنی خیزی کا کردار:
عوام میں پائی جانے والی اس مستقل غلط فہمی کے پیچھے جدید میڈیا کے چند اہم عوامل کارفرما ہیں:
درستگی کے مقابلے میں سنسنی خیزی فلمیں، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عموماً باریک فقہی حقیقت کے بجائے ڈرامائی کہانیوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض انتہائی یا ناجائز طریقوں کو عام شرعی قانون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
علماء سے علمی مشاورت کا فقدان:
عام طور پر ذرائع ابلاغ میں اسلامی احکام کی نمائندگی کرتے وقت مستند فقہاء یا اہلِ علم سے مناسب مشورہ نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے اسلامی روایات اور احکام کی مسخ شدہ تصویر سامنے آتی ہے۔
عوامی بدنامی اور غلط تاثر:
اس قسم کی غلط اور مبالغہ آمیز پیش کشیں اسلامی خاندانی قوانین کے بارے میں غلط تصورات کو مضبوط کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں غیر متخصص افراد اسلامی قانونِ عائلی کو ان سنسنی خیز تصورات کی بنیاد پر پرکھنے لگتے ہیں۔
کسی بھی دینی اصول کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے میڈیا کی پیش کردہ تصویر یا عام لوگوں کے طرزِ عمل پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ کوئی شخص لاعلمی یا مقامی رسم و رواج کی بنا پر ایسا عمل کرسکتا ہے جو شرعی تعلیمات کے مطابق نہ ہو۔ اسلامی فقہ میں شرعی احکام بنیادی مصادر سے مستند علماء اور معتبر فقہاء کی رہنمائی میں اخذ کیے جاتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اس کا شرعی پس منظر:
تیسری طلاق کے بعد سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کے مسئلے کی بنیادی دلیل قرآنِ کریم میں واضح طور پر موجود ہے: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَ أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
پھر اگر اس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ پھر اگر دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دوبارہ ایک دوسرے کی طرف لوٹ آئیں، اگر انہیں یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لیے واضح فرماتا ہے۔
اس کے برخلاف نبی کریم ﷺ کی احادیث میں اس مقصد کے لیے کیے جانے والے مصنوعی اور پہلے سے طے شدہ نکاح کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو کسی عورت کو اس کے پہلے شوہر کے لیے حلال کرنے کی غرض سے نکاح کرے، اور اس شخص پر بھی جس کے لیے یہ کام کیا جائے۔
قرآن و حدیث کے درمیان بظاہر تعارض کی وضاحت:
قرآنِ کریم کے مذکورہ حکم اور احادیث میں وارد ممانعت کے درمیان کوئی حقیقی تعارض نہیں۔ فقہِ اسلامی میں حقیقی اور شرعی نکاح اور مصنوعی اور ناجائز حلالہ کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے۔
شرعی اور جائز نکاح:
ایک عورت، تیسری طلاق کے بعد، کسی دوسرے مرد سے حقیقی نکاح کرے، اور یہ نکاح مستقل ازدواجی زندگی گزارنے کی نیت سے ہو۔ اگر بعد میں یہ دوسرا نکاح طبعی طور پر ختم ہوجائے، مثلاً دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ بغیر کسی پیشگی منصوبے اور سازش کے اسے طلاق دے دے، تو عورت عدت مکمل کرنے کے بعد اپنی مرضی سے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے، بشرطیکہ دونوں کو امید ہو کہ وہ آئندہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پابندی کریں گے۔
ناجائز اور مصنوعی حلالہ:
اس کے برعکس اگر پہلے ہی سے یہ منصوبہ بنا لیا جائے کہ ایک شخص عورت سے صرف اس مقصد کے لیے نکاح کرے گا کہ اسے پہلے شوہر کے لیے حلال کرکے بعد میں طلاق دے دے، تو یہ ایک مصنوعی، مشروط اور ناجائز طریقہ ہے۔ ایسا نکاح شریعت کے مقصدِ نکاح کے خلاف ہے اور احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔
اس حکم کی حکمت:
اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے مفتی محمد تقی عثمانی رحمہ اللہ فتاویٰ عثمانی میں واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ ’’حلالہ‘‘ عورت پر لازم کیا گیا کوئی ایسا طریقہ ہے جسے اسے لازماً اختیار کرنا پڑتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تین طلاقیں دے کر اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے، وہ اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق برقرار رکھنے کا حق کھو دیتا ہے۔ شریعت کا یہ حکم اس شوہر کے لیے ایک طرح کی تنبیہ اور سزا بھی ہے تاکہ وہ طلاق کے اختیار کا غلط استعمال نہ کرے۔ عورت کا مقصد یہ نہیں کہ وہ لازماً پہلے شوہر ہی کی طرف واپس جائے، بلکہ وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ مستقل اور پائیدار ازدواجی زندگی اختیار کرسکتی ہے۔ اگر اتفاقاً اور بغیر کسی پیشگی منصوبے کے دوسرا نکاح بھی طلاق کے ذریعے ختم ہوجائے، تو وہ عدت کے بعد اپنی مرضی سے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے، بشرطیکہ دونوں کو یقین ہو کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پابندی کریں گے۔
الغرض چونکہ خاندانی قوانین اور فقہی مسائل شرعی اعتبار سے نہایت اہم اور ذمہ داری کے حامل ہیں، اس لیے ان کے بارے میں رہنمائی حاصل کرتے وقت غیر مستند آن لائن تبصروں یا عام سوشل میڈیا کی باتوں پر اعتماد کرنے کے بجائے معتبر علمی تحقیقات، مستند مدارسِ دینیہ، دارالافتاء اور اہلِ علم سے رجوع کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
آج کے دور میں جب اسلام مخالف طاقتوں کے ذریعے ان جیسے دیگر مسائل کو غلط انداز میں بیان کیا جارہا ہے جیسے اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا، اسلام قبول کرنے پر جبر کرنا ودیگر ۔ تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان مسائل کو وضاحت سے لوگوں کے سامنے پیش کریں تاکہ مسلم برادری تردد کا شکار نہ ہوجائے اور اغیار غلط فہمی کا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دین کو مسخ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہدایت نصیب فرمائے ۔ آمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے