कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں

تحریر:عارف عزیز(بھوپال)

اردو زبان کی طرح اس کا ادب بھی ہمہ گیر وہمہ جہت ہے جس طرح اردو میں دنیا کی بے شمار زبانوں کے الفاظ بعینہ یا تھوڑی بہت تراش خراش کے ساتھ موجود ہیں اسی طرح اس کے ادب میں دنیا کی بیش از بیش اصنافِ سخن شامل ہوگئی ہیں ۔ اردو زبان کی یہ بھی اہم خوبی شمار ہوتی ہے کہ اس میں انگریزی، فارسی، عربی، سنسکرت ، فرانسیسی اور دنیا کی بے شمار ترقی یافتہ اور ترقی پذیر زبانوں سے زیادہ حروف اور آوازیں ہیں اور اردو ان معدودِ چند زبانوں میں سے ایک ہے جو دوسری زبانوں کے الفاظ کو عموماً بہت معمولی ردوبدل کے ساتھ اور بعض مواقع پر ہو بہو قبول کرلیتی ہے۔ زبان کی اسی لچک اور ہمہ گیری نے اردو ادب اور خصوصاً اس کی شاعری کو دنیا کی تقریباً ہر بڑی زبان کی اصنافِ سخن کا عطیہ دیا ہے۔
ابتدائی دور سے لے کر اب تک اردو زبان ہیئتوں کے تجربات سے دوچار رہی ہے او ریہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ایک طرف تو براہِ فارسی، عربی کی اصناف سخن تو دوسری طرف مقامی زبانوں کی اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں کافی عرصہ سے ہمارے شعراء کو مرغوب کر رہی ہیں، پھر یوروپی ادب کے اثرات نمایاں ہونے کی وجہ سے خصوصاً انگریزی ادب کی اصناف سخن بھی ہماری شاعری میں در آئی ہیں، اس نئی صورتِ حال کا تقاضا یہ تھا کہ ’’اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں‘‘ کی بابت ایک جامع کتاب نئے سرے سے لکھی جائے کیونکہ ایک جانب تو اس ضمن کی پرانی کتابیں طلبہ کو دستیاب نہیں دوسرے اگر ہیں بھی تو ہیئت کے نئے تجربات کی یلغار نے ان کو شکست وریخت سے دوچار کردیا ہے۔
اردو شاعری کی یہ ہیئتیں اور اصناف مختلف کتابوں اور رسائل میں بکھری پڑی تھیں اور طلبہ واسکالر کے لئے ان تک بہ یک وقت رسائی ممکن نہیں تھی ڈاکٹرشمیم احمد کا یہ کارنامہ یقینا قابل قدر ہے کہ انہوں نے نہایت عرق ریزی اور دیانت داری کے ساتھ جو پڑھا یا محسوس کیا اس کو نہ صرف مستند حوالوں سے اپنی کتاب ’’اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں‘‘ میں من وعن جمع کردیا ہے بلکہ حسب استعداد ان کی تعریف و تشریح کی بھی کوشش کی ہے۔
’’اصناف سخن اور شعری ہیئتیں‘‘ خالص تکنیکی کتاب ہے 1982میں شائع ہوئی ہے اور اس میں نام کی مناسبت سے شاعری کے موضوع اور ہیئت سے بحث کی گئی ہے اور یہ بحث اس انداز سے ہے کہ اس میں شاعری کی جملہ اصناف کیا مشرقی کیا مغربی ان کی ہیئتیں اصطلاحات اور متعلقات شعر کی تمام تفصیلات قلم بند ہوگئی ہیں، جیسا کہ خود کتاب کے مصنف نے اپنے دیباچہ میں وضاحت کی ہے۔
’’ایک عرصہ سے یہ بات میں شدت سے محسوس کررہا تھا کہ اردو میں اصناف سخن اور شعری ہیئتوں کا جو تنوع ہے، ان کی جو ہمہ رنگ صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ان میں زمانے کے ساتھ ساتھ جو نت نئے تجربے ہوئے ہیں یا بعض مغربی ہیئتیں ہماری شاعری میں شامل ہوگئی ہیں ان سب کا محاکمہ، تعارف اور ان پر جامع تنقید وتبصرہ مع مثالوں کے کسی ایک کتاب میں یکجا نہیں ملتا‘‘
درحقیقت اردو میں یہ مسئلہ بنیادی واہم ہے کہ کسی خاص صنفِ سخن کی شناخت میں ہم اصولاً موضوع کو بنائے ترجیح قرار دیں یا ہیئت کو، کیونکہ اردو میں عام طور پر موضوع کی بنیاد پر اصناف کی شناخت کی گئی ہے جس سے بعض اوقات ایک الجھن سی طلبا اور مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں در آتی ہے۔ مثلاً علامہ اقبال کی نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ موضوع کے لحاظ سے مرثیہ اور ہیئت کے اعتبار سے مثنوی کے طرز میں ہے جو عموماً اسکالروں کے ذہن کو الجھا دیتی ہے۔ بہر حال اس کتاب میں شمیم احمد نے مذکورہ پہلوئوں کو اجاگر کرکے ان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کا کام نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب کے بعض حصوں میں ان کی جانب سے کی گئی تشریح وتعریف معمولی لغزشوں کا شکار ہوگئی ہے۔ مثلاً صفحہ 204پر مطلع ثانی کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ ’غزل میں مطلع کے بعد اگر دوسرا شعر بھی ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوا تو اسے مطلع ثانی کہاجاتا ہے۔ اسی طرح قصیدے میں جب کچھ اشعار کہہ لینے کے بعد شاعر قصیدے کے اندر قصیدہ یا بات کا نیا انداز شروع کرتا ہے تو ایک مطلع اور کہتا ہے، اسے مطلع ثانی کہتے ہیں اسی طرح غزل یا قصیدے میں مطلع ثالث، مطلع رابع وغیرہ بھی ہوسکتے ہیں، مطلع ثانی کو زیب مطلع بھی کہتے ہیں۔ ‘‘
لیکن صفحہ 189پر حسن مطلع کی تعریف یوں کی ہے ’غزل یا قصیدے میں مطلع کے فوراً بعد آنے والے شعر کو کہتے ہیں، اسے زیب مطلع بھی کہاجاتا ہے۔‘ یعنی زیب مطلع کو ایک بار صرف شعر اور دوسری بار مطلع بتایا گیا ہے اور اس سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسری جگہ صفحہ 180پر بندش کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’شعر میں الفاظ کے انتخاب اور نشست وترتیب میں روانی اور تازگی ہو، اگر شعر میں کوئی خوبی نہیں لیکن خرابی بھی نہیں تو کہتے ہیں ’’اس شعر کی بندش سست ہے‘‘ اور اگر شعر میں روانی اور صفائی ہے تو کہتے ہیں ’’اس شعر کی بندش چست ہے‘‘ حالانکہ اول الذکر وضاحت (شعر میں کوئی خوبی نہیں لیکن خرابی بھی نہیں تو کہتے ہیں اس شعر کی بندش سست ہے) خلافِ حقیقت ہے۔
اس کے علاوہ مغربی ہیئتوں کا ذکر کرتے ہوئے شمیم صاحب نے سانیٹ، نظم معریٰ، آزاد نظم، ترائلے اور ہائیکو تک کا ذکر کیا ہے، لیکن پروز پوئٹری یا نثری نظم کو نظر انداز کرگئے ہیں۔جبکہ بقول ان کے اول الذکر اصناف کا اردو میں وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس نثری نظمیں کیا تعداد کیا مقدار اور کیا معیار، ہر اعتبار سے ترائلے اور ہائیکو سے زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے مثالیں دینے میں بھی صرف ایک شخص کو مدنظر رکھا ہے جیسا کہ رباعیات کے ضمن میں واضح ہوتا ہے۔ جہاں شمیم صاحب نے متعدد شعراء کا ذکر کیا ہے مگر جب رباعیوں کے 24اوزان مثال کے طو رپر پیش کئے تو اس میں ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی ہی کی 9رباعیوں کو پیش نظر رکھا ہے جبکہ اس سلسلہ میں مختلف شعراء کی مثالیں دینے سے رنگا رنگی پیدا ہوسکتی تھی۔ اس کے علاوہ نظم کے بارے میں بھی کوئی واضح نقطہ نظر ابھرکر سامنے نہیں آتا۔ لیکن یہ لغزشیں کتاب کی اہمیت اور افادیت پر اثر انداز نہیں ہوتیں ، اتنے وسیع اور بے قابو موضوع کو قابو میںکرنا بھی تو آسان نہیں تھا۔ (1982)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے