कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دردمند دل کے حامل شاعر سلیم چشتی بیدرد کا شعری مجموعہ ضرب بیدرد

ہمہ جہت احساسات کا ایک مرقع

از :محمد ضیاء الدین
(ایڈیٹر ریجنل نیوز درگاہ روڈ پربھنی)
9822651193

اپنے خیالات کی ترسیل کی خواہش کا انسان زمانۂ قدیم سے ہی اسیر رہا ہے جس کے نمونے ادب لطیف کے تقریباً ہر شعبے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ادب کی مختلف اصناف بھی اسی انسانی خواہش کی مظہر ہیں چاہے وہ نثر ہو یا شاعری۔ اس کی تخلیق کے پس پشت یہی جذبہ کارفرما رہا ہے اور ہر تخلیق کا خالق اس بات سے بے نیاز ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق کا معیار کیا ہے۔ اس کی خواہش اپنی تخلیق کے ذریعہ اپنے احساسات، اپنے جذبات اور اپنے تخیلات کو اوروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اس عمل میں کچھ لوگ اپنے علم و فضل اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے سبب اپنے فن کو بہتر سے بہتر طریقے سے پیش کرکے نہ صرف اپنی فنی صلاحیتوں بلکہ اپنی شخصیت کو بھی منوا لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے حصے میں یہ چیز کم آتی ہے تاہم تخلیق کار اپنے اس عمل کو جاری و ساری رکھتا ہے اور اپنی پسند کے طریقے کو استعمال کرتا ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اپنے خیالات کی ترسیل کے لیے شاعری کو وسیلہ بنانے والوں کی تعداد ہر دور میں زیادہ ہی رہی ہے کہ یہ خیالات کی ترسیل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے ہی تخلیق کاروں میں پربھنی کی ایک شخصیت ہے سلیم احمد خاں چشتی جو بیدرد تخلص کرتے ہیں۔ اس تخلص کے پیش نظر ہر اس شخص کو جس کی ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہوئی ہو یہی گمان گزرتا ہے کہ یہ شخص ضرور نہایت خطرناک اور سخت مزاج اور بے مروت ہوگا، لیکن جب وہ ان سے ایک بار بالمشافہ ملاقات کرتا ہے تو یہ جان کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کے متضاد تخلص کیوں کر رکھ لیا کیونکہ وہ اپنی طبیعت اور اپنے مزاج اور اپنے برتاؤ کے کسی بھی زاویے سے بے درد نظر نہیں آتے بلکہ انتہائی زندہ دل، نرم مزاج اور ہر بات پر قہقہ لگا کر اپنی خوش دلی کا ثبوت دینے والی شخصیت ہے۔ قبل اس کے ان کو ان کے کلام کے پیمانے پر ناپا جائے کچھ تذکرہ ان کی شخصیت اور ذاتی زندگی کا بھی ہونا چاہیے جس سے ان کے خیالات و رجحانات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اپنے کلام کے ذریعہ ادب کی آبیاری کرنے والے سلیم احمد خاں چشتی بیدرد خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’ان کی تعلیم بہ زبان مراٹھی ہوئی ہے لیکن گھر میں اردو کا ماحول ہونے کے سبب اردو الفاظ کی چاشنی ان کے کانوں میں گھلتی رہی جس کے سبب فطری طور پر ان کو اردو سے رغبت تھی (یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اپنے بچوں کی زبان و بیان کی صحیح تربیت کے لیے ان کو گھر میں بھی ایک شائستہ ماحول ملنا ضروری ہے)۔ سلیم احمد خاں چشتی کے دادا مرحوم احمد خاں پربھنی کی ایک معروف مذہبی شخصیت تھے۔ وہ پیشے سے معلم تھے لیکن ان میں دینی شغف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بڑی خوش الحانی سے قرآن پڑھتے تھے۔ عیدین کی نمازوں کی امامت کا فریضہ بھی انجام دیتے۔ ان کا خاتمہ بالخیر قریشی مسجد کی امامت کرتے ہوئے گزرا۔ ان کے چاچا پربھنی کی معروف سماجی و ادبی شخصیت تھے۔ پیشے سے ڈپٹی انجینئر رئیس احمد خاں شاکر ایک معروف شاعر تھے جو گہوارۂ ادب نامی ایک خودساختہ تنظیم کے ذریعہ پربھنی میں ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے۔ ۱۹۸۶۔۸۸ میں ان کی یہ سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ وہ ڈرامائی انداز میں اپنا کلام سنانے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ نہایت ملنسار شخصیت (ان کا انتقال جلگاؤں میں دورانِ مشاعرہ اسٹیج پر ہی ہوگیا تھا۔ تب جلگاؤں کے اخبارات نے سرخی لگائی تھی: ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے)۔ سلیم خاں کے والد مرحوم غلام احمد خاں چشتی ایک مجذوب اور درویش صفت انسان تھے جو دنیا داری سے بے نیاز ہونے کے سبب سلیم خاں کو اپنے بچپن میں بڑی عسرت کا سامنا کرنا پڑا جس کا کرب آج بھی ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ ایسے ہی عناصر ہیں جو انسان کی صورت گری میں کارفرما ہوتے ہیں اور اسے ایک رخ عطا کرتے ہیں۔ سلیم خاں چشتی کا مزاج بھی قلندرانہ ہے اور دنیا داری سے بے نیازی کے اوصاف ان کو اپنے والد سے ورثے میں ملے ہیں اور شاعری ان کے لیے شہرت کی تسکین یا واہ واہ کے حصول کا ذریعہ نہیں۔ موجودہ دور زندگی کے ہر شعبہ میں مافیا کا دور ہے تب شاعری بھلا اس سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس ماحول کو انھوں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے جسے من و عن نقل کرنے سے ہی ان کی شخصیت ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اشعار لکھنا اور اخبارات کو اشاعت کے لیے روانہ کرنا میرا مشغلہ ہے اور اسی میں مجھے سکون میسر آتا ہے۔ چونکہ میرا کلام دورِ حاضر کی عکاسی کرتا ہے، سماجی برائیاں، بڑھتی ہوئی بے دینی، آپسی خلفشار، اونچ نیچ، ذات پات، سیاسی ہتھکنڈے جیسے موضوعات کے علاوہ اخلاقیات جیسے موضوعات میری شاعری کے محور ہیں۔ انھوں نے خواتین سے اس بات کے لیے معذرت چاہی ہے کہ وہ خواتین میں پھیلی بے راہ روی اور اخلاقیات کی گراوٹ پر اپنے اشعار کے نشتر چلاتے ہیں کیونکہ ان کا احساس ہے کہ آج کے معاشرے میں برائی اور خرابی کے لیے خواتین کی بڑی تعداد ذمہ دار ہے جس کی نشاندہی اور اس میں سدھار کو وہ نہایت ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ اصلاحی پہلو لیے ہوئے ہے۔
تنقید کو اس دور میں کوئی بھی پسند نہیں کرتا، حتیٰ کہ بیوی بھی نہیں، اور حق بیانی کریلے سے زیادہ کڑوی ہوتی ہے جس سے لوگ دور بھاگتے ہیں، اور یہ ساری چیزیں سلیم چشتی کی شاعری میں بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے ان کے گھر کے تمام افراد ان کی اس حق بیانی سے نالاں ہیں۔ ویسے بھی شعرا کی ایک بڑی تعداد کے کلام کو تو سراہا جاتا رہا لیکن ان کے اس مشغلے کو کبھی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا کیوں کہ یہ عام خیال تھا کہ یہ وہ شغل ہے جو انسان کو روزی روٹی کی فکروں سے ہٹا کر نکما بنا دیتا ہے (آج یہ سوچ بدل رہی ہے)۔ سلیم خاں خودنمائی سے اور گھس پیٹھ سے ہمیشہ دور رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے کلام کے لیے کبھی بھی سامعین سے داد نہیں مانگی، نہ ہی غیر ضروری تمہید کے ذریعہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی بلکہ ہمیشہ ایک طرف بیٹھے رہے، اپنی باری آنے پر جاکر کلام سنایا اور لوگوں کی داد و تحسین کے بیچ واپس اپنی جگہ لی۔ ان کو اس بات کا بھی قلق ہے کہ زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب بھی مافیا سے محفوظ نہیں۔ یہاں بھی اپنا مقام بنانے کے لیے لابنگ کی جاتی ہے۔ شعرا میں گروپ بندی ہے۔ مشاعروں میں صرف اپنے گروپ کے شعرا کو بلانے کے لیے اصرار کیا جاتا ہے۔ کئی شعرا اس بات کا بھی اہتمام کرتے ہیں کہ دو تین فور وہیلر میں اپنے حواریوں کو لاد کر لاتے ہیں جو ان کے کلام کے دوران ان کی واہ واہ کرکے ان کو پروموٹ کرتے ہیں۔ ادب میں در آئی اس ساری بے ادبی سے وہ اتنے بددل ہوگئے کہ انھوں نے مشاعروں میں جانا ہی بند کردیا اور ایک سچے اصول پرست انسان کی یہی پہچان ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ان خیالات کا حامل ہوگا اس کے خیالات کی جھلک اس کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملے گی۔ زیر نظر ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ضرب بیدرد ہے۔ اس سے قبل ان کے دو مجموعے دردِ بیدرد، چشمِ بیدرد اور یہ تیسرا مجموعہ ضربِ بیدرد ہے۔ ان کے تینوں مجموعوں کے عنوانات سے درد ہی درد چھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ان کا تخلص بیدرد ہے جبکہ یہ مجسم درد ہیں۔ درج ذیل اشعار سے ان کے شعری رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ضرب بیدرد سو سے زیادہ
……..
لاکھ دشواریاں حائل تھیں میری راہوں میں
پھر بھی اے اردو تجھے تھام رکھا باہوں میں
جس طرح چاہا تری ہو سکی نہیں خدمت
کہ زبانِ غیر کی تھے قید ہم نگاہوں میں
سلیم چشتی چونکہ مراٹھی میڈیم سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے شوق کی بنا پر انھوں نے اردو سیکھی اور اسے ترسیلِ اظہار کا ذریعہ بنایا، اس لیے ان کا کلام نہایت سادہ، سلیس اور عام فہم ہے۔ اس میں نہ تو فلسفیانہ موشگافیاں ہیں، نہ تخیلات کی بلندی، نہ ہی پرشکوہ اور فہم و ادراک سے پرے الفاظ، بلکہ وہ اپنے گرد و پیش کو نہایت سادہ الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ سامع کے دل میں بطور تیر گھس جائے۔ ان کی شاعری گویا حالاتِ حاضرہ کی منظر نگاری ہے جو درج ذیل اشعار سے واضح ہوتی ہے۔
خوفِ خدا رہا نہیں یاروں دلوں میں آج
خوفِ جہاں بسا ہے سب کے دلوں میں آج
……..
دنیا کی بے عملی پر وہ یوں رقم طراز ہیں:
……..
درس دیتے ہیں وہ لوگوں کو صبح شام یاں
ہیں بہت اچھے مقرر پر عمل کچھ بھی نہیں
……..
جو ڈراتے رہتے ہیں دنیا کو اس کے خوف سے
ان ہی کے دلوں میں یاں خوفِ خدا کچھ بھی نہیں
……..
یا پھر یہ کہ
ہتھیلیوں میں جنت بتا رہے ہیں لوگ
فریب میں نہ کبھی آنا خطاکاروں کے
……..
ایک رنگ یہ بھی کہ
بعد مرنے کے جلایا جنھیں جاتا یارو
جیتے جی آگ میں نفرت کی جلا کرتے ہیں
……..
غرض کہ سلیم چشتی کی شاعری نو بہ نو مضامین لیے ہوئے، کہیں وہ طنز کے تیر برسا رہے ہیں تو کہیں ظرافت کی پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہیں، کہیں شاعری کے پردے میں کسی کی عشقیہ داستان اور قصۂ رسوائی سنا رہے ہیں، کہیں لوگوں کو ان کی بے عملی کے انجام سے آگاہ کر رہے ہیں۔ بہ حیثیتِ مجموعی یہ ایک اچھا مجموعۂ کلام ہے جو قاری کے دل و دماغ کو راحت اور سکون بخشتا ہے۔ اس کے ملنے کا پتہ ہے۔
کیر آف صدف ہاسپٹل دھار روڈ، پربھنی
Cell: 9970414056 / 02452-225448
مونا کمپیوٹرس، مومن پورہ، پربھنی
اور قیمت صرف Rs. 300۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے