कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت امِ سلمہ علم، حکمت اور مشیرِ رسولﷺ کی روشن مثال

تحریر:ڈاکٹر سید اقبال ہاشمی
صدر ال انڈیا محمد مشن
9696387766

نسب اور ابتدائی زندگی:ام المومنین حضرت امِ سلمہ کا اصل نام ہند بنت ابی اْمیہ بن مغیرہ مخزومیہ تھا۔ اپ کے والد ابواْمیہ حذیفہ بن مغیرہ قریش کے نہایت معزز اور سخی سردار تھے۔ ان کی غیر معمولی فیاضی کی وجہ سے انہیں زادْالرَّکب (مسافروں کو زادِ راہ فراہم کرنے والا) کہا جاتا تھا۔ حضرت امِ سلمہ ایک باوقار، معزز، شریف اور باعلم خاندان میں پیدا ہوئیں، جس کی وجہ سے اپ کو بہترین اخلاق، معاملہ فہمی اور دانائی ورثے میں ملی۔
حضرت ابو سلمہ سے نکاح:اپ کا نکاح اپنے چچا زاد حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد سے ہوا۔ دونوں میاں بیوی اسلام قبول کرنے والوں کے اولین گروہ میں شامل تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں مکہ مکرمہ میں کفار کی طرف سے سخت اذیتوں، ظلم و ستم اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا، مگر دونوں نے ثابت قدمی کے ساتھ دین اسلام پر استقامت اختیار کیے رکھی۔
حبشہ کی ہجرت:جب کفارِ مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو رسول اللہ کی اجازت سے حضرت ابو سلمہ اور حضرت امِ سلمہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اس طرح حضرت امِ سلمہ ان اولین مسلمان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا وطن چھوڑا۔ کچھ عرصے بعد حالات کی اطلاع پر دونوں مکہ واپس اگئے۔
مدینہ کی ہجرت اور عظیم ازمائش:جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو حضرت امِ سلمہ کی زندگی کا نہایت دردناک مرحلہ پیش ایا۔ بنو مخزوم نے حضرت امِ سلمہ کو اپنے قبیلے میں روک لیا، جبکہ بنو عبدالاسد نے ان کے ننھے بیٹے سلمہ کو اپنے پاس رکھ لیا۔ حضرت ابو سلمہ تنہا مدینہ روانہ ہوگئے۔ اس طرح شوہر، بیوی اور بچہ تینوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔
حضرت امِ سلمہ تقریباً ایک سال تک روزانہ مکہ سے باہر جا کر اپنے اہل خانہ کی جدائی میں روتی رہیں۔ بالاخر قریش کے بعض نرم دل افراد کو رحم ایا اور انہوں نے اپ کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔
اس کے بعد اپ اپنے ننھے بچے کے ساتھ تنہا مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ راستے میں حضرت عثمان بن طلحہ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے نہایت شرافت، امانت داری اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپ کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچایا۔ اسلامی تاریخ میں ان کا یہ کردار اعلیٰ انسانی اقدار کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔
حضرت ابو سلمہ کی وفات:حضرت ابو سلمہ نے مختلف غزوات میں شرکت کی۔ جنگ اْحد میں لگنے والا زخم دوبارہ تازہ ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ وفات سے قبل انہوں نے رسول اللہ سے سنی ہوئی یہ دعا حضرت امِ سلمہ کو سکھائی:’ اے اللہ! میری اس مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور اس کے بدلے مجھے اس سے بہتر عطا فرما۔
حضرت امِ سلمہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں سوچتی تھی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ کی زوجیت عطا فرما کر اپنی رحمت کا عظیم انعام عطا فرمایا۔
رسول اللہ سے نکاح:ہجرت کے تقریباً چار برس بعد رسول اللہ نے حضرت امِ سلمہ کو نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری عمر زیادہ ہے، میرے چھوٹے بچے ہیں اور مجھ میں غیرت بھی زیادہ ہے۔رسول اللہ نے فرمایا کہ عمر نکاح میں رکاوٹ نہیں، بچوں کی کفالت اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہاری غیرت کو بھی مناسب اعتدال عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد اپ کا نکاح رسول اللہ سے ہوا اور اپ کو ام المومنین ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
حرمِ نبوی میں مقام:حضرت امِ سلمہ نہایت دانا، بردبار، فقیہہ اور صاحبِ بصیرت خاتون تھیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صحابہ کرام غم و اندوہ کی کیفیت میں فوراً احرام کھولنے میں تردد محسوس کر رہے تھے تو حضرت امِ سلمہ نے رسول اللہ کو مشورہ دیا کہ اپ پہلے خود قربانی کریں اور اپنا سر منڈوائیں، صحابہ کرام اپ کی پیروی کرلیں گے۔رسول اللہ نے اسی مشورے پر عمل فرمایا اور تمام صحابہ کرام نے فوراً اتباع کی۔ یہ واقعہ حضرت امِ سلمہ کی غیر معمولی حکمت، بصیرت اور معاملہ فہمی کا عظیم ثبوت ہے۔
علمی اور عملی مقام:حضرت امِ سلمہ سے تقریباً 378 احادیث مروی ہیں۔ بڑے بڑے صحابہ کرام فقہی مسائل میں اپ سے رجوع کرتے تھے۔ خواتین کی دینی تعلیم، تربیت، فقہ اور گھریلو احکام کی وضاحت میں اپ کا نمایاں کردار رہا۔ اپ نے امت کی خواتین کو نہ صرف عبادات بلکہ خاندانی زندگی، پاکیزگی، عدت اور دیگر شرعی مسائل کی تعلیم دی۔
وصالِ نبوی کے بعد:رسول اللہ کے وصال کے بعد حضرت امِ سلمہ نے حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب اور بعد کے ادوار تک زندگی پائی۔ اپ مسلمانوں کو فتنوں سے بچنے، اتحاد قائم رکھنے، اہل بیت سے محبت اور سنت نبوی پر عمل کی مسلسل تلقین کرتی رہیں۔
وفات:اکثر مورخین کے مطابق حضرت امِ سلمہ کا وصال 61 یا 62 ہجری میں ہوا۔ اپ امہات المومنین میں اخری یا اخری کے قریب وصال فرمانے والی تھیں۔ اپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اپ نے صحابہ کرام اور تابعین کی ایک بڑی جماعت کو علم حدیث اور فقہ منتقل کیا۔
حضرت امِ سلمہ کی نمایاں خصوصیات:اسلام قبول کرنے میں سبقت، دو مرتبہ ہجرت کی سعادت، بے مثال صبر و استقامت، اعلیٰ درجے کی حکمت و دانائی، بہترین مشیررسول ہونے کا اعزاز، کثرت روایت حدیث، خواتین کی تعلیم و تربیت میں غیر معمولی خدمات، اتباع سنت، اہل بیت سے محبت اور امت کی دینی رہنمائی اپ کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
حضرت امِ سلمہ کے مستند اور ایمان افروز واقعات:صلح حدیبیہ کا تاریخی مشورہ:
صحابہ کرام غم کی کیفیت میں تھے اور احرام کھولنے میں تردد محسوس کر رہے تھے۔ حضرت امِ سلمہ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! اپ خود قربانی کریں اور سر منڈوا لیں، لوگ اپ کی پیروی کریں گے۔‘‘رسول اللہ نے ایسا ہی کیا اور تمام صحابہ کرام نے فوراً عمل کیا۔ (صحیح بخاری)
سبق: ایک صاحبِ ایمان، دانا اور مخلص خاتون کا بروقت مشورہ پوری امت کے لیے خیر و برکت کا سبب بن سکتا ہے۔
غسل کے وقت بال کھولنے کا مسئلہ:حضرت امِ سلمہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے بال مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسلِ جنابت کے وقت انہیں کھولنا ضروری ہے؟رسول اللہ نے فرمایا:’’نہیں، تمہارے لیے تین لپ پانی سر پر ڈال لینا کافی ہے۔‘‘(صحیح مسلم)اس حدیث سے اسلام کی اسانی اور خواتین کے لیے شریعت کی سہولت واضح ہوتی ہے۔
عورتوں کی دینی حیثیت سے متعلق سوال:حضرت امِ سلمہ نے عرض کیا کہ قران مجید میں مردوں کا ذکر زیادہ اتا ہے، عورتوں کا کیوں نہیں؟اس سوال کے جواب میں سورہ احزاب کی ایت 35 نازل ہوئی، جس میں مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں کے اجر و فضیلت کو برابر بیان کیا گیا۔یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں روحانی مقام، تقویٰ اور اجر و ثواب کے اعتبار سے عورت اور مرد برابر ہیں۔
رسول اللہ کے موئے مبارک:حضرت امِ سلمہ کے پاس رسول اللہ کے چند موئے مبارک محفوظ تھے۔ صحابہ کرام بیماری یا کسی ضرورت کے وقت ان سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ اس کا ذکر صحیح بخاری میں موجود ہے۔
حدیثِ کسا:رسول اللہ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو ایک چادر کے نیچے جمع فرمایا اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔حضرت امِ سلمہ نے عرض کیا: ’یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟‘اپ نے فرمایا:’تم خیر پر ہو۔‘(صحیح مسلم)
حضرت حسین کی شہادت کی مٹی والا واقعہ:ایک دن حضرت جبرئیل رسول اللہ کے پاس حضرت امِ سلمہ کے گھر حاضر ہوئے اور حضرت حسین کی مستقبل میں سرزمین عراق (کربلا) میں شہادت کی خبر دی۔ انہوں نے وہاں کی مٹی لا کررسول اللہ کو دی۔رسول اللہ نے وہ مٹی حضرت امِ سلمہ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ جب یہ مٹی خون کی مانند سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا کہ حسین شہید ہوگئے ہیں۔حضرت امِ سلمہ فرماتی ہیں کہ واقعہ کربلا کے دن وہ مٹی واقعی سرخ ہوگئی۔(مسند احمد، جامع ترمذی، مستدرک حاکم)
عدت کے احکام کی روایت:حضرت امِ سلمہ نے عدت گزارنے والی عورت کے متعلق متعدد احادیث روایت کیں، جن میں زینت، خوشبو اور زیبائش سے اجتناب کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح صبر، رضا اور مصیبت کے وقت دعا کی تلقین میں بھی حضرت ابو سلمہ کے واقعے کو بطور مثال بیان فرمایا۔اپ کی پوری زندگی خواتین کی تعلیم، عبادت، زہد، تقویٰ، سخاوت، حلم، بردباری، اتباعِ سنت اور اہلِ بیت سے محبت کا روشن نمونہ تھی۔
حضرت امِ سلمہ کی شخصیت کا خلاصہ:حضرت امِ سلمہ فقہ، حکمت، علم، صبر، وفاداری، ایثار، بصیرت اور دینی غیرت کا حسین امتزاج تھیں۔ انہوں نے ایک مثالی شریکِ حیات، عظیم معلمہ، محدثہ، فقیہہ اور مشیرِ رسول کی حیثیت سے امت خصوصاً خواتین کے لیے ایسا عملی نمونہ چھوڑا جو قیامت تک مشعلِ راہ رہے گا۔
پیغام:حضرت امِ سلمہ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایمان کی مضبوطی، صبر و استقامت، علم دین، حکمت، حسن مشورہ، اتباعِ سنت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا انسان کو دنیا و اخرت دونوں میں عزت عطا کرتا ہے۔ اج کی مسلم خواتین اگر حضرت امِ سلمہ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں تو وہ بہترین بیٹی، باوقار زوجہ، مثالی ماں، باعمل معلمہ اور معاشرے کی موثر رہنما بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امہات المومنین خصوصاً حضرت امِ سلمہ کی پاکیزہ سیرت سے سبق حاصل کرنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی علمی واخلاقی میراث کو اگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے