कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قانون کی آڑ میں مسلم اداروں اورعبادت گاہوں کا انہدام!

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

بابری مسجد کو ہتھیانے کے لئے تمام طرح کے حربے استعمال کرنے کے بعد ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے۔جوہر یونیورسٹی کا انہدام،اعظم خاں سے انتقام نہیں بلکہ مسلمانوں کی نسل کشی کے سلسلے کا اہم حصہ ہے۔آج اگر جوہر یونیورسٹی منہدم ہوگئی تو کل دیوبند،علی گڑھ اور لکھنؤ وغیرہ میں بھی یہی کچھ ہوگا۔خبر کے مطابق جوہر یونیورسٹی پر انہدام کی تلوار لٹک رہی ہے 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کا خطرہ برقرار ہے،انتظامیہ کی درخواست مسترد کردی گئی ہے،اتر پردیش کے رام پور میں واقع مولانا محمدعلی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر قانونی تنازع میں گھر گئی ہے۔رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو مبینہ طور پرمنظور شدہ نقشہ کے بغیرتعمیر کرنے کے معاملے میں انتظامیہ کی درخواست مسترد کردی ہے،جس کے بعد ان عمارتوں پر انہدام کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے،ضلع مجسٹریٹ اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نائب صدر اجے کمار دویدی نے چہارشنبے کو اس معاملے کی سماعت کی،میڈیا رپورٹس کے مطابق جوہر یونیورسٹی انتظامیہ نے نوٹس کے جواب میں تعمیرات کو قانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی،تاہم اتھارٹی نے اس موقف کو قبول نہیں کیا،رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں موجود 38 عمارتیں مطلوبہ نقشہ منظوری کے بغیرتعمیر کی گئی ہیں،جو عمارتی ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔یونیورسٹی کو اس سے قبل بھی انہی تعمیرات کے حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا تھا اور وضاحت طلب کی گئی تھی۔اب درخواست مسترد ہونے کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ متعلقہ قوانین کے مطابق انہدام کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے،تاہم اس سلسلے میں حتمی انتظامی کارروائی ابھی باقی ہے۔
یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بی جے پی حکومت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کا بدترین استحصال جاری ہے،زعفرانی پارٹی کی زیر اقتدار ریاستوں میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی،ان پر بہیمانہ تشدد اور عبادت گاہوں کی مسماری معمول بن چکی ہے،تازہ ترین واقعات میں ریاست گجرات میں مزید مساجد اور مزارات مسمار کردیے گئے، گجرات کے ضلع کچھ میں چند روز کے دوران تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کردیے گئے،مقامی باشندوں کے مطابق کاروائی سے قبل کوئی پیشگی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا،مساجد،مدارس،مزارات اور دیگر مسلم اداروں کی مسماری پر وضاحت کے طلبگار مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی،جبکہ مسماری کی کاروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے 25 نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کردیا گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا ایجنڈے پر کاربند مودی حکومت اقلیتوں کی شناخت،تاریخ اور عبادت گاہوں پر حملے کر کے ملک سے ان کا وجود ختم کرنے کے درپے ہے۔ملک میں گزشتہ تقریبا 45 دنوں کے دوران مساجد،مدارس،عبادت گاہوں،درگاہوں اور اداروں کی مسماری کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں،جن میں کم از کم 25 سے زائد مسلم مذہبی مقامات کو مختلف ریاستوں میں منہدم کیے جانے کی اطلاعات ہیں،یہ تمام واقعات زیادہ تر ان ریاستوں میں پیش آئے،جہاں بی جے پی کی حکومت ہے،امریکی تنظیم جسٹس فار آل نے اس صورتحال پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مساجد اور دیگر مسلم عبادت گاہوں کے خلاف کاروائیوں میں تیزی آئی ہے،تنظیم نے خاص طور پرسنبھل،وارانسی اور جے پور کے واقعات کا حوالہ دیا ہے۔ان کاروائیوں میں دہلی کی درگاہ پنج پیراں،پیتھم پورہ کا مدرسہ،فریدآباد کی مسجد،ممبئی کے باندرہ علاقے کی مساجد،گجرات میں درگاہیں اور قبرستان،پونے،وارانسی،سنبھل،جےپور اور راجستھان کے دیگر علاقوں کی متعدد عبادت گاہیں شامل ہیں،متاثرہ مقامات سے وابستہ افراد اور مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی جگہوں پر مسماری سے پہلے مناسب نوٹس نہیں دیا گیا جبکہ بعض معاملات میں قانونی چارہ جوئی جاری ہونے کے باوجود کاروائی کی گئی،یہ بھی الزام سامنے آیا کہ دیگر غیرمجاز ڈھانچوں کے مقابلے میں مسلم عبادت گاہوں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا گیا،کئی مقامات پر ایسی عبادت گاہیں بھی شامل ہیں جنہیں مقامی لوگ صدیوں پرانا مذہبی ورثہ قرار دیتے ہیں جبکہ سرکاری موقف میں ان کاروائیوں کو تجاوزات ہٹانے یا ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بتایا گیا ہے،امریکی انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس فار آل سمیت متعدد ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے اس مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان تمام معاملات میں طے شدہ قانونی ضابطوں کو یکسرنظر انداز کیا گیا اور کسی بھی کاروائی سے قبل انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشگی قانونی نوٹس تک جاری نہیں کیا گیا،یہ مسماری مہم اتر پردیش،دہلی،مہاراشٹر، گجرات،راجستھان،ہریانہ اور بنگال جیسی ریاستوں میں چلائی گئی ہے،جس نے مسلم اقلیت کے اندر عدم تحفظ اور خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے،انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اسے منہدم کرنے سے قبل متاثرہ فریقوں کو مناسب نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ اس بلڈوزر قہر کا آغاز مئی کے اوائل میں ہوا جب دہلی کے منگول پوری میں واقع تقریبا 200 سال پرانی درگاہ پنج پیراں کے ایک بڑے حصے کو ڈی ڈی اے نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ منہدم کردیا،ہریانہ کے فریدآباد میں واقع 50 سال پرانی مسجد چوک کو ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے نام پر صبح ہونے سے پہلے ہی مسمار کردیا گیا،مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے باندرا ایسٹ علاقے میں دو مساجد اور گورے گاؤں میں 70 سال پرانی حضرت سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ کو آرے کالونی میں تجاوزات کے نام پر منہدم کیا گیا،پونے کے بوپوڈی میٹرو اسٹیشن کے پاس موجود 100 سالہ حضرت شمس الدین قادری درگاہ کو راتوں رات منہدم کردیا گیا،اتر پردیش اور راجستھان میں یہ کاروائیاں مزید سنگین رخ اختیار کر گئیں،یو پی کے ضلع سنبھل میں مئی اور جون کے دوران ایک 500 سالہ پرانی درگاہ،مسجد مصطفی قادری اور عیدگاہ دولت پوری کی باؤنڈری وال کو بلڈوزر سے ڈھا دیا گیا،وارانسی( کاشی) ریلوے اسٹیشن کی توسیع کے نام پر 200 سال پرانی عجائب شہید مسجد کو رات کے اندھیرے میں شہید کردیا گیا اور اب وہیں قریب موجود ایک ہزار سال پرانی تاریخی مسجد گنج شہداء پر بھی ریلوے انتظامیہ نے مسماری کا نوٹس چسپاں کردیا ہے،راجستھان کے جے پور میں 1981 سے قائم نورانی مسجد کو سڑک کشادہ کے نام پر منہدم کیا گیا،جبکہ باڑ میرضلع کے مالا نا گاؤں میں قانونی کاروائی زیر التوا ہونے کے باوجود ایک ہی دن میں چار مساجد پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔راجستھان میں ہند و پاکستان سرحد کے قریب مبینہ غیر قانونی عبادت گاہوں کے انہدام پر احتجاج ہوا اور سیاسی رد عمل بھی سامنے آیا،اضلاع باڑ میر اور بیکانیر کے شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انہدامی کاروائی قاعدہ قانون کے مطابق نہیں کی گئی اور اس میں ایک مخصوص مذہب کے عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا،راجستھان ہائی کورٹ میں داخل درخواست کے بموجب بین الاقوامی سرحد کے اندرون 15 کلومیٹر واقع کئی مواضعات میں 18 جون اور 20 جون کے درمیان 12 مساجد کو شہید کر دیا گیا،انہدامی کاروائی اس بنیاد پر کی گئی کہ یہ مسجدیں مبینہ طور پر گوجر جانوروں کی چراگاہ پر بنی تھی،ذرائع نے یہ بات بتائی 27 مئی کو مرکزی وزارت داخلہ نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ بین الاقوامی سرحد کے اندرون 15 کلومیٹر غیر قانونی عبادت گاہوں کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے،تا ہم شہریوں کا دعوی ہے کہ نوٹسیں انہدام سے عین قبل دی گئی،موضع سیائی کے رہنے والے ایک شخص نے کہا کہ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ ہمیں کم از کم وارننگ تو دیتے،ہم جرمانہ ادا کردیتے، باڑمیر کے موضع کرکوری میں جہاں ایک مسجد شہید گئی،مقامی عالم ہشام الدین سندھی نے کہا کہ اس مسجد میں کئی دہوں سے نماز ادا کی جارہی تھی،ہم نے بڑی مشکل سے اسے بنایا تھا،10 کلومیٹر میں یہ واحد مسجد تھی،اب لوگ نماز ادا کرنے کہاں جائیں؟باڑمیر کے مختلف حصوں میں احتجاج ہوا،ہندوؤں اور مسلمانوں نے سرو دھرم شانتی سبھا کے بینر تلے مل جل کر احتجاج کیا،انہوں نے مارچ نکالے اور انتظامیہ کو یادداشت پیش کی،ایک مقامی شہری ہرلارام میگوال نے کہا کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،ان لوگوں نے جب بطور احتجاج پکوان بند کردیا تو ہماری برادری نے ان کے کھانے کا انتظام کیا،سرپنچ سورتا رام میگوال نے کہا کہ اگر حکومت اینکروچمنٹ ہٹانا چاہتی ہے تو اسے ایسی تمام عبادت گاہوں کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے، کاروائی ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی نہیں دکھائی دینی چاہیے،معاملہ راجستھان ہائی کورٹ پہنچ گیا،ریاستی حکومت نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے، سرحدی پٹی میں عبادت گاہیں بنانے کے لیے پیشگی اجازت لینی ہوتی ہے،اپوزیشن قائدین نے حکومت پر شدیدتنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ایسی کاروائی سے فرقہ وارانہ ہم اہنگی درہم برہم ہوسکتی ہے، کانگریس نے اس مسئلے کو اٹھانے حال ہی میں بیکانیر میں احتجاج کیا۔اسی طرح اتر پردیش کے ضلع وارانسی کی دال منڈی روڈ کی توسیع اور خوبصورتی کے منصوبے کے تحت انہدامی کاروائی مسلسل جاری ہے،اس کاروائی کی زد میں 6 مساجد بھی آگئی ہیں،پچھلے چہارشنبےکو بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں چوک تھانے کے پیچھے واقع کریم اللہ بیگ مسجد کی دیواروں کو گرانے کا کام شروع کردیا گیا،کاروائی کے دوران علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولس،پی ایس سی اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے،منصوبے کے تحت پانچ مساجد کے متولی پہلے ہی اپنی رضامندی دے چکے ہیں،ان میں کریم اللہ بیگ مسجد،نثاران مسجد،علی رضا خان مسجد،سنگ مرمر مسجد اور رنگیلے شاہ مسجد شامل ہیں،چہار شنبے کی کاروائی کے دوران مساجد سے وابستہ افراد نے بھرپور تعاون کیا،محکمہ تعمیرات عامہ( پی ڈبلیو ڈی) کے حکام کے مطابق علی رضا خان مسجد، سنگ مرمر مسجد، کریم اللہ بیگ مسجد،نثاران مسجد اور رنگیلے شاہ مسجد کے متولیوں نے رضامندی دے دی ہے،پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے جی 3 معیار کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے گا جبکہ ایک اور مسجد لنگڑا حافظ مسجد کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے،ان تمام مساجد کے حصے سڑک کی توسیع کی زد میں آئیں گے۔ پولیس کے مطابق جہاں انہدامی کاروائی کی جا رہی ہے،اس علاقے کے گرد ٹین شیڈ لگا کر گھیرا بندی کردی گئی ہے،ڈرون کیمروں کے ذریعے بھی نگرانی کی جارہی ہے،پوری کاروائی پرامن ماحول میں جاری ہے،شہر کو ٹریفک جام سے نجات دلانے کے مقصد سے 650 میٹر طویل دال منڈی روڈ کو تقریبا 17.5 میٹر تک چوڑا اور خوبصورت بنایا جائے گا،اس منصوبے کے لیے181 سے زائد عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے،جن میں 100 سے زیادہ عمارتوں کو منہدم کیا جاچکا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہندو پاک سرحد پر مساجد،مدارس اور درگاہیں حکومت کے نشانے پر ہیں،بین الاقوامی سرحد سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں موجود مساجد و مدارس کو راجستھان حکومت نے جگہ خالی کرنے کا نوٹس دے دیا ہے،حکومت کے اس حکم کے خلاف مساجد و مدارس کے ذمہ داروں نے راجستھان ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا لیکن راجستھان ہائی کورٹ نے حکومت کے حکم پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے،مساجد و مدارس کی طرف سے داخل کی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے راجستھان ہائی کورٹ نے جاری ایکشن پر روک لگانے سے انکار کردیا حالانکہ ہائی کورٹ نے راجستھان حکومت کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہرمعاملے کی الگ الگ جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے،انہدامی یا بے دخلی سے متعلق کسی بھی کاروائی کی سفارش یہ کمیٹی ہی کرے گی،راجستھان ہائی کورٹ کے جسٹس سمیرجین نے اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مذہبی تفریق کا نہیں بلکہ قومی تحفظ سے جڑا ہوا ہے،انہوں نے فطری انصاف کے اصول کو اہم بتاتے ہوئے کہا کہ حساس جانکاری کا انکشاف قومی تحفظ کو متاثر کر سکتا ہے،عدالت نے پیرمحمد شاہ جیلانی درگاہ کمیٹی اور دیگر کی طرف سے داخل عرضیاں خارج کردی،قابل ذکر ہے کہ پیرمحمد شاہ جیلانی درگاہ اور دیگر کی طرف سے داخل عرضیوں میں جیسلمیر،باڑ میر اور بیکانیر ضلوں میں سرحد سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں موجود مساجد، مدارس اور درگاہوں کو جاری نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا،ہائی کورٹ میں عرضی دہندگان نے دلیل دی کہ مرکزی حکومت نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہندو پاک کی بین الاقوامی سرحد سے 50 کلومیٹر دائرے میں موجود مساجد مدارس اور درگاہوں کو ہٹایا جائے گا،عرضی دہندگان کی طرف سے کہا گیا کہ مرکز کے اس اعلان کے بعد نوٹس جاری کیے گئے، کئی مساجد و مدارس پہلے ہی منہدم کیے جا چکے ہیں اور ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جاسکتا ہے۔
افسوسناک ناک بات یہ ہے کہ قانون کی آڑ میں مسلم اداروں اور عبادت گاہوں کے انہدام کا زور و شور سے جاری ہے لیکن ہرطرف سناٹا ہے،کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ہے؟کیا عوام کے ساتھ لیڈران پر بھی خوف و دہشت مسلط کردیا گیا ہے؟مسلمانوں کا ووٹ سب کو چاہئے لیکن انکے حقوق کی لڑائی کون لڑے گا؟ ہندوستان کے دانشوروں سول سوسائٹی اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس نفرت انگیز سیاست کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں،ماہرین اور حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے صدیوں پرانے مشترکہ کلچر اور پرامن بقائے باہمی کے تانے بانے کو بھی تار تار کررہی ہیں،جسکے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
*(مضمون نگارمعروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے