कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ظلم کی انتہا

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی

زمین کا وہ ٹکڑا جو کبھی زیتون کی خوشبو اور امن کی دعاؤں سے مہکتا تھا، آج مظلوموں کے خون اور سسکیوں سے لہولہان ہے۔ فلسطین کی مٹی کا ہر ذرہ ظلم کی ایک ایسی داستان سناتا ہے جسے سن کر پتھر دل بھی پگھل جائیں۔ مگر افسوس، دنیا کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ دل تو دور کی بات ہے، لفظوں کے نوحے بھی اب بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
انسانیت سوز مظالم کی اس طویل داستان میں آئے روز ایک نیا، خونی اور دلخراش باب رقم ہوتا ہے۔ حال ہی میں رونما ہونے والا ایک ہولناک واقعہ اس بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کی بازگشت سوشل میڈیا کے دریچوں پر روح کو تڑپا دینے والی تصاویر کی صورت میں سنائی دے رہی ہے۔
جنوبی الخلیل کے علاقے یطا، حوّارہ میں قابض آبادکاروں نے فلســطینی خاندان ابراہیم اسماعیل الجبور پر وحشیانہ حملہ کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور مرچوں والی گیس کا بے رحمانہ استعمال کیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس دلدوز تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح اس وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں معصوم اور بے بس عورتیں بے ہوش ہو کر تپتی زمین پر گری ہوئی ہیں۔ وہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں جن کی چادر اور چار دیواری کا تحفظ ہر مہذب معاشرے کا اصول ہے، آج کھلے آسمان تلے ظلم کا نشانہ بن کر بے سدھ پڑی ہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ اس زخمی اور سسکتے ہوئے خاندان کو طبی امداد پہنچانے والی ایمبولینس کو بھی قابض فوج نے جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روک دیا، اور شدید گرمی و تپتی دھوپ میں انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ فلسطینیوں کا درد بڑھتا جا رہا ہے، مگر دنیا کی خاموشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
یہ صرف ایک خاندان پر ہونے والا حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی حقوق کے ان تمام دعووں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو بڑی بڑی عالمی عدالتوں اور ایوانوں میں کیے جاتے ہیں۔ تپتی دھوپ میں، جھلستی ہوئی زمین پر، بے ہوش پڑی خواتین کا منظر کیا کسی بھی ذی روح کو تڑپانے کے لیے کافی نہیں؟ سسکتی ہوئی انسانیت کے سامنے جب امداد کا راستہ بھی روک دیا جائے، تو وہ ظلم کی آخری حد بن جاتی ہے جہاں موت بھی زندگی کی بھیک مانگنے لگتی ہے۔
خوفناک بات یہ ہے کہ یہ ستم کسی تاریک کوٹھڑی میں نہیں، بلکہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے، دن کے اجالے میں ہو رہا ہے۔ مظلوموں کی چیخیں آسمان کو ہلا رہی ہیں، لیکن دنیا کے مصلحت پسند حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خاموشی کا یہ قفل جو عالمی برادری کے لبوں پر لگا ہوا ہے، دراصل ظالم کی پشت پناہی اور اس کے جرائم میں برابر کی شرکت داری کا اعتراف ہے۔
فلسطین کا درد روز بروز ایک ناسور بنتا جا رہا ہے۔ زمین تنگ کی جا رہی ہے، آسمان سے آگ برس رہی ہے اور اپنوں کے جنازے اٹھانا وہاں کے روز کا معمول بن چکا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ فلسطینیوں کا صبر اور ان کی لازوال قربانیاں ایک دن رنگ لائیں گی، مگر تاریخ کے صفحات پر دنیا کی یہ مجرمانہ خاموشی ہمیشہ ایک سیاہ دھبے کی صورت میں موجود رہے گی، جو آنے والی نسلوں کو یاد دلائے گی کہ جب انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا تھا، تب مہذب دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے