कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم امتِ مسلمہ کب بیدار ہوگی؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

الحمد للہ یہ اللہ رب العزت کا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی لازوال دولت سے نوازا اور اپنے محبوب امام الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ دنیا کی ہر نعمت اپنی جگہ مگر سب سے بڑی سعادت یہی ہے کہ ہمارا تعلق اس ہستی سے ہے جن کے بارے میں خود ربِ کائنات نے فرمایا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ یعنی ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا۔ (القرآن)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ آفتابِ ہدایت ہیں جن کی روشنی نے جہالت کی تاریکیوں کو مٹا دیا ظلم کی بنیادیں ہلا دیں انسانیت کو عزت و وقار عطا کیا اور دنیا کو عدل رحمت محبت اور اخوت کا ایسا درس دیا جس کی مثال تاریخِ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سرچشمۂ خیر و ہدایت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مؤرخین مفکرین اور دانشور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال کردار اعلیٰ اخلاق اور عظیم قیادت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔
لیکن افسوس ہر دور میں کچھ ایسے بدباطن اور سنگ دل لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے دل ہدایت کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جہالت تعصب اور عناد کی بنا پر محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں زبان درازی کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی گستاخیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ہرگز نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ گستاخ خود اپنی ذلت رسوائی اور بدبختی کا سامان کرتے ہیں۔ سورج پر گرد پھینکنے والا سورج کو نہیں بلکہ اپنے ہی چہرے کو آلودہ کرتا ہے۔
حال ہی میں ایک نازیہ الٰہی نامی بےشرم بےحیاء گندی ناپاک نالی کا کیڑہ ناہنجار خاتون کی طرف سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نہایت دل آزار اور قابلِ مذمت گفتگو سامنے آئی جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کردیا۔ ہر صاحبِ ایمان کا دل غم سے بھر گیا کیونکہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا اس کے نزدیک جان مال اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔
ایسے معاملات پر غم و غصہ فطری امر ہے لیکن ہم اپنے جذبات کا اظہار حکمت وقار اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں۔ لیکن افسوس حکومت ابھی تک کوئی حمتی فیصلہ نہیں کی ہے۔
ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئیے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ صرف احتجاج سے نہیں ہوگا صرف تماشائی بن کر رہنے سے نہیں ہوگا بلکہ اس وقت ہوگا جب ہر گھر میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی جائے ہر بچے کے دل میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کیا جائے ہر نوجوان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائے اور ہر مسلمان اپنی گفتگو معاملات اور عبادات میں سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرے۔ اگر ہماری نئی نسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لے گی تو کوئی باطل پروپیگنڈا اس کے ایمان کو متزلزل نہیں کرسکے گا۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محور پر متحد ہوجائے۔ مساجد مدارس مکاتب گھروں اور تعلیمی اداروں میں سیرتِ طیبہ کے دروس کا اہتمام کیا جائے نوجوانوں کو دلائل کے ساتھ اسلام کا تعارف کرایا جائے اور سوشل میڈیا کو فتنہ و فساد کے بجائے دعوت اصلاح اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کامل اتباع ادب اور تعظیم نصیب فرمائے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے