कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مشینوں میں تبدیل ہوتے بھارتی معلمین اور اسکولوں کا گرتا ہوا تعلیمی معیار

(بھارتی استاد: سرکار کا فل ٹائم زرخرید غلام)

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

تعلیم کا وہ بنیادی ستون جس کے سہارے کسی بھی قوم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، وہ استاد ہے۔ مگر افسوس کہ آج اسی ستون پر غیر تدریسی فرائض کا اتنا زیادہ بوجھ لاد دیا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہل چکا ہے؛ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ اس بارِ گراں کے نیچے دب کر چور چور ہو گیا ہے۔ بھارتی استاد آج ایک عجیب و غریب الجھن میں گرفتار ہے۔ اسے معلم کہا جاتا ہے مگر اس سے کلرک کا کام لیا جاتا ہے؛ اسے گرو کا درجہ دیا جاتا ہے مگر اس سے مزدور کی طرح بیگار لی جاتی ہے؛ اسے بچوں کا ذہنی معمار تو کہا جاتا ہے مگر عملی طور پر اسے سروے، مردم شماری، پورٹل انٹری، آن لائن حاضری کی چیرہ دستیوں، دوپہر کے کھانے کی نگرانی اور سو سے زائد غیر تدریسی کاموں میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو روزانہ لاکھوں اساتذہ کی آنکھوں میں بے بسی اور دل میں مایوسی کی صورت میں نمایاں نظر آتا ہے۔
استاد کا اصل روپ وہی ہے جو کلاس روم میں کھڑا ہو کر کسی بچے کی آنکھوں میں علم کا دیا جلاتا ہے، جو کتاب کے ایک خشک اقتباس کو زندگی کا سبق بنا دیتا ہے اور جو مشکل ترین مسئلے کو کھیل ہی کھیل میں حل کر دکھاتا ہے؛ مگر آج یہ روپ دھندلا چکا ہے۔ آج کا استاد صبح سویرے جب اسکول پہنچتا ہے تو تدریس کے بجائے اسے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ڈیٹا فیڈ کرنا ہوتا ہے، اساتذہ کی موجودگی کی الیکٹرانک ڈائری بھرنی ہوتی ہے، آمد و رفت کے رجسٹر کو آن لائن اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے، مڈ ڈے میل کے معیار کی جانچ کرنی ہوتی ہے اور حکامِ بالا کے سرکاری خطوط کا جواب تیار کرنا ہوتا ہے۔ جب وہ ان تمام دفتری کاموں سے فارغ ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ چھٹی کی گھنٹی بج چکی ہے اور بچے گھروں کو جا چکے ہیں۔ اس دن اس نے ایک بھی بچے کو نہیں پڑھایا، ایک بھی ذہن کو روشن نہیں کیا اور ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ وہ اسکول آیا ضرور، مگر بطور معلم نہیں بلکہ ایک ایسی مشین کے بے جان پرزے کی طرح جو صرف بٹن دباتا ہے، فارم بھرتا ہے، رپورٹ جمع کراتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام کا ایک المناک ڈھانچہ بن چکا ہے۔ حکومت نے استاد کو ایک ایسا ہمہ گیر آلہ کار بنا دیا ہے جس سے بیک وقت متعدد متضاد خدمات لی جا رہی ہیں۔ کبھی وہ مردم شماری کے لیے جاسوس بنا دیا جاتا ہے، تو کبھی بجٹ کی دیکھ بھال کے لیے اسے محاسب کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ وہ سماجی کارکن بن کر غریب بچوں کی فہرستیں مرتب کرتا ہے، ہیلتھ ورکر کی حیثیت سے ویکسینیشن مہم کا حصہ بنتا ہے، اور سافٹ ویئر انجینئر کی طرح راتوں کو پورٹل پر ڈیٹا انٹری کرتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسکول کی تعمیر و مرمت کے وقت وہ ایک معمار کی طرح نگرانی کرتا ہے، اور مڈ ڈے میل کے اناج کا معائنہ کرتے ہوئے ایک کسان کا روپ دھار لیتا ہے۔ مگر کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہ سب دفتری کام کرنے کے بعد اس کے پاس اس اصل فریضے کے لیے کتنا وقت بچتا ہے جس کے لیے اسے اعلیٰ تعلیم اور تربیت دی گئی تھی؟ جواب بہت سادہ ہے کہ کچھ نہیں بچتا۔ وہ اپنی تدریسی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے انہیں رفتہ رفتہ بھولتا چلا جاتا ہے، اور جب کبھی ایسا موقع آتا بھی ہے کہ وہ واقعی پڑھائے، تو اس کا دماغ اتنے کاموں کے بوجھ سے اس قدر تھک چکا ہوتا ہے کہ وہ نہ تو کوئی نیا تعلیمی طریقہ کار سوچ پاتا ہے اور نہ کسی بچے کی ذہنی الجھن کو سمجھ پاتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیتیں روزانہ دفتری کاغذات تلے کچل دی جاتی ہیں، اور اس کا تدریسی جذبہ ہر اس فارم کے ساتھ دم توڑ دیتا ہے جسے وہ مجبوری میں بھرتا ہے۔
یہ المیہ محض پیشہ ورانہ نہیں، بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ ہے۔ ایک استاد کا اپنا گھر بار ہے، شریکِ حیات ہے، بچے ہیں اور بوڑھے ماں باپ ہیں جنہیں اس کی توجہ اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا اپنا ایک ذہن ہے جسے آرام اور مطالعے کی ضرورت ہے تاکہ وہ فکری ترقی کر سکے۔ اس کا ایک جسم ہے جسے نیند اور صحت درکار ہے۔ مگر آج کا استاد صبح سے شام تک اسکول کی غیر تدریسی ذمہ داریوں میں جکڑا رہتا ہے؛ شام کو گھر پہنچتا ہے تو اسے رات گئے تک پورٹل پر ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے، چھٹی کے دن اسے کسی نہ کسی تربیت یا سروے کے لیے بلا لیا جاتا ہے، اور تعطیلات میں اسے انتخابی ڈیوٹی یا مردم شماری پر لگا دیا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی لمحہ اب اس کا اپنا نہیں رہا۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کے اپنے بچوں کے امتحانات قریب ہیں مگر اسے اساتذہ کی ٹریننگ میں جانا ہے؛ وہ اپنی اہلیہ کی بیماری کا خیال رکھنا چاہتا ہے مگر اسے ضلع ہیڈکوارٹر میں رپورٹ جمع کرانی ہے؛ وہ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر چائے کا ایک کپ پینا چاہتا ہے مگر اسے صد فیصد حاضری کا ہدف پورا کرنے کے لیے گھر گھر جا کر طلبہ کو اسکول لانا ہے۔ اس کی ذات ایک ایسی مشین میں بدل چکی ہے جو صرف حکم مانتی ہے، کچھ سوچنے یا محسوس کرنے سے قاصر ہے۔ جب وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ "میں کون ہوں؟” تو اسے اندر سے جواب ملا کرتا ہے کہ "میں کلرک ہوں، میں سروے کرنے والا ہوں، میں رپورٹ رائٹر ہوں، میں نگران ہوں، میں سب کچھ ہوں مگر وہ معلم نہیں ہوں جو کلاس روم میں بچوں کی آنکھوں میں مستقبل کی کرن جگاتا ہے۔”
اور یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ نظامِ تعلیم کی بنیاد ہی مسخ ہو چکی ہے۔ ایک طرف حکومت تعلیم کے گرتے ہوئے معیار پر آنسو بہاتے ہوئے اعداد و شمار پیش کرتی ہے کہ ہمارے بچے پڑھنے لکھنے میں پیچھے ہیں، اور دوسری طرف وہی حکومت اساتذہ کے کندھوں پر غیر تعلیمی بوجھ کا پہاڑ لاد دیتی ہے۔ کیا کوئی پوچھتا ہے کہ جب استاد ایک گھنٹے میں سو طلبہ کا ڈیٹا پورٹل پر اپ لوڈ کر رہا ہے، تو اس کے پاس کلاس میں موجود بچوں کے علمی مسائل حل کرنے کا وقت کہاں سے آئے گا؟ کیا کوئی سوچتا ہے کہ جب استاد صفائی مہم کی نگرانی کر رہا ہے، تو اسے نصاب کے مشکل ابواب کو آسان بنانے کا موقع کب ملے گا؟ کیا کوئی غور کرتا ہے کہ جب استاد مڈ ڈے میل کا ریکارڈ مرتب کر رہا ہے، تو اس کے دل میں وہ جذبہ کہاں باقی رہے گا جو اسے ایک بچے کی زندگی بدلنے کی ترغیب دیتا ہے؟ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں استاد مسلسل گردش کرتا رہتا ہے، اور جب تھک کر گرتا ہے تو اسی پر مقدمہ چلایا جاتا ہے کہ اس نے نصاب مکمل نہیں کیا یا اس کے طلبہ کے نمبر کم ہیں۔ یعنی وہ جس نظام کا غلام ہے، وہی نظام آخر میں اسے سزا بھی دیتا ہے۔
یہاں ایک اور گہرا المیہ یہ ہے کہ استاد خود بھی اس فرسودہ نظام کا شکار ہوتے ہوئے اس کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دفتری کام بے معنی ہیں، مگر وہ انہیں کرتا ہے کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو اس کی تنخواہ روک دی جائے گی، اس کا تبادلہ کر دیا جائے گا، یا اس پر نااہلی کا الزام لگے گا۔ وہ جانتا ہے کہ پورٹل پر ڈیٹا غلط درج کیا جا رہا ہے، مگر اسے درست کرنے کا وقت نہیں ہوتا، اس لیے وہ تخمیناً ڈیٹا ڈال دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حاضری کا صد فیصد ہدف ناممکن ہے، مگر وہ اپنی رپورٹ میں فرضی اعداد و شمار لکھ دیتا ہے۔ یوں وہ ایک ایسے نظام کا حصہ بن جاتا ہے جو خود اپنے جھوٹ پر کھڑا ہے، اور پھر اس نظام کی سب سے کمزور کڑی وہی استاد ہوتا ہے؛ چنانچہ جب کوئی انتظامی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو اسی کی گردن پر تلوار گرتی ہے۔ اس کا کوئی محافظ نہیں، کوئی انجمن اس کی حقیقی مشکلات کو سمجھنے کو تیار نہیں اور کوئی تعلیمی پالیسی اسے ریلیف نہیں دیتی۔ وہ بالکل تنہا ہے، اور اس تنہائی میں وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
اگر ہم بین الاقوامی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں استاد کو اتنی غیر تدریسی ذمہ داریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ فن لینڈ میں استاد کا کام صرف تدریس اور نصاب کی ترقی ہے، جاپان میں استاد کو کلاس روم کی تیاری کے لیے مکمل وقت ملتا ہے اور سنگاپور میں انتظامی کاموں کے لیے علیحدہ عملہ متعین ہے۔ لیکن بھارت میں ہم نے اس فرق کو ختم کر دیا ہے، اور ایک استاد کو اس کے اصل منصب سے ہٹا کر کم تنخواہ پر متعدد کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بھارت میں تدریس کا معیار روز بروز گر رہا ہے، بچے بنیادی حساب اور پڑھائی میں پیچھے ہیں، اور جو بچے پڑھ بھی لیتے ہیں، ان میں تخلیقی سوچ مفقود ہے؛ کیونکہ استاد نے انہیں وہ سوچ دینے کا وقت ہی نہیں پایا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ ہم اساتذہ کی صلاحیتوں کو تباہ کر کے اپنے بچوں کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں، اور پھر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے طلبہ عالمی مقابلے میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اس المیے کا ایک اور دردناک پہلو استاد کی ذہنی صحت ہے۔ جب ایک انسان کو اس کے اصل منصب سے جدا کر دیا جائے، اسے ایسے کام دیے جائیں جو اس کی استعداد کے مطابق نہ ہوں، اور اسے مسلسل دباؤ میں رکھا جائے، تو وہ ذہنی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔ بھارتی اساتذہ میں ڈپریشن، تشویش اور بے چینی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں، کلاس روم میں بچوں پر اپنا غصہ نکالتے ہیں، اور بعض اوقات خودکشی جیسے بھیانک خیالات تک چلے جاتے ہیں، لیکن ان کا کوئی سننے والا نہیں ہے۔ ان کی بے بسی کو کوئی نہیں دیکھتا، ان کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں اور ان کی آہوں کو کوئی ریکارڈ نہیں کرتا۔ حکومت کو ان کی ذہنی صحت کی کوئی پروا نہیں، اسے صرف اعداد و شمار، رپورٹیں اور فارم چاہئیں۔ استاد کا وجود ان فارموں کے ڈھیر میں گم ہو جاتا ہے، اور جب وہ خود کو گم پاتا ہے تو وہ اپنے پیشے سے بھی مایوس ہو جاتا ہے۔
مگر کیا کوئی حل ہے؟ کیا اس گھمبیر نظام سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ راستہ ضرور ہے، بشرطیکہ ہم اپنی تعلیمی سوچ بدلیں۔ پہلا قدم یہ ہے کہ ہم استاد کے اصل فرائض کی دوبارہ حد بندی کریں۔ اسکول میں ایک علیحدہ انتظامی عملہ ہونا چاہیے جو تمام سرکاری پورٹلز، رپورٹس، سروے اور دفتری کارروائی انجام دے۔ استاد کا وقت کلاس روم کے اندر تدریس اور اس کی تیاری کے لیے تخصیص ہونا چاہیے۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ تمام غیر تدریسی ڈیوٹیوں، جیسے انتخابات، مردم شماری اور ویکسینیشن وغیرہ کے لیے اساتذہ کو استعمال کرنے کے بجائے ایک علیحدہ افرادی قوت کا پول بنایا جائے جس میں ان کاموں کے لیے تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔ تیسرا قدم یہ ہے کہ تعلیم کے ڈیجیٹل پورٹلز کو اتنا سادہ اور خودکار بنایا جائے کہ ان کو چلانے کے لیے اساتذہ کے قیمتی وقت کی ضرورت نہ پڑے۔ چوتھا قدم یہ ہے کہ اساتذہ کی کارکردگی کی جانچ صرف تدریسی معیار، طلبہ کی علمی ترقی اور کلاس روم کی مؤثر مشغولیت پر مبنی ہو، نہ کہ کاغذی کارروائی کی مقدار پر۔ اور پانچواں اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ حکومت اساتذہ کو ایک محترم پیشے کے طور پر دیکھے، نہ کہ ایک بیگار لینے والے آلے کے طور پر۔ استاد کو اس کا وقار واپس ملنا چاہیے، اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے کا سب سے اہم فرد ہے، کیونکہ وہی مستقبل کی تہذیب کا حقیقی معمار ہے۔
لیکن کیا یہ تبدیلیاں واقعی آئیں گی؟ یہ سوال ہر استاد کے دل میں ایک کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ وہ سالہا سال سے انہی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور کوئی سازگار تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی امیدیں ٹوٹ چکی ہیں، اس کا جذبہ مر چکا ہے، اور اب وہ ایک متحرک مشین کی طرح اپنی روزمرہ کی جبری مشقت کو ایک مجبوری کے طور پر قبول کر چکا ہے۔ مگر اس قبولیت میں ایک خاموش درد، ایک دبی ہوئی آہ اور ایک کربناک حقیقت چھپی ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو وہ کچھ نہیں دے پا رہا جو دینا چاہتا تھا۔ وہ بچے جو اس کے سامنے بیٹھتے ہیں، وہ شاید کبھی نہیں جان پائیں گے کہ ان کا استاد کس قدر باصلاحیت اور تخلیقی تھا، اور وہ انہیں کس قدر آگے بڑھا سکتا تھا؛ مگر نظام نے اسے روک دیا اور اس کے پر کاٹ کر رکھ دیے۔
یہ مضمون ایک آئینہ ہے، جس میں ہمیں اپنی تعلیمی پالیسیوں کا مسخ شدہ چہرہ دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں استاد محض ایک مشین ہو، یا ایک ایسا معاشرہ جہاں استاد ایک روشن مینار ہو؟ کیا ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو استاد کو تھکا کر رکھ دے، یا ایک ایسا نظام جو اسے نئی توانائی بخشے؟ جواب واضح ہے، مگر اس واضح جواب کو نافذ کرنے کے لیے سیاسی عزم, انتظامی اصلاحات اور سماجی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم استاد کو اس کا اصل مقام نہیں دیں گے، تعلیم کا سورج افق پر نہیں ابھرے گا۔ استاد آج چوبیس گھنٹوں کا ذہنی غلام بن چکا ہے، مگر یہ غلامی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کی غلامی ہے۔ کیونکہ ذہنی طور پر مغلوب استاد کبھی آزاد ذہن پیدا نہیں کر سکتا، اور ایسے بچے ایک کمزور قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر ہمیں واقعی ایک آزاد، روشن خیال اور ترقی یافتہ بھارت چاہیے تو ہمیں استاد کو آزاد کرنا ہوگا، اسے اس کے اصل کام پر لوٹانا ہوگا اور اسے اس کا جائز حق دینا ہوگا؛ ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے اپنے ہاتھوں اپنا مستقبل تباہ کیا۔ استاد کی آزادی ہی تعلیم کی آزادی ہے، اور تعلیم کی آزادی ہی قوم کی بقا اور شان کی ضمانت ہے۔ آئیے اس سچائی کو آنکھیں کھول کر دیکھیں، اور آج ہی اس المیے کو ختم کرنے کا عزم کریں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے