कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اللہ بچائے ان عدالتوں سے

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

آج ایک قریبی عزیز کے ایک معاملے کے سلسلے میں عدالت (کورٹ) جانے کا اتفاق ہوا۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں کسی عدالت میں داخل ہوا۔ اس سے پہلے عدالت کا نام تو بہت سنا تھا ویڈیوز اور خبروں میں اس کے مناظر بھی دیکھے تھے لیکن خود وہاں جا کر اس ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع کبھی نہیں ملا تھا۔
جیسے ہی عدالت کے احاطے میں داخل ہوا ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی۔ ہر طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔ کوئی جلدی میں ادھر سے ادھر جا رہا تھا کوئی اپنے کاغذات سنبھالے پریشان کھڑا تھا کوئی اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا تو کوئی خاموشی کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر چہرے پر ایک الگ کہانی لکھی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ کسی کے چہرے پر امید تھی کسی پر فکر کے آثار نمایاں تھے کوئی انصاف کا منتظر تھا اور کوئی اپنے حق کے حصول کے لیے دربدر پھر رہا تھا۔
الحمدللہ ہم جس مقصد کے لیے وہاں گئے تھے اللہ ربّ العزت نے اس میں کامیابی عطا فرمائی۔ اسی دوران میری ملاقات اپنے وکیل صاحب سے ہوئی۔ سلام و دعا کے بعد انہوں نے اچانک دریافت کیا آپ محمد عادل ارریاوی صاحب ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سن کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے میں آپ کے مضامین اور تحریریں پڑھتا رہتا ہوں ماشاء اللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔
یہ جملہ سن کر دل کو بے حد خوشی ہوئی۔ انسان جب کسی ایسے شخص سے اپنی تحریروں کی قدر دانی سنتا ہے جس سے اس کی پہلے کبھی ملاقات نہ ہوئی ہو تو یہ احساس مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری معمولی سی کاوش کو لوگوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
عدالت کے مختلف کمروں اور راہداریوں میں جاتے ہوئے وہ تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو ملے جو ہم عام طور پر صرف ویڈیوز میں دیکھا کرتے ہیں۔ کہیں جج صاحب مقدمہ سماعت فرما رہے تھے کہیں وکیل اپنے دلائل پیش کر رہے تھے کہیں گواہوں سے سوالات کیے جا رہے تھے اور کہیں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر اصرار کر رہے تھے۔ بعض لوگ خوشی کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے جبکہ کچھ کے چہروں پر مایوسی اور پریشانی نمایاں تھی۔
ایک لمحے کے لیے میں رک کر یہ سب دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ انسان جب باہمی محبت برداشت اور انصاف کا دامن چھوڑ دیتا ہے تو پھر اس کے معاملات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر وقت بھی صرف ہوتا ہے مال بھی خرچ ہوتا ہے اور ذہنی سکون بھی متاثر ہوتا ہے۔ بعض لوگ برسوں تک مقدمات کے چکر کاٹتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ انہی کشمکشوں میں گزر جاتا ہے۔
عدالت میں موجود ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش سے دوچار تھا۔ کسی کا خاندانی جھگڑا تھا کسی کا زمین کا تنازعہ کسی کا مالی معاملہ تھا اور کسی کا کوئی اور مسئلہ۔ ان سب کو دیکھ کر دل میں یہی احساس پیدا ہوا کہ اللہ ربّ العزت کی دی ہوئی عافیت واقعی بہت بڑی نعمت ہے۔ جب انسان سکون عزت اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو تو اسے اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہ نعمت ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی۔
عدالت کے اس مختصر سفر نے مجھے ایک بڑا سبق دیا کہ حتی المقدور جھگڑوں تنازعات اور اختلافات سے بچنا چاہیے۔ اگر معاملات افہام و تفہیم صبر و تحمل اور انصاف کے ساتھ حل ہو جائیں تو یہی سب سے بہتر راستہ ہے۔ عدالت بلاشبہ انصاف کے قیام کا ایک اہم ذریعہ ہے لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اگر معاملات خیرخواہی اور حکمت کے ساتھ حل ہو جائیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
واپسی کے وقت دل میں یہی دعا تھی کہ اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہر قسم کے جھگڑوں مقدمات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے باہمی محبت اور اتفاق نصیب فرمائے اور دنیا و آخرت کی عافیت سے مالا مال فرمائے۔ بے شک عافیت اللہ ربّ العزت کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جس نے دوسروں کو مشکلات میں مبتلا دیکھا ہو۔
اللّٰہم ارزقنا العفو والعافیۃ فی الدنیا والآخرۃ۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے