कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی کا زاویۂ نظر

بقلم: میم علی

بقول مرزا غالب ؎
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
زندگی ایک مسلسل بہتی ہوئی ندی کی مانند ہے جو کبھی پرسکون ہوتی ہے اور کبھی لہروں کے ساتھ اپنے راستے ہموار کرتی ہے۔ انسان جب اس ندی کے کنارے قریب سے دیکھتا ہے تو ہر لمحہ ایک چیلنج لگتا ہے، ہر چھوٹی ناکامی ایک پہاڑ اور ہر معمولی غم دل پر بوجھ کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ شاید ہر چیز اس کے خلاف ہے، ہر لمحہ ایک نئی مشکل لاتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ پریشانی اور اضطراب بڑھتا ہے۔
چھوٹے چھوٹے حادثات، معمولی پریشانیاں اور چھوٹے دکھ کبھی کبھار اتنے بڑے اور مشکل لگنے لگتے ہیں کہ انسان سوچنے لگتا ہے کہ شاید وہ انہیں برداشت نہ کر سکے۔ ہر نقصان اس کے دل میں ایک خالی جگہ چھوڑ دیتا ہے، ہر ناکامی اس کے حوصلے کو تھوڑا سا کمزور کر دیتی ہے اور ہر مسئلہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ زندگی کے اس لمحے پر غور کرے اور اپنے قدموں کو ثابت قدم رکھنے کی کوشش کرے۔
مگر جب انسان ایک قدم پیچھے ہٹ کر تھوڑی دوری اختیار کرتا ہے تو وہی دکھ اور پریشانیاں پہلو بدلتی نظر آنے لگتی ہیں۔ جو لمحہ کل ناقابلِ برداشت لگ رہا تھا، آج ایک یادگار تجربہ بن جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہر مشکل بھی ایک موقع تھی، ایک سبق تھی اور ہر لمحہ اسے کچھ نیا درس دینے کے لیے آیا تھا۔
زندگی کے ہر لمحے میں چھوٹے چھوٹے تجربات چھپے ہیں۔ انسان کا دل اور دماغ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات، امیدوں، چھوٹی خوشیوں اور گزرنے والے لمحوں کے ذریعے جڑتا ہے۔ ہر احساس، ہر چھوٹا لمحہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے اندر سکون، تحمل اور سمجھ پیدا کرے۔ وہ جانتا ہے کہ دکھ کے بغیر سکون کا اصل مزہ نہیں اور خوشی کے بغیر دکھ کو سہنا مشکل ہے۔ یہی تضاد زندگی کو خوبصورت اور معنی خیز بناتا ہے۔
انسان کی اصل قابلیت یہ ہے کہ وہ دکھ اور خوشی دونوں کو قبول کرے اور ہر لمحے کو دل اور دماغ کے ساتھ محسوس کرے۔ وہ جانتا ہے کہ صرف دکھ میں محصور رہنا اسے کمزور بنا دیتا ہے اور صرف خوشی میں محو ہونا اسے زندگی کے اہم پہلوؤں سے دور کر دیتا ہے۔ ہر لمحے میں تحمل، صبر، شکر اور غور و فکر شامل ہونا ضروری ہے تاکہ انسان اپنے اندر سکون اور تسلی پیدا کر سکے۔
زندگی کبھی مکمل دکھ نہیں ہوتی اور کبھی مکمل خوشی بھی نہیں۔ یہ دونوں پہلو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ انسان جب دونوں پہلوؤں کو سمجھتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک قسم کی پختگی محسوس کرتا ہے۔ وہ روتے ہوئے بھی مسکرا سکتا ہے اور ہنستے ہوئے بھی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔
ہر لمحہ انسان کے لیے ایک نیا تجربہ لاتا ہے۔ محبت انسان کو نرم دل بناتی ہے، ناکامی صبر اور تحمل سکھاتی ہے، دکھ انسان کو مضبوط بناتا ہے اور خوشی یاد دلاتی ہے کہ ہر لمحہ قابلِ قدر ہے۔ ہر تجربہ انسان کو مکمل بناتا ہے اور اسے زندگی کے ہر رنگ اور ہر حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔
انسان کی زندگی اتنی مختصر ہے کہ ہر لمحہ قیمتی ہے لیکن اتنی طویل بھی ہے کہ ہر لمحے میں نئے تجربات، نئے سبق اور نئے احساسات چھپے ہیں۔ یہی تضاد زندگی کو خوبصورت بناتا ہے اور انسان کو مضبوط، محتاط اور زندگی کے ہر لمحے کا قدر دان بناتا ہے۔
قریب سے دیکھیں تو یہ مشکلات اور کرب ہیں اور فاصلے سے دیکھیں تو یہ سبق، تربیت اور تجربات ہیں۔ یہی تضاد انسان کو مضبوط رکھتا ہے اور یہی تضاد اسے زندگی کی ہر رنگت، ہر لمحہ اور ہر تجربہ سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔
انسان جب ہر لمحے کو اسی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ اپنے دکھ، غم، خوشی اور کامیابی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہر رنج، ہر پریشانی اور ہر خوشی ایک لمحاتی تحفہ ہے جو اسے سنوارنے اور مضبوط بنانے کے لیے آیا ہے۔ وقت کے ساتھ ہر دکھ نصیحت میں بدل جاتا ہے، ہر پریشانی سبق میں اور ہر لمحہ ایک یادگار تجربے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
زندگی کے تعلقات اور انسانی تجربات بہت نازک دھاگوں کی مانند ہیں۔ یہ دھاگے محسوس ہوتے ہیں مگر انہیں کھل کر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انسان جب محتاط رہتا ہے، اپنے دل و دماغ کے اندر سوچ و غور کرتا ہے، تب وہ ان نازک لمحوں میں بھی سکون حاصل کر لیتا ہے۔ یہی محتاط نگاہ انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ ہر تعلق، ہر لمحہ، ہر احساس اپنی جگہ قیمتی ہے اور اس کی قدر اور حفاظت ضروری ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے ردِعمل اور اپنی خواہشات کو سمجھ کر قدم بڑھائے۔ ہر لمحہ اور ہر تعلق، چاہے وہ محبت یا دوستی ہو، انسان کے لیے موقع ہے کہ وہ غور کرے، سوچے اور اپنے اندر توازن پیدا کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان نہ صرف اپنے لیے سکون حاصل کرتا ہے بلکہ اپنے آس پاس کے ماحول کو بھی محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔
انسان جب اپنے جذبات کی قدر کرتا ہے، اپنے احساسات پر قابو پاتا ہے اور ہر تعلق کو احترام کے ساتھ دیکھتا ہے تب وہ زندگی کے ہر لمحے میں مضبوط، محتاط اور مستحکم رہتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں زندگی کے ہر رنگ، ہر لمحہ اور ہر تجربہ انسان کے لیے سبق اور رہنمائی بن جاتے ہیں۔
اگر زندگی کو کسی شاعر کی نظر سے دیکھیں تو ؎
زندگی کا فلسفہ بھی کتنا عجیب ہے غالب
شامیں کٹتی نہیں اور سال گزر جاتے ہیں
زندگی اصل میں ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے زندگی بیت جاتی ہے۔ ہر شخص کے پاس زندگی کی اپنی تعبیر ہے۔ جب زندگی سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
بقول سعادت حسن منٹو:
’’زندگی خود راستے بناتی ہے، راستے زندگی نہیں بناتے۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے