कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رحمتِ دو عالم ﷺ: ولادت سے وصال تک

خامہ بکف مفتی محمد انصار الحق

رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت مکہ مکرمہ میں اصحابِ فیل کے سال، راجح قول کے مطابق 9 ربیع الاول، بروز پیر، صبح صادق کے وقت قبیلہ بنو ہاشم میں ہوئی۔ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے عقیقہ کے بعد آپ کا نام محمد رکھا، جبکہ والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے احمد نام رکھا۔
آپ ﷺ کی ولادت سے قبل ہی والد محترم حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ چھ سال کی عمر میں والدہ اور آٹھ سال کی عمر میں دادا حضرت عبدالمطلب کا سایۂ شفقت بھی اٹھ گیا، جس کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپ کی پرورش کی۔ بچپن کا ایک حصہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھرانے میں گزرا۔
آپ ﷺ اپنی سچائی، دیانت اور امانت داری کی بنا پر صادق و امین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ سے نکاح فرمایا۔ ان سے حضرت قاسمؓ، حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت عبداللہؓ پیدا ہوئے، جبکہ حضرت ابراہیمؓ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے پیدا ہوئے۔
حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تقریباً پچیس سال ازدواجی زندگی گزاری۔ ان کی وفات کے بعد دیگر نکاح فرمائے، جن میں صرف حضرت عائشہؓ کنواری تھیں۔ آپ ﷺ کی عمر کے اڑتالیس یا انچاس سال میں حضرت ابو طالب اور چند دن بعد حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ اسی سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے۔
آپ ﷺ درمیانہ قد، روشن رنگ، نورانی چہرے، بڑی آنکھوں، گھنی داڑھی، چوڑے کندھوں اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔
بَلَغَ الْعُلَى بِكَمَالِهِ
كَشَفَ الدُّجَى بِجَمَالِهِ
حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِهِ
صَلُّوا عَلَيْهِ وَآلِهِ
پینتیسویں سال میں قریش نے خانۂ کعبہ کی تعمیرِ نو کی۔ حجرِ اسود نصب کرنے کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنی حکمت سے اختلاف ختم کروا کر تمام قبائل کو اس سعادت میں شریک فرمایا۔
چالیس سال کی عمر میں غارِ حرا میں حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر آئے اور آپ ﷺ منصبِ نبوت سے سرفراز ہوئے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو توحید، نیکی اور حسنِ اخلاق کی دعوت دی۔
نبوت کے تیرہ سال بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ وہاں اسلامی معاشرہ قائم کیا، مسجد نبوی تعمیر فرمائی اور دینِ اسلام کی تعلیم عام فرمائی۔ اس دوران بدر، احد اور خندق سمیت تقریباً ستائیس غزوات پیش آئے۔
20 رمضان 8 ہجری کو تقریباً دس ہزار صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ فتح فرمایا اور اپنے دشمنوں کو معاف کر کے رحمت، عدل اور حسنِ اخلاق کی بے مثال مثال قائم فرمائی۔
10 ہجری میں حجۃ الوداع ادا فرمایا اور امت کو بیش بہا نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔
جب دعوتِ دین مکمل ہو گئی اور عرب اسلام کے زیرِ نگیں آ گیا تو 29 صفر 11 ہجری کو آپ ﷺ جنت البقیع تشریف لے گئے۔ واپسی پر دردِ سر اور بخار شروع ہوا۔ مرض کے دوران حضرت فضل بن عباسؓ اور حضرت علیؓ کے سہارے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے حجرۂ مبارک میں تشریف لے گئے۔
بالآخر 12 ربیع الاول 11 ہجری، بروز پیر، چاشت کے وقت، تریسٹھ سال کی عمر میں آپ ﷺ اپنے محبوبِ حقیقی سے جا ملے۔ اس وقت آپ ﷺ کا سرِ مبارک حضرت عائشہؓ کے سینۂ مبارک سے لگا ہوا تھا۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ :::

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے