कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اندر کی عدالت

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

حارث ایک دیانت دار جج تھا۔ چند سال پہلے اس نے ایک خطرناک مجرم، بابر، کو قتل کے مقدمے میں سزا سنائی تھی، مگر ثبوتوں کی کمی کے باعث وہ اپیل میں بری ہوگیا۔ عدالت سے نکلتے ہی بابر نے سب کے سامنے حارث کو دھمکی دی۔
"جج صاحب! وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔”
یہ جملہ حارث کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ گیا، مگر اس نے قانون کے سوا کسی راستے کا سوچا بھی نہیں۔
چند برس بعد بابر ایک سڑک حادثے میں شدید زخمی ہوگیا۔ قسمت کا کھیل دیکھیے کہ اسے اسی نجی اسپتال لایا گیا جہاں حارث کا بیٹا، ڈاکٹر فہد، ملک کا معروف آرتھوپیڈک سرجن تھا۔
آپریشن سے پہلے ڈاکٹر فہد کو معلوم ہوا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے برسوں پہلے اس کے والد کی عزتِ نفس کو مجروح کیا تھا۔
آپریشن تھیٹر میں خاموشی طاری تھی۔ بابر بے ہوش پڑا تھا۔ ڈاکٹر فہد کے سامنے ایک ایسا موقع تھا کہ وہ معمولی سی غفلت سے مریض کو عمر بھر کے لیے معذور بنا سکتا تھا، اور کوئی اس کا راز نہ جان پاتا۔
اس کے ہاتھ چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
اس نے زیرِ لب کہا، "صرف ایک غلط کٹ… اور سارا حساب برابر۔”
پھر اچانک اس نے گہری سانس لی، آلہ درست جگہ رکھا اور پوری مہارت سے آپریشن مکمل کردیا۔
جب بابر کو ہوش آیا تو وہ چلنے کے قابل تھا۔
چند دن بعد ڈاکٹر فہد اس کے بستر کے قریب آیا اور بولا، "تم نے میرے والد کو ذلیل کیا تھا۔ آج میرے پاس بدلہ لینے کا پورا اختیار تھا، مگر میں نے اپنا پیشہ نہیں بیچا۔”
بابر حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
ڈاکٹر فہد نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا، "انتقام انسان کو لمحاتی سکون دیتا ہے، مگر کردار عمر بھر کی عزت۔ آج میں نے تمہیں نہیں، اپنے ضمیر کو جیتنے دیا ہے۔”
بابر کی آنکھوں سے پہلی بار ندامت کے آنسو بہہ نکلے۔ شاید یہی وہ سزا تھی جو کسی عدالت کے فیصلے سے بھی زیادہ سخت تھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے