कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ازدواجی محاذ کا گمنام مجاہد(مظلوم شادی شدہ شوہر کی داستانِ عزیمت)

A Portrait of Human Compassion: The Scars of Loneliness and a Cup of Tea

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اس تحریر کی اشاعت سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مقصد کسی بھی فریقِ ازدواج کی دل آزاری نہیں بلکہ اُن بے زبان، کم گو، صابر و شاکر اور تاریخ کے مظلوم ترین طبقے کے جذبات کی ترجمانی ہے جنہیں عرفِ عام میں "شادی شدہ شوہر” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں معاشرہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ چونکہ وہ روزانہ دفتر بھی جاتا ہے، بازار بھی جاتا ہے، بچّوں کی فیس بھی دیتا ہے اور گھر آ کر خاموشی سے سر ہلاتا بھی رہتا ہے، لہٰذا اسے کسی قسم کی ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا میں برداشت، مصلحت، خاموش سفارت کاری اور حالات کے مطابق فوری یوٹرن لینے پر کوئی اعزازی ڈگری دی جاتی تو اس کے اوّلین حق دار یہی حضرات ہوتے۔
مؤرخین نے بادشاہوں کے قصّے لکھے، شاعروں کے دیوان مرتب کیے، جرنیلوں کی فتوحات محفوظ کیں اور فلسفیوں کے اقوال جمع کیے، لیکن افسوس کہ اس عظیم طبقے کی خدمات کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا جو "میں نے کب کہا تھا؟” اور "میرا وہ مطلب نہیں تھا” جیسے جملوں کے سہارے اپنی ازدواجی کشتی کو طوفانوں سے نکالتا رہا۔ زیرِ نظر تحریر دراصل انہی گمنام جانبازوں کے نام ایک مختصر خراجِ تحسین ہے جنہوں نے گھریلو محاذ پر ایسی ایسی قربانیاں دی ہیں کہ اگر اُن کا ریکارڈ اقوامِ متحدہ میں جمع کروا دیا جائے تو صبر و برداشت کو باقاعدہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں شامل کرنا پڑ جائے۔
لہٰذا گزارش ہے کہ اس تحریر کو سنجیدہ سماجی تحقیق، ازدواجی نفسیات کی مستند دستاویز یا گھریلو تنازعات کے حل نامے کے طور پر نہ پڑھا جائے، بلکہ ایک مسکراہٹ، ایک قہقہے اور ازدواجی زندگی کی دل چسپ حقیقتوں کے آئینے کے طور پر ملاحظہ فرمایا جائے۔ واللّٰہُ اعلم بالصواب، اور باقی جو کچھ غلط ہے اُس کی ذمّہ داری حسبِ دستور محرر کی نہیں بلکہ حالات کی ہے۔ اب آئیے اُس عظیم، خاموش اور کم گو کردار سے ملاقات کرتے ہیں جس کی خدمات کا اعتراف نہ تاریخ نے کیا، نہ معاشرے نے، اور نہ ہی اکثر اوقات اُس کے اپنے گھر والوں نے۔ حالانکہ اگر صبر و برداشت کے کارنامے بھی تاریخ کے اوراق میں درج کیے جاتے تو اس شخصیت کا نام یقیناً سنہرے حروف میں لکھا جاتا۔
دنیا کی تاریخ میں بہت سے عظیم کردار گزرے ہیں۔ کسی نے میدانِ جنگ میں بہادری دکھائی، کسی نے علم و ادب کے چراغ روشن کیے، کسی نے سلطنتیں فتح کیں اور کسی نے فلسفے کی بنیاد رکھی۔ مگر ایک کردار ایسا بھی ہے جس کی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں کم ہی جگہ پا سکیں۔ وہ نہ تو فاتحِ عالم کہلایا، نہ کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا، نہ کسی انقلابی تحریک کا قائد۔ لیکن صبر، تحمل، برداشت اور خاموشی کے میدان میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ کردار ہے! شادی شدہ شوہر۔
شادی سے پہلے یہ ایک آزاد منش انسان ہوتا ہے۔ چائے میں چینی کتنی ڈالنی ہے، کپڑے کس رنگ کے پہننے ہیں، رات کو کب سونا ہے اور دوستوں کے ساتھ کب نکلنا ہے، یہ تمام فیصلے خود کرتا ہے۔ اس کی زندگی ایک خودمختار ریاست کی مانند ہوتی ہے جہاں دستور بھی اس کا اپنا اور فرمان بھی اس کا اپنا۔ پھر ایک دن قسمت کی عدالت میں اس کی پیشی ہوتی ہے۔ رشتے دار، بزرگ اور خیرخواہ مسکراتے ہوئے اسے "زندگی کے نئے مرحلے” میں داخل ہونے کی مبارک باد دیتے ہیں۔ اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ دراصل وہ آزادی کے باب سے نکل کر "مشترکہ انتظامی نظام” میں داخل ہو رہا ہے۔
شادی کے ابتدائی دنوں میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ دنیا واقعی جنّت ہے۔ ہر بات میں مسکراہٹ، ہر جملے میں محبت اور ہر گفتگو میں مٹھاس۔ لیکن آہستہ آہستہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف تعارفی کورس تھا، اصل نصاب تو ابھی باقی ہے۔ "پہلا سبق” یہ ملتا ہے کہ "میں ناراض نہیں ہوں” ایک ایسا جملہ ہے جس کا لغوی معنی کبھی نہیں لینا چاہیے۔ اگر بیگم محترمہ فرمائیں کہ "میں ناراض نہیں ہوں” تو دانشمندی کا تقاضا ہے کہ فوراً اپنی گزشتہ ایک ہفتے کی تمام حرکات و سکنات کا محاسبہ شروع کر دیا جائے۔
’’دوسرا سبق” یہ کہ سوال "میں کیسی لگ رہی ہوں؟” دنیا کا مشکل ترین امتحانی سوال ہے۔ یہاں سچ بولنا بھی خطرناک ہے اور جھوٹ بولنا بھی۔ شوہر بیچارہ ایک ماہر سفارت کار کی طرح الفاظ کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایک غلط لفظ کئی دنوں تک جاری رہنے والی سرد جنگ یا بھوک مری کے بہران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ شادی شدہ شوہر کی زندگی دراصل مسلسل تحقیق کا میدان ہے۔ وہ ہر روز نئی دریافت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ "اب آپ کی مرضی ہے” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ واقعی اس کی مرضی ہے۔ اسی طرح "جیسے آپ چاہیں” درحقیقت ایک پیچیدہ ادبی اور نفسیاتی معمہ ہے جسے آج تک بڑے بڑے مفکرین حل نہیں کر سکے۔
شادی شدہ شوہر کی زندگی کا ایک اہم علمی شعبہ "اشاراتی زبان” کی تفہیم بھی ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں کے ماہرین مل کر بھی ان چند جملوں کی صحیح تشریح نہیں کر سکتے جو بیگمات صرف ابرو کے ایک ہلکے سے خم یا ہونٹوں کی ایک مختصر جنبش سے ادا کر دیتی ہیں۔ شوہر بیچارہ برسوں کی ریاضت کے بعد اس مقام پر پہنچتا ہے کہ دروازہ ذرا زور سے بند ہونے کی آواز سن کر ہی اندازہ لگا لیتا ہے کہ آج خاموش رہنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ مظلوم شوہر کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ روزانہ کئی ایسے جرائم کی سزا بھگتتا ہے جو اس نے کیے ہی نہیں ہوتے۔ کبھی اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ تین سال پہلے فلاں تقریب میں اس نے فلاں جملہ کیوں کہا تھا، اور کبھی اسے اس بات پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ خواب میں بھی اس نے مناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔
یہ وہ واحد مخلوق ہے جو عدالت، پولیس، وکیل اور جج سب کے سامنے بے قصور ثابت ہو سکتی ہے، لیکن گھر میں اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتی۔ مظلوم شوہر کی یادداشت بھی عجیب امتحان سے گزرتی ہے۔ اسے اپنی سالگرہ یاد رہے یا نہ رہے، لیکن شادی کی سالگرہ، پہلی ملاقات کی تاریخ، پہلی پسندیدہ آئس کریم کا ذائقہ اور وہ تاریخی دن جب اس نے غلط رنگ کا سوٹ پہن لیا تھا، سب یاد ہونا چاہیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بیگمات کے پاس ان واقعات کا مکمل ریکارڈ محفوظ رہتا ہے، گویا انسانی حافظے کی بلیک باکس ٹیکنالوجی انہی کے پاس ایجاد ہوئی ہو۔
پھر بھی دیکھیے اس مردِ مجاہد کا حوصلہ! وہ ہر ماہ تنخواہ آنے پر خوشی خوشی اسے "قومی خزانے” میں جمع کرا دیتا ہے۔ وہ بازاروں میں گھنٹوں شاپنگ کے دوران ایسے چہل قدمی کرتا ہے جیسے کوئی محافظِ قافلہ صحرا میں سفر کر رہا ہو۔ وہ بیگ اٹھاتا ہے، بچّوں کو سنبھالتا ہے، گاڑی پارک کرتا ہے اور آخر میں یہ سن کر بھی مسکرا دیتا ہے کہ "آپ نے تو کوئی مدد ہی نہیں کی”۔ پھر ایک مرحلہ وہ آتا ہے جب شوہر کو گھر کی اشیاء کی قیمتوں پر تبصرہ کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اگر وہ کسی چیز کی قیمت سن کر صرف "اچھا!” بھی کہہ دے تو اس ایک لفظ کے دس مختلف مطلب نکال لیے جاتے ہیں۔ چنانچہ تجربہ کار شوہر آخرکار اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ خاموشی صرف عبادت ہی نہیں بلکہ ازدواجی زندگی میں بیلن سے حفاظتی ہیلمٹ کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
ادب کی دنیا میں اگر صبر کا کوئی استعارہ تلاش کیا جائے تو شاید شادی شدہ شوہر سے بہتر مثال نہ ملے۔ وہ خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں فلسفہ ہوتا ہے، اس کی خاموشی میں حکمت اور اس کی آہوں میں ایک مکمل داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی شدہ شوہر مظلوم ضرور ہوتا ہے مگر شکست خوردہ نہیں۔ وہ زندگی کی پیچیدگیوں سے لڑتا ہے، ذمّہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، گھر والوں کی خوشیوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے اور پھر بھی مسکراتا رہتا ہے۔ یہی اس کی اصل عزیمت ہے۔ لہٰذا تاریخ نویسوں کو چاہیے کہ وہ اس عظیم کردار کے لیے بھی چند صفحات مخصوص کریں۔ شاید آنے والی نسلیں جان سکیں کہ دنیا میں ایک ایسی ہستی بھی گزری ہے جو "ٹھیک ہے، میری غلطی تھی” کہہ کر کئی گھریلو بحرانوں کو ختم کر دیا کرتی تھی۔
اور اگر کبھی صبر و برداشت کا عالمی دن منایا جائے تو اس کے مرکزی مہمانِ خصوصی کے طور پر کسی فلسفی، سائنس دان یا سپہ سالار کو نہیں، بلکہ ایک تجربہ کار شادی شدہ شوہر کو مدعو کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نے وہ معرکے سر کیے ہوتے ہیں جن کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا، مگر جن کی گونج ہر گھر کی چار دیواری میں سنائی دیتی ہے۔ اور اسی چار دیواری میں ہی دفن ہو جاتی ہے۔ جدید سماجی محققین اگر کبھی شادی شدہ شوہروں پر سنجیدہ تحقیق کریں تو غالباً معلوم ہوگا کہ دنیا کے سب سے زیادہ سفارتی جملے اقوامِ متحدہ میں نہیں بلکہ گھروں میں بولے جاتے ہیں۔ "جی بالکل”، "آپ درست فرما رہی ہیں”، "میں نے ایسا کب کہا تھا؟” اور "میرا وہ مطلب نہیں تھا” جیسے جملے ازدواجی سفارت کاری کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر شادی شدہ شوہروں کی قوتِ برداشت کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکے تو کئی ترقی پذیر ممالک کے توانائی کے بحران ختم ہو جائیں۔ لیکن افسوس کہ یہ توانائی بھی دیگر گھریلو وسائل کی طرح گھر کے اندر ہی صرف ہو جاتی ہے اور قوم اس عظیم سرمایہ سے محروم رہتی ہے۔ سلام ہو اس مردِ درویش پر، جو ہر روز نئے امتحان دیتا ہے، ہر رات امن معاہدہ کرتا ہے، اور ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ اپنی ازدواجی مہم کا آغاز کرتا ہے۔ یہی ہے مظلوم شادی شدہ شوہر کی لازوال داستانِ عزیمت۔
اگر اس تحریر کو پڑھنے کے بعد کسی شادی شدہ شوہر کی آنکھ نم ہو جائے تو اسے جذباتی کمزوری نہ سمجھا جائے، عین ممکن ہے اسے اچانک اپنے ماضی کے وہ تمام ازدواجی معرکے یاد آ گئے ہوں جن میں وہ اخلاقی فتح حاصل کرنے کے باوجود عملی شکست سے دوچار ہوا تھا۔ اسی طرح اگر کسی بیگم کو اس تحریر کے بعض حصّوں میں مبالغہ محسوس ہو تو مؤدبانہ گزارش ہے کہ یہ محض ادبی صنعت ہے، کیونکہ شوہر حضرات کو اپنی مظلومیت بیان کرنے کے لیے ہمیشہ مبالغے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ آخر تاریخ میں کسی فاتح نے اپنی شکستیں اور کسی شوہر نے اپنی کامیابیاں کھل کر بیان نہیں کیں۔ مزید یہ کہ اس تحریر میں مذکور تمام کردار حقیقی ہیں، البتہ ان کے نام، مقامات اور ازدواجی نقصانات کو رازداری کے پیشِ نظر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
محرر کسی بھی ایسے شوہر کی شناخت ظاہر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا جسے یہ تحریر پڑھنے کے بعد گھر جا کر وضاحتیں دینی پڑ جائیں۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں اور اس تحریر میں اپنا عکس نظر آیا ہے تو اسے محض اتفاق نہ سمجھیے، کیونکہ دنیا کے تمام شادی شدہ شوہر بظاہر مختلف مگر اندرونی طور پر ایک ہی نصاب، ایک ہی امتحانی نظام اور تقریباً ایک ہی سوالنامے کے تحت زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ ابھی غیر شادی شدہ ہیں تو اس تحریر کو ایک تاریخی دستاویز، ایک احتیاطی ہدایت نامہ اور ایک تعارفی بروشر کے طور پر محفوظ کر لیجیے۔ ممکن ہے مستقبل میں یہ تحریر آپ کے لیے وہی اہمیت اختیار کر جائے جو سمندر میں قطب نما یا ریگستان میں نقشۂ راہ کی ہوتی ہے۔
اُن تمام شادی شدہ شوہروں کے لیے دعا ہے جو اس وقت بھی کسی بازار میں شاپنگ بیگ اٹھائے کھڑے ہیں، کسی ڈرائنگ روم میں مہمانوں کے سامنے مسکرا رہے ہیں، یا کسی سوال کے جواب میں صرف "جی بالکل” کہہ کر ایک نئے گھریلو بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے صبر میں مزید برکت عطاء فرمائے، ان کی سفارتی مہارتوں میں اضافہ فرمائے، اور انہیں ہر اس موقع پر بروقت خاموش رہنے کی توفیق عطاء فرمائے جہاں بولنے سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ آمین، ثم آمین۔
🗓 (20.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے