कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خالی کرسی

از قلم: عارف محمد خان، جلگاؤں

عابدہ نے آج پھر کھانے کی میز پر پانچ پلیٹیں رکھ دیں۔
چند لمحے بعد چونک کر ایک پلیٹ واپس اٹھا لی۔
"میں بھی کیسی ہوں…” وہ دھیمی آواز میں مسکرائی، مگر مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچ سکی۔
وہ پانچویں پلیٹ ہمیشہ حمزہ کے لیے لگاتی تھی۔
حمزہ… اس کا بڑا بیٹا، جو تین سال پہلے بہتر مستقبل کے خواب لے کر پردیس گیا تھا۔
شروع شروع میں ہر رات ویڈیو کال ہوتی۔ ہر خوشی، ہر پریشانی، ہر چھوٹی بڑی بات ماں سے شیئر کرتا تھا۔
پھر کالیں ہفتوں میں بدل گئیں۔
ہفتے مہینوں میں۔
اور مہینے خاموشیوں میں۔
آج صبح بھی عابدہ نے موبائل کئی بار دیکھا تھا۔
نہ کوئی پیغام، نہ کوئی کال۔
اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔
پڑوس کی شازیہ بیگم آئی تھیں۔
"باجی! مبارک ہو، حمزہ نے نئی گاڑی خرید لی ہے۔ فیس بک پر تصویر دیکھی ابھی۔”
عابدہ چونک گئی۔
"گاڑی؟”
انہوں نے فوراً موبائل کھولا۔
واقعی…
حمزہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ نئی گاڑی کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
تصویر کے نیچے سینکڑوں مبارکبادیں تھیں۔
مگر ماں کے نمبر پر ایک اطلاع بھی نہیں آئی تھی۔
عابدہ دیر تک تصویر دیکھتی رہیں۔
پھر خاموشی سے موبائل بند کر دیا۔
شام کو حسبِ معمول برآمدے میں رکھی پرانی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
وہی کرسی جس پر حمزہ بچپن میں ان کی گود میں سر رکھ کر کہانیاں سنا کرتا تھا۔
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
کرسی ہلکی سی ہلی۔
عابدہ نے خالی کرسی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولیں:
"بچے بڑے ہو جاتے ہیں…
مگر ماؤں کے انتظار کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔”
آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔
اور خالی کرسی پہلے سے زیادہ خالی لگنے لگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے