कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سبز جزیروں کا نوحہ:گریٹ نکوبار: ترقی، طاقت اور فطرت کے درمیان ایک فیصلہ

از قلم: اسماء جبین فلک

سمندر کی تہوں میں جب روشنی اترتی ہے تو وہاں ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے۔ مونگے کی چٹانیں (Coral Reefs)، رنگ برنگی مچھلیاں، سمندری کچھوے، اور ہزاروں برس کی خاموش تہذیب۔ بحرِ ہند کے نیلگوں پانیوں میں بسا گریٹ نکوبار (Great Nicobar) ایسا ہی ایک جزیرہ ہے جہاں فطرت آج بھی اپنی اصل زبان میں بولتی ہے۔ یہاں جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں، زمین کی سانس ہیں؛ سمندر صرف پانی نہیں، زندگی کا تسلسل ہے؛ اور انسان صرف رہائشی نہیں، اس ماحول کا حصہ ہیں۔
مگر آج یہی جزیرہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے باشندے نہیں بلکہ طاقت، سرمایہ اور ترقی کے تصورات کر رہے ہیں۔
حال ہی میں راہل گاندھی نے گریٹ نکوبار کا دورہ کیا۔ وہ سمندر کی گہرائیوں میں اترے، مونگے کی چٹانوں اور سمندری حیات کا مشاہدہ کیا، اور بعد ازاں "نکوبار میٹرز” (Nicobar Matters) کے نام سے ایک مہم شروع کی۔ اس مہم کا نعرہ تھا: "گرین اوور گریڈ” (Green Over Greed)، یعنی لالچ سے پہلے ہریالی۔
یہ محض ایک سیاسی مہم نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: کیا ترقی کے نام پر ہم اپنی قدرتی اور ثقافتی وراثت کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟
حکومتِ ہند گریٹ نکوبار میں ایک وسیع ترقیاتی منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے جس میں بندرگاہ، ہوائی اڈہ، سیاحتی مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ روزگار پیدا کرے گا، معیشت کو مضبوط بنائے گا اور بحرِ ہند میں ہندوستان کی تزویراتی حیثیت کو مستحکم کرے گا۔ سرکاری حلقوں کے مطابق یہ علاقہ ملاکا آبنائے (Strait of Malacca) کے قریب واقع ہونے کے باعث قومی سلامتی کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔
بظاہر یہ دلائل وزن رکھتے ہیں۔ ہر ملک کو ترقی درکار ہوتی ہے، روزگار درکار ہوتا ہے اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اس انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے کہ فطرت اور انسان دونوں محفوظ رہیں؟
گریٹ نکوبار کوئی خالی زمین نہیں جس پر نقشے کی چند لکیریں کھینچ کر ایک نیا شہر آباد کر دیا جائے۔ یہ دنیا کے اہم حیاتیاتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں گھنے برساتی جنگلات، نایاب پرندے، منفرد نباتات اور بے شمار سمندری مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ ماہرین اسے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کا ایک غیر معمولی خزانہ قرار دیتے ہیں۔
یہی وہ ساحل ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے سمندری کچھوے، لیدربیک ٹرٹل (Leatherback Turtle)، ہر سال ہزاروں میل کا سفر طے کرکے انڈے دینے آتے ہیں۔ یہی وہ سمندر ہے جہاں مونگے کی چٹانیں ہزاروں جانداروں کو پناہ فراہم کرتی ہیں۔ یہی وہ جنگلات ہیں جو نہ صرف زمین کو سرسبز رکھتے ہیں بلکہ موسمیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تعمیرات اس نازک ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مختلف ماہرین اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے کے بعض پہلوؤں پر نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ترقی ضروری ہے، لیکن ایسی ترقی جو آنے والی نسلوں کے حصے کا ماحول چھین لے، اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
تاہم اس پوری بحث کا سب سے اہم کردار شاید جنگل بھی نہیں اور سمندر بھی نہیں، بلکہ وہ انسان ہیں جو صدیوں سے اس سرزمین پر آباد ہیں۔
شومپن (Shompen) اور نکوباری (Nicobarese) قبائل کی زندگی اس جزیرے کے جنگلات اور ساحلوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی ثقافت، ان کی زبان، ان کی یادداشت اور ان کا طرزِ زندگی اسی ماحول سے جنم لیتا ہے۔ ایک شومپن بزرگ جب جنگل کی پگڈنڈی پر چلتا ہے تو وہ درختوں کو لکڑی کے ذخیرے کے طور پر نہیں دیکھتا۔ اس کے لیے وہ آباؤ اجداد کی نشانی ہیں۔ اس کے لیے جنگل ایک بازار نہیں، ایک گھر ہے۔
اگر جنگل بدل جاتا ہے تو صرف منظرنامہ نہیں بدلتا، ایک تہذیب بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے متعدد ماہرین، محققین اور سماجی کارکن اس منصوبے کے ماحولیاتی اور انسانی اثرات پر سنجیدہ بحث کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ شریکِ سفر بنایا جانا چاہیے۔
گریٹ نکوبار کا سوال دراصل ایک بڑے عالمی سوال کا حصہ ہے۔ آج پوری دنیا موسمیاتی بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، سمندری سطح میں اضافہ، جنگلات کی تیزی سے کٹائی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی ہمیں مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ فطرت کے ساتھ ہمارا رشتہ محض استعمال کا نہیں بلکہ بقا کا رشتہ ہے۔
ہندوستان کے مختلف حصوں میں بے قابو کان کنی، جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند ترقی کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں گرمی کی شدت، پانی کی قلت اور ماحولیاتی مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں گریٹ نکوبار کا معاملہ صرف ایک جزیرے کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ یہ اس سوچ کا امتحان بن جاتا ہے جس کے تحت ہم ترقی کی تعریف کرتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بندرگاہ بننی چاہیے یا نہیں، ہوائی اڈہ بننا چاہیے یا نہیں، یا سرمایہ کاری آنی چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا راستہ اختیار کر سکتے ہیں جس میں معاشی ترقی بھی ہو، قومی سلامتی بھی مضبوط ہو اور فطرت بھی محفوظ رہے؟
کیونکہ ترقی ضروری ہے، لیکن پائیدار ترقی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
جب آخری کچھوا اپنے انڈے دینے کے لیے ساحل تلاش کرے گا، جب کسی آدیواسی بچے کو اپنے بزرگوں کے جنگل کی جگہ کنکریٹ کی دیواریں نظر آئیں گی، اور جب سمندر کی تہہ میں پھیلی مونگے کی چٹانیں خاموشی سے مٹنے لگیں گی، تب شاید ہمیں احساس ہو کہ کچھ نقصان اعداد و شمار میں نہیں ماپا جا سکتا۔
صدیوں بعد ممکن ہے تاریخ کی کسی کتاب میں صرف ایک سطر باقی رہ جائے:
"یہاں کبھی گریٹ نکوبار نام کا ایک جزیرہ تھا، جہاں جنگلات سمندر سے باتیں کرتے تھے، کچھوے نسلوں کا سفر طے کرتے تھے، اور انسان فطرت کے ساتھ جینا جانتا تھا۔ پھر ایک دن ترقی وہاں پہنچی، اور بہت کچھ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔”
کچھ چیزیں دوبارہ بنائی جا سکتی ہیں، لیکن کچھ صرف ایک بار ملتی ہیں۔
گریٹ نکوبار بھی انہی نایاب امانتوں میں سے ایک ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے