कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کرنا کیا تھا، اور کر کیا رہے ہیں؟

تحریر:خمیسہ محمد جنید، پربھنی، مہاراشٹر
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
دنیا کی تاریخ میں قومیں صرف جنگوں، حملوں اور بیرونی سازشوں سے شکست نہیں کھاتیں، بلکہ بعض اوقات وہ اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنے رویوں کے ہاتھوں بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کسی معاشرے کے افراد اپنے مستقبل کی تعمیر کے بجائے ایک دوسرے کی کامیابیوں کا حساب رکھنے لگیں، جب ترقی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، اور جب اجتماعی مفاد پر ذاتی رقابتیں غالب آ جائیں، تو یہ کسی بھی قوم کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہوتا ہے۔ ایسی قومیں بظاہر زندہ رہتی ہیں، مگر ان کے اندر ترقی کی روح آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اگر آج ہندوستانی مسلم معاشرے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب اور افسوسناک تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہم تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری، معاشی کمزوری، سماجی نمائندگی کی کمی اور نئی نسل کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف ہماری ایک قابلِ ذکر توانائی ایک دوسرے پر نظر رکھنے، ایک دوسرے کی کامیابیوں کا تجزیہ کرنے اور بعض اوقات انہیں مشکوک بنانے میں صرف ہو رہی ہے۔
کسی نوجوان کو اچھی ملازمت مل جائے تو اس کی قابلیت سے زیادہ اس کے تعلقات زیرِ بحث آ جاتے ہیں۔ کوئی کاروبار میں ترقی کرے تو اس کی محنت اور جدوجہد سے زیادہ اس کی آمدنی گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔ کوئی سماجی یا تعلیمی میدان میں نمایاں ہو جائے تو اس کی خدمات سے زیادہ اس کی خامیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ گویا ہم کامیابی سے سبق لینے کے بجائے کامیاب شخص کا محاسبہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسا خاموش زہر ہے جو ہماری اجتماعی سوچ، ہمارے باہمی اعتماد اور ہماری قومی صلاحیتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہم کسی فرد کی کامیابی کو پوری قوم کی کامیابی سمجھنے کے بجائے اپنی محرومی کا اعلان سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ کسی بھی قوم کا ہر کامیاب فرد اس قوم کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے، کمی نہیں۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے کامیاب افراد کو قوم کا سرمایہ سمجھا۔ سائنس دان، تاجر، استاد، محقق، صنعت کار اور ماہرین ان کے لیے قومی اثاثے بنے۔ انہوں نے اپنے کامیاب لوگوں کو نیچے کھینچنے کے بجائے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا، ان کے لیے مواقع پیدا کیے اور ان کی کامیابیوں کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کیا۔ اسی رویے نے ادارے پیدا کیے، اداروں نے ترقی پیدا کی اور ترقی نے قوموں کو طاقت بخشی۔
اس کے برعکس زوال پذیر معاشروں میں ایک خطرناک ذہنیت جنم لیتی ہے:
"اگر میں آگے نہیں بڑھ سکا تو دوسرا بھی کیوں بڑھے؟”
یہ ذہنیت صرف افراد کے دلوں میں جلن پیدا نہیں کرتی بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی گروی رکھ دیتی ہے۔ جو معاشرے دوسروں کی کامیابیوں سے سیکھنے کے بجائے ان سے خوف کھانے لگیں، وہاں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑنے لگتی ہیں اور اجتماعی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ رزق کی کمی نہیں بلکہ مواقع سے بھرپور استفادہ نہ کر پانا، تعلیمی کمزوری، ہنر کی کمی، معاشی منصوبہ بندی کا فقدان اور اجتماعی ترجیحات کا انتشار ہے۔ ہمیں اس بات پر زیادہ غور کرنا چاہیے کہ ہمارے کتنے بچے اعلیٰ تعلیم تک پہنچ رہے ہیں، کتنے نوجوان کاروبار اور صنعت میں قدم رکھ رہے ہیں، کتنے ادارے تحقیق اور فکری قیادت پیدا کر رہے ہیں اور ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا بنیاد چھوڑ رہے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ان بنیادی سوالات کے بجائے ہم اکثر ان سوالات میں الجھ جاتے ہیں کہ فلاں شخص کے پاس کتنا سرمایہ ہے، فلاں کی ترقی کیسے ہوئی، فلاں کو یہ مقام کیوں ملا اور فلاں کو یہ سہولت کیسے حاصل ہوئی۔ یہ رویہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی سرمایہ، صلاحیت اور مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اسلام نے انسان کی اس کمزوری کی نشاندہی صدیوں پہلے کر دی تھی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ذریعے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔”
(سورۃ النساء: 32)
یہ آیت صرف حسد سے بچنے کی تلقین نہیں کرتی بلکہ انسان کو اپنی توجہ دوسروں کی نعمتوں کے بجائے اپنی ذمہ داریوں، اپنی محنت اور اپنی جدوجہد پر مرکوز رکھنے کا درس دیتی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔”
(سورۃ ہود: 6)
گویا رزق کے فیصلے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس ربِّ کریم کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے بندوں کی ضرورتوں، صلاحیتوں اور آزمائشوں کو ہم سب سے بہتر جانتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔”
یہ صرف روحانی نقصان نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت بھی ہے۔ جدید نفسیات اور طبی تحقیقات بتاتی ہیں کہ مسلسل موازنہ، جلن اور احساسِ محرومی ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن، اضطراب اور نفسیاتی عدم توازن کا سبب بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ رجحان مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لوگ دوسروں کی کامیابیاں دیکھتے ہیں لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے برسوں کی محنت، قربانیاں، ناکامیاں اور جدوجہد نہیں دیکھتے۔
ہمیں خود سے ایک دیانت دارانہ سوال پوچھنا چاہیے:
جب ہمارے ہزاروں نوجوان بہتر تعلیم کے مواقع تلاش کر رہے ہوں تو ہم ایک دوسرے کے رزق کا حساب رکھنے میں کیوں مصروف ہیں؟
جب ہماری قوم کو رہنمائی، تربیت اور کردار سازی کی ضرورت ہو تو ہم ایک دوسرے کی کردار کشی میں کیوں مصروف ہیں؟
جب ہمیں مضبوط ادارے بنانے کی ضرورت ہو تو ہم گروہ بندیوں اور رقابتوں میں اپنی توانائیاں کیوں ضائع کر رہے ہیں؟
جب ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے فیصلوں کا منتظر ہو تو ہم دوسروں کی کامیابیوں کے ترازو اٹھائے کیوں پھر رہے ہیں؟
تاریخ کا ایک اصول ہے کہ قومیں بیرونی رکاوٹوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں سے زیادہ شکست کھاتی ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت ترقی نہیں کر سکتا جب اس کے افراد ایک دوسرے کو آگے بڑھانے کے بجائے ایک دوسرے کو روکنے میں مصروف ہوں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیاب افراد سے حسد کے بجائے سیکھنے کا مزاج پیدا کریں، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، تعلیم اور ہنر کو ترجیح دیں، اجتماعی مفاد کو ذاتی رقابت پر فوقیت دیں اور اللہ کی تقسیم پر کامل اعتماد پیدا کریں۔ کیونکہ دوسروں کے رزق پر نظر رکھنے سے نہ ہمارا رزق بڑھتا ہے، نہ ہماری عزت، نہ ہماری صلاحیت۔ البتہ اس سے دل چھوٹے ہو جاتے ہیں، سوچ محدود ہو جاتی ہے اور قومیں اپنی اصل منزل سے دور ہو جاتی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے:
کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے علم، کردار، ادارے اور مواقع چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، یا حسد، رقابت اور باہمی بدگمانیوں کی ایک ایسی میراث جو انہیں مزید کمزور کر دے؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابیوں کا حساب رکھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا حساب لیں، دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بیدار کریں، اور ایک دوسرے کو نیچے کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ کیونکہ رزق کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں؛ لیکن قوموں کی تقدیر کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان کے افراد اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک سمجھتے اور ادا کرتے ہیں۔
اسی حقیقت کو شاعر نے یوں سمیٹا ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے، اپنی اصلاح کو دوسروں کی نگرانی پر ترجیح دے، حسد کے بجائے خیرخواہی کو اپنائے اور اپنی توانائیاں تعمیر میں صرف کرے، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری قوم ایک بہتر، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف قدم نہ بڑھا سکے۔
کیونکہ قوموں کی ترقی کا راستہ دوسروں کے رزق گننے سے نہیں، بلکہ اپنے فرائض پہچاننے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اجتماعی بھلائی کے لیے مل کر آگے بڑھنے سے ہموار ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو زوال سے عروج، انتشار سے اتحاد اور محرومی سے وقار کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے