कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی کے آخری حصے میں حج کا انتظار… دانشمندی یا غفلت؟

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی اورنگ آبادی
حال مقیم:بلڈنگ نمبر 1303 روم نمبر 207
ہوٹل اسفار الحجاز ٢ مکہ معظمہ
موبائل: 9325217306

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
“اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حج جیسی عظیم عبادت کو اکثر لوگ زندگی کے آخری مرحلے تک مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ عمومی ذہنیت یہ بن چکی ہے کہ پہلے دنیا کے تمام معاملات نمٹا لیے جائیں، گھر بن جائے، کاروبار مستحکم ہوجائے، بچوں کی تعلیم اور شادیاں مکمل ہوجائیں، پھر بڑھاپے میں حج کرلیا جائے گا۔ حالانکہ یہ سوچ نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ بسا اوقات انسان کو اس عظیم سعادت سے محروم بھی کردیتی ہے۔
آج مکہ مکرمہ میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے عمر رسیدہ حجاج سے ملاقات کے دوران بارہا یہ احساس شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ زندگی بھر “بعد میں حج کرلیں گے” کی سوچ انسان کو کتنے بڑے خسارے میں مبتلا کردیتی ہے۔
کئی بزرگ حجاج وہیل چیئر پر بیٹھے حسرت بھرے لہجے میں کہتے ہیں:
“کاش! جوانی میں آ گئے ہوتے…”
کسی کے پاس جوانی میں صحت بھی تھی، طاقت بھی تھی اور مالی استطاعت بھی، مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی دنیاوی مصروفیت حج پر ترجیح حاصل کرگئی۔ کسی نے سوچا پہلے گھر مکمل ہوجائے، کسی نے کہا پہلے کاروبار مستحکم ہوجائے، کسی نے بچوں کی شادیوں اور ذمہ داریوں کو مقدم رکھا۔ یہاں تک کہ عمر ڈھل گئی، جسم کمزور ہوگیا، بیماریاں بڑھ گئیں، اور اب عبادت کی وہ لذت، وہ توانائی اور وہ روحانی کیفیت باقی نہ رہی جو جوانی میں حاصل ہوسکتی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ حج صرف مالی عبادت نہیں، بلکہ یہ جسمانی اور روحانی مشقت کا مجموعہ ہے۔ طواف، سعی، منیٰ، عرفات، مزدلفہ، شدید گرمی، ہجوم، مسلسل چلنا، عبادات میں انہماک، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے صرف پیسہ کافی نہیں، بلکہ صحت، قوت اور حوصلہ بھی ضروری ہے۔ اور زندگی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مال، صحت اور وقت ہمیشہ ایک ساتھ جمع نہیں رہتے۔
جوانی میں انسان کے پاس طاقت ہوتی ہے مگر وہ دنیا کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ بڑھاپے میں کچھ مال آتا ہے تو جسم ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔ پھر انسان کے پاس صرف حسرتیں رہ جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے مسائل کبھی ختم نہیں ہوتے۔
ایک ضرورت پوری ہوتی ہے تو دوسری سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔
پہلے ملازمت کی فکر، پھر ترقی کی فکر، اس کے بعد شادی، پھر بچوں کی تعلیم، پھر گھر، پھر بچوں کی شادیاں، پھر مستقبل کے اندیشے… انسان پوری زندگی “ابھی نہیں، بعد میں” کے جال میں پھنسا رہتا ہے۔ شیطان بھی انسان کو یہی یقین دلاتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔
حالانکہ اسلام نے حج کی فرضیت کے لیے غیر معمولی مالداری شرط نہیں رکھی۔ استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس حج کے سفر اور واپسی تک کے اخراجات ہوں اور اس کی غیر موجودگی میں اہل و عیال کے ضروری اخراجات کا مناسب انتظام موجود ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان کے پاس لاکھوں روپے کی پرائیویٹ حج اسکیم کا بجٹ ہو۔ اگر ایک مسلمان حکومت کی عام حج اسکیم یا متوسط درجے کے انتظامات کے ساتھ حج کرسکتا ہے تو وہ صاحبِ استطاعت شمار ہوگا، اور اس پر حج کی فرضیت عائد ہوجائے گی۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات شادیوں پر حج سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ کئی خاندان لاکھوں روپے تقریبات، رسموں اور نمود و نمائش پر خرچ کردیتے ہیں، مگر حج کو مسلسل مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ یہ ترجیحات کا بحران ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی نسل میں اس حوالے سے ایک مثبت تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ آج مکہ مکرمہ میں بڑی تعداد میں نوجوان حجاج نظر آتے ہیں جو اپنی جوانی ہی میں اس فرض کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض اکیلے آئے ہیں، بعض اپنے والدین کو ساتھ لائے ہیں، اور بعض اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ ان نوجوانوں کی گفتگو میں ایک واضح دینی شعور محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“جب مجھ پر حج فرض ہوگیا تو اسے مؤخر کیوں کروں؟”
یہی سوچ دراصل اسلامی مزاج کے زیادہ قریب ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حج انفرادی فرض ہے۔ اگر ایک شخص اپنے والدین، بیوی یا بچوں کو بھی حج کرواتا ہے تو یہ بہت بڑی سعادت اور احسان کا درجہ رکھتا ہے، لیکن اصل فرض سب سے پہلے خود اپنے ذمہ ادا کرنا ضروری ہے۔
آج سے چند دہائیاں پہلے حج کا سفر انتہائی دشوار تھا۔ لمبے سمندری سفر، محدود سہولیات اور شدید مشقت کے باوجود لوگ حج کے شوق میں نکل پڑتے تھے۔ آج سفر آسان ہوگیا، ہوائی جہاز، ائیرکنڈیشنڈ بسیں، ہوٹل، جدید سہولیات سب میسر ہیں، مگر ہماری قوتِ برداشت کم ہوگئی ہے۔ اس لیے سہولتوں کے باوجود حج کی مشقت اپنی جگہ موجود ہے، خصوصاً عمر رسیدہ افراد کے لیے۔
انسان کو چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، طاقت اور مالی وسعت عطا فرمائے تو وہ اس عظیم عبادت میں تاخیر نہ کرے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کل صحت باقی رہے گی، فرصت ملے گی یا زندگی وفا کرے گی۔
کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو نیتیں کرتے رہے، منصوبے بناتے رہے، مگر اچانک بیماری، حادثہ یا موت نے مہلت ہی نہ دی۔ پھر صرف افسوس باقی رہ گیا۔
حج صرف ایک سفر نہیں، بلکہ بندے اور رب کے درمیان تعلق کی تجدید کا عظیم موقع ہے۔ جو شخص اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتے ہیں۔ بے شمار لوگ اپنی زندگی کے تجربات سے یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے اللہ پر بھروسہ کرکے حج کا ارادہ کیا تو ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں۔ اگر بندہ یقینِ کامل کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو تو اللہ تعالیٰ نہ صرف حج کی راہیں آسان فرماتے ہیں بلکہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی برکتیں عطا فرماتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حج کو “بڑھاپے کی عبادت” سمجھنے کے بجائے “زندگی کی ترجیح” بنائیں۔ کیونکہ جوانی کی عبادت، جوانی کی طاقت اور جوانی کا اخلاص انسان کے لیے آخرت کا عظیم سرمایہ بنتا ہے۔
اگر آپ ابھی تک حج ادا نہیں کرسکے ہیں تو سنجیدگی کے ساتھ اپنی استطاعت کا جائزہ لیجیے۔ دنیا کے ختم نہ ہونے والے منصوبوں کے درمیان اس فرضِ عظیم کو مسلسل مؤخر مت کیجیے۔ گھر، کاروبار، شادی، تعلیم اور دنیا کی دیگر ضروریات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اللہ کے گھر کی حاضری ان سب سے بڑھ کر ہے۔
ممکن ہے آج آپ کے پاس صحت ہو، وقت ہو، طاقت ہو اور موقع بھی…
کل ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو بروقت حج ادا کرنے کی توفیق، ہمت، اخلاص اور آسانی عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی زندگی کی ترجیحات کو دین کے مطابق ترتیب دینے کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے