कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانچہ:حسرتوں کے داغ

از قلم شیخ محمود علی
8055402819

پرانے لکڑی کے صندوق کو کھولتے ہوئے عالیہ بیگم کے ہاتھ ہلکے سے کانپ گئے۔ صندوق میں کپڑوں پرانی تصویروں زرد پڑ چکے عید کارڈز، پرانے خطوط اور کاغذوں کے درمیان ایک چھوٹا سا لفافہ رکھا تھا۔
انہوں نے آہستہ سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک تصویر تھی۔ تصویر کے پچھلے حصے پر دو مصرعے لکھے تھے
"خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں”
عالیہ بیگم تصویر کو دیر تک دیکھتی رہیں۔ تصویر میں وہ خود تھیں جوانی کے دن، چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خواب۔
وہ بے اختیار مسکرا دیں۔
"کیسی تھی میں…
جیسے کھلتا گلاب
جیسے اجلی کرن
جیسے بن میں ہرن
جیسے چاندنی رات
جیسے شاعر کا خواب…”
"جیسے شاعر کا خواب…”
وہ اسی مصرعے پر رک گئیں۔
ماضی کے گمشدہ راستے اچانک لوٹ آئے۔ دل ہی دل میں بولیں:
"آصف بھی تو مجھے دیکھ کر یہی غزل گنگنایا کرتے تھے…”
ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
پھر اچانک چہرے پر تلخی ابھری۔
وہ دل ہی دل میں اس مولانا کو کوسنے لگیں جس کے بیانات کا آصف پچھلے کچھ برسوں سے دیوانہ ہو چکا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ مولانا صاحب کچھ عرصے سے ہر تقریر میں کثرتِ ازواج ہی کو موضوع بنائے ہوئے تھے۔
ایک دن آصف سرکاری دورے سے چار دن بعد واپس آیا۔ عالیہ بیگم کو اس کے تیور کچھ بدلے بدلے محسوس ہوئے۔
باتوں باتوں میں آصف نے مسکراتے ہوئے ایک مشہور مزاحیہ جملہ سنایا
"بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہے جیسے آدمی وہاں خارش کرے جہاں خارش ہی نہ ہو رہی ہو۔”
یہ سنتے ہی عالیہ بیگم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"کیا کام کے یہ دانشور… اور کیا کام کے وہ مولوی… جو سماج سے خرافات ختم کرنے کے بجائے نئی خرافات پیدا کر رہے ہیں…”
وہ خاموش ہو گئیں۔
آہستہ سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بڑبڑائیں:
"کتنے خواب تھے…”
زندگی نے انہیں بہت کچھ دیا تھا گھر بچے عزت مگر کچھ خواہشیں ایسی تھیں جو وقت کی دھول میں دب گئیں۔ پڑھنے کا شوق کہیں دور سفر کرنے کی خواہش اور کبھی صرف اپنے لیے جینے کے چند لمحے
اسی دوران ان کی چھوٹی بیٹی کمرے میں آئی۔
"ممی، کیا دیکھ رہی ہیں؟”
عالیہ بیگم نے تصویر جلدی سے چھپا لی۔
"کچھ پرانی باتیں…”
بیٹی نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"ممی، باہر چلیں؟ آپ ہی تو کہتی تھیں نا کہ شام کا سورج بہت خوبصورت لگتا ہے… آپ بابا کے ساتھ چاندنی رات میں بھی تو ٹہلا کرتی تھیں…”
عالیہ بیگم خاموش رہیں۔ پھر آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
مگر دروازے تک پہنچتے پہنچتے ان کی نظر دوبارہ صندوق پر پڑی۔
اب انہیں سب معلوم ہو چکا تھا۔
آصف دوسری شادی کر چکا تھا۔
انہوں نے صندوق بند کیا۔
مگر اس بار صرف صندوق بند ہوا تھا حسرتیں نہیں۔
آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہنے لگے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خود سے کہہ رہی ہوں
"یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے
خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے”
"ہونٹوں کو سی چکے تو زمانے نے یہ کہا
یوں چپ سی کیوں لگی ہے، اجی کچھ تو بولیے…”
کچھ داغ وقت نہیں لگاتا…….
کچھ داغ انسان انسان کو دے جاتا ہے۔
ختم شد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے