कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستان کو چین کے مقابلے اینکر بنانے کی امریکی حکمت عملی

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

امریکہ کے دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ نے 30 مئی 2026 کو سنگاپور میں جاری شانگری لا ڈائیلاگ کے دوران پریس کانفرنس اور خطاب کیا۔ یہ خطاب محض ایک معمول کی تقریر نہیں تھا بلکہ اس میں امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی کی متعدد جہتیں نمایاں ہوئیں، جن میں ایران کے ساتھ جاری تناؤ، متضاد بیانات، چین کے جیوپولیٹکل اثرات اور انڈو پیسیفک خطے میں ہندوستان کی اہمیت شامل تھی۔ شانگری لا ڈائیلاگ، جو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام 2002 سے ہر سال منعقد ہوتا ہے، ایشیا پیسیفک کا سب سے باوقار دفاعی فورم سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کا بنیادی مقصد علاقائی ممالک کے درمیان فوجی شفافیت بڑھانا، اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینا، تنازعات کو کم کرنا اور مشترکہ چیلنجز جیسے بحری سلامتی، سائبر خطرات اور قدرتی آفات پر تعاون کے راستے تلاش کرنا ہے۔ اس سال کا اجلاس 29 سے 31 مئی تک جاری رہا جس میں دنیا بھر کے تقریباً چالیس سے زائد ممالک کے دفاعی وزرا، فوجی جرنیل اور ماہرین نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں انڈین اوشن کی سلامتی، چین کی بحری توسیع اور علاقائی توازن جیسے موضوعات پر خاص توجہ دی گئی۔ فورم کے اختتام پر کوئی بڑا حتمی معاہدہ تو سامنے نہیں آیا، البتہ متعدد اہم دوطرفہ( bilateral )اور ہمہ طرفہ یا کثیر طرفہ (multilateral) ملاقاتیں ہوئیں جن سے مستقبل کی حکمت عملیوں کی بنیاد رکھی گئی۔
ہیگسیتھ کا خطاب اس فورم کی ایک اہم سیشن میں ہوا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو’’pragmatic idealism‘‘کا نام دیا، یعنی عملی اور حقیقت پسندانہ مثال۔ خطاب کے دوران سب سے زیادہ توجہ ایران کے حوالے سے ان کے بیانات نے حاصل کی۔ انہوں نے ایک طرف واضح طور پر کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر capable یا اہل ہے اور اس کے عالمی فوجی ذخائر اس کے لیے موزوں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضروری ہوا تو امریکہ سخت پوزیشن میں ہے۔ مگر دوسری طرف انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ’’a great deal‘‘کرنا چاہتے ہیں، جو نہ صرف ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے بلکہ خطے میں استحکام بھی لائے۔ یہ بیانات متضاد لگتے ہیں کیونکہ ایک طرف سخت فوجی دھمکی تھی تو دوسری طرف سفارتی حل کی راہ بھی کھلی رکھی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی پالیسی کی روایتی حکمت عملی ہے جس میں دباؤ ڈال کر پھر فائدہ مند معاہدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
خطاب کا سب سے دلچسپ اور اہم حصہ ہندوستان کی تعریف تھی۔ ہیگسیتھ نے ہندوستان کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں ہندوستان ایک کریٹکل اینکر ہے۔ ان کے الفاظ تھے کہ’’A powerful India, acting in its own self-interest, advances our shared goal of maintaining a balance of power across the region.‘‘انہوں نے ہندوستان کی فوجی طاقت اور اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی بڑی ستائش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اپنی فوج کو جدید بنا رہا ہے تاکہ انڈین اوشن میں سیکیورٹی کا بوجھ اٹھا سکے۔ انہوں نے ہندوستان کی heavy industrial capacity، لاجسٹکس نیٹ ورک، امریکی بحری جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی صلاحیت اور مشترکہ پیداوار کے پروگراموں جیسے Javelin anti-tank missiles کا خاص ذکر کیا۔ ہیگسیتھ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ہندوستان defense manufacturing میں خودمختاری کی طرف بڑھ رہا ہے جو اسے علاقائی سطح پر زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ہندوستان کی فوجی صلاحیتیں جو ہیگسیتھ نے سراہیں ان میں انڈین اوشن میں بحریہ کی جدید کاری، INS Vikramaditya اور INS Vikrant جیسے aircraft carriers کی موجودگی، Agni-V intercontinental ballistic missile جیسی طویل فاصلے والی میزائلوں کی طاقت، BrahMos supersonic cruise missile، لاجسٹکس کی توسیع اور Atmanirbhar Bharat کے تحت defense industry کی ترقی شامل ہیں۔ ہندوستان اب نہ صرف اپنے دفاع کے لیے بلکہ علاقائی سطح پر طویل مدت کے فوجی آپریشنز کو سپورٹ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے۔
چین کے جیوپولیٹکل اثرات اس خطاب میں مرکزی موضوع رہے۔ ہیگسیتھ نے چین کی‘‘historic military buildup’’کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بحری توسیع، جنوبی چین سمندر میں مصنوعی جزائر، hypersonic missiles اور انڈین اوشن میں Gwadar اور Djibouti جیسے اڈوں کے ذریعے بڑھتا ہوا اثر و رسوخ علاقائی توازن کے لیے خطرہ ہے۔ چین نہ صرف فوجی طور پر بلکہ معاشی اور سفارتی طور پر بھی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیATIVE کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اپنا اثر بڑھا رہا ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ہندوستان کی اس خاص ستائش پر چین کا ردعمل بھی سامنے آیا۔ شانگری لا ڈائیلاگ میں چین نے اس سال بھی اپنے دفاعی وزیر کی بجائے کم سطح کے وفد بھیجا، جس کی قیادت میجر جنرل مینگ شیانگ چنگ نے کی۔چینی وفد اور تجزیہ کاروں نے امریکہ پر کھل کر تنقید کی کہ وہCold War mentalityاپنا رہا ہے اور ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیگسیتھ کا ہندوستان کی تعریف والا بیان دراصلChina containment strategyکا حصہ ہے۔ چین نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ علاقائی استحکام کو خراب کر رہا ہے اور Quad جیسے فورمز کے ذریعے ایشیا میں تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ چینی میڈیا نے اسے‘‘provocative and destabilizingقرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو اینکر بنا کر امریکہ دراصل چین کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، کچھ چینی تجزیہ کاروں نے اسے زیادہ اعتدال پسندانہ انداز میں دیکھا اور کہا کہ امریکہ-چین تعلقات حالیہ ٹرمپ-شی جن پنگ ملاقات کے بعد بہتر ہوئے ہیں، اس لیے یہ تعریف زیادہ جارحانہ نہیں بلکہ توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔
شانگری لا ڈائیلاگ میں روس-یوکرین جنگ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ماہرین نے اس جنگ سے حاصل ہونے والے سبق پر بات کی، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، جدید جنگی حکمت عملی، طویل مدت کی attrition warfare اور لاجسٹکس کی اہمیت پر۔ یورپی ممالک نے یوکرین کو جاری امداد پر زور دیا جبکہ کچھ ممالک نے خبردار کیا کہ یہ جنگ عالمی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔اسی طرح غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر بھی شدید بحث ہوئی۔ متعدد سیشنوں میں غزہ میں جاری انسانی بحران، شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں، غذائی قلت اور طبی امداد کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عرب ممالک نے اسرائیل کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ کاروں نے غزہ کی صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں بڑی عدم استحکام کا باعث قرار دیا اور اسے ایران کے ساتھ جاری تناؤ سے جوڑ کر دیکھا۔ ہیگسیتھ نے بھی اس معاملے پر بالواسطہ طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایران پر دباؤ ضروری ہے۔
اگر ہم ہندوستان اور چین کی فوجی طاقت کا موازنہ کریں تو صورتحال بہت دلچسپ بن جاتی ہے۔ چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے جس میں تقریباً بیس لاکھ سے زائد فعال فوجی ہیں جبکہ ہندوستان کے پاس چودہ لاکھ کے قریب فوجی ہیں۔ چین کا دفاعی بجٹ ہندوستان سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ J-20 stealth fighters، hypersonic missiles، جدید destroyers اور جنوبی چین سمندر میں مصنوعی جزائر بنا کر اپنی بحری طاقت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔
عالمی ماہرین اس خطاب کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔ Chatham House کے تجزیہ کار Chietigj Bajpaee کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات میں معاشی انحصار اور اسٹریٹجک عدم اعتماد دونوں موجود ہیں۔ Brookings Institution کی ایشلے ٹیلزکے مطابق ہندوستان امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے مگر روس سے ہتھیار خریداری اور BRICS، SCO جیسے فورمز میں چین کے ساتھ شرکت سے اپنی اسٹریٹج آٹونومی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی شراکت داری گزشتہ برسوں میں COMCASA، BECA، iCET اور 10 سالہ دفاعی فریم ورک جیسے معاہدوں کے ذریعے کافی مضبوط ہوئی ہے۔ ہیگسیتھ نے اس شراکت کو’’partners, not protectorates‘‘ قرار دیا یعنی دونوں ممالک برابر کی بنیاد پر کام کریں گے۔تنقیدی نظریے سے دیکھا جائے تو یہ امریکی حکمت عملی ہندوستان کو چین کے خلاف ایک proxy balancer کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ اگرچہ ہندوستان کو جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون کا فائدہ مل رہا ہے مگر اس کا ایک خطرہ بھی ہے کہ ہندوستان چین کے ساتھ براہ راست تصادم کی زد میں آ جائے۔ ہندوستان کی اسٹریٹیجک آٹونومی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے جو اسے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے سے روکتی ہے اور اسے لچکدار خارجہ پالیسی اپنانے کی اجازت دیتی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا یہ خطاب مجموعی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقت کا مظاہرہ، اتحادیوں سے زیادہ ذمہ داری کا مطالبہ اور منتخب پارٹنرز کی تعریف ایک ساتھ کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی حاصل کرے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے، مگر اسے احتیاط سے اپنی اسٹریٹیجک آٹونومی کو ہر حال میں محفوظ رکھنا ہوگا۔ ایران کے معاملے میں دھمکی اور معاہدے کی دوہری زبان جبکہ ایشیا میں ہندوستان جیسی طاقتوں کی تعریف یہ سب مل کر نئی عالمی ترتیب کا پیغام دیتا ہے کہ طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور ہندوستان اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہی تو انڈو پیسیفک میں استحکام بڑھ سکتا ہے، ورنہ خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اس شراکت کو اپنے قومی مفاد کے مطابق استعمال کرے اور بغیر کسی ایک طاقت کا محتاج بنے تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ یہ خطاب عالمی سطح پر یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اکیسویں صدی میں طاقت کا مرکز ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور ہندوستان اس نئی ترتیب میں اہم کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے