कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تابش ردولوی : روایت کے چراغ سے عہدِ حاضر کی روشنی تک

اردو ادب کے زندہ شعور، تہذیبی وابستگی اور فکری استقامت کا نمائندہ شاعر

از قلم:ڈاکٹر سید تابش امام

اردو شاعری کی تاریخ صرف شعری مجموعوں، دیوانوں اور ادبی کتابوں کی تاریخ نہیں بلکہ یہ برصغیر کے اجتماعی شعور، تہذیبی ورثے اور فکری ارتقا کی ایک روشن داستان بھی ہے۔ اس داستان میں ہر دور نے ایسے شاعروں کو پروان چڑھایا جنہوں نے اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھا، اپنے ماحول کے دکھ سکھ کو محسوس کیا اور اپنی تخلیقات کے ذریعے آنے والی نسلوں تک اپنے زمانے کی فکری اور تہذیبی کیفیت منتقل کی۔ اردو ادب کی بقا اور اس کی مسلسل ارتقائی قوت کا راز بھی انہی اہلِ قلم کی تخلیقی ریاضت میں پوشیدہ ہے جو روایت کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے ترجمان بھی ہوتے ہیں۔ معاصر اردو شاعری میں تابش ردولوی کا نام انہی سنجیدہ اور باوقار شعرا میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کے یہاں ادب، تہذیب، روایت اور عصری شعور ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
اتر پردیش کے تاریخی اور تہذیبی اعتبار سے اہم قصبہ ردولی سے تعلق رکھنے والے تابش ردولوی کا اصل نام محمد ہارون ہے۔ آپ کی پیدائش 5 اگست 1977 کو محلہ پورہ بساون میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی اور بعد ازاں لکھنؤ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے اور اسی میدان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شاعری کا آغاز 1991 میں اس وقت ہوا جب آپ درجہ نہم کے طالب علم تھے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف نے آپ کے ذوقِ تخلیق کو جِلا بخشی اور رفتہ رفتہ یہی شوق ایک باضابطہ ادبی سفر میں تبدیل ہو گیا۔
تابش ردولوی اردو شاعری کے اس دبستان سے وابستہ ہیں جس میں ادب کو محض تفریح یا جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے فکری تربیت، تہذیبی بیداری اور انسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت کا وقار بھی موجود ہے اور جدید دور کے مسائل و تقاضوں کا شعور بھی۔ یہی امتزاج ان کی تخلیقی شخصیت کو ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔
تابش ردولوی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، تاہم ان کا تخلیقی دائرہ صرف غزل تک محدود نہیں۔ ان کے یہاں نظم، نعت، منقبت، ادبی تاثر نگاری اور شخصیات و روایات سے متعلق منظومات بھی ملتی ہیں۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ شاعر نے اردو ادب کی کلاسیکی اور جدید روایت کو نہ صرف گہرائی سے پڑھا ہے بلکہ اسے اپنے فکری وجود کا حصہ بھی بنا لیا ہے۔ ان کے اشعار میں عشق و محبت کے روایتی مضامین کے ساتھ سماجی شعور، انسانی رشتوں کی نزاکت، وقت کی بے ثباتی، تہذیبی زوال اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا احساس بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔
ان کے کلام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ لفظی کرتب اور مصنوعی صنعت گری کے بجائے معنی کی گہرائی اور احساس کی صداقت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں جذبات کی شدت سے زیادہ فکر کی پختگی اور تجربے کی سچائی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام قاری کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ ان کے ہاں زبان کی شائستگی، بیان کی سلاست اور تہذیبی رکھ رکھاؤ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
تابش ردولوی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو اردو ادب سے ان کی بے پناہ محبت اور اس کے اکابرین سے ان کی قلبی وابستگی ہے۔ آج کے دور میں جب نئی نسل کا ایک بڑا حصہ اپنے ادبی ورثے سے دور ہوتا جا رہا ہے، تابش ردولوی اپنی شاعری کے ذریعے اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اردو ادب کی تاریخ محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جو حال کو شعور اور مستقبل کو سمت عطا کرتی ہے۔
اس حوالہ سے ان کی طویل نظم بہ معروف ” اُردو کی کہانی ، اُردو کی زبانی ” (مختصر تاریخ زبان اُردو ) خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ نظم اردو زبان و ادب کے ان نامور شعرا و ادبا کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے اردو ادب کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ نظم کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ شاعر صرف ناموں سے واقف نہیں بلکہ ان شخصیات کے ادبی کارناموں، فکری خدمات اور تاریخی حیثیت سے بھی گہری واقفیت رکھتا ہے۔
اس نظم میں شبلی نعمانی، پنڈت رتن ناتھ سرشار، مرزا ہادی رسوا، مولانا الطاف حسین حالی، اکبر الٰہ آبادی، علامہ محمد اقبال، فانی بدایونی، یگانہ چنگیزی، فراق گورکھپوری، پریم چند اور مرزا غالب جیسے اکابرینِ ادب کا ذکر نہایت احترام اور محبت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ شاعر نے ہر شخصیت کے کسی نہ کسی منفرد وصف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کام بظاہر آسان محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں انتہائی دشوار ہے کیونکہ چند مصرعوں میں کسی ادبی شخصیت کی فکری عظمت اور فنی انفرادیت کو سمیٹ دینا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔
تابش ردولوی اس امتحان میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں محض ناموں کی فہرست نہیں بلکہ شخصیات کا تعارف، ان کے ادبی مقام کا احساس اور ان کی خدمات کا اعتراف موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظم ایک سادہ منظوم تذکرے سے بلند ہو کر اردو ادب کی تاریخ کا شعری خاکہ بن جاتی ہے۔ دراصل یہ نظم شاعر کے وسیع مطالعے، ادبی شعور اور اردو روایت سے گہری وابستگی کا آئینہ ہے۔
تابش ردولوی کی شاعری کا ایک اہم وصف روایت اور جدت کے درمیان توازن ہے۔ وہ نہ تو محض ماضی پرستی کے اسیر ہیں اور نہ ہی ایسی اندھی جدت کے قائل جو ادب کی روح کو مجروح کر دے۔ ان کے یہاں روایت رہنمائی کا سرچشمہ ہے اور جدت اظہار کی نئی جہت۔ یہی اعتدال ان کے اسلوب کو دل کش اور پائیدار بناتا ہے۔
معاصر شعری منظرنامے میں جہاں بعض اوقات سطحی جذباتیت، فوری شہرت اور سوشل میڈیا کی مقبولیت ادبی معیار پر غالب آتی دکھائی دیتی ہے، وہاں تابش ردولوی کا شعری رویہ سنجیدگی، مطالعے اور فکری وابستگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے نزدیک شعر کہنے کا مقصد محض داد و تحسین حاصل کرنا نہیں بلکہ ادب کے ذریعے ایک فکری اور تہذیبی مکالمہ قائم کرنا ہے۔ یہی سنجیدگی ان کے فن کو دوام بخشتی ہے۔
ان کی ادبی سرگرمیاں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں، ادبی نشستوں اور شعری اجتماعات میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ادب کو معاشرے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاعری صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی عمل ہے جو لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے ادب اور سماج کے درمیان ایک مؤثر رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تابش ردولوی کی شاعری میں انسان دوستی، محبت، رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے عناصر نمایاں ہیں۔ ان کے ہاں اختلاف کے باوجود احترام کا جذبہ موجود ہے اور یہی وصف اردو کی اس روشن روایت کا تسلسل ہے جس نے ہمیشہ محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیا۔ ان کے اشعار میں ماضی کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے اور حال کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے۔
ان کی شاعری کا مطالعہ یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ وہ اردو زبان کے مستقبل کے حوالے سے حساس ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زبانیں صرف تعلیمی اداروں یا سرکاری سرپرستی سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کی بقا کا اصل انحصار ادبی تخلیقات، تہذیبی وابستگی اور اہلِ زبان کی محبت پر ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کی تخلیقات میں اردو زبان اور اس کے ادبی سرمائے سے محبت کا جذبہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
ادب کی دنیا میں وہی تخلیق کار دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں جو روایت سے اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے نئے زمانے کے سوالات کا سامنا کرتے ہیں۔ تابش ردولوی کی شاعری میں یہی توازن نظر آتا ہے۔ وہ ماضی کے چراغ سے روشنی حاصل کرتے ہوئے حال کے اندھیروں کو سمجھنے اور مستقبل کے امکانات کو روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج جب اردو ادب کو بدلتے ہوئے سماجی، تعلیمی اور ثقافتی حالات کے سبب نئے چیلنجز درپیش ہیں، ایسے شعرا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو اپنی تخلیقات کے ذریعے نئی نسل کو اس کے ادبی اور تہذیبی ورثے سے جوڑنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تابش ردولوی اسی مثبت رجحان کے نمائندہ شاعر ہیں۔ ان کا شعری سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ادب کی اصل قوت روایت سے وابستگی، مطالعے کی وسعت، فکری دیانت اور اظہار کی صداقت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
بلا شبہ تابش ردولوی کا شمار ان معاصر شعرا میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی ریاضت، ادبی وابستگی، تہذیبی شعور اور اردو زبان سے محبت کے ذریعے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کا فن اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ جو شاعر اپنی روایت سے جڑا رہتا ہے، وہی اپنے عہد سے مؤثر مکالمہ کر سکتا ہے۔ یہی وصف تابش ردولوی کی شاعری کو معاصر اردو ادب میں قابلِ توجہ، قابلِ مطالعہ اور قابلِ قدر بناتا ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے