कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خوفِ خدا والے دین کی ضرورت ہے

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

آج ہم اس دور میں یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہم میں کتنی تبدیلیاں، خرابیاں اور برائیاں سرایت کر چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی، اخلاقی اقدار کا فقدان، تہذیب و تمدن کی کمی، کسی کی عزتِ نفس میں کتر بیونت، اور ایک دوسرے سے الفت و محبت یہ ہم سے آہستہ آہستہ متروک اور کھسک رہی ہیں، اور اس کی جگہ نفرت، حسد، کینہ، قطع رحمی، انانیت، خود نمائی انسان میں تخلیق پا رہی ہے، جو خدائی دین سے ہم کو دور کر رہی ہے، جو ایک لمحۂ فکریہ اور تشویشناک بات ہے۔
جبکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اللہ کا فرمان ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اللہ کے پاس فوقیت اور برتری اسی کو ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو۔ جب امتوں میں بگاڑ اور اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے تو اللہ سے ڈر والا دین جاتا رہتا ہے، اور اس کی جگہ (Glamour) گلیمر اور نمائشی دین جگہ لیتا ہے، جس سے انسانیت کی ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔
جو اللہ کا خوف نہیں رکھتا، اسے ساری دنیا ڈراتی ہے، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، ساری دنیا اس سے ڈرتی ہے۔ ایک سنت مسواک کی ادا کرنے پر دشمنوں کے دلوں میں یہ خوف جاگتا ہے کہ وہ اب دانت تیز کر کے ہمیں کچا چبا دیں گے، تو سوچیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مکمل شریعت پر عمل پیرا ہونے سے کتنی سرخروئی اور کامیابی مقدر بنے گی۔
حدیث میں ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈالی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینکنے کو کہا اور فرمایا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ہم صدقہ کی چیز نہیں کھاتے۔ کتنا خوفِ خدا، کتنی پرہیزگاری اور کتنا تقویٰ! یہی اللہ کو مطلوب ہے۔
جس دین میں یہ لکھا ہو کہ انسان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، وہیں یہ بھی درج ہے کہ مومن کی عظمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ جب قوم و ملت میں تخریب کاری جنم لیتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ دین کی صورتیں اور اس کی تعلیمات مٹ جائیں، بلکہ وہاں خود نمائی اور گلیمر والا دین آ جاتا ہے۔ اور جب یہ خطرناک عناصر انسان میں (create) تخلیق پاتے ہیں تو انسان کے پاس عمل نہیں رہتا اور خدائے برتر کا خوف آہستہ آہستہ رخصت ہوتا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان ظاہری نمائش اور کمائی ہوئی دولت کو اپنی محنت اور چالاکیوں کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ مال و دولت اکٹھا کرنا چالاکیوں اور محنت کا سبب ہرگز نہیں۔ اللہ محنتِ بسیار کے باوجود مقسوم اور تقدیر میں جو لکھا ہے وہی آپ کو عطا کرتا ہے، ورنہ آج بڑے بڑے اور تعلیم یافتہ لوگ معاشی بحران کا شکار نہ ہوتے۔ اگر رزق کا تعلق چالاکیوں سے، تعلیم سے یا معلومات سے ہوتا تو اللہ (illiterate) ان پڑھ لوگوں کو اہلِ ثروت نہیں بناتا، میدان کے کھلاڑیوں کو کروڑ پتی نہیں بناتا، اور کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنہیں نوٹوں کی گنتی نہیں آتی اور نہ وہ موبائل میں ہندسوں کو سمجھتے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کی بھی قسمت بنائی ہے اور انہیں مالا مال کیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ نماز دین کا ستون ہے، اور جس نے اس کو قائم کیا، اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے اس کو ڈھایا، اس نے دین کو ڈھایا۔ نماز تمام برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ سے ڈر والے راستے پر ڈالتی ہے، جس سے خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔
جو لوگ دین پر عمل پیرا نہیں ہوتے، وہ اندر سے خالی اور بڑے بڑے نمائشی اعمال کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا دینی فریضہ انجام دے رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہی انسان جب اللہ کی طرف سے آسائش اور راحت میں ہوتا ہے تو وہ رب کو بھول جاتا ہے، اور جب تکلیف یا مصیبت میں ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے۔
چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے کہ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو، یعنی پرہیزگار اور خوفِ خدا رکھنے والا ہو۔
قربانی میں امتِ مسلمہ کو سب سے بڑا درس یہ ہے کہ پیارے بیٹے نے اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کرنے کو کہا، جبکہ یہ اللہ کی عظیم آزمائش تھی کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کریں، اور بیٹا اطاعت کے لیے تیار ہے۔ ہم قربانی تو کرتے ہیں لیکن اطاعت اور خوفِ خدا نہیں رکھتے۔
قربانی میں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری کا قوم و ملت کے نام ایک بڑا اور عظیم پیغام ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر سال لاکھوں جانور اللہ کی راہ میں اپنا سر کٹاتے ہیں، گویا کہ وہ اپنی زبان سے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دے جاتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں تو سر کٹا سکتے ہیں، کیا آپ اللہ کے سامنے اپنا سر خم نہیں کر سکتے؟ کیا آپ اپنے نفس کو قابو نہیں کر سکتے؟
گویا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرماں برداری اور اطاعت انسانی تاریخ کا روشن باب ہے، جس میں تسلیم و رضا اور فرزندی کا مثالی نمونہ ہے۔
اللہ ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری عطا فرمائے، آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے