कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گائے، سیاست اور ہندوستانی سماج کا بدلتا بیانیہ

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ ۔۔۔۔9934933992

ہندوستان اپنی تہذیبی رنگا رنگی، مذہبی تنوع اور گنگا جمنی ثقافت کے سبب دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے ماننے والے ایک مشترکہ سماجی فضا میں زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی جمہوری روح ہمیشہ رواداری، تکثیریت اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے وابستہ رہی ہے۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض ایسے مسائل کو سیاسی اور مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے جنہوں نے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی توجہ کو اصل مسائل سے بھی دور کر دیا ہے۔ گائے اور گاؤکشی کا مسئلہ انہی حساس موضوعات میں شامل ہے، جسے اب محض مذہبی عقیدت کے دائرے سے نکال کر سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ملک کے موجودہ حالات میں مسلم دانشوروں اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے گائے کو ’’راشٹریہ پشو‘‘ قرار دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس مطالبہ کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث نے شدت اختیار کر لی۔ بعض لوگوں نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ حکمراں جماعت کے رہنماؤں نے اسے غیر ضروری تنازع بتایا۔ مغربی بنگال سمیت بعض ریاستوں میں قربانی کے لئے گائے کی خرید و فروخت پر سختیوں نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ صرف پہلے سے موجود قوانین پر عمل کرا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ واقعی صرف قانونی عملداری تک محدود ہے یا اس کے پیچھے ایک وسیع تر سیاسی بیانیہ بھی کارفرما ہے؟
بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سید شہنواز حسین نے اس مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ’’چالاک مسلمان‘‘ گائے کو راشٹریہ پشو قرار دینے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب ہندو سماج گائے کو ’’ماتا‘‘ مانتا ہے تو پھر اسے ’’پشو‘‘ کیسے کہا جا سکتا ہے۔ یہ بیان بظاہر مذہبی عقیدت کے احترام کی بات کرتا ہے، مگر اس میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گائے ایک جانور ہے، بعد میں اسے مذہبی تقدس عطا کیا گیا۔ اگر گائے کے تئیں عقیدت اتنی ہی مضبوط اور خالص ہے تو پھر دودھ دینا بند کرنے یا عمر رسیدہ ہونے کے بعد یہی جانور سڑکوں پر بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیے جاتے ہیں؟ ذبیحہ خانوں تک پہنچنے والے مویشیوں کی بڑی تعداد انہی آوارہ گایوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں پالنے والے خود بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں گائے کے نام پر سیاست تو بہت ہو رہی ہے، مگر گائے کی حقیقی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہروں اور دیہاتوں میں آوارہ مویشی کسانوں کی فصلیں تباہ کر رہے ہیں۔ کسان رات بھر جاگ کر اپنی محنت کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی مقامات پر سڑک حادثات کا سبب بھی یہی بے سہارا جانور بنتے ہیں۔ اگر واقعی گائے کو مذہبی تقدس حاصل ہے تو اس کی دیکھ بھال، خوراک، علاج اور تحفظ کے لئے ایک مؤثر قومی پالیسی کیوں نہیں بنائی جاتی؟ حقیقت یہ ہے کہ گائے کا مسئلہ اب مذہبی احترام سے زیادہ سیاسی فائدہ کا ذریعہ بن چکا ہے۔
ہندوستان میں بیف اور مویشیوں کی تجارت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ان میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگ بھی شامل ہیں۔ چمڑا صنعت، مویشی پروری، گوشت کی تجارت اور متعلقہ کاروبار ملک کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ بیف کی برآمدات سے ہندوستان کو خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس پورے مسئلہ کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے گویا صرف ایک مخصوص مذہبی طبقہ ہی اس سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤ رکشا کے نام پر ہجومی تشدد، مارپیٹ اور قتل جیسے واقعات نے نہ صرف ملک کی داخلی فضا کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچایا۔
سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو اکثر سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ کہیں محض شبہ کی بنیاد پر لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے، کہیں مویشی لے جانے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں صرف افواہ انسانی جان لے لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی مہذب اور آئینی ملک میں ہجوم کو عدالت، پولیس اور انتظامیہ کا متبادل بننے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی اور مساوی انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر قانون موجود ہے تو اس پر عمل درآمد عدالت اور انتظامیہ کے ذریعہ ہونا چاہئے، نہ کہ مشتعل بھیڑ کے ذریعے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں ہندو سماج کے ایک بڑے طبقہ کے نزدیک گائے مذہبی احترام کا درجہ رکھتی ہے۔ اس جذباتی وابستگی کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا حسن بھی یہی رہا ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے جذبات کا لحاظ کرتے آئے ہیں۔ مسلمان بھی صدیوں سے اس ملک میں رہتے ہوئے سماجی حساسیت کو سمجھتے رہے ہیں۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی مذہبی عقیدہ کو سیاسی ہتھیار بنا کر دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی جائے۔
یہ بھی غور طلب حقیقت ہے کہ ملک میں گائے کے نام پر شدید سیاست کی جاتی ہے، مگر بھینس کے گوشت کی تجارت اور برآمدات پر اتنا شور نہیں سنائی دیتا۔ عام آدمی کے لئے گوشت کی اقسام میں فرق کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن سیاسی بیانیہ صرف گائے کے گرد گھومتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مقصد مذہبی جذبات سے زیادہ سیاسی پولرائزیشن پیدا کرنا ہے۔ انتخابات کے موسم میں ایسے مسائل کا اچانک موضوع بحث بن جانا بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آج ملک بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت، زرعی بحران اور معاشی نابرابری جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ نوجوان روزگار کے لئے پریشان ہیں، کسان قرض اور فصلوں کی تباہی سے عاجز آ چکے ہیں، مگر سیاسی مباحث کا مرکز اکثر مذہبی تنازعات بن جاتے ہیں۔ گائے، مندر، مسجد، حجاب اور دیگر حساس موضوعات عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باشعور حلقے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی معاملات کو سیاست کا ذریعہ بنانے کے بجائے ترقی، تعلیم اور سماجی انصاف پر توجہ دی جائے۔
مسلمانوں کے ایک طبقہ کی جانب سے گائے کو ’’راشٹریہ پشو‘‘ قرار دینے کا مطالبہ دراصل ایک علامتی احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد شاید یہ پیغام دینا ہے کہ اگر گائے واقعی اتنی محترم ہے تو پھر اس کے نام پر سیاست، نفرت اور تشدد بند ہونا چاہئے۔ لیکن اس مطالبہ سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں نفرت اور عدم اعتماد کی بڑھتی ہوئی فضا کو کم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں؟ کیا سیاسی قیادت سماج کو جوڑنے کا کردار ادا کر رہی ہے یا تقسیم کی سیاست کو مزید ہوا دی جا رہی ہے؟
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں سماجی ہم آہنگی صرف قانون سازی سے برقرار نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے لئے سیاسی سنجیدگی، سماجی شعور اور ذمہ دارانہ قیادت ناگزیر ہے۔ افسوس کہ حالیہ برسوں میں مذہبی جذبات کو اس انداز میں استعمال کیا گیا ہے کہ معاشرہ بتدریج ذہنی تقسیم اور عدم اعتماد کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ گائے کے مسئلہ پر بھی سنجیدہ مکالمہ کے بجائے جذباتی نعروں اور اشتعال انگیز بیانات نے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حساس مسئلہ کو سیاسی مفاد کے بجائے آئینی، معاشی اور سماجی تناظر میں دیکھا جائے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستانی آئین کسی ایک مذہب یا طبقہ کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ تمام شہریوں کو مساوی حیثیت دیتا ہے۔ اگر ایک طرف اکثریتی طبقہ کے مذہبی جذبات کا احترام ضروری ہے تو دوسری طرف اقلیتوں کے آئینی حقوق، ان کے روزگار اور جان و مال کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایک جمہوری ملک میں ریاست کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ کسی مخصوص مذہبی بیانیہ کا حصہ بن جائے بلکہ اس کا اصل فرض انصاف، توازن اور آئینی اقدار کی پاسداری ہے۔
بدقسمتی سے گائے کے نام پر ہونے والی سیاست نے بعض علاقوں میں سماجی خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ دیہی معیشت سے وابستہ کسان، مویشی پالک اور چمڑا صنعت سے جڑے مزدور بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئے ہیں۔ کئی ریاستوں میں آوارہ مویشیوں کی بڑھتی تعداد زرعی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت جذباتی نعروں کے بجائے عملی پالیسی مرتب کرے تاکہ ایک طرف مذہبی احترام برقرار رہے اور دوسری طرف معاشی و سماجی مسائل کا بھی حقیقت پسندانہ حل نکل سکے۔
ہندوستان کی طاقت ہمیشہ اس کی گنگا جمنی تہذیب رہی ہے۔ یہاں مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی جذبات کا احترام باہمی اعتماد اور آئینی حدود کے اندر کیا جائے۔ نہ کسی کو اکثریتی طاقت کے نشے میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی جانی چاہئے اور نہ ہی کسی مسئلہ کو اس انداز میں اچھالا جانا چاہئے جس سے سماجی کشیدگی بڑھے۔
گائے اگر واقعی ہندوستانی تہذیب میں ایک اہم مقام رکھتی ہے تو اس کا احترام محض نعروں اور سیاسی جلسوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہونا چاہئے۔ آوارہ مویشیوں کے لئے بہتر انتظام، کسانوں کو تحفظ، گاؤ شالاؤں کی شفاف نگرانی، اور جانوروں کے تئیں حقیقی ہمدردی ہی اس احترام کا ثبوت ہو سکتی ہے۔ ورنہ صرف انتخابی موسم میں گائے کے نام پر جذبات بھڑکانا اور پھر مسئلہ کو فراموش کر دینا محض سیاسی منافقت محسوس ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں خوف اور نفرت کے ماحول کے بجائے اعتماد اور انصاف کی فضا قائم کی جائے۔ ہر شہری کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کا مذہب، اس کی جان اور اس کا روزگار محفوظ ہے۔ آئین ہند کی روح بھی یہی ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور قانون سب کے لئے یکساں ہو۔ اگر ہم واقعی ہندوستان کو ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور پرامن ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہبی تنازعات کی سیاست سے اوپر اٹھ کر انسانیت، انصاف اور جمہوری اقدار کو ترجیح دینا ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تکثیری شناخت اور گنگا جمنی تہذیب میں مضمر ہے۔ اگر سیاست نفرت کے بجائے اعتماد، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر کی جائے تو یہی ملک دنیا کے سامنے جمہوری رواداری کی سب سے بڑی مثال بن سکتا ہے۔ گائے کے مسئلہ پر جاری بحث بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ مذہبی جذبات کے احترام کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، آئینی اصولوں اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اختلافات کو تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور تدبر کے ذریعہ حل کرتی ہیں۔ ہندوستان کو بھی آج اسی راستہ کی ضرورت ہے جہاں مذہب سیاست کا ہتھیار نہیں بلکہ اخلاقی قدروں، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کا ذریعہ بنے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close