कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کنوارہ نامہ: کنواروں کا سماجی دُکھڑا

The Bachelor’s Chronicle: A Social Lament

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

دنیا میں انسانوں کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں۔ کوئی فلسفی ہوتا ہے، کوئی شاعر، کوئی عاشقِ مزاج، کوئی کاروباری ذہن کا مالک، اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جسے ہر وقت یہی فکر کھائے جاتی ہے کہ "چائے کے ساتھ بسکٹ مفت کیوں نہیں ملتے؟” مگر ان تمام اقسام میں سب سے پراسرار، سب سے حساس، اور سب سے زیادہ زیرِ بحث مخلوق "کنوارے” ہوتے ہیں۔ کنوارہ بظاہر ایک عام انسان دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر جذبات، خواب، اندیشے، دعائیں، آہیں، بجٹ، اور رشتہ دیکھنے والی خالاؤں کا ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔ معاشرے میں اس کی حیثیت عجیب ہوتی ہے۔ شادی شدہ لوگ اسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ ابھی تک "پریکٹیکل زندگی” میں داخل نہ ہوا ہو، جب کہ بچّے اسے "انکل” کہہ کر اس کی آخری امیدوں پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں۔
ویسے تو کنوارہ صرف ایک ہی ہوتا ہے، مگر تحقیق، تجربہ، مشاہدہ، اور محلے کی آنٹیوں کی معلومات کے مطابق کنواروں کی کئی اقسام ہیں۔
رومانوی کنوارہ:
یہ وہ کنوارہ ہوتا ہے جو ہر وقت شاعری، چاندنی راتوں، بارش کی بوندوں اور اداس گانوں کی دنیا میں کھویا رہتا ہے۔ اس کی زندگی بظاہر عام ہوتی ہے، مگر دل کے اندر ایک مکمل فلمی کائنات آباد ہوتی ہے۔ جیب میں چاہے کرائے کے پیسے نہ ہوں، لیکن موبائل محبت بھرے اشعار، اداس اسٹیٹس اور ٹوٹے دل والی شاعری سے ضرور بھرا ہوگا۔ یہ عموماً رات کے دو بجے سوشل میڈیا پر کوئی درد بھرا جملہ لکھتا ہے، مثلاً "کچھ لوگ قسمت میں نہیں ہوتے، صرف اسٹیٹس میں ہوتے ہیں۔” اس کے دوست سمجھتے ہیں کہ شاید کسی نے دل توڑ دیا ہے، حالانکہ اکثر اوقات ابھی تک کسی نے دل پکڑا ہی نہیں ہوتا۔
رومانوی کنوارہ ہر شادی میں عجیب سی اداسی محسوس کرتا ہے۔ دلہا کو اسٹیج پر بیٹھا دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ہے، پھر خاموشی سے پلیٹ میں بریانی ڈالتے ہوئے دل ہی دل میں کہتا ہے: "یا اللّٰہ! ہمارا نمبر کب آئے گا؟” بارش ہو تو یہ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر پرانے گانے سنتا ہے، چاند نکل آئے تو فوراً شاعرانہ موڈ میں آجاتا ہے، اور اگر کسی دوست کی منگنی کی خبر مل جائے تو چند لمحوں کے لیے فلسفی بھی بن جاتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اس کے دل میں امید کی ایک شمع ہمیشہ روشن رہتی ہے کہ ایک دن اس کی زندگی میں بھی کوئی آئے گا جو اس کے اداس اسٹیٹس کو حقیقت میں بدل دے گا۔
مذہبی کنوارہ:
یہ وہ کنوارہ ہوتا ہے جو زندگی کے ہر معاملے میں حکمت، صبر اور تقدیر کا پہلو تلاش کرتا ہے۔ گفتگو ایسی سنجیدہ اور مدلل کرتا ہے کہ سننے والا چند لمحوں کے لیے یہ بھول جاتا ہے کہ اصل موضوع شادی تھا یا کسی دینی کانفرنس کا خطاب۔ جب لوگ اس سے پوچھتے ہیں: "بھائی! شادی کب کر رہے ہو؟”
تو وہ فوراً نہایت وقار سے جواب دیتا ہے: "رزق، موت اور شادی اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔”
یہ جملہ وہ اتنے اطمینان سے کہتا ہے جیسے اسے دنیا کی کوئی فکر ہی نہ ہو، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اندر ہی اندر دل کی کیفیت کچھ اور ہی چل رہی ہوتی ہے۔ ہر جمعہ کے بعد دعا میں خاص خشوع پیدا ہوجاتا ہے، اور "ربِّ ہب لی…” والی دعائیں پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ مانگی جاتی ہیں۔
مذہبی کنوارے کی ایک خاص عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر رشتے کو نہایت باریک بینی سے پرکھتا ہے۔ والدین بڑی محنت سے کوئی مناسب رشتہ ڈھونڈ کر لاتے ہیں، مگر حضرت فوراً کسی نہ کسی "شرعی” یا "اصولی” نکتے کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں: "پردے کا معیار کچھ کمزور محسوس ہوا…” اور کبھی فرماتے ہیں: "بات چیت میں دنیا داری زیادہ لگی”۔ یوں والدین رشتے تلاش کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، مگر صاحب ابھی تک "مناسب، باحیا، باعمل اور مزاجاً موافق” شریکِ حیات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کنوارہ دوسروں کو نکاح کی فضیلت پر بہترین نصیحتیں بھی کرتا رہتا ہے۔ کسی دوست کی شادی ہو تو سب سے پہلے مبارکباد یہی دیتا ہے اور بڑے اخلاص سے کہتا ہے: "بھائی! نکاح آدھا ایمان ہے”۔ البتہ جب دوست مسکرا کر جواب دے: "تو پھر آپ اپنا آدھا ایمان کب مکمل کر رہے ہیں؟”۔ تو حضرت فوراً پانی کا گلاس اٹھا کر موضوع بدل دیتے ہیں۔
معاشی کنوارہ:
یہ وہ بے چارہ کنوارہ ہوتا ہے جو شادی کے خلاف بالکل نہیں ہوتا، بلکہ دل سے چاہتا ہے کہ اس کے گھر بھی ایک دن شہنائیاں بجیں، مگر مہنگائی ہر بار اس کے ارمانوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کی محبت سے زیادہ مضبوط چیز اگر کوئی ہوتی ہے تو وہ ماہانہ بجٹ ہوتا ہے۔ اس کے خوابوں میں دلہن کم اور اخراجات زیادہ آتے ہیں۔ جہاں دوسرے لوگ چاند، ستارے اور رومانوی تصورات میں کھوئے رہتے ہیں، وہاں یہ صاحب رات کو لیٹے لیٹے ذہن میں حساب لگاتے رہتے ہیں: شادی ہال: دو لاکھ
بریانی: ایک لاکھ
سونے کا سیٹ: تین لاکھ
فرنیچر: الگ
ہنی مون: خواب میں بھی مہنگا
اور بعد کی زندگی… "اللّٰہ مالک!”
یہ کنوارہ اکثر جیب میں کیلکولیٹر سے زیادہ امیدیں نہیں رکھتا۔ کسی دوست کی شادی میں شریک ہو تو دلہا سے زیادہ اس کی نظر کھانے کے خرچے پر ہوتی ہے۔ پلیٹ ہاتھ میں لے کر دل ہی دل میں اندازہ لگاتا ہے: "یہ قورمہ کم از کم اتنی قیمت والا ہوگا…” اگر گھر والے شادی کا ذکر چھیڑ دیں تو فوراً معاشی حالات پر ایک مختصر لیکچر شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی پٹرول کی قیمتوں کا رونا، کبھی مکان کے کرائے کا ذکر، اور کبھی سونے کے ریٹ سناتے سناتے خود ہی افسردہ ہوجاتا ہے۔ اس کی گفتگو میں اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں: "بھائی! پہلے اپنے اخراجات تو سنبھل جائیں…” یا "آج کل شادی نہیں، سرمایہ کاری ہوتی ہے۔” مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام تر حساب کتاب اور پریشانیوں کے باوجود اس کے دل میں خواہش زندہ رہتی ہے۔ کبھی کسی خوشحال دوست کی شادی دیکھ کر خاموشی سے مسکراتا ہے، پھر ایک لمبی سانس لے کر چائے کا کپ اٹھاتا ہے اور کہتا ہے: "فی الحال تو چائے ہی پلا دو… باقی خواب بعد میں دیکھیں گے”۔
خوداعتماد کنوارہ:
یہ کنواروں کی وہ قسم ہے جو اعتماد کے معاملے میں دنیا کی بڑی بڑی شخصیات کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ اسے پورا یقین ہوتا ہے کہ محلے کی ہر دوسری لڑکی خفیہ طور پر اسی پر فدا ہے، بس حالات اور خاندان والے اظہارِ محبت میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ صاحب جب گھر سے نکلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی فلم کا ہیرو اپنے انٹری سین کے لیے تیار ہو۔ بالوں میں آدھی بوتل جیل، آنکھوں پر چشمہ، ہاتھ میں موبائل، اور موٹر سائیکل کی آواز ایسی کہ پورا محلہ جان جائے "حضرت تشریف لے آئے ہیں!”۔ البتہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ محلے والے اسے صرف شور، وہیلنگ، اور سلنسر کی آواز کی وجہ سے جانتے ہیں، ورنہ اکثر لوگوں کو اس کا نام بھی معلوم نہیں ہوتا۔
خوداعتماد کنوارے کی گفتگو بھی بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر بڑے فخر سے کہتا ہے: "بھائی! رشتوں کی لائن لگی ہوئی ہے، بس ہم ابھی آزادی انجوائے کر رہے ہیں۔” یہ جملہ وہ اتنے یقین سے بولتا ہے کہ چند لمحوں کے لیے سننے والے بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ مگر اسی دوران اگر گھر سے امّی کی کال آجائے تو ساری ہیرو گیری ہوا ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف سے آواز آتی ہے: "بیٹا! کوئی ایک رشتہ تو ہاں کر دو، لوگ اب پوچھتے پوچھتے تھک گئے ہیں!”
تب حضرت فوراً دھیمی آواز میں کہتے ہیں: "اچھا امّی… دیکھتے ہیں…”
یہ کنوارہ اکثر سوشل میڈیا پر بھی اپنی شخصیت کا بڑا چرچا رکھتا ہے۔ کبھی اداس سیلفی، کبھی جم کی تصویر، اور کبھی کسی کافی شاپ میں بیٹھ کر ایسا انداز بناتا ہے جیسے زندگی میں صرف ایک ہی مسئلہ ہو: "اتنی مقبولیت آخر سنبھالیں کیسے؟” حالانکہ حقیقت میں اس کے زیادہ تر میسجز دوستوں کے گروپ میں "Seen” ہو رہے ہوتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود اس کی خود اعتمادی کبھی کم نہیں ہوتی۔ ہر ناکامی کے بعد بھی آئینے میں خود کو دیکھ کر مسکراتا ہے، کالر سیدھا کرتا ہے، اور دل ہی دل میں کہتا ہے: "اصل ہیرو کی انٹری ہمیشہ لیٹ ہوتی ہے!”
مایوس کنوارہ:
یہ وہ کنوارہ ہوتا ہے جس نے زندگی میں اتنے رشتے آتے جاتے، بنتے بگڑتے اور "غور کر کے بتائیں گے” میں تبدیل ہوتے دیکھے ہوتے ہیں کہ اب اس کی شخصیت میں ایک مستقل اداسی شامل ہو چکی ہوتی ہے۔ پہلے پہل تو ہر نئے رشتے پر امید جاگتی تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ امیدیں بھی تجربہ کار ہو جاتی ہیں۔ اب اس کی ہنسی میں بھی ہلکی سی تھکن اور گفتگو میں عجیب سا فلسفہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ دوست اگر خوشی خوشی اپنی شادی کی تصاویر دکھائیں تو یہ مسکرا تو دیتا ہے، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے دل کی ایک لمبی داستان چھپی ہوتی ہے۔
مایوس کنوارے کی سب سے بڑی آزمائش شادی بیاہ کی تقریبات ہوتی ہیں۔ وہاں ہر دوسرا شخص اسے ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ خود ایک ادھورا پروجیکٹ ہو۔ اور اگر کسی نے قریب آکر حسبِ روایت پوچھ لیا: "آپ کی شادی کب ہے؟” تو اس کے چہرے پر فوراً ایک عجیب سنجیدگی چھا جاتی ہے۔ پہلے آسمان کی طرف دیکھتا ہے، پھر زمین کی طرف، پھر ایک گہری آہ بھر کر نہایت دھیمے لہجے میں کہتا ہے: "دعاؤں میں یاد رکھیے گا…”۔ یہ جملہ وہ اس انداز سے بولتا ہے جیسے برسوں سے زندگی کے امتحانات دے رہا ہو۔
مایوس کنوارہ اب رشتوں کے معاملے میں زیادہ جوش نہیں دکھاتا۔ پہلے جہاں تصویر دیکھتے ہی استری شدہ کپڑے پہن کر تیار ہوجاتا تھا، اب صرف اتنا پوچھتا ہے: "اچھا… پھر انکار کس وجہ سے ہوگا؟”۔ گھر والے بھی آہستہ آہستہ اس کی کیفیت سمجھنے لگتے ہیں۔ امّی جب کسی نئے رشتے کا ذکر کرتی ہیں تو حضرت فوراً کہتے ہیں: "امّی! پہلے ہی بتا دیجیے گا اگر انہیں سرکاری نوکری، ذاتی مکان اور دبئی والا چچا چاہیے ہو۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کا کنوارہ دوسروں کو بڑے حوصلے دیتا ہے۔ کوئی دوست اداس ہو تو فوراً کہتا ہے: "بھائی! اللّٰہ بہتر کرے گا”۔ مگر رات کو خود خاموشی سے پرانے میسجز اور ناکام امیدوں کی فائلیں کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود، دل کے کسی نہ کسی کونے میں امید کی ایک ننھی سی شمع پھر بھی جلتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے ہر نئے رشتے کی خبر سن کر وہ مکمل انکار بھی نہیں کرتا، بلکہ آہستہ سے کہتا ہے: "چلو… دیکھ لیتے ہیں، شاید اس بار قسمت کو ہم پر رحم آ ہی جائے۔”
فلسفی کنوارہ:
یہ وہ کنوارہ ہوتا ہے جو شادی کے موضوع پر ایسی عالمانہ، گہری اور پیچیدہ گفتگو کرتا ہے کہ سننے والے کو محسوس ہونے لگتا ہے جیسے حضرت نے "ازدواجیات” میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو اور ابھی کسی بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرکے واپس آئے ہوں۔
اگر کوئی سادہ سا سوال پوچھ لے: "بھائی! آپ شادی کیوں نہیں کر رہے؟”
تو جواب میں فوراً ایک فکری مقالہ شروع ہوجاتا ہے: "دراصل شادی محض دو افراد کا ملاپ نہیں، بلکہ ایک سماجی معاہدہ ہے جس کے اندر نفسیاتی، معاشی، تہذیبی اور تمدنی پیچیدگیاں پوشیدہ ہوتی ہیں…”
یہ گفتگو اتنی سنجیدہ ہوتی ہے کہ سوال پوچھنے والا چند لمحوں کے لیے اپنے ہی سوال پر شرمندہ ہوجاتا ہے۔
فلسفی کنوارہ ہر موضوع کو غیر معمولی گہرائی دے دیتا ہے۔ اگر کسی دوست کی شادی ہوجائے تو فوراً تجزیہ پیش کرتا ہے: "اصل مسئلہ رشتہ نہیں، مزاجی ہم آہنگی کا ہوتا ہے…” اور اگر کسی کی طلاق ہوجائے تو نہایت افسوس سے سر ہلا کر کہتا ہے: "میں پہلے ہی کہتا تھا کہ جذباتی فیصلے دیرپا نہیں ہوتے”۔
لوگ سمجھتے ہیں شاید یہ شادی سے بہت اوپر کی مخلوق ہے، جس نے دنیاوی معاملات سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دو بار منگنی ٹوٹنے، تین بار "استخارہ مناسب نہیں آیا” سننے، اور متعدد رشتوں کے تجربات کے بعد حضرت خودبخود فلسفی بن چکے ہوتے ہیں۔
یہ کنوارہ اکثر کیفے یا چائے کے ہوٹل میں بیٹھ کر زندگی پر گہری گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھ میں چائے کا کپ، چہرے پر سنجیدگی، اور لبوں پر کوئی نہ کوئی حکیمانہ جملہ ضرور ہوتا ہے: "انسان اصل میں تنہائی کا مسافر ہے…”
حالانکہ اندر سے دل اب بھی یہی چاہ رہا ہوتا ہے کہ کوئی صبح اسے میسج کرکے پوچھ لے: "ناشتہ کیا کیا؟”
فلسفی کنوارے کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر ناکامی کو "زندگی کا تجربہ” قرار دیتا ہے۔ کبھی دل ٹوٹ جائے تو کہتا ہے: "یہ بھی شعور کی ایک منزل تھی”۔ اور پھر رات کو تنہائی میں اداس گانے سن کر اگلے دن نئی فلسفیانہ گفتگو کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ مگر اس تمام فلسفے، تجزیوں اور سنجیدہ جملوں کے باوجود اس کے دل میں ایک نرم سا گوشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے، جہاں وہ اب بھی خاموشی سے یہ امید سنبھالے بیٹھا ہوتا ہے کہ شاید ایک دن کوئی ایسا انسان مل جائے جو اس کے تمام فلسفوں کو صرف ایک مسکراہٹ سے خاموش کر دے۔
مستقل کنوارہ:
یہ کنواروں کی دنیا کی نایاب ترین، پراسرار اور تاریخی مخلوق ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت خاندان میں ایک مستقل ادارے کی سی ہوجاتی ہے۔ ابتداء میں لوگوں نے اس کی شادی کے لیے بہت کوششیں کیں، دعائیں مانگیں، رشتے ڈھونڈے، مشورے دیے، مگر رفتہ رفتہ سب نے حقیقت کو قبول کر لیا۔ اب اس کے رشتہ دار بھی اس سے شادی کا سوال پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ موضوع چھیڑنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ خاندان کی تقریبات میں اب اسے ایک "غیر شادی شدہ فرد” کے طور پر نہیں بلکہ ایک "قابلِ اعتماد انتظامی کارکن” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
چنانچہ ہر شادی، منگنی یا دعوت میں ذمّہ داریاں خود بخود اسی کے حصّے میں آتی ہیں۔ کہیں بچّوں کی نگرانی، کہیں مہمانوں کو پانی پلانا، کہیں فوٹوگرافر کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنوانا، اور کہیں اسٹیج کے پیچھے انتظامات سنبھالنا۔ بعض اوقات تو دلہا بھی اس سے پوچھ لیتا ہے: "بھائی! ذرا دیکھنا بریانی کم تو نہیں پڑ رہی؟”۔ مستقل کنوارہ اب حالات سے مکمل سمجھوتہ کر چکا ہوتا ہے۔ زندگی نے اسے ایک خاص قسم کا سکون، برداشت اور مزاح عطاء کر دیا ہوتا ہے۔ پہلے جو شخص دوسروں کی شادیوں میں آہیں بھرتا تھا، اب وہی بڑے اطمینان سے اضافی قورمہ پلیٹ میں ڈال کر کھاتا ہے اور بچّوں کو ڈانٹتے ہوئے کہتا ہے: "آرام سے بھاگو، کپڑے خراب ہوجائیں گے!”
اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور بے نیازی آجاتی ہے۔ اگر محفل میں اچانک کوئی نادان شخص پوچھ بیٹھے: "بھائی! آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟” تو یہ پہلے ہلکا سا مسکراتا ہے، پھر نہایت مہارت سے فوراً موضوع بدل دیتا ہے "چھوڑو یار… یہ بتاؤ کل کے میچ میں کون جیتے گا؟”۔ گویا اس نے زندگی کے اس باب کو خاموشی سے بند کرکے الماری میں رکھ دیا ہو۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ مستقل کنوارہ دل سے برا انسان نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر خاندان کے بچّوں کا پسندیدہ "انکل” یہی ہوتا ہے، کیونکہ اس کے پاس وقت بھی ہوتا ہے، تجربہ بھی، اور مزاح بھی۔ اور شاید یہی اس کی اصل خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ادھوری خواہشوں کو بھی مسکراہٹ میں بدلنا سیکھ لیتا ہے۔
کنوارے کا سب سے بڑا مسئلہ:
کنوارے کی زندگی میں ویسے تو بے شمار آزمائشیں ہوتی ہیں؛ کبھی مہنگائی، کبھی رشتوں کی ناکامی، کبھی دوستوں کی اچانک شادیاں، اور کبھی سوشل میڈیا پر دلہے کے فوٹو شوٹ۔ مگر ان سب سے بڑا اور خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب خاندان کی تجربہ کار آنٹیاں اسے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے قریب آتی ہیں۔ ابتداء میں تو کنوارہ خوش ہوجاتا ہے کہ شاید خیریت دریافت کی جائے گی، مگر اگلے ہی لمحے ایک جملہ بجلی بن کر گرتا ہے: "بیٹا! اب تمہاری خوشخبری کب سننے کو ملے گی؟” یہ سوال بظاہر بہت مختصر، معصوم اور محبت بھرا محسوس ہوتا ہے، مگر کنوارے کے دل پر ایسے گرتا ہے جیسے بینک کا نیا قرض یا بجلی کا بڑھا ہوا بل۔
چند لمحوں کے لیے اس کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ دماغ تیزی سے مناسب جواب تلاش کرنے لگتا ہے، مگر برسوں کی تربیت اور معاشرتی تجربے کے باعث وہ فوراً ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا لیتا ہے اور نہایت شائستگی سے کہتا ہے: "بس دعا کریں…”۔ حالانکہ اندر ہی اندر دل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے: "خالہ! اگر یہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں خود سب سے پہلے بینڈ باجے کے ساتھ اعلان کرتا!”
دلچسپ بات یہ ہے کہ آنٹیاں صرف سوال پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ فوراً مشوروں کا پورا پیکج بھی شروع ہوجاتا ہے۔ کوئی کہتی ہے: "اتنی دیر اچھی نہیں ہوتی!” تو دوسری فوراً اضافہ کرتی ہے: "میں ایک بہت اچھا رشتہ جانتی ہوں…” اور بیچارا کنوارہ وہاں بیٹھا سر ہلاتا رہتا ہے، جیسے کسی انٹرویو بورڈ کے سامنے امیدوار بیٹھا ہو۔ اگر عمر کچھ زیادہ ہوجائے تو سوالات میں تشویش بھی شامل ہوجاتی ہے: "بیٹا! کہیں پسند وغیرہ تو نہیں؟”
یہ سن کر کنوارہ چند لمحوں کے لیے خود بھی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ: "کاش واقعی کوئی پسند ہی ہوتی!”
یوں ہر خاندانی تقریب، شادی، عقیقہ، یا عید ملن کنوارے کے لیے ایک سماجی امتحان بن جاتا ہے، جہاں اسے بریانی سے زیادہ سوالات ہضم کرنا پڑتے ہیں۔ مگر ان تمام مشکل لمحوں کے باوجود کنوارہ پھر بھی مسکراتا رہتا ہے، کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ شاید اگلی تقریب میں وہ خود دلہا کی کرسی پر بیٹھا ہو… اور پھر کسی دوسرے کنوارے سے یہی سوال پوچھ رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کنوارہ ہونا بھی کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک مکمل فن، ایک مستقل آزمائش، اور ایک خاموش جدوجہد سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ صرف شادی نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ صبر، برداشت، امید، اور سماجی دباؤ کے درمیان مسکراتے رہنے کا ہنر بھی ہے۔
ایک کامیاب کنوارہ بننے کے لیے صرف اچھی شکل یا اچھی نوکری کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ مضبوط اعصاب، مالی استحکام، حالات سے سمجھوتہ کرنے کا حوصلہ، اور سب سے بڑھ کر رشتہ داروں، خالاؤں، پھوپھیوں اور پڑوسیوں کے مسلسل سوالات برداشت کرنے کی غیر معمولی طاقت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ بظاہر کنوارہ انسان ہر محفل میں ہنستا مسکراتا دکھائی دیتا ہے۔ دوستوں کی شادیوں میں خوشی سے ناچتا بھی ہے، تصویریں بھی بنواتا ہے، اور بریانی کی دوسری پلیٹ بھی پورے اعتماد سے لے لیتا ہے، مگر اندر ہی اندر ہر نیا شادی کارڈ اس کے دل کا کوئی نرم گوشہ آہستہ سے پگھلا دیتا ہے۔
جب وہ سوشل میڈیا پر کسی دوست کی "الحمدللّٰہ نکاح ہوگیا” والی پوسٹ دیکھتا ہے تو پہلے مسکراتا ہے، پھر چند لمحوں کے لیے خاموش ہوجاتا ہے، اور آخر میں دل ہی دل میں کہتا ہے: "یا اللّٰہ! ہماری فائل بھی کبھی آگے بڑھا دے!”۔ مگر ان تمام آزمائشوں، اداسیوں اور مزاحیہ حالات کے باوجود کنواروں کی دنیا اپنی جگہ بے حد دلچسپ ہوتی ہے۔ ان کے خواب معصوم ہوتے ہیں، خواہشیں سادہ ہوتی ہیں، اور امیدیں حیرت انگیز طور پر زندہ رہتی ہیں۔ وہ ہر ناکامی کے بعد بھی اگلے رشتے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، ہر مذاق کے بعد بھی مسکرا دیتے ہیں، اور ہر تنہائی کے باوجود دل میں ایک ننھی سی امید سنبھالے رکھتے ہیں۔ کیونکہ کنوارہ چاہے کتنا ہی فلسفی، مایوس، معاشی یا مستقل کیوں نہ ہو، دل کے کسی نہ کسی کونے میں یہ یقین ضرور زندہ رہتا ہے کہ "ایک دن ہمارا بھی آئے گا!”۔
🗓 (01.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے