कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلق باللّٰہ: سکونِ قلب کا سرچشمہ

Connection with Allah: The True Source of Inner Peace

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی زندگی بے شمار رشتوں، وابستگیوں اور تعلقات کا مجموعہ ہے۔ انسان اپنی زندگی میں مختلف لوگوں سے جڑتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے، ان پر بھروسہ کرتا ہے اور انہی کے سہارے جینے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر ان تمام تعلقات کے ہجوم میں ایک رشتہ ایسا بھی ہے جو نہ صرف سب سے زیادہ حقیقی ہے بلکہ سب سے زیادہ پُرسکون، پائیدار اور بے غرض بھی ہے، اور وہ ہے بندۂ مومن کا اپنے ربّ کریم سے تعلق۔ یہ وہ رشتہ ہے جو نہ زمان و مکان کا پابند ہے، نہ حالات و اسباب کا محتاج۔ یہ دل کی گہرائیوں میں اُترنے والا وہ نور ہے جو انسان کو اندھیروں میں بھی روشنی عطاء کرتا ہے، مایوسی میں امید جگاتا ہے اور بے چینی میں سکون بخشتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا اللّٰہ تعالیٰ سے ایک منفرد، ذاتی اور نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق نہ کسی واسطے کا محتاج ہے اور نہ کسی ظاہری معیار سے ناپا جا سکتا ہے، بلکہ یہ دل کی کیفیت، یقین کی پختگی، اخلاص کی حرارت اور محبت کی شدّت سے تشکیل پاتا ہے۔ جب بندہ اپنے ربّ کو صرف ایک خالق، مالک اور حاکم کے طور پر نہیں بلکہ ایک قریب ترین رازداں، مہربان دوست اور بے پایاں محبت کرنے والے کے طور پر پہچان لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں ایک نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اس کی عبادت محض رسم نہیں رہتی بلکہ محبت بن جاتی ہے، اس کی دعا صرف الفاظ نہیں رہتی بلکہ دل کی پکار بن جاتی ہے، اور اس کی زندگی کا ہر لمحہ اپنے ربّ کی قربت کے احساس سے روشن ہو جاتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو محسوس کرنا دراصل ایمان کی حقیقی روح کو پالینا ہے۔ یہ وہ باطنی کیفیت ہے جس میں بندہ اپنے ہر حال میں اپنے ربّ کی قربت اور موجودگی کو اپنے ساتھ محسوس کرتا ہے۔ خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا ناکامی، تنہائی ہو یا ہجوم، زندگی کے ہر موڑ پر اسے یہ یقین رہتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کا ربّ ہر لمحہ اس کے ساتھ ہے۔ یہی احساس انسان کے دل میں امید کی شمع روشن رکھتا ہے، اسے مایوسی سے بچاتا ہے اور اضطراب کی کیفیت میں بھی سکون عطا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ
خبردار! دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کے ذکر میں ہے” (سورۃ الرعد: 28)۔
یہ سکون اس لیے نصیب ہوتا ہے کہ بندہ اپنے ربّ کو اپنے سے دُور نہیں سمجھتا، بلکہ وہ اس کی قربت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔ "اور ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں” (سورۃ ق: 16)۔ جب یہ احساس دل میں راسخ ہو جاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر حال میں بندے کو دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے اور اس کے دل کے ہر راز سے واقف ہے، تو انسان کے اندر ایک عجیب سی طمانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ دنیا کے ہنگاموں میں بھی ایک باطنی سکون محسوس کرتا ہے، کیونکہ اس کا دل اپنے ربّ کے ذکر اور قرب سے وابستہ ہو چکا ہوتا ہے۔
درحقیقت یقین ہی اس مقدّس تعلق کی اصل بنیاد ہے۔ لیکن یہ یقین محض زبان سے ادا کیے جانے والے دعوؤں کا نام نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں میں اُتر جانے والا وہ اعتماد ہے جو بندے کو ہر حال میں اپنے ربّ پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ یہی یقین انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ناممکن دکھائی دینے والے حالات میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنے دیتا۔ جب بندہ اس مقامِ یقین تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا ربّ اس کی ہر دعا سننے والا اور ہر مشکل حل کرنے والا ہے، تو وہ دعا کی اصل طاقت کو پہچان لیتا ہے۔ یہی وہ یقین تھا جس نے حضرت ابراہیمؑ کو دہکتی آگ میں بھی مطمئن رکھا، یہی اعتماد حضرت موسیٰؑ کے دل میں موجزن تھا جب سامنے سمندر اور پیچھے دشمن کا لشکر تھا، اور یہی ایمان ہر دور کے مومن کو آزمائشوں اور مشکلات کے طوفانوں میں ثابت قدمی عطاء کرتا ہے۔ یقینِ کامل ہی بندے کو اپنے ربّ کے قریب کرتا ہے، اور یہی قرب اس کے دل کو حقیقی سکون سے آشنا کرتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ کی محبت ایک ایسی عظیم حقیقت ہے جس کے بغیر زندگی کی ہر خوشی ادھوری اور ہر آسائش بے معنی محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کی محبتیں عموماً وقتی، مشروط اور مفادات سے وابستہ ہوتی ہیں؛ حالات بدل جائیں تو لوگوں کے رویّے بھی بدل جاتے ہیں، مگر اللّٰہ تعالیٰ کی محبت نہ کبھی کم ہوتی ہے، نہ ختم ہوتی ہے اور نہ ہی کسی شرط کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرنے والا، ان کی کمزوریوں پر رحم فرمانے والا اور ہر حال میں انہیں اپنی رحمت کے سائے میں رکھنے والا ہے۔ جب انسان کے دل میں محبتِ الٰہی جاگزیں ہو جاتی ہے تو اس کے باطن میں ایک ایسا سکون اُتر آتا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔ پھر وہ ظاہری پریشانیوں کے باوجود اندر سے مطمئن رہتا ہے، کیونکہ اس کا دل اپنے ربّ کی محبت سے روشن ہو چکا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ کے سچے بندے دنیا کی سختیوں اور آزمائشوں میں بھی ایک عجیب سی راحت محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لیے مشکلات محض تکلیف نہیں رہتیں بلکہ اپنے ربّ کے قریب ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس ربّ نے انہیں پیدا کیا ہے، وہی ان کے حال سے سب سے زیادہ واقف بھی ہے اور ان کے لیے بہتر فیصلے کرنے والا بھی۔ یہی یقین ان کے دل کو اضطراب سے بچاتا اور انہیں ہر حال میں صبر، امید اور رضا کی کیفیت عطا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی دوست اور سہارا نہیں۔ دنیا کے دوست وقت اور حالات کے ساتھ بدل جاتے ہیں، تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں اور انسان بسا اوقات اپنے قریب ترین لوگوں سے بھی مایوس ہو جاتا ہے، مگر اللّٰہ تعالیٰ کا تعلق کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ وہ ہر لمحہ سننے والا، دل کی ہر کیفیت کو جاننے والا اور ہر حال میں اپنے بندے کی مدد کرنے والا ہے۔ بندہ جب اپنے ربّ سے سچی دوستی قائم کر لیتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ نور اور اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ پھر مشکلات اسے توڑنے کے بجائے مزید مضبوط بنا دیتی ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنے ربّ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھ کر صبر، توکل اور یقین کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے زندگی کا ہر مرحلہ اپنے ربّ کی قربت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
آزمائش دراصل بندۂ مومن اور اس کے ربّ کے تعلق کا امتحان بھی ہوتی ہے اور اسی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی۔ بظاہر انسان جن حالات کو مصیبت، محرومی یا تکلیف سمجھتا ہے، اکثر وہی حالات اسے اپنے ربّ کے قریب کر دیتے ہیں۔ انسان جب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہوتا ہے، اپنے وسائل کو ناکافی پاتا ہے اور ہر طرف سے راستے بند محسوس کرتا ہے، تب اس کا دل بے اختیار اپنے ربّ کی طرف جھک جاتا ہے۔ یہی جھکاؤ بندگی کی اصل روح ہے، اور یہی کیفیت انسان کو روحانی بلندی عطاء کرتی ہے۔ اس وقت بندہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حقیقی سہارا صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ چنانچہ آزمائشیں مومن کو توڑنے کے لیے نہیں آتیں بلکہ اسے سنوارنے، اس کے ایمان کو مضبوط کرنے اور اس کے دل کو اپنے ربّ سے مزید قریب کرنے کے لیے آتی ہیں۔
جب بندہ آزمائش کے ان لمحات میں اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی دعا میں بھی ایک خاص تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ سے مانگنا بھی ایک فن ہے، اور یہ فن محبت، یقین اور عاجزی سے سیکھا جاتا ہے۔ جب بندہ اپنے ربّ کے حضور خلوصِ دل کے ساتھ جھکتا ہے، اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے اور محبت و امید کے ساتھ دعا مانگتا ہے، تو اس کی دعا محض الفاظ نہیں رہتی بلکہ دل کی ایک سچی پکار بن جاتی ہے جو عرش تک پہنچتی ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں” (صحیح بخاری)۔
یہی یقین بندے کے دل میں امید کی شمع روشن رکھتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا ربّ اس کی ہر دعا سن رہا ہے، اس کے ہر آنسو سے واقف ہے اور اس کے دل کی ہر کیفیت کو جانتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی اور معصوم دعاؤں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ کبھی وہ فوراً عطاء فرما دیتا ہے، کبھی بہتر وقت کے لیے مؤخر کر دیتا ہے، اور کبھی اپنی حکمت سے اس سے بھی بہتر نعمت عطا فرما دیتا ہے۔ مگر اس کی رحمت کا در کبھی بند نہیں ہوتا، اور وہ اپنے بندے کو کبھی حقیقی معنوں میں خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
اپنے دل کی ہر بات اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دینا دراصل روح کی تطہیر اور قلبی سکون کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ انسان جب اپنے دکھ، اپنی خواہشات، اپنی کمزوریاں، اپنے خوف اور اپنے خواب اپنے ربّ کے حضور بیان کرتا ہے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنے اندر ایک ایسی طمانیت محسوس کرتا ہے جو دنیا کے کسی انسان سے گفتگو میں بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نہ صرف بندے کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کو سنتا ہے بلکہ اس کے دل میں چھپے ہوئے ان جذبات کو بھی جانتا ہے جو کبھی لفظوں میں بیان نہیں ہو پاتے۔ یہی راز بندے کو اپنے ربّ کے قریب کرتا ہے، اس کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے اور اس کے دل کو روحانی سکون سے بھر دیتا ہے۔
جب بندہ اس روحانی تعلق کی لذت کو محسوس کر لیتا ہے تو پھر وہ اپنے ربّ سے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل کو ذکرِ الٰہی سے زندہ رکھے، نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے، دعا کو اپنی عادت اور اپنے ربّ سے تنہائی کی گفتگو کو اپنی روح کی ضرورت سمجھ لے۔ کیونکہ عبادت محض چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی غذا، دل کی روشنی اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔ جتنا بندہ اپنے ربّ کے قریب ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ دنیا کی بے چینیوں، خوفوں اور پریشانیوں سے آزاد ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر اس کے دل میں ایک ایسا سکون پیدا ہو جاتا ہے جو حالات کے بدلنے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔
حقیقت یہی ہے کہ زندگی کا اصل حسن، حقیقی سکون اور دائمی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنے ربّ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرے۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کو صرف مانے ہی نہیں بلکہ اسے محسوس بھی کرے، اس پر کامل یقین رکھے، اس سے سچی محبت کرے اور اسی کو اپنا سب سے قریبی رازداں اور حقیقی دوست بنا لے۔ کیونکہ جب بندہ خلوصِ دل سے اللّٰہ کا ہو جاتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت، محبت اور مدد کے ساتھ اس کا ہو جاتا ہے۔ پھر انسان کو کسی اور سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ جو دل محبتِ الٰہی سے آباد ہو جائے، دنیا کی کوئی ویرانی اسے اُداس نہیں کر سکتی، اور جو شخص اپنے ربّ کو پا لے، اس کے لیے پھر کھونے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔
🗓 (20.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے