कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

چین کی طرف عالمی رجحان‘کثیر قطبی نظام کا عروج

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

چین آج کی دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی سپر پاور کے طور پر ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں معاشی انقلاب کے ذریعے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے والا یہ ملک نہ صرف ٹیکنالوجی، تجارت اور انفراسٹرکچر میں زبردست ترقی کر چکا ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی بہت فعال اور موثر حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا جا رہا ہے۔مئی 2026 کا یہ مہینہ عالمی سفارتکاری کی تاریخ میں ایک یادگار اور اہم دور مانا جائے گا۔ اس ماہ میں تین بڑی طاقتوں کے سربراہان نے بیجنگ کا دورہ کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک، صدر ولادیمیر پوتن 19 سے 20 مئی تک اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین پہنچے ہیں۔ ایک ہی ماہ میں تین اہم رہنماوں کا بیجنگ آنا محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ہونے والی بڑی تبدیلی کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین تیزی سے عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ اب تنہا غالب طاقت نہیں رہا۔
کثیرقطبی نظام ایک ایسا عالمی حکم ہے جس میں دو یا زیادہ طاقتیں عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کا مقابلہ یونی پولر نظام سے کیا جاتا ہے جو 1991 کے بعد سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قائم ہوا تھا جب امریکہ واحد سپر پاور بن گیا۔ جبکہ بائی پولر نظام سرد جنگ کے دور کا تھا جب دنیا امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان تقسیم تھی۔ کثیر قطبی نظام میں طاقت کا مرکز متعدد ہو جاتا ہے۔ چین، روس، ہندوستان، یورپی یونین، برازیل اور ابھرتی ہوئی دیگر طاقتیں اس نظام کا حصہ ہیں۔ اس نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ کوئی ایک ملک مکمل غلبہ نہیں رکھتا بلکہ ممالک متوازن خارجہ پالیسی اپناتے ہیں۔ یعنی وہ ایک طاقت پر مکمل انحصار کی بجائے متعدد طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہیں۔ ماہرین سیاسیات جیسے جان میرشائمر اور جوزف نائی کا کہنا ہے کہ یہ نظام زیادہ لچکدار تو ہے مگر زیادہ غیر مستحکم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ طاقت کا مقابلہ اور اتحاد بدلتے رہتے ہیں۔
چین اس کثیر قطبی نظام کا سب سے فعال محرک بن کر ابھررہا ہے۔ اس نے نہ صرف اپنی معاشی طاقت کو استعمال کیا بلکہ متعدد عملی اقدامات کے ذریعے ایک متبادل عالمی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر بیٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت چین نے 150 سے زائد ممالک میں سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور توانائی کے بڑے منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو روایتی مغربی مالیاتی اداروں کے غلبے کو چیلنج کر رہا ہے۔ اسی طرح BRICS کی توسیع میں چین کا کردار مرکزی رہا ہے جہاں نئے اراکین کے شامل ہونے سے یہ فورم معاشی تعاون سے آگے نکل کر عالمی حکمرانی کی اصلاح کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) بھی چین کی قیادت میں قائم ہوا جو اب روایتی ورلڈ بینک کے مقابلے میں ترقی پذیر ممالک کو فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) کے ذریعے وسطی ایشیا میں سلامتی اور معاشی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں 2023 میں چین کی سفارتی کاوشوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی جو مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک اہم مثال ہے۔ کرنسی سواپ معاہدوں اور ڈیجیٹل یوان کے ذریعے چین ڈالر کی عالمی اجارہ داری کو بھی کم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بعید از یہ دورے گہری سیاسی، معاشی اور جغرافیائی وجوہات کی بنیاد پر ہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ تقریباً 9سال بعد کسی امریکی صدر کا چین کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ اس دورے کے ساتھ ایک بڑی امریکی بزنس ڈیلی گیشن بھی گئی تھی جس میں ایلون مسک، ایپل، انویدیا اور دیگر بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔ دونوں ممالک نے تجارت، ٹیرف میں کمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، AI اور ایران کے موجودہ بحران جیسے اہم مسائل پر بات چیت کی۔ عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب ہونے سے بچانا چاہتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی جنگ دونوں کی معیشتوں کے لیے بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔اس کے فوراً بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کا دورہ ہوا، جو ان کا چین کا 25واں دورہ تھا۔ دونوں رہنماوں نے ملٹی پولر ورلڈ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کی کھل کر مذمت کی۔ روس اور چین کے درمیان باہمی تجارت 240 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس دورے کے دوران توانائی، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون اور تجارت کے تقریباً چالیس معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ روس یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے چین کو اپنا سب سے اہم معاشی اور اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ان تینوں میں سب سے تازہ ترین تھا جو چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہوا۔ چین اور پاکستان کے تعلقات اس پورے منظر نامے میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ”All Weather Strategic Cooperative Partnership” کا تعلق دنیا کے سب سے مستحکم اور گہرے اسٹریٹجک تعلقات میں شمار ہوتا ہے۔ 1950 کی دہائی سے شروع ہونے والے یہ تعلقات دفاعی، معاشی، سیاسی اور تکنیکی سطح پر مسلسل مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان چین کو اپنا سب سے قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے جبکہ چین پاکستان کو بحر ہند میں اپنی اسٹریٹجک رسائی کے لیے اہم پارٹنر قرار دیتا ہے۔
شہباز شریف کے دورے کا مرکزی موضوع CPEC فیز2 ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور علاقائی استحکام خاص طور پر ایران تنازع پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ CPEC کے معاشی اثرات پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس منصوبے نے پاکستان میں روڈ انفراسٹرکچر، ریلوے، بجلی کی پیداوار اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں بڑی بہتری لائی ہے۔ خاص طور پر گوادر پورٹ کی مستقبل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ گوادر پورٹ کو CPEC کا تاج سمجھا جاتا ہے۔ اس پورٹ کی تکمیل کے بعد پاکستان بحر ہند اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم لنک بن جائے گا۔ ماہرین کے مطابق گوادر پورٹ مکمل فعال ہونے کے بعد علاقائی تجارت، لاجسٹکس، تیل اور گیس کی نقل و حمل کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی GDP میں نمایاں اضافہ کرے گا بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا اور پاکستان کو خطے کا ایک اہم معاشی حب بنا دے گا۔BRICS ممالک اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ BRICS اب کثیر القطبی نظام کو فروغ دینے کا ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ 2026 میں انڈیا BRICS کی صدارت کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ BRICS صرف معاشی تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی حکمرانی کی اصلاح اور مغربی غلبے کے متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
تاہم اس پورے معاملے میں ہندوستان کو کئی اہم سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان لداخ اور اروناچل پردیش سمیت سرحدی تنازعات اب بھی موجود ہیں اور باہمی اعتماد کی کمی برقرار ہے۔ ہندوستان کو multi-alignment کی پالیسی کو مزید مضبوط کرنا چاہیے یعنی QUAD اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے BRICS میں بھی فعال اور موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ BRICS میں انڈیا کا مستقبل کا کردار بہت اہم اور موقع پرست ہے۔ انڈیا BRICS کو زیادہ عملی، جامع اور Global South کی حقیقی آواز بنانا چاہتا ہے۔ انڈیا کو BRICS میں چین کے غلبے کو متوازن کرنا چاہیے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، AI، کلائمیٹ چینج اور اصلاح شدہ کثیرالجہتی پر زور دینا چاہیے تاکہ BRICS+ مغربی مخالف بلاک نہ بن جائے بلکہ ایک متوازن فورم رہے۔
بعض تجزیہ کاروں کی تنقید یہ ہے کہ چین BRICS اور BRI دونوں کو اپنے غلبے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ کچھ ممالک میں قرضوں کے جال، جارحانہ رویے اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔ ہندوستان کو یہ سبق لینا چاہیے کہ وہ نہ تو مکمل طور پر چین مخالف بنے اور نہ ہی چین پر مکمل انحصار کرے بلکہ ایک متوازن، خودمختار اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اپنائے۔اس کے علاوہ یہ دورے عالمی رائے عامہ اور میڈیا میں بھی شدید دلچسپی کا باعث بنے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے درمیان بحثیں چھڑ گئی ہیں کہ کیا یہ مہینہ واقعی امریکی hegemony کے زوال کی ابتدا ہے یا صرف ایک عارضی سفارتی لہر ہے۔ کچھ ماہرین اسے "Beijing Spring of 2026” کا نام دے رہے ہیں، جبکہ مغربی تجزیہ کار اسے "چین کی سفارتی جارحیت” قرار دے رہے ہیں۔ یہ بحثیں خود اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی طاقت کا مرکز کس تیزی سے بدل رہا ہے۔ جون 2026 میں بھی چین کی طرف کئی اہم دوروں کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سربیا کے صدر Aleksandar Vucic کا دورہ متوقع ہے جبکہ دیگر یورپی اور ایشیائی رہنما بھی بیجنگ کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ Sustainable Markets Initiative کا سالانہ فورم 21 سے 25 جون تک بیجنگ میں منعقد ہونے والا ہے جس میں عالمی سی ای اوز شرکت کریں گے۔ یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ چین کی سفارتی سرگرمی جاری رہے گی اور کثیر القطبی نظام مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ مئی 2026 کے یہ اعلیٰ سطح کے دورے صرف سفارتی واقعات نہیں بلکہ عالمی ترتیب میں ہونے والی بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔ چین اپنی معاشی طاقت، سفارتی ہنر اور جغرافیائی اہمیت کی بدولت نئی عالمی ترتیب کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کو معاشی ترقی، CPEC کی تکمیل اور علاقائی استحکام کے لیے بھرپور استعمال کرے۔ تاہم کثیر القطبی نظام میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔ مستقبل یہ بتائے گا کہ یہ رجحان کتنا پائیدار ثابت ہوتا ہے اور کیا یہ ایک حقیقی، متوازن اور منصفانہ ملٹی پولر آرڈر قائم کر سکتا ہے۔یہ تبدیلیاں عالمی سطح پر نئی اتحادوں، معاشی شراکت داریوں اور طاقت کے نئے توازن کی بنیاد رکھ رہی ہیں جو آنے والے برسوں میں بین الاقوامی تعلقات کی شکل تبدیل کر سکتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے